بکواس نوکریاں

کوئی بھی نوکری بکواس کیسے ہو سکتی ہے کیونکہ ہر نوکر اُس نوکری کے صدقے اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ بھر رہا ہوتا ہے۔ البتہ نوکری اس وقت بکواس بن جاتی ہے جب اُس میں تکرار آ جائے اور نوکری کرنے والے کو یہ نظر آ جائے کہ اس کے کام کی اہمیت کو سمجھا نہیں جاتا اور اُس کے کام کی وجہ سے اُس کی عزت بھی نہیں کی جاتی۔ جب نوکری کرنے والے کسی بھی شخص

Read more

کیا شکاری کا سچ پورا سچ ہے؟

انسانی تاریخ فاتحین کے بیانیے کی تصویر کشی کرتی ہے۔ مفتوحین کے بیانیے سے اُسے قَطْعاً کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ جو جیت گیا وہی سکندر اور اُس کی جیت سے کتنے قلوب کی کلی مرجھا گئی کسی کو پرواہ نہیں۔ کامیابی کی کہانی ہمیشہ دلکش ہوتی ہے اور کامیابی کی وہ کہانی تو اور بھی دلپذیر ہو جاتی ہے جس میں کامیابی کو ہاتھ کی کمائی کا شاخسانہ قرار دیا جائے۔ کامیاب انسان جب اپنی کامیابی کو اپنی صلاحیتوں اور

Read more

پاکستان کا عدالتی نظام

پاکستان کا عدالتی نظام موجودہ سیاسی و معاشی نظام کے تحفظ کا ضامن ہے۔ اسے چیزوں کو جوُں کا تُوں رکھنے کے لئے وضع کیا گیا ہے۔ اس عدالتی نظام میں تاریخ کے اوپر تارِیخ دی جاتی ہے۔ شنوائی نہیں ہوتی البتہ شنوائی کا فکری مغالطہ ضرور ہوتا ہے۔ وکیلوں اور ججوں کی ملی بھگت سے ڈور کو اُلجھایا جاتا ہے تاکہ ڈور کا سرا نہ مل سکے۔ بال کی کھال اُتارنے والی بحث اس لئے کی جاتی ہے تاکہ

Read more

کیا آپ کو اپنا کام پسند ہے؟

ہر شخص اپنی معاشی ضروریات پورا کرنے کے لیے اور اگر مُنہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوا ہے تو بھی مصروف رہنے کے لیے کوئی نہ کوئی کام سرانجام دیتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم اپنا کام شوق سے کرتے ہیں یا پھر مجبوری کے عالم میں کرتے ہیں۔ جو تنخواہ ہمیں کام کرنے کے بعد ملتی ہے، وہ تنخواہ اگر ہمیں کام کے بغیر بھی مل جائے تو کیا پھر بھی ہم

Read more

ٹیم کیسے تیار ہوتی ہے؟

کسی بھی چھوٹے بڑے کام کو پایہ تکمیل تک پہچانا ہو تو اُس کے لئے ایک ٹیم درکار ہوتی ہے۔ ٹیم کی ضرورت اس لیے پیش آتی ہے کیونکہ کوئی بھی اپنی ذات میں انجمن نہیں ہوتا۔ سب کی مہارتیں ملتی ہیں تو کوئی شے یا خدمت اپنی حتمی صورت اختیار کرتی ہے۔ مسلم ممالک میں ٹیم کا بننا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے کیونکہ ان ممالک میں ٹیم نہیں بلکہ صرف شمع کے پروانے ہوتے ہیں۔ کوئی ایک

Read more

کون ہے جو ہمارے اندر ہر وقت بولتا رہتا ہے؟

آپ تنہا ہیں اور کوئی کام کر رہے ہیں لیکن آپ کے ذہن میں کوئی موجود ہے جو آپ کو اپنے کام پر توجہ دینے نہیں دے رہا اور مسلسل بولتا چلا جا رہا ہے۔ کبھی وہ ایک بات کرتا ہے اور پھر فوراً ہی اس کا خیال کسی اور طرف منتقل ہو جاتا ہے اور پھر وہ کوئی اور بات کرنا شروع ہوجاتا ہے۔ کبھی خاموش ہو جانا اُسے آتا ہی نہیں۔ ہمارے ذہن میں بیٹھے اس باتونی نے

Read more

کیا ہمارے فیصلے عقلی ہوتے ہیں یا جذباتی؟

ہر انسان اپنے آپ کو عقل مند تصور کرتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ اُس کے فیصلے عقلی ہوتے ہیں۔ اُسے یہ لگتا ہے کہ جو بات اُس کے ذہن میں نمودار ہو گئی ہے وہ انسانی تاریخ میں کبھی بھی کسی دوسرے انسانی ذہن میں پیدا نہیں ہوئی ہے۔ جن نتائج تک وہ پہنچ چکا ہے وہ حتمی ہیں۔ اُس کے ذہن میں پیدا ہونے والے خیالات پتھر پر لکیر ہیں۔ انفس و آفاق کے تمام سربستہ راز

Read more

مجھے ملال نہیں اپنی کم نگاہی کا

یہ مصرع نابینا شاعر اقبال عظیم کا ہے۔ وہ پیدائش سے ہی بصارت کے نور سے محروم تھے مگر بصیرت کے نور سے معمور تھے۔ اس لیے کہ اس شعر کے دوسرے :مصرعے میں کہتے ہیں کہ ”جو دیدہ ور ہیں اُنہیں بھی نظر نہیں آتا “۔ قرآن کریم کی ایک آیت کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ ”آنکھیں اندھی نہیں ہوتی ہیں بلکہ سینے میں موجود قلوب پر کائی جم جاتی ہے“ ۔ اس کائی کے جمنے کی متعدد

Read more

کیا رمضان بوفے ڈنر کا نام ہے؟

پاکستان میں رمضان المبارک نجانے کیوں کھانے پینے تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ پاکستانیوں کا رمضان میں سارا فوکس خور و نوش پر ہو جاتا ہے اسی لیے کھانے پینے کی اشیا مہنگی ہو جاتی ہیں کیونکہ سپلائی کا قانون یہ ہے کہ سپلائی ہمیشہ سے ہر شے کی محدود ہوتی ہے اور ڈیمانڈ کے بڑھنے سے سپلائی اور ڈیمانڈ میں عدم توازن پیدا ہو جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں سب رمضان میں گرمئی بازار اور

Read more

کیا خیراتی ادارے غربت کا علاج ہیں؟

پاکستان میں خیراتی ادارے ایک منفعت بخش صنعت کا درجہ اختیار کر چکے ہیں۔ اس صنعت میں سرمایہ کاری دوسرے کرتے ہیں اور نیک نامی اور مسیحائی کا تمغہ خیراتی اداروں کے سربراہوں کے سینے پر سجتا ہے۔ با الفاظ دیگر ہینگ لگے نہ پھٹکری اور رنگ آئے چوکھا۔ ان خیراتی اداروں کو پرائیویٹ انٹرپرائز کی طرح چلایا جاتا ہے۔ باپ کی تعمیر کردہ خیراتی راجدھانی اس کی اولاد کی طرف منتقل ہوتی ہے۔ مزید برآں دوستوں کی بھی ایڈجسٹمنٹ

Read more

مریم نواز کا مینجمنٹ اور گورننس ماڈل

مریم نواز ماشا اللہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کی نومنتخب وزیراعلیٰ ہیں۔ اس مضمون میں ہم ہر قسم کی سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر ان کے مینجمنٹ ماڈل کا جائزہ لیں گے اور تجزیہ کرنے کی کوشش کریں گے کہ کیا اس مینجمنٹ ماڈل سے پنجاب کے عوام کا معیار زندگی بلند ہو پائے گا یا پھر ان کی زندگی میں غم کی کالی رات کا دورانیہ مزید طویل ہوتا جائے گا۔ مریم نواز کے مینجمنٹ

Read more

کیا نفسیاتی دباؤ سے نجات ممکن ہے

ہمارا ذہن بے لگام اور غیرارادی خیالات کا ریسنگ ٹریک ہے۔ ہر لمحہ بے ہنگم سوچیں ہمارے بالا خانے میں گھمن گھمیریاں کھاتی رہتی ہیں۔ ہمارے سر میں ہر وقت کوئی بولتا رہتا ہے۔ ہم اسے چپ کرانے کی سکت نہیں رکھتے ہیں۔ وہ بولتا جاتا ہے اور ہم اسے سنتے رہنے پر مجبور ہیں۔ شتر بے مہار خیالات ہمارے نفسیاتی دباؤ کا بنیادی سبب ہیں۔ ہر خیال زبردستی ہمیں اپنے کندھوں پر سوار کرتا ہے اور پھر کچھ ہی

Read more

کیا تبادلوں سے کیا انتظامی کارکردگی بہتر ہو جاتی ہے؟

ہم آئے دن خبریں پڑھتے ہیں کہ افسروں کے تبادلے یہاں سے وہاں ہو رہے ہیں۔ وزراء کے محکمے تبدیل کیے جا رہے ہیں۔ جو ایک محکمے میں ناکام ہوتا ہے اس کی تعیناتی کسی دوسرے محکمے میں کر دی جاتی ہے۔ پنگ پانگ جاری رہتی ہے اور چہروں کو تبدیل کر کے یہ سمجھا جاتا ہے کہ ٹیبل ٹینس کا کھیل لانگ ٹینس کا کھیل بن جائے گا۔ فیصلے کرنے والے سقراط یہ فراموش کر دیتے ہیں کہ ٹکسالی

Read more

خوف کا راج کیا کرتا ہے؟

جن کا احترام ہم خوف کی وجہ سے کرتے ہیں ان کا احترام دل سے کرنا ممکن نہیں رہتا ہے۔ خوف انسانوں کو دو گروہوں میں تقسیم کر دیتا ہے۔ ایک گروہ خوف پیدا کر کے حکمرانی کرتا ہے اور دوسرا گروہ خوفزدہ ہو کر اور دولے شاہ کے چوہے بن کر احکام کی تعمیل کرتا ہے۔ خوف انسانی دماغ کو مفلوج کر دیتا ہے۔ خوفزدہ انسان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں معطل ہو جاتی ہیں۔ وہ مسائل کا حل

Read more

لیڈر شِپ کا عاجزانہ ماڈل

ہمارے اداروں کے اندر لیڈر شپ کا جو ماڈل رائج ہے اس میں لیڈر اختیارات کا مرکز ہے اور دانائی کا سرچشمہ ہے۔ لیڈر ایک دیوتا کا روپ اختیار کر لیتا ہے اور بس اسی کا فرمایا ہوا مستند ہے اور حرف آخر ہے۔ یہ لیڈر جب کوئی فیصلہ کر لیتا ہے تو پھر اپنی بھی نہیں سنتا ہے۔ یہ لیڈر تو بس کر گزرتا ہے۔ اس کے فیصلوں کے اثرات اس کے مقتدی بھگتتے ہیں اور اس کے سٹاف

Read more

جالے

ہمارے اداروں میں ایسے انسانی رویوں کی بھرمار ہے جو ڈور کو الجھاتے ہیں۔ ادارے میں کام کرنے والے ورکروں کو معلوم ہوتا ہے کہ ڈور کہاں پر اور کدھر سے الجھی ہے لیکن انہیں سب کچھ جان کر بھی خاموش رہنے کا حکم ہوتا ہے۔

اداروں میں موجود لیڈر حضرات چار اقدار کے تحت اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

Read more

کیا آگ بجھانے والوں سے آگ نہ لگانے والے بہتر ہیں؟

تصور کریں کہ آپ اپنے ایک دوست کے ساتھ ساحل سمندر کی سیر کر رہے ہیں اور اچانک شور سا مچ جاتا ہے اور کانوں پڑی آواز سنائی نہیں دیتی ہے۔ آپ کے علم میں آتا ہے کہ ایک بچہ سمندر کی لہروں سے اٹکھیلیاں کر رہا تھا اور اب ڈوبنے کے قریب ہے۔ آپ کا دوست آؤ دیکھتا ہے نہ تاؤ اور سپرمین کی طرح اس مقام تک جا پہنچتا ہے جہاں پر بچہ بپھری ہوئی لہروں کا شکار

Read more

شکاری بھی رہو اور شکار کی اشک شوئی بھی کرو

ہم بھی میر تقی میر کی طرح بہت سادہ ہیں کیونکہ ہم بار بار اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں جس کے سبب بیمار ہوئے ہیں۔ ہم اپنے ان رشتوں کی پرورش کرتے ہیں جن کی لا پرواہی، بے نیازی اور توتا چشمی سے ہمیشہ مغموم رہے ہیں۔ ہم بار بار ایک ہی تجربہ کرتے ہیں اور جب نتیجہ مختلف نہیں نکلتا ہے تو ناصر کاظمی اور مجید امجد کی طرح تنہائی کو اپنے اشعار کا موضوع تو

Read more

نجات دہندہ کی تلاش

ہم جب انسانی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ایک خواہش ہر انسانی عہد میں قلوب میں موجود نظر آتی ہے۔ ہر دور کا انسان اپنے خوابوں کی جنت حاصل کرنے کے لیے کسی مسیحا کا منتظر نظر آتا ہے۔ ہر ادارے کے ڈائریکٹرز بھی کسی ایسے سربراہ کے انتظار میں ہیں جو جادو کی چھڑی گھمائے اور ادارے میں کام کرنے والے تمام لوگ بندے کے پتر بن جائیں اور سر جھکا کر وہ کام کرتے چلے جائیں جو ادارے کے شیئر ہولڈرز کے نزدیک اہم ہیں۔ ہر قوم بھی اپنے نجات دہندہ کی تلاش میں ماری ماری پھر رہی ہے۔ ملت اسلامیہ بھی اپنے ابراہیم کی جستجو میں ہے۔

ہر انسان چاہتا ہے کہ کوئی معجزہ ہو جائے اور اس کی رات دن میں تبدیل ہو جائے۔ وہ زندگی سے راضی ہو جائے اور اس کو تخلیق کرنے والا اس سے راضی ہو جائے۔ دوسرے لفظوں میں اس کی قدرت اس کی زندگی پر بڑھتی چلی جائے اور وہ خود اپنی زندگی کی کشتی کا ملاح بن جائے لیکن جو فرد، ادارہ یا پھر قوم کسی نجات عطا کرنے والے لیڈر کی تلاش میں ہے اسے پرستش کرنے کے لیے کاذب اور فربہ اناؤں والے نرگسیت کے مریض لیڈر تو ضرور ملیں گے لیکن ان کی رات بھاری ہوتی جائے گی اور اس میں تاروں کی نمود دیوانے کا خواب بن کر رہ جائے گی۔

Read more

سب اپنی زلف کے اسیرہیں

ہم سب اپنے آپ کو مخفی خزانہ سمجھتے ہیں جو عالم غیب سے عالم شہود کی جانب بھیجا گیا ہے۔ انسان کے خمیر میں اپنی زلف کی اسیری لکھ دی گئی ہے۔ کسی کو میرے دعوے کی سچائی پر کوئی شک ہے تو پھر اسے کچھ دیر دیوانہ وار مختلف لوگوں کی فیس بک فیڈ کا مشاہدہ کرنا چاہیے۔ یہ حقیقت سورج کی طرح عیاں ہو جائے گی کہ ہم سب بالعموم اپنے ہی عشق میں گرفتار ہیں۔ ہمیں آئینہ

Read more

ٹیم ورک کا فقدان کیوں ہے؟

جب ٹیم کا ہر رکن اپنے حصے کے لئے ٹیم کے پورے بکرے کو ذبح کرنے کے لئے تیار ہو تو پھر ٹیم ورک کی جگہ ذاتی مفادات کا کھیل کھیلا جاتا ہے۔ ہر کوئی مشترکہ منزل کی جانب نہیں بھاگتا ہے بلکہ اس کا مقصد ذاتی و انفرادی جنت کا حصول ہوتا ہے۔ سپر سٹارز پر مشتمل ایسی ٹیم کو گھر کے چراغوں سے آگ لگ جاتی ہے۔ ”اتحاد میں برکت ہے“ جیسے مثالی مقولے کہانیوں کے عنوان تو بنتے ہیں لیکن زمینی حقیقت کی شکل اختیار نہیں کرتے ہیں۔

Read more

خوشی کی تلاش چھوڑیں،غم کو گلے نہ لگائیں

ہم خوشی کی تتلی پکڑتے ہوئے غم سے دوچار ہو جاتے ہیں۔ ہم حاصل کرنے کو خوشی سمجھتے ہیں جب کہ خوشی ترک کرنے میں ہے۔ خوشی پکڑنے میں نہیں ہے بلکہ خوشی تو چھوڑ دینے میں ہے۔ سیانے کہتے ہیں کہ جہاز کے کپتانوں کی دو اقسام ہوتی ہیں۔ ایک قسم بوڑھے کپتانوں پر مشتمل ہوتی ہے جب کہ دوسری قسم نڈر کپتانوں کی ہوتی ہے۔ البتہ بوڑھے اور بے خوف کپتانوں کی کوئی تیسری قسم دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔ سمجھ بوجھ رکھنے والے احتیاط پسند کپتان پرواز سے قبل موسم کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں، جہاز کی ٹینکی میں پٹرول پورا کرتے ہیں، نیند پوری کر کے اپنے آپ کو پرواز سے قبل تازہ دم کرتے ہیں، جہاز کے باطنی نظام کی صحت کا سرٹیفیکیٹ حاصل کرتے ہیں اور پھر عازم سفر ہوتے ہیں۔

Read more

ہم کب اور کیوں بدلتے ہیں؟

منو بھائی نے اپنے ایک کالم میں لکھا کہ سکول کے ایک ماسٹر صاحب کے نکاح کی بات چل رہی تھی۔ ان کے ہونے والے خسر نے ان سے دریافت کیا کہ تمہارا روزگار کیا ہے تو داماد شریف نے جھکی نگاہوں سے بتایا کہ میں سکول میں بچوں کو پڑھاتا ہوں تو خسر صاحب ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے مخاطب ہوئے کہ بجوں کو پڑھانا تو ثواب دارین کے حصول کے لیے تو قابل قدر ہے لیکن اسے باضابطہ پروفیشن تسلیم کر لینا پرلے درجے کی حماقت ہے۔

Read more

کیا نظام فرسودہ ہے یا فرد قصوروار ہے؟

معروف گلوکار علی حیدر کا ایک مقبول گیت ہے کہ ”یہاں کا سسٹم ہی ہے خراب“ ۔ یہ سسٹم یا نظام آخر کس چڑیا کا نام ہے۔ یقیناً یہ ”چڑیا“ زیرک صحافی نجم سیٹھی صاحب کی چڑیا سے مختلف ہو گی۔ اس ”چڑیا“ نے ہم سب کے ناک میں دم کیا ہوا ہے اور ہم ہر روز اسے ہی ہر نااہلی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ سسٹم یا نظام مقتدرقوتوں کے ہاتھوں تشکیل پاتا ہے۔ مقتدر قوتیں نامعلوم افراد پر

Read more

کیا اِنسان تعصب سے آزاد ہو سکتا ہے؟

ماہرین نفسیات کی غالب اکثریت کی یہ متفقہ رائے ہے کہ آپ اگر ایک انسانی دماغ کے حامل ہیں تو پھر آپ متعصب ہیں۔ تعصب انسانی دماغ کی ساخت میں موجود ہے۔ تعصب اور انسانی دماغ کا وہی رشتہ ہے جو چکوری کا چاند کے ساتھ ہے۔ انسان جو کائنات میں تخلیق کا شاہکار ہے جب رنگ، نسل، زبان، عقیدہ یا پھر قومیت کے سبب تعصب اور بدظنی کا شکار ہوتا ہے تو پھر وہ آسمان سے گر کر کھجور

Read more

کیا طاقتور ہونا اچھا نہیں ہے؟

طاقتور ہونا اگر اچھا نہیں ہوتا تو ہمارے وطن عزیز کی مقتدر قوتیں اپنے آئینی کردار تک محدود رہتیں اور طاقت کی راہداریوں پر اپنے پہرے دار بٹھانے کا تردد نہ کرتیں۔ طاقت سول ہو یا عسکری اس کی فطرت میں ارتکاز کا رجحان پایا جاتا ہے۔ ہمارے جمہوریت پسند دانشور خواہ مخواہ محکمۂ زراعت کے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔ وطن عزیز زرعی ملک ہے اور اگر یہاں پر محکمہ زراعت پردے کے پیچھے رہ کر ملک کے وسیع تر

Read more

کیا نوجوان ہمارا اثاثہ ہیں؟

وطن عزیز میں ماشاء اللہ نوجوانوں کی آبادی کل آبادی کے ساٹھ فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔ ہر سیاسی و مذہبی جماعت حصول اقتدار کے لئے نوجوانوں کے جوش اور توانائی پر انحصار کرتی ہے۔ ہم آج جب اپنے تعلیمی اداروں کے اندر اور باہر اپنے نوجوانوں کا مشاہدہ کرتے ہیں تو ہمارا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے البتہ ان نوجوانوں کا دیدار ممکن نہیں ہے کیونکہ ان کے سر اپنے سمارٹ فونوں کی سکرین کی جانب

Read more

کیا آپ کی خواہش اور کام ہم آہنگ ہیں؟

ابھی گزرے کل کی بات ہے کہ میں نے گاڑی چلاتے ہوئے ایک رکشا پر لکھا ہوا دیکھا:
قسمت کا مارا ہوں، مقدر بھی ہار چکا ہوں /کسی بے وفا کی خاطر رکشا چلا رہا ہوں

یہ شعر جب نظر سے گزرا تو مجھے یہ محسوس ہوا کہ رکشا ڈرائیو کرنے والے ہمارے کپتان رکشا مجبوری کے عالم میں چلا رہے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ رکشا چلانا ان کا شوق اور مشغلہ نہیں ہے بلکہ وہ رکشا اپنی ناگزیر معاشی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے چلا رہے ہیں۔

Read more

کیا ہم سب بِل گیٹس بن سکتے ہیں؟

موٹیویشنل سپیکرز دن رات اس کوشش میں لگے ہیں کہ ہم سب کو بل گیٹس اور ایلین مسک جتنا امیر و کبیر اور کامیاب بنا دیں۔ ہم سب کے اندر بھی یہ خواہش انگڑائیاں لیتی رہتی ہے کہ ہمیں اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے کام نہ کرنا پڑے بلکہ ہمارے پاس اتنا کثیر سرمایہ ہو کہ نہ صرف ہماری ضروریات باآسانی پوری ہو جائیں بلکہ ہمارے سارے ارمان بھی پلک جھپکتے ہی تکمیل کے مراحل طے کر لیں۔

Read more

کیا بادشاہ بے لباس ہے؟

یہ کہانی تو آپ سب نے ضرور سنی ہو گی کہ بادشاہ سلامت کی سواری ان کی ریاست کے گلی کوچوں میں سے گزر رہی ہوتی ہے اور درباریوں جیسے شہری اپنے بادشاہ کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے امڈے چلے آتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ بادشاہ کا دیدار ان کے تمام مسائل پلک جھپکتے ہی حل کر دے گا۔ انہیں مکتی مل جائے گی۔ ان کے دلوں کے دلدر دور ہو جائیں گے اور ان کے قلوب

Read more

کیا بدعنوانی تمام برائیوں کی جڑ ہے؟

بلاشبہ بدعنوانی تمام برائیوں کی جڑ ہے ، اسی لیے ہمارا قومی احتساب بیورو بدعنوان عناصر کی سرکوبی کے لئے اپنے تن من دھن کی بازی لگائے بیٹھا ہے۔ بدعنوانی کا سرطان ہمارے قومی وجود کو دیمک کی طرح چاٹ چکا ہے۔ ہم بحری جہاز کے وہ مسافر ہیں جو اپنے جہاز کے پیندے میں سوراخ کر کے پکنک منانے چلے گئے ہیں۔ ہمیں اس بدعنوان نظام میں بدعنوانی کے مرتکب افراد کو عبرت کا نشان بنانا ہے۔ ہمیں ڈھلوان

Read more

خوشی کا حصول کیسے ممکن ہے؟

پاکستان میں تاریخ بدل جاتی ہے لیکن حالات جیسے تھے ویسے ہی رہتے ہیں۔ آئیے کھوج لگاتے ہیں کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے اس ماحول میں اپنے لیے خوشی کو کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ معاشی استحکام ہمیں وہ سپرنگ بورڈ عطا کرتا ہے جس پر اچھل اچھل کر خوشی حاصل کر نے میں سہولت پیدا ہو جاتی ہے۔ ہوس زر البتہ وہ سراب ہے جس کے تعاقب میں خوشی کی تتلی ہاتھ سے نکل جاتی

Read more

بیورو کریسی اچھے افراد کی صلاحیت کیسے برباد کرتی ہے؟

کیا ہی اچھا ہو اگر ہم اپنے دفتروں میں خوشی خوشی اپنے فرائض سر انجام دیں۔ ہمارے ساتھ کام کرنے والے ہماری ایسی قدر کریں جیسے ایک خاندان کے افراد ایک دوسرے کی کرتے ہیں۔ ہم ایک دوسرے کی مدد کریں جیسے ایک خاندان کے افراد ایک دوسرے کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں۔ ہم ایک دوسرے کو کنٹرول کرنے میں خوشی محسوس نہ کریں بلکہ ایک دوسرے کے راستے کے پتھر اٹھانے میں فخر محسوس کریں۔ فیصلہ سازی کی

Read more

ایوان اِقتدار کا سدا بہار کھلاڑی بننے کے سنہری اصول

اقتدار کے سدا بہار کھلاڑی شکست کو دل پر نہیں لیتے ہیں۔ وہ ادھر ڈوبتے ہیں اور ادھر نکلتے ہیں۔ ان کے امیدوار اگر خدانخواستہ شکست کا شکار بھی ہو جائیں تو وہ ان امیدواروں کے حلقۂ احباب میں شامل ہو جاتے ہیں جو فتح سے ہمکنار ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ اپنے ان دوستوں کے ساتھ اپنے تعلقات منقطع کر دیتے ہیں جو ناکام ہو چکے ہوں۔ ناکامی ان کی سوتیلی ماں ہوتی ہے جس پر نفرین بھیجے بغیر ان کا دن ڈھلتا نہیں ہے۔ کامیابی اور کامیاب لوگوں کی قربت سے ان کے دل کو سرور ملتا ہے۔ وہ پرندوں کی مانند آسمانوں پر اڑنے کے آرزومند ہوتے ہیں اور زمین پر رینگنے والے کیڑے انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتے ہیں۔

Read more

تین طرح کے لوگ: آپ کن میں شمار ہونا چاہیں گے؟

وہ اپنے رشتوں کا بینک اکاؤنٹ بڑی دیانت کے ساتھ متحرک رکھتے ہیں۔ وہ دیتے وقت یہ دھیان رکھتے ہیں کہ انہیں بدلے میں کیا ملے گا۔ وہ بارٹر سسٹم کے پیروکار ہوتے ہیں۔ وہ رشتے نہیں بناتے، سودے کرتے ہیں۔ انہیں جب اپنی چاند سی بیٹی کا بیاہ کرنا ہو تو وہ اس کے ہونے والے سسرال کی معاشی اور سماجی حیثیت کا خوب جائزہ لیتے ہیں۔ ان کی نظر اپنے ہونے والے داماد کی قابلیت اور دیانت پر نہیں ہوتی بلکہ ان کے لیے یہ اہم ہوتا ہے کہ ان کے داماد کا تعلق کس خاندان سے ہے۔ ان کے سارے رشتوں کا ان کے جیسی معاشی و سماجی حیثیت کا حامل ہونا ان کے لیے لازم ہوتا ہے۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اگر چیونٹی بھی ہیں تو ہاتھی کی ہم سفری انہیں نصیب ہو جائے۔

Read more

محرومی ہمارے رویے کیسے بدلتی ہے؟

جمہوریت کی فضلیت اور بے لاگ اظہار کی آزادی خواب و خیال کی حاشیہ آرائی بن کر رہ جاتی ہے۔ جسمانی ضروریات جب تشنگی کے آسیب کی لپیٹ میں ہوں تو انسانی روح کے تقاضے پس پشت چلے جاتے ہیں۔ جو نہیں ملا، ساری توجہ کا ارتکاز اس پر ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ بھوک مٹانے کے لیے زہر تک گوارا کر لیا جاتا ہے۔ ویسے بھی حضرت انسان کو جو مل جاتا ہے اسے وہ بھول جاتا ہے اور یاد صرف اسے ہی رکھتا ہے جس کا حصول ممکن نہ ہو۔

Read more

کیا اداروں کے سربراہ بدلنا کافی ہے؟

کچھ خوشامدی بھی اس کے ارد گرد گھیرا تنگ کر دیتے ہیں۔ وہ نئے سربراہ کو ظل الہیٰ کا درجہ عنایت کر دیتے ہیں اور اسے وہی سناتے ہیں جو وہ سننا چاہتا ہے اور وہی دکھاتے ہیں جو وہ دیکھنا چاہتا ہے۔ اس کے چاپلوس نااہل اراکین ٹیم اسے مسلسل باور کرواتے رہتے ہیں کہ نئے سربراہ کی آمد کے بعد ادارے کا راوی ادارے کے بارے میں چین کی نوید سناتا ہے۔ ہر طرف دودھ اور شہد کی نہریں رواں دواں ہیں۔ یہ اور بات کہ یہ سارے خیالات بقول اسد اللہ غالب دل کو بہلانے کے لیے ہوتے ہیں۔

Read more

مثبت اقدار کی عملی تجسیم اہم ہے

ہم جن اقدار کی تبلیغ کرتے ہیں ان کے مطابق زندگی نہیں گزارتے اور جن اقدار کے مطابق جیتے ہیں ، ان کا اظہار کرنا مناسب نہیں سمجھتے ۔ قول و فعل کا تضاد یہی ہے۔ ہم اپنی تقریر و تحریر میں قومی مفادات کو مقدم رکھنے کو افضل گردانتے ہیں لیکن میدان عمل میں ذاتی مفادات کے لیے قومی مفادات کو قربان کر دیتے ہیں۔ اپنے سرکاری و نجی اداروں میں ہم سب اکٹھے مل کر کام کرنے کو

Read more

کیا ہمارا ذریعہ روز گار ہمارا تشخص ہے؟

آپ کی اکثر ایسے افراد سے ملاقات ہوئی ہو گی جو خود کو ڈاکٹر، انجینئر، میجر کہہ کے متعارف کرواتے ہیں اور اپنے ناموں کے ساتھ یہ سابقے پیوست کر لیتے ہیں۔ وہ پیشے جو ہم اپنی معاشی ضروریات پوری کرنے کے لئے اختیار کرتے ہیں وہ ہماری پہچان کیسے اور کیونکر بن جاتے ہیں۔ میں کون ہوں اور آپ کون ہیں جیسے سوالات کا جواب میں وکیل ہوں یا منیجنگ ڈائریکٹر ہوں یا کسی کمپنی کا چیف ایگزیکٹو افسر

Read more

کیا پاکستانی قوم کی کشتی نا اہلیت کے سمند رمیں غوطہ زن ہے؟

ہمارے سرکاری اداروں میں بالخصوص اور نجی اداروں میں بالعموم نا اہلیت بال کھولے سور ہی ہے۔ اس ادارہ جاتی نا اہلی نے حسن کارکردگی کو گھس کے فنا کے گھاٹ اتارا ہے۔ جیسے خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے بالکل ویسے ہی نا اہل مینیجر اپنی ٹیم میں نا اہلوں کو خوشی سے بھرتی کرتے ہیں تاکہ اپنے آپ کو احساس عدم تحفظ سے محفوظ رکھ سکیں۔ اندھوں میں کا نا راجہ بن کر زندگی کا لطف دوبالا ہو جاتا ہے۔ لائق فائق ٹیم ممبرز اور اپنے کام کو بخوبی سمجھنے والے نالائق و نا اہل مینیجرز کو اپنی حسن کارکردگی سے متواتر دھمکیاں دیتے ہیں، اسی لیے مینیجرز کے وسیع تر مفاد میں ان کا نہ ہونا ان کے ہونے سے بہتر ہے۔

Read more

بھیڑ چال

بھیڑ بن کر زندگی گزارنا کتنا آسان ہے، صرف چروا ہے کی ماننا پڑتی ہے۔ بھیڑ بن کر زندگی کا سفر سہل ہو جاتا ہے اور انسان غور و فکر کی اذیت سے بھی محفوظ ہو جاتا ہے۔ اپنے آس پاس کی بھیڑوں کی نقل مارکر سب کچھ کرتے جاؤ۔ فکر نہ فاقہ عیش کر کاکا۔ معلول سے علت تک کے سفر میں تو پتا پانی ہو جاتا ہے اور جگر کا خون ہو جانا بھی یقینی ہے۔ اس لیے

Read more

پاکستانی سیٹھ کمپنیوں کو مزید منافع بخش بنانے کیلئے چند تجاویز

پاکستان کی طرح دنیا بھر میں کاروبار کو مخصوص خاندان چلاتے ہیں۔ یہ خاندان صرف چھوٹے یا درمیانی حجم کے کاروبار ہی نہیں چلاتے بلکہ خاندانوں نے دنیا کے بڑے بڑے کاروبار بھی کامیابی کے ساتھ چلائے ہیں۔ ڈیو پونٹ (DuPont) جیسے ایک کاروباری ادارے کا انتظام خاندان کے افراد نے ایک سو ستر برس ( 170 ) بخوبی سنبھالے رکھا حتی کہ 1790 میں پیشہ وار نہ مہارت رکھنے والے منتظمین نے اس کا انصرام تھام لیا۔ پاکستان میں

Read more

اِنسانی رشتوں کو گُھن کیوں لگا۔

اپنے حصار سے نکل کر دوسروں سے ہمکلام ہونا اور ان کی ان کہی کو بھی سن لینا محنت طلب اور مشکل کام ہے اور انسان اپنے لیے آسانیاں ڈھونڈنے کا آرزو مند رہتا ہے۔ جب دوسرے ہمیں مدد کے لئے پکارتے ہیں تو انہیں خبر ملتی ہے کہ انہیں بچانے کا ہم میں یارا نہیں ہے۔ شاید ہم میں صرف دوسروں کو مریض اور خود کو ڈاکٹر بنانے کا یارا ہے۔ جو نہی کوئی ہمیں اپنا مسئلہ بتاتا ہے ہمارے ذہن میں ان کے مسئلے کا حل متشکل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

Read more

جو ہونا چاہیے وہ کیوں نہیں ہوتا ہے؟

آئیے آج کی نِشست میں اس سوال کا جواب ڈھونڈتے ہیں کہ جو ہونا چاہیے وہ کیوں نہیں ہوتا ہے۔ اِنسانی ذہن میں دو ٖفیصلہ کرنے والے نظام ہیں۔ ایک نظام جذبات، تعصبات اور مفادات کی بنیاد پر فیصلے کرتا ہے جبکہ دوسرا نظام عقل کی لگام تھام کر فیصلے کرتا ہے۔ اس مضمون میں ہم فیصلہ سازی کے جذباتی نظام کو سسٹم نمبر 1 سے تعبیر کریں گے اور فیصلہ سازی کے عقلی نظام کو سسٹم نمبر 2 کا

Read more

کیا خود نمائی ایک مرض ہے؟

خود نمائی ایک ایسا مرض ہے جو باعث شفا بھی ہے۔ آئیے آج خود نمائی کے پیاز کی مختلف پرتیں کھولتے ہیں اور دیکھتے ہیں ڈور کا سرا ملتا ہے کہ نہیں۔ ہم سب اپنے آپ کو چھپا ہوا خزینہ تصور کرتے ہیں جو ظاہر ہونے کے لیے بیتاب ہے۔ پروانوں کو ہماری شمع کے اردگرد ہی طواف کرنا چاہیے۔ دنیا میں ہونے والے متعدد کاروبار ہماری خود نمائی کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کے لیے وجود میں آئے ہیں۔

Read more

کلچر کیسے تبدیل ہو گا؟

ہم صبح و شام یہ واویلا کرتے ہیں کہ ہمیں سرکاری و نجی اداروں کا کلچر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے تھانوں کے اندر موجود پولیس ہماری عوام کے ساتھ حسن سلوک کرے۔ ہمارے سرکاری اہل کار عوام کے خادم بنیں نہ کہ مخدوم کے عہدے پر فائز رہیں۔ ہمارے سول سرونٹس خدمت میں عظمت تلاش کریں اور صرف اپنی پروموشن اور نفع بخش پوسٹنگ ہی کے لیے دوڑ دھوپ نہ کرتے رہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ کلچر کی تبدیلی وادی سے پربت کی چوٹی تک پہنچنے کا عمل ہے۔ کلچر کا مفہوم کافی وسیع ہے۔ کلچر انداز فکر کا نام بھی ہے اور طرز معاشرت بھی اسی میں شامل ہے۔ کلچر کے اندر مذہبی و دیو مالائی تصورات بھی جڑ پکڑ لیتے ہیں اور انسانی تعصبات کا خمیر بھی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔ مقتدر قوتوں کا اختیار بھی کلچر کے مختلف رنگوں کی تشکیل کرتا ہے۔

Read more

مایو سی سے کیسے بچیں؟

ہمارا دل روزمرہ کی زندگی میں بجھا بجھا سا رہتا ہے۔ ہم زندگی کی پٹری پر اپنی ریل گاڑی گھسیٹ رہے ہوتے ہیں۔ ہم روٹی کمانے کے لیے جو کام کر رہے ہوتے ہیں اس میں بھی ہمارا دل نہیں لگ رہا ہوتا ہے۔ ہم مجبوراً حصول رزق کے لیے اپنے پیشے سے وابستہ ہوتے ہیں۔ آئیے آج مایوسی کی جراحی کرتے ہیں۔ ہم جو کام بھی پہلی مرتبہ کرتے ہیں اسے سیکھنے کے لیے شعوری کوشش کرتے ہیں البتہ

Read more

پیغمبر اور پیشوا

پیغمبر اس لیے مبعوث ہوتے ہیں تاکہ جور و جبر کے ماحول سے عوام الناس کو آزاد کروا کے انہیں اپنی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا موقع فراہم کر سکیں۔ پیغمبر ہر انسان کو اپنے امکانات کو دریافت کرنے کے لیے نہ صرف آمادہ کرتے ہیں بلکہ انہیں وہ میدان عمل بھی تیار کر کے دیتے ہیں جہاں پر ہر انسان کو ایک ہی مقام سے زندگی کی دوڑ میں بھاگنے کا موقع ملے۔ وہ چاہتے ہیں

Read more

شخصیت پرستی بالمقابل اصول پرستی

انسانی سماج میں جب شخصیات اقدارو اصولوں پر سبقت لے جاتی ہیں تو پھر انسانی سماج شخصیت کے طلسم کی انگلی پکڑ کر پاؤں پاؤں چلنا سیکھتا ہے اور جونہی وہ کرشماتی شخصیت اس کا ہاتھ چھوڑتی ہے تو وہ منہ کے بل گر جاتا ہے اور رینگنا شروع کر دیتا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ انسان کی نظر ”خوگر پیکر محسوس“ ہے اور مادی پیکر میں موجود خدا کو نادیدہ خدا پر تر جیح دیتی ہے۔ ہم نادیدہ

Read more

تبدیلی کب آئے گی؟

ہم سب چاہتے ہیں کہ ہمیں ایسی زندگی نصیب ہو جس میں خوف و حزن نہ ہو۔ خوف کی نسبت خارجی حالات سے ہے اور حزن دل کے بجھنے سے عبارت ہے۔ ہمیں اپنے جنت ارضی کے خواب کی تعبیر اس لیے نہیں ملتی کیونکہ ہمارے اندر حسد، لالچ، غصہ اور انتقام جیسے منفی جذبات کی آتش سلگ رہی ہوتی ہے اور ہمارے ماحول میں خود پرست مقتدر قوتوں نے وسائل کا رخ الناس سے موڑ کر اپنی جانب منتقل کر کے ہماری بے چینی میں اضافہ کر دیا ہوتا ہے۔

Read more

انسانی فیصلوں کا ماخذ کہاں ہے؟

انسان کا نظام ہستی اس کے جذبات کا مست ہاتھی اور اس کی خود کار عادات چلاتی ہیں۔ عقل کی دستار فضلیت بالعموم جذبات کی سرخ آندھی لے اڑتی ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق انسان کے اندر فیصلہ سازی کی دو قوتیں پائی جاتی ہیں۔ ہم پر فیصلہ سازی کی جو قوت عام طور پر اور غیر ارادی صورت میں بر سراقتدار رہتی ہے وہ ہمارے اندر ردعمل کی نفسیات کو جنم دیتی ہے۔ یہ عجلت پسند قوت فیصلہ ہر

Read more

کیا تنہائی باعث اذیت ہے؟

تنہائی ایک نعمت بن جاتی ہے جب یہ ہمیں وہ انداز نظر عطا کرتی ہے جس سے ہمیں دنیا اور اس میں موجود انسانوں کی حرکات ”بازیچۂ اطفال“ دکھائی دیتی ہیں۔ تنہائی اس وقت بھی رحمت بن جاتی ہے جب ہم دنیا میں رہتے ہوئے بھی دنیا کے طلبگار نہیں رہتے ہیں۔ ماہر نفسیات کارل ژونگ فرماتے ہیں کہ ”تنہائی میرے لیے مسیحائی کا کردار ادا کرتی ہے۔ یہ مجھے جینے کے قابل بناتی ہے۔ اکثر و بیشتر میرے لیے

Read more

کیا تنہائی باعث اذیت ہے؟

تنہائی ایک نعمت بن جاتی ہے جب یہ ہمیں وہ انداز نظر عطا کرتی ہے، جس سے ہمیں دنیا اور اس میں موجود انسانوں کی حرکات ”بازیچۂ اطفال“ دکھائی دیتی ہیں۔ تنہائی اس وقت بھی رحمت بن جاتی ہے جب ہم دنیا میں رہتے ہوئے بھی دنیا کے طلبگار نہیں رہتے ہیں۔ ماہر نفسیات کارل ژونگ فرماتے ہیں کہ ”تنہائی میرے لیے مسیحائی کا کردار ادا کرتی ہے۔ یہ مجھے جینے کے قابل بناتی ہے۔ اکثر و بیشتر میرے لیے گفتگو سوہان روح ثابت ہوتی ہے اور میں ایک لمبے عرصے تک خاموش رہتا ہوں تاکہ الفاظ کی ادائیگی سے جو بے ثمری کی کیفیت پیدا ہوتی ہے، اسے مندمل کر سکوں۔“

Read more

کیا ہم سچ سننا چاہتے ہیں؟

ہمیں بچپن سے سچ بولنے اور سچ سننے کی اخلاقی تربیت دی جاتی ہے۔ تاہم ہم بلوغت تک پہنچتے پہنچتے یہ جان جاتے ہیں کہ سچ بولنے سے زیادہ اپنی بقا اہم ہے۔ جب بھی سچ ہمارے احساس تحفظ کے آگے بند باندھتا ہے تو ہمارے اندر بقا کا سیلابی ریلا اس بند کو بہا لے جاتا ہے۔ سچ کے سمندر کو ہم دور سے دیکھتے ہیں اور خوشی خوشی ساحلوں کی ہوا بننا قبول کر لیتے ہیں۔

Read more

‘ہمارے اداروں کا سب سے بڑا مسئلہ: ‘احساسِ بیگانگی

ہمارے نجی اور سرکاری اداروں میں بالعموم عہد گزشتہ کے صنعتی دور کا انداز بندوبست مسلط ہے۔ عہد صنعت کا امتیازی نشان یہ تھا کہ اس میں فیکٹری کا مال بڑے پیمانے پر مشین کے ذریعے تیار ہوتا تھا۔ مشین کو چلانے والے میکانکی انداز میں صرف اپنے حصے کا کام جانتے تھے اور مصنوعات کی جامع تصویر ان کے نظروں سے اوجھل رہتی تھی۔ فیکڑی کے مالک و انتظامیہ بھی اپنے کاریگروں کو مشین کے کل پرزے ہی سمجھتے

Read more

مکالمہ کیا ہے اور کیا نہیں ہے؟

صحت مند مکالمہ انسانی معاشرے میں موجود موت پرور جمود کو زندگی بخش تحرک میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ آئیے پہلے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ ”مکالمہ کیا نہیں ہے؟“ وہ باہمی گفتگو جس میں شرکاء دوران گفتگو صرف اپنے تعصبات کی ترتیب نو کر رہے ہوں، اسے صحت مند مکالمے سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا ہے۔ وہ باہمی گفتگو جس میں شرکاء اپنے بولنے کی باری کا انتظار کر رہے ہوں، اسے اظہار کی

Read more