ہم جب انسانی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ایک خواہش ہر انسانی عہد میں قلوب میں موجود نظر آتی ہے۔ ہر دور کا انسان اپنے خوابوں کی جنت حاصل کرنے کے لیے کسی مسیحا کا منتظر نظر آتا ہے۔ ہر ادارے کے ڈائریکٹرز بھی کسی ایسے سربراہ کے انتظار میں ہیں جو جادو کی چھڑی گھمائے اور ادارے میں کام کرنے والے تمام لوگ بندے کے پتر بن جائیں اور سر جھکا کر وہ کام کرتے چلے جائیں جو ادارے کے شیئر ہولڈرز کے نزدیک اہم ہیں۔ ہر قوم بھی اپنے نجات دہندہ کی تلاش میں ماری ماری پھر رہی ہے۔ ملت اسلامیہ بھی اپنے ابراہیم کی جستجو میں ہے۔
ہر انسان چاہتا ہے کہ کوئی معجزہ ہو جائے اور اس کی رات دن میں تبدیل ہو جائے۔ وہ زندگی سے راضی ہو جائے اور اس کو تخلیق کرنے والا اس سے راضی ہو جائے۔ دوسرے لفظوں میں اس کی قدرت اس کی زندگی پر بڑھتی چلی جائے اور وہ خود اپنی زندگی کی کشتی کا ملاح بن جائے لیکن جو فرد، ادارہ یا پھر قوم کسی نجات عطا کرنے والے لیڈر کی تلاش میں ہے اسے پرستش کرنے کے لیے کاذب اور فربہ اناؤں والے نرگسیت کے مریض لیڈر تو ضرور ملیں گے لیکن ان کی رات بھاری ہوتی جائے گی اور اس میں تاروں کی نمود دیوانے کا خواب بن کر رہ جائے گی۔
Read more