کون بنے گا کروڑ پتی: شوہر کا 20 سال پرانا خواب پورا کرنے کے لیے شو میں جانے والی خاتون کروڑ پتی بن گئیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈیا کی شمالی ریاست ہماچل پردیش سے تعلق رکھنے والی پولیس افسر موہیتا شرما 'کون بنے گا کروڑ پتی' یا کے بی سی کے سیزن 12 کی دوسری کروڑ پتی بن گئی ہیں۔

30 سالہ موہیتا کا کہنا ہے کہ کے بی سی جانا ان کا نہیں بلکہ ان کے شوہر کا خواب تھا۔

کچھ دن پہلے، مشرقی ریاست جھارکھنڈ کی نازیہ نسیم کے بی سی کے اسی سیزن کی پہلی کروڑ پتی بنی تھیں۔

موہیتا شرما آئی پی ایس افسر ہیں اور ان کی پوسٹنگ ان دنوں جموں و کشمیر میں ہے۔ وہ سمبا میں بطور اے ایس پی تعینات ہیں۔ ان کی ذمہ داری جموں و کشمیر کے اس خطے میں امن و امان برقرار رکھنا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے موہیتا شرما کا کہنا تھا کہ ‘کے بی سی میں آنا میرے لیے بہت جرات مندانہ قدم تھا۔

’یو پی ایس سی (سول سروسز) کا امتحان دینا میرا اپنا خواب تھا جس کو میں پورا کرنا چاہتی تھی۔ اس خواب کو پورا کرنے میں مجھے پانچ سال لگے۔ چار سال کی ناکامی کے بعد میں نے پانچویں کوشش میں کامیابی حاصل کی۔’

یہ بھی پڑھیے

ملیے کے بی سی میں ایک کروڑ جیتنے والی نازیہ نسیم سے

ایرانی گیم شوز پر جوے کے الزامات کے بعد پابندی

لاک ڈاؤن میں تندولکر اور دیگر ستارے کیا کر رہے ہیں؟

موہیتا کا کہنا ہے کہ درحقیقت ان کے شوہر کے بی سی میں جانا چاہتے تھے اور پچھلے 20 برسوں سے وہ اس میں شمولیت کی کوشیں کر رہے تھے۔

وہ کہتی ہیں ‘میرے شوہر کا خواب تھا کہ میں جاؤں اور کے بی سی میں شرکت کروں۔ وہ اس کے لیے 20 سال سے کوشش کر رہے تھے۔

’لیکن اس بار میرے شوہر نے مجھ سے کہا کہ اپنے موبائل سے کوشش کرو۔ میں نے کوشش کی اور ہم نے کے بی سی کا سفر شروع کیا۔’

موہیتا لاک ڈاؤن میں اپنے شوہر کے ساتھ کے بی سی پہنچیں

موہیتا شرما کے شوہر روشل گرگ انڈیا کے محکمۂ جنگلات میں افسر ہیں۔ ان دونوں کی شادی ایک سال قبل ہوئی۔

موہیتا نے بتایا: ‘ہماری شادی 30 اکتوبر 2019 کو ہوئی تھی۔ شادی کے بعد ہماری تعیناتی الگ الگ علاقوں میں تھی۔

’میں منی پور (مشرقی سرحد کے پاس) میں تھی اور یہ جموں میں تھے۔ ہماری شادی کی سالگرہ کے مہینے میں لاک ڈاؤن کے دوران کے بی سی کا سیزن چل رہا تھا۔

’ہم دونوں نے ایک ساتھ کے بی سی ٹی وی پر دیکھا اور صحیح جواب دینے کی کوشش کی۔’

وہ کہتی ہیں: ‘ہم دونوں نے سول سروسز کا امتحان دیا تھا لہذا ہمیں معلوم تھا کہ وہاں بھی کچھ ایسے ہی سوالات سامنے آتے ہیں۔

’اسی وجہ سے ہم دونوں اسے حل کرنے کی کوشش کرتے۔ اس لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہمیں اکٹھے رہنے کا موقع ملا۔

’مجھے دوبارہ منی پور جانا تھا۔ پھر خدا کے کرم سے میرا تبادلہ جموں ہو گیا اور اب ہم دونوں ساتھ رہ رہے۔’

دو لائف لائن اور ایک کروڑ کا سوال

کے بی سی میں کم ہی دیکھا جاتا ہے کہ آپ ایک کروڑ کے سوال تک پہنچے ہوں اور آپ کے پاس دو لائف لائنیں باقی ہوں۔

لیکن موہتا کے پاس دو لائف لائنز باقی تھیں۔

وہ کہتی ہیں: ‘جب میں ایک کروڑ روپے کے لیے کھیل رہی تھی تو میرے پاس دو لائف لائنز تھیں۔ پہلی سوال بدلنے اور دوسری کسی ماہر کی رائے لینے والی۔

’میں سوچ رہی تھی کہ میں اس سوال کے لیے فلپ والی لائف لائن کا استعمال کروں گی اور ماہرین کے مشورے والی سات کروڑ کے سوال کے ساتھ کروں گی۔

’پھر امیتابھ بچن جی نے کہا کہ میں سات کروڑ کے سوال کے لیے کوئی لائف لائن استعمال نہیں کرسکتی، اس لیے میں نے ماہرین کے مشورے کا استعمال ایک کروڑ والے سوال میں کیا کیونکہ عام طور پر ان کا جواب درست ہوتا ہے اور میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔‘

جیتنے کی خوشی لیکن ہاتھ نہ ملانے کا غم

ایک کروڑ روپے جیتنے کی خوشی کے ساتھ موہیتا کو امیتابھ بچن کے ساتھ ہاتھ نہ ملا پانے کا غم بھی ہے۔

وہ کہتی ہیں: ‘پہلے کے مقابلے اس بار کے بی سی کا ماحول کورونا کی وجہ سے بہت مختلف تھا۔

’پہلے جب تمام لوگ شو میں آتے تو بچن صاحب سے مصافحہ کرتے اور گلے لگاتے لیکن اس بار ان کی آمد سے قبل ہی ہمیں اپنی نشست پر بیٹھا دیا گیا تھا۔

’ہمیں امیتابھ جی کو اسی وقت سلام کرنا تھا جب کیمرا ہماری طرف کیا جاتا۔ ان سے ملنا، ان سے مصافحہ کرنا ممکن نہیں تھا۔ یہ دیکھ کر قدرے مایوسی ہوئی، لیکن یہ سب کرنا بھی ضروری تھا۔’

‘والدین نے میرے شوق کو کبھی کم نہ ہونے دیا’

پورے شو کے دوران موہیتا پُراعتماد نظر آئیں۔

اپنی فطرت کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ‘مجھے جلد ہار ماننا پسند نہیں۔ میں ہمیشہ مثبت سوچ رکھتی ہوں۔ میں کوشش کرتی رہتی ہوں جب تک کہ مجھے یہ محسوس نہیں ہوتا کہ سارے دروازے بند ہو گئے۔

’میں اپنے والدین کی واحد اولاد ہوں اور آج جو کچھ بھی ہوں میں ان کی محنت کی وجہ سے ہوں۔ جب میں چار کوششوں کے بعد بھی یو پی ایس سی کا امتحان پاس نہیں کرسکی تو میں بہت مایوس ہو گئی لیکن میرے والدین نے مجھے ہار ماننے نہیں دی۔‘

انھوں نے بتایا: ‘وہ ہر صبح میرے لیے اخبار کے اداریے کاٹ کر میرے پاس رکھتے اور مجھے دیتے۔ وہ کہتے کہ اتنا قریب آ گئی ہو تو ایک بار اور کوشش کر لو۔

’میں دیکھتی کہ وہ میرے لیے اتنی محنت کرتے ہیں تو مجھے کیوں نہیں کرنا چاہیے۔ یہ سوچ کر حوصلہ بڑھتا اور آج تک اس جذبہ کو رائیگاں نہیں جانے دیا ۔ وہ کے بی سی کے متعلق بہت خوش ہیں۔

’میرا پورا کنبہ، میری ساس بھی بہت خوش ہیں اور ہمیں مبارکباد دینے کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔’

’پیپر ورک کے معاملے میں سخت‘

شو کے دوران امیتابھ بچن نے کہا کہ جو میرے سامنے بیٹھی ہیں وہ آئی پی ایس افسر ہیں لیکن مجھے ان سے بہت ڈر نہیں لگ رہا ہے۔

جب امیتابھ نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ ڈیوٹی پر اتنی ہی نرم رہتی ہیں تو موہیتا نے کہا: ’میں پیپر ورک کے معاملے میں سخت ہوں۔

’میں اصول پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتی لیکن میں نے کبھی بھی ’ماچو‘ رویہ نہیں اپنایا اور نہ ہی میں کبھی اپنا‎ؤں گی۔

’آج تک میں نے کسی پر ہاتھ نہیں اٹھایا اور نہ ہی کبھی کسی کے ساتھ بدتمیزی سے بات کی ہے۔ حکومت کے بنائے ہوئے قوانین کے مطابق ہی کام کرتی ہوں۔‘

موہیتا نے تمام خواتین کو اپنے خوابوں پر یقین رکھنے کا پیغام دیتے ہوئے کہا: ‘آپ نے خواہ کوئی سنگ میل حاصل کرلیا ہو لیکن اپنے پیروں کو زمین پر رکھیں اور پھر جتنی اڑان بھرنی ہے، بھریں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16578 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp