کرونا کی وبا اور ویکسین: چند حقائق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا پچھلے ایک سال سے کرونا کی وبا کا شکار ہے اور زیادہ تر ممالک، گرمیوں کے موسم میں اس کی شدت میں کمی کے بعد، اب دوسری لہر کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایشیائی ممالک ہو یا یورپی، افریقی ہوں یا امریکی، ہر طرف اس نے آبادیوں کو اپنے نرغے میں لیا ہوا ہے، فرق صرف دوسری لہر کی شدت یعنی اس انفیکشن کا انسانی آبادیوں میں تیزی سے پھیلاؤ کی شرح میں ہے۔ وطن عزیزمیں بھی یہ دوسری لہر پہنچ چکی ہے اور اس کے ساتھ بیماری کا شکار ہونے والے لوگوں کی تعداد میں اضافہ کے ساتھ ہسپتالوں اور دوسری طبئی سہولیات پر دباو بھی بڑھ گیا ہے۔

دنیا کے تقریباً تمام ترقی یافتہ ممالک، اپنے بے پناہ وسائل کے باوجود اپنے اپنے لوگوں کو اس وبا سے بچانے میں مشکل محسوس کر رہے ہیں۔ امریکہ جیسی سوپر پاور میں موت کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد ڈھائی لاکھ تک جا پہنچی ہے اور ابھی اس میں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے۔ یہئی کیفیت یورپی ممالک مثلاً برطانیہ، اٹلی، فرانس وغیرہ کی ہے۔ ایک اہم تاثر جو ہم نظر انداز نہیں کر سکتے اور وہ چین، تائیوان اور کوریا اور نیوزی لینڈ کی صورت حال ہے جہاں کی حکومتوں نے اس وبا کو عوامی تعاون سے کافی حد تک کنڑول کر لیا ہے لیکن ایسا کنٹرول طویل عرصے کے لیے قائم رکھنا، اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ آج کے کالم میں پچھلے ایک سال میں ہونے والی تحقیق پر روشنی ڈالیں گے بالخصوص ویکسین کی تیاری اور ان انتظامات پر جو ممکنہ ویکسین کے لوگوں میں استعمال کے لیے ضروری ہوں گے۔

مختلف ویکسینیشنز کے ذریعے پہلے ہی کروڑوں افراد کی جان بچائی جا رہئی ہے۔ بنیادی طور پر ویکسین انسانی جسم کے اپنے دفاعی نظام کی ٹریننگ اورمدافعیاتی عمل کے ذریعے انسانی صحت کے لیے مضر بیکٹیریا اور وائرس کی شناخت اور ان کے خاتمے میں مدد کرتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے اندازے کے مطابق حفاظتی ٹیکوں کے ذریعے ہر سال تقریباً تیس لاکھ تک افراد کی جان ان بیماریوں سے بچائی جاتی ہے جن میں ٹیٹنس، کالی کھانسی، انفلوئنزہ، اور خناق وغیرہ شامل ہیں۔ یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اب تک کے تجربے کے مطابق ایک ویکسین کی تیاری میں عموماً دس سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے جس کے دوران اس کو ٹیسٹنگ کے انتہائی مشکل اور اہم مراحل سے گزارہ جاتا ہے تاکہ کسی نقصان سے بچا جا سکے۔ اس سارے عمل کا خرچہ تقریباً پچاس سے ساٹھ کروڑ ڈالر ہوتا ہے۔

کرونا یعنی کووڈ 19 کا مقابلہ کرنے کے لئے اس وقت سو کے قریب ویکسینز کی تیاری مختلف مراحل میں ہے۔ 11 جنوری 2020 کو کرونا وائرس کی جنیاتی ترتیب (genetic sequence) کی اشاعت نے عالمی سطح پر تحقیق و ترقی کا ایک ایسا عمل شروع کیا جس کی مثال پہلے نہیں ملتی اور اپریل 2020 میں ان میں سے تین تو کلینیکل ٹسٹنگ کی سٹیج میں داخل ہو چکی تھیں۔ ترقی کے اس عمل کا اہم پہلو ویکسین کی تیاری میں ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز کی مختلف اقسام کا تجرباتی سطح پر استعمال ہے اور اگر یہ سب اس وقت کام نہ بھی آئیں پھر بھی مستقبل میں ان کا استعمال خوش آئند ہے۔

واپس کرونا ویکسین کی طرف آتے ہیں اور یہ ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ مروجہ معیار کے مطابق کسی بھی ویکسین کے لائسنس حاصل کرنے کے لئے اس کی اثرپذیری کی شرح 90 فی صد سے زیادہ ہونا ضروری ہے۔ اس پس منظر میں ہم اب کرونا ویکسین پر توجہ دیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اس بارے میں انسانی ترقی کس سٹیج پر پہنچی ہے۔ ہم درجہ بہ درجہ مختلف ممالک اور اداروں کی کوششوں پر نظر ڈالیں گے۔

کیوں نہ شروع چین سے کریں جہاں سے یہ وبا شروع ہوئی۔
چین میں اپریل 2020 تک پانچ ویکسینز کی تیاری شروع ہو چکی تھی۔

چین کی سی این بی جی گروپ (CNBG) کی تیار کردہ (BBIBP۔ CorV) جو پہلے ہی ہنگامی حالات میں استعمال کے لیے حکومت سے منظور ہو چکی ہے اس ویکسین کے فیز I اور فیز I I ٹرایلز اپریل اور جولائی کے درمیان ہو چکے ہیں اور اب فیز III ٹرائل ابوظہبی میں جاری ہیں جن کے ذریعے اس ویکسین کی اثر پذیری اور اس کے محفوظ ہونے کے بارے میں پتہ چل سکے گا۔

دوسری چینی کمپنی (CINOVAC) کی تیار کردہ ویکسین کے فیز III ٹرائل برازیل، بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور ترکی میں شروع ہو چکے ہیں اور فلیپائن میں اس سال کے آخر میں شروع ہو رہے ہیں

اسی طرح ایک اور چینی ادارے (CanSinoBio) اور بیجنگ انسٹیٹوٹ آف بایوٹیکنالوجی کی تیار کردہ ویکسین کے فیز III ٹرائلز چین، روس، چلی، ارجنٹائن اور پاکستان میں شروع ہو چکے ہیں اور جلد سعودی عرب میں شروع ہونے جا رہے ہیں۔ جی ہاں آپ نے صحیح پڑھا۔ تاریخ میں پہلی بار کسی ویکسین کی فیز III ٹرائلز کے لئے پاکستان کو چنا گیا ہے۔ اگست میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (DPRA) کی منظوری کے قومی ادارہ صحت (NIH) کی زیر نگرانی بعد اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے پانچ ہسپتالوں کو اس مقصد کے لیے چنا گیا۔ ان ہسپتالوں میں اٹھ سے دس ہزار لوگوں کو اس تحقیق میں شامل کیا جائے گا۔ کسی ویکسین کی تیاری میں شمولیت پاکستان کے لئے ایک اعزاز سے کم نہیں اور یہ ٹرائل کیسے جا رہے ہیں اس کی تفصیل ذرا بعد میں

اب ہم آتے ہیں سائنسی ترقی کے روایتی مرکز یعنی یورپ اور امریکہ جہاں اب تک کی زیادہ تر ویکسینز تیار کی گئی ہیں اور طویل عرصے سے قائم بنیادی سائنسی ڈھانچہ یعنی تحقیق و ترقی کے ادارے ان معاملات میں دنیا کی راہنمائی کرتے آئے ہیں

ایک بڑی تعداد میں مختلف یونیورسٹیز اور تحقیقی ادارے اس کام کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

ان میں جمالۂ ریسرچ انسٹیٹوٹ (Jamaleya research institute Russia) جس کی تیار کردہ ویکسین کے فیز III ٹرائلز روس کے علاوہ بیلاروس، متحدہ عرب امارت اور وینزویلا میں جاری ہیں۔

امریکی فارما سیٹوکل کمپنی جانسنز اینڈ جانسنز کی تیار کردہ ویکسین کے فیز III کے ٹرائلز جنوبی امریکہ کے ممالک یعنی برازیل، چلی، کولمبیا، پیرو، ارجنٹائن اور میکسکو میں 60 ہزار سے زیادہ افراد میں جاری ہیں

ایک اور امریکی کمپنی نوووکس (NOVAVAX) بھی اپنی تیار کردہ ویکسین کے فیز III ٹرائلز برطانیہ اور امریکہ میں شروع کر چکی ہے

امریکی ادارے (National institute of Allergy &Infectious diseases) کی مالی مدد سے امریکی بایوٹیکنالوجی کمپنی مڈرنہ (Moderna) کی تیار کردہ ویکسین کے فیز III کے ٹرائلز جولائی کے مہینے سے امریکہ میں شروع ہو چکے ہیں۔ علاوہ ازیں برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی اور فارماسوٹیکل کمپنی ( AstraZenca) کے تعاون سے بننے والی ویکسین کے فیز III کے ٹرائلز جو کہ برطانیہ، برازیل، امریکہ، بھارت اور جنوبی افریقہ میں مکمل ہو چکے ہیں اور رپورٹ کا انتظار ہے۔

لیکن 9 نومبر کو جرمنی کی بایوٹیک (Biotech) اور امریکی فارماسوٹیکل کمپنی (Pfizer) کی تیار کردہ ویکسین کے فیز III ٹرائلز کی عبوری رپورٹ نے دنیا میں خوشی کی ایک فضا پیدا کر دی ہے۔ میڈیا میں جاری ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق ریسرچ میں حصہ لینے والی رضاکاروں میں اس ویکسین کی اثرپذیری 90 فی صد سے زیادہ تھی۔ Biotech کے چیف ایگزیکٹو پروفیسر اوگر شاہین کے مطابق ”اس ویکسین کی عالمی سطح کی فیز III تحقیق کے پہلے عبوری تجزیے میں یہ ثابت ہوا ہے کہ یہ ویکسین کوؤڈ 19 کی انفیکشن کو روک سکتی ہے۔ اور یہ جدت، سائنس اور عالمی سطح پر باہمی تعاون کی فتح ہے“ ۔

اب اہم مرحلہ ان تمام ویکسینز کی تحقیق سی حاصل ہونے والے مشاہدات کا ماہرانہ تجزیہ اور عالمی ادارہ صحت کے ساتھ ساتھ امریکی، یورپئین اور دوسرے ممالک کے ریگولیڑری اداروں کا ان تجزئیات کو پرکھتے ہوئے ان ویکسینز کے انسانوں میں محفوظ ہونے کا سرٹیفیکٹ جاری کرنا ہوگا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ریگولیٹری ادارے جہاں ایک طرف انسانی صحت کے ضامن ہین وہیں ان کے سامنے اس وبا سے ہونے والے جانی، ں فسیاتی نقصان کے ساتھ ساتھ اقتصادی مندی اور غربت میں اضافہ جسے مسائل سے بھی ہوں گے۔

علاوہ عزیں اور بہت سے سوالات ہیں (جن کے لیے یہ کالم ناکافی ہے ) جن کے جواب کا ابھی انتظار ہے، اس کے علاوہ ان ویکسینز کی بڑے پیمانے پر معیاری تیاری اور ان کو عام انسانوں تک پہنچانے کے انتظامات کوئی کم آسان نہ ہوں گے۔ مثال کے طور پر Pfizer کی تیار کردی ویکسین کے لیے ضروری ہے کہ اس کو منفی 70 ڈگری سینٹی گریڈ پر رکھا جائے۔ بڑے پیمانے پر اس ویکسین کو ذخیرہ کرنے کے انتظامات تو ابھی ترقی یافتہ ممالک کے پاس بھی نہیں تو ترقی پذیر مملک کی بات تو دور کی ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ حکومتوں کے پاس اپنے اپنے وسائل اور ضرورتوں کے مطابق مختلف اقسام کی ویکسینز کا حصول ممکن ہو۔

اب آتے ہیں اپنے وطن عزیز کی صورت حال کی طرف۔ جیسا کی پہلے عرض کیا کہ پاکستان پہلی بار ویکسین کی تیاری میں حصہ لے رہا ہے۔ اس ریسرچ کے لیے اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے پانچ ہسپتالوں کا انتخاب کیا گیا ہے اور اندازاً دس ہزار افراد اس ٹرائل میں حصہ لیں گے۔ اس ٹرائل میں حصہ لینے پر ویکسین کے کامیاب ہونے کی صورت میں چین پاکستان کو ترجیحی بنیادوں پر ویکسین فراہم کرے گا، جو کہ ایک خوش آئند بات ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اس طرح کی ریسرچ کے لیے رضاکاروں کا حصول کوئی آسان کام نہیں کیونکہ بہت سے لوگ کسی بھی نئی چیز جیسے ویکسین کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں، بالخصوص اگر یہ سمجھا جائے کہ یہ ناکافی طور پر جانچی گئی ہے۔ اور پاکستان میں تو ایسی ریسرچ کا رواج بھی نہیں اور ویکسینز بارے ہماری سوسائٹی کے خیالات کوئی ڈھکے چھپے نہیں۔ ہمارے ہاں تو کئی دہائیوں سے باقی دنیا میں زیر استعمال محفوظ ویکسین مثلاً بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے بارے بھی تحفظات پائے جاتے ہیں۔

مختلف حلقوں میں یہ تاثر تک پایا جاتا ہے کہ پولیو کے خلاف مہم درحقیقت ایک امریکی سازش ہے جس کہ ذریعے مسلمان ممالک میں آبادی کو کنٹرول کرنا ہے۔ بعض علاقوں میں تو مساجد بھی اس کام کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ اس طرح کے رویوں کے نتیجے میں پوری دنیا میں افغانستان کے علاوہ صرف پاکستان ہی ایسا ملک ہے جہاں ابھی بھی بچے پولیو کا شکار ہو کر معذوری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اس تناظر میں کرونا وبا بارے سوسائٹی میں پھیلے سازشی نظریات اور سوشل میڈیا پر ہونے والے پرپگنڈہ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

اکتوبر سن 2020 میں گیلپ پاکستان کے سروے کے مطابق 55 فی صد پاکستانی کو یقین نہیں کہ کرونا وائرس ایک حقیقت ہے اور 45 فی صد لوگ تو اس کو سازش کا حصہ سمجھتے ہیں۔ اسی طرح ایک اور مذہبی شخصیت کی جانب سے ایک بیان سوشل میڈیا پر پھیل گیا جس کے مطابق یہ ایک یہودی سازش ہے جس میں کرونا ویکسین کے ذریعے انسانوں میں مئیکرو چپ (microchip) داخل کی جائے گی اور اس طرح اس کے ذریعے انسانی اذہان پر کنٹرول حاصل کیا جا سکے گا۔ لگتا ہے کہ اسی طرح کی اور دوسرے سازشی نظریات کے پیش نظریہ پاکستان میں ویکسین کے موجودہ ٹرائلز کو اتنا زیادہ نمایاں نہیں کیا گیا، حالانکہ یورپ، امریکہ اور دوسرے ممالک میں جب ایسی تحقیق شروع ہوتی ہے تو فارماسوٹیکل کمپنیاں اور ادارے عوام میں آگہی کی خاص مہم چلاتے ہیں جن کہ ذریعے رضاکاروں کو اپنی طرف متوجہ کیا جاتا ہے۔

اس پس منظر میں یہ ایک بہت حوصلہ افزا بات ہے کہ حکومت اور طبی ماہرین نے کرونا کی وبا بارے پھیلی ہوئی افواہوں اور بے بنیاد خیالات کے توڑ کے لیے میڈیا اور مذہبی اکابرین سے رابطہ مہم شروع کردی ہے۔ لوگ بھی آہستہ آہستہ اس ٹرائل کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ اس میں حصہ لینے والے مبارک باد کے مستحق ہیں کیونکہ وہ انسانی صحت کے لیے اپنا حصہ ڈال رہیں ہیں اور ہمارا تو ایمان ہے کہ جس نے ایک جان کو بچایا گویا ساری انسانیت کو بچا لیا۔ کامیاب ویکسین مل بھی جائے، پھر بھی ہم انسانوں نے اس بیماری کے ساتھ زندہ رہنا سیکھنا ہو گا۔ اس کرونا کے بعد آنے والے والی دنیا میں کیا تبدیلیاں متوقع ہیں، ان پر بات اگلے کالم میں تب تک اپنا خیال رکھیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •