جو ہونا چاہیے وہ کیوں نہیں ہوتا ہے؟

میں ہوش میں تھا تو اُس پر مر گیا کیسے
یہ زہر میرے لہو میں اُتر گیا کیسے
ردعمل کے تحت جینا بھی سسٹم نمبر1 کا وصف ہے۔ اینٹ کا جواب پتھر سے دینا بھی اسی سسٹم کی خصوصیت ہے۔ اِنتقام کی آگ میں جلنا بھی ٖفیصلہ سازی کے اس جذباتی نظام کی کارستانی ہے۔ سِول و ملٹری ریلشنز میں عدم ہم آہنگی بھی اسی سبب پیدا ہوتی ہے۔ اِنسانی رشتوں کو دیمک بھی اسی لیے لگتی ہے کہ ہم دوسروں سے بھی وہی سلوک کرتے جو ہمارے ساتھ روا رکھا جاتا ہے۔ہمارے تمام تعلقات جلد یا بدیر اُن توقعات کی وجہ سے تعفن کا شکار ہو جاتے ہیں جو ہم دوسروں سے انجانے میں اوریکطرفہ طور پر باندھ لیتے ہیں۔ ردِعمل در ردِعمل موذی مرض کی صورت اِختیار کر جاتا ہے اور ہمارے اندر زندگی کی چنگاری بجھنا شروع ہو جاتی ہے۔ انتقام کی آتش ہمارے اندر بالآخر زندگی کی رمق کو خاموش کر دیتی ہے اور یوں ہم شھر خموشاں کے مکین بن جاتے ہیں۔
زندگی کو ایک متواتر "المیہ” بننے سے بچانے کیلئے لازم ہے کہ ہم اپنےفیصلوں کی لگا میں اپنے عقلی نظام یعنی سسٹم نمبر2 کے سُپرد کر دیں۔ البتہ یہ امر خاصا دشوار ہے کیونکہ ہمارا فیصلہ سازی کا جذباتی نظام اپنی چودھراہٹ ترک کرنے پر آسانی سے آمادہ نہیں ہوتا ہے۔یہ وہ مست ہاتھی ہے جو ہمیشہ اپنی من مانی کرنے پر مائل رہتا ہے۔یہ ہمیں ہر وقت پستول کی لبلبی پرزور ڈالنے کی ترغیب دیتا ہے اور انجام سے بے پروا ہونے کی تحریک دیتا رہتا ہے۔ آتش نمرود میں ضرور کو دنا چاہیے اگر اس میں کودنے سے قبل اسے گل و گلزار میں تبدیل کرنے کی عالم اخفا سے ضمانت مل گئی ہو ۔ اگر ایسا نہیں ہے تو دِل کو پاگل سمجھ کر اُس کی ماننے سے اِنکار کر دینا چاہیے۔
شاید اب آپ کو اس سوال کا جواب مل گیا ہو کہ جو ہونا چاہیے اس لیے نہیں ہوتا ہے کیونکہ ہماری فیصلہ سازی کو قوت اکثر و بیشر ہمارے مُنہ زور جذبات ، نا بینا عقیدت اور اندھے تعصبات کے ہاتھوں یرغمال بن جاتی ہے۔ جب تک ہم اُسے چاہتے رہیں گے جس کے نزدیک ہماری حیثیت محض ایک آلہ کار سے کچھ زیادہ نہیں ہے ہمارے ذاتی و اجتماعی حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ جس دِن ہم پتھر کے صنم کو ببانگ دُہل راستے کا پتھر قرار دیکر آگے بڑھ جائیں گے اُس دن ہمیں نہ صرف سُرنگ کے آخر میں روشنی نظر آئے گی بلکہ میرا دعویٰ ہے کہ پوری سُرنگ ہی سراب کی مانند کا فور ہو جائے گی اور پھر وہ ہوگا جو ہم چاہتے ہیں۔

