نائجیریا میں بود و باش (2)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آفس جانے کے لئے مجھے پک اینڈ ڈراپ کی سہولت میسر تھی اور اس کے علاوہ کہیں جانا ہوتا تو ٹیکسی کی بہت اچھی سروس موجود تھی اور شاید دنیا میں سستی ترین۔ میرا ارادہ تھا کہ میں جلد ہی گاڑی لے لوں جب کہ بینک سے قرضہ بھی نہیں لینا چاہتا تھا۔ پیجو اور فوکس ویگن وہاں لوکل مینوفیکچر ہوتی تھیں جاپانی گاڑیاں بہت کم تھیں اور مہنگی بھی۔ مجھے ایک فوکس ویگن (بیٹل) جو کہ گیارہ مہینے پرانی تھی نئی کے مقابلے میں آدھی قیمت پر مل گئی۔

میرا خیال تھا کہ یہاں محدود وقت گزارنا ہے اور مختصر فیملی کے لئے یہی گاڑی مناسب تھی۔ اللہ تعالی کا بہت شکر ادا کیا کہ اس نے اچھی سواری عطا کی۔ اب گاڑی چلے کیوں کر، میں تو اس ہنر سے نابلد تھا۔ اگلے روز اسلم آرائیں صاحب آئے اور ایک گراؤنڈ میں لے جا کر مشق کرانے لگے۔ گھنٹے بھر کی ٹریننگ کے بعد ہم گھر لوٹ آئے۔ دوسرے روز پھر ہم نے گراؤنڈ میں ٹریننگ آور گزارا۔ تیسرے روز اسلم صاحب کہنے لگے کہ آج گراؤنڈ میں نہیں جائیں گے، ڈرائیونگ سڑک پر ہی کریں گے اور مشق کے اختتام پر کہا کہ کل سے میں نہیں آوں گا اب آپ خود ہی چلا سکتے ہیں۔

اگلے روز میں نے آفس کی گاڑی کو پک کرنے سے منع کر دیا اور یونٹ سے ایک ڈرائیور کی ڈیوٹی لگوائی کہ دفتر آنے جانے کے لئے ڈرائیونگ کے دوران میرے ساتھ بیٹھ جائے۔ صبح ڈرائیور پہنچ گیا اور یہ خود گاڑی چلا کر دفتر جانے کا پہلا دن تھا۔ تیسرے روز ڈرائیور نے کہا سر آپ گاڑی ٹھیک چلا لیتے ہیں اس لئے کل سے آپ اکیلے ڈرائیو کریں، آپ تو لاگوس تک جا سکتے ہیں۔ لاگوس وہاں سے اتنا ہی دور تھا جتنا راولپنڈی سے کراچی۔

اب مجھے ہر صورت اکیلے ہی ڈرائیو کر کے آفس جانا تھا۔ شہر سے روکوبا کینٹونمینٹ کا فاصلہ 25 کلو میٹر تھا۔ پہلے پانچ کلو میٹر گنجان آباد علاقہ اور پھر ایک تنگ جگہ سے گزرنے کے بعد بیس کلو میٹر کم بلندی کی پہاڑیوں میں سے خم کھاتی ہوئی ایک سنگل سڑک جس کے اطراف کی خوبصورتی طبیعت کو شاد رکھتی اور سفر کی طوالت کو مائل بہ رضا بناتی۔ اگر چہ میں اکیلا آفس آنے جانے لگا مگر ڈرائیونگ میں تھا تو نو آموز اس لئے میں نے مزید مہارت حاصل کرنے کے لئے خود کو پابند کیا کہ ہر روز دفتر سے واپسی کے بعد شہر کی کسی ایک سمت میں نکل جاتا اور سو کلومیٹر گاڑی چلا کر واپس آتا۔ یہ مشق میں نے تواتر کے ساتھ تیس روز جاری رکھی۔

چار ہفتوں کے بعد ڈرائیونگ لائسنس کے لئے گیا تو ٹیسٹ کے تین مرحلے تھے۔ ہائی وے کوڈ اور ریورس ڈرائیونگ کا ٹیسٹ دینے کے بعد روڈ ٹیسٹ کے لئے سڑک پر نکلے اور آخر میں ایک چڑھائی والی سڑک پر انسپکٹر کہنے لگا گاڑی روکو، میں نے اشارہ آن کیا اور سڑک کے شولڈر پر آ گیا یہ سمجھتے ہوئے کہ گاڑی کی پارکنگ چیک کی جا رہی ہے۔ اس نے کہا کہ گاڑی ایسے روکو کہ چاروں پہیے سڑک پر ہوں۔ میں نے ایسا ہی کیا اور وہ باہر نکل کر پچھلے پہیے کے قریب جھک کر مجھے آواز دی کہ گاڑی آگے چلاو۔

میں نے گاڑی چلائی اور کچھ دور جا کر روک لی۔ در اصل اس نے چیک کیا کہ چڑھائی پر کھڑی گاڑی کو حرکت دیتے ہوئے پیچھے کی طرف تو نہیں گئی۔ بہر حال انسپیکٹر صاحب نے ٹیسٹ پاس کرنے کی نوید سنائی اور ٹیسٹ تمام ہوا۔ وہاں لوگوں میں ٹریفک سنس بہت تھی۔ ہماری رہائش کے قریب ہی مارکیٹ کے ساتھ ایک ون وے سڑک تھی جس پر بے شمار رش ہوا کرتا اور چیزیں بیچنے والوں اور ریہڑییوں کی بہتات کے سبب کھوے سے کھوا چھلتا۔ بس اتنی ہی جگہ خالی ہوتی کہ بمشکل گاڑی گزر سکے مگر کیا مجال کہ گاڑی چلانے میں رکاوٹ آئے، گاڑیاں تیزی سے گزرتی تھیں۔ ٹریفک بائیں کے بجائے دائیں ہاتھ تبدیل ہوئے سات آٹھ برس ہو چکے تھے مگر اب بھی کچھ گاڑیاں رائٹ ہینڈ سٹیرنگ والی موجود تھیں۔

ہمارے گروپ کے تمام افسر ز کی پوسٹنگ مختلف شہروں میں ہوئی اور بعد میں ان سے ملاقات نہیں ہو سکی سوا اس کے کہ کیپٹن عظمت بٹر دو تین دفعہ ملنے آئے۔ جب بھی آتے والہانہ انداز میں ملتے۔ ابھی ایک قدم گھر سے باہر ہی ہوتا تو کہہ رہے ہوتے بھابھی کھانے کے لئے کیا ہے بہت بھوک لگی ہے۔ سیدھا فریج کھولتے اور ہمیں کچھ پیش کرنے کی زحمت نہ دیتے۔ بغیر فیملی کے رہ رہے تھے اس لئے گھر میں بنی چیز رغبت سے کھاتے۔ ان کے علاوہ ایک دفعہ کیپٹن عبدالکریم بھابھی کے ہمراہ تشریف لائے اور ہمارا بہت یادگار وقت گزرا۔ ان کے ہمراہ تفریحی پروگرام بنتے رہے اور ایک روز پانکشن بھی وزٹ کیا۔ پانکشن جاس سے 116 کلو میٹر دور چھوٹا سا قصبہ تھا۔ ویسے تو وہاں کوئی خاص کشش نہ تھی مگر ہمیں اس لئے اچھا لگتا تھا کہ انگریزی زبان میں لکھا ہوا پاکستان جیسا لگتا تھا۔

نائجیرین لوگوں کی کھانے کی مرغوب چیز بش میٹ تھا مطلب یہ کہ جنگلی جھاڑیوں میں جو بھی مل جائے۔ اس کو شکار کرنے کا خاص موسم اور طریقہ واردات تھا۔ خشک موسم میں دیہاتی لوگ اکٹھے ہو کر ایک بڑی جھاڑیوں والی جگہ کو آگ لگا کر اس کے گرد گھیرا ڈالتے۔ جب آگ سے بچنے کے لئے جانور باہر نکلتے تو ان کو شکار کر لیا جاتا۔ ان میں خرگوش، تیتر، سانپ، بڑے کرلے، گرگٹ وغیرہ سب بش میٹ کے نام سے کھایا جاتا۔ ایک دفعہ کسی موٹر ورکشاپ میں کچھ کام کروا رہا تھا کہ شور کی آواز آئی دیکھا تو ورکشاپ والے لڑکے ایک بڑے سانپ کو مارنے کی تگ و دو کر رہے ہیں ساتھ کہے جا رہے ہیں اس کو میں کھاوں گا۔

اسی طرح ایک سفر کے دوران چھوٹی سی بستی کے پاس گزر ہوا، ڈرائیور نے اجازت لی کہ وہاں سے وہ اپنے بچوں کے لئے کچھ خریدنا چاہتا ہے۔ کچھ ہی دیر میں آ گیا اور اس کے ہاتھ میں تین سلاخ نما چھڑیاں تھیں جن پر کرلے چڑھائے ہوئے تھے۔ گاڑی کا بانڈ کھول کر کچھ دیر کھڑا رہا اور آ گیا۔ کہنے لگا بچوں کے لئے بڑا اچھا بش میٹ مل گیا ہے وہ خوش ہو جائیں گے، میں نے بانڈ کے اندر کہیں اٹکا دیا ہے اندر نہیں لایا تا کہ آپ کو بو نہ آئے۔

کانو میں محمد مروا نام کا ایک شخص بنیادی طور پر شمالی کیمرون کا رہنے والا تھا 1945 میں کانو آیا۔ یہ وہاں مذہبی راہنما کے طور پر ابھرا اور بہت سے حواری اکٹھے کرنے کے بعد نبوت کا دعوی کر دیا۔ اس کا اور حواریوں کا ماننا تھا کہ اصل مسلمان وہی ہیں اور یہ فرقہ مائیٹاٹسین کہلایا۔ مروا پرچار کرتا تھا کہ ان لوگوں کو انگریز کے آنے سے پہلے والی زندگی اپنانی چاہیے اور ماڈرن چیزوں کا استعمال ترک کر دینا چاہیے مثلاً گھڑی، بائیسائیکل، موٹرسائیکل، گاڑیاں وغیرہ۔

کانو کے امیر نے اسے ملک بدر کر دیا لیکن 1965 میں دوبارہ آ گیا۔ پھر اس کو سزا ہوئی اور ماکڑدی جیل میں بند رہا۔ سزا کے خاتمے پر 1973 میں پھر سے کانو پہنچ گیا اور اپنے فرقے مائیٹاٹسین کا پرچار شروع کر دیا حتی کہ تقریباً دس ہزار حواری اکٹھے کر لئے۔ 1980 کے اوائل میں مروا کا بیٹا گم ہو گیا اور بعد میں مارا گیا۔ اس نے انتقام لینے کی ٹھان لی اور مستزاد یہ کہ کانو کے گورنر نے اسے کہا کہ دو ہفتے کے اندر اپنا ٹھکانہ مسمار کر کے کانو سے چلا جائے۔

اس نے اپنے حواریوں کو کال دی کہ آئیں اور اپنے نبی (نعوذ باللہ) کی عزت کے لئے لڑیں۔ بہت بڑے پیمانے پر فسادات ہوئے جس میں ساڑھے چار ہزار لوگ مارے گئے اور یہ کذاب خود بھی مارا گیا۔ اس کے بعد 82، 84، 85 اور 87 میں بالترتیب بولنکوٹا، یولہ، گومبے اور فنٹوا میں بھی فسادات ہوئے۔ یہ تمام فسادات اس کے حواریوں اور مسلمانوں کے درمیان ہوئے۔ 1991 میں عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان فسادات ہوئے جو پہلے کٹسینا میں اور بعد میں باوچی اور کانو میں بھی پھیل گئے۔

2002 میں استاذ محمد یوسف نامی شخص نے بوکو حرام کے نام سے ایک تنظیم بنائی جس کا صدر مقام میڈوگڑی میں ہے۔ یہ شروع میں تو پر امن رہی اور اس کا مقصد نائیجیریا میں اسلام کا نفاذ تھا۔ بوکو حرام تنظیم کا ایک بڑا سپانسر بورنو سٹیٹ کا سابقہ کمشنر الحاجی بوجی فوئی تھا۔ وہ بڑی جائیداد کا مالک تھا اور جائیداد پبیچ کر تنظیم کی مدد کرتا رہتا تھا۔ 2009 میں تنظیم کے کچھ کارکن بغیر ہیلمٹ سفر کر رہے تھے کہ پولیس سے تنازعہ ہو گیا۔ معاملہ بڑھ گیا اور لڑائی میں کچھ کارکن مارے گئے۔ یوسف نے بدلہ لینے کا اعلان کر دیا اور وسیع پیمانے پر فسادات ہوئے جس میں یوسف اور الحاجی بوجی فوئی بھی مارے گئے۔

اس کے بعد تنظیم کے لوگ بکھر گئے۔ مختلف ناموں سے تنظیم چلتی رہی۔ افغانستان میں طالبان سے رابطے ہوئے عراق، مراکش اور الجیریا میں بھی ٹریننگ کے لئے گئے اور ایک دہشت گرد تنظیم کی شکل میں کارروائیاں شروع کر دیں اور اس کا دائرہ کار نائیجر، چاڈ اور کیمرون تک بڑھا دیا۔ اب ان کے تانے بانے آئی ایس آئی ایس عراق سے بھی جا ملے مگر ان کا اصل ہدف نائیجیریا ہی ہے۔

نائجیریا میں ہمارا قیام معاہدہ کے مطابق اٹھارہ ماہ کے دو دورانیے تھا جن کے درمیان چون روز کی چھٹی بھی شامل تھی۔ مگر صورت حال کچھ ایسی تھی کہ خواہشمند حضرات اس دورانیے کو ایک سال یا اس سے کچھ اوپر بھی آسانی سے طول دے دیتے تھے کیونکہ نا تو وہ لوگ بھیجنے میں مستعد تھے اور نہ ہی ہماری طرف سے واپس بلانے میں کوئی دلچسپی لی جاتی۔ میں ذاتی دلچسپی اور خصوصی کوشش کر کے ٹھیک وقت پہ واپس آ گیا تھا۔ کیونکہ نظم و ضبط سے ہٹ کے چلنا مجھے کبھی اچھا نہ لگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •