کرونا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا وائرس نے دنیا بھر میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو متاثر کیا ہے۔ ابھی تک صرف احتیاط ہی اس وائرس سے محفوظ رہنے کا بہترین علاج ہے۔ کرونا وائرس کی ابتداء سے متعلق کئی باتیں مشہور ہو رہی ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ یہ بعض جانوروں کو غذا کے طور پر استعمال کرنے کی صورت میں پیدا ہوا ہے جبکہ بعض یہ کہتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ یہ وائرس باقاعدہ حیاتیاتی لیبارٹریوں میں بنا کر پھیلایا گیا ہے یا پھر غلطی سے پھیل گیا ہے۔

الغرض جتنے منہ ہیں اتنی ہی باتیں ہیں۔ مگر حقیقت تو یہ ہے کہ ابھی تک اس حقیقت سے پردہ ہی نہیں ہٹ سکا کہ کرونا وائرس کی آخر حقیقت ہے کیا؟ مگر سچائی تو یہ ہے کہ کرونا وائرس اپنے پورے اثر کے ساتھ دنیا بھر میں خوف اور دہشت پھیلا چکا ہے۔ کئی افراد اس وائرس کے اثر سے نہ صرف بیمار ہو کر صحت یاب ہوچکے ہیں بلکہ یہ وائرس دنیا بھر میں کئی انسانوں کو موت کی وادی تک میں دھکیل چکا ہے۔ کرونا وائرس نے ساری دنیا میں انسانوں کی نہ صرف روزمرہ کی زندگی کو تبدیل کر دیا ہے بلکہ مذہبی اور ثقافتی رسومات پر بھی شدید اثرات مرتب کیے ہیں۔

وبا کا کسی ایک مخصوص علاقے یا خطے تک محدود رہنا تو سمجھ میں آتا ہے مگر وبا کا ساری دنیا میں ایک ہی وقت میں پھیل جانا بھی خود اپنے اندر ایک عجیب پراسراریت رکھتا ہے۔ کرونا نام کی یہ وبا انسانی تاریخ میں یقیناً ایک غیر معمولی واقعہ ہے جو مستقبل میں انسانی زندگی کی جہت کی تبدیلی کا باعث بنتے ہوئے بھی دکھائی دیتی ہے۔

اس جدید دور میں بھی کہ جہاں طب کے شعبے نے غیر معمولی ترقی کی ہے اور انسانی جسم میں پیدا ہونے والی مختلف جان لیوا بیماریوں کے لیے بہترین درمان دریافت کیے ہیں وہاں انسان فی الحال کرونا وائرس کے سامنے لاجواب ہی دکھائی دیتا ہے۔ طب کے اس جدید دور میں کرونا وائرس جدید طب کے لیے ایک چیلنج سے کم نہیں ہے۔ امید تو یہی ہے کہ جلد ہی جدید طب اس وائرس پر قابو پالے گی۔ مگر دنیائے طب کی موجودہ ترقی کے باوجود بھی کرونا وائرس کے سامنے جدید طب محو حیرت ہی دکھائی دی۔

گو کہ کرونا وائرس بنیادی طور سے ایک طبی مسئلہ ہے مگر ہمارے معاشرے میں چند نادانوں نے اسے مذہبی مسئلہ بنا ڈالا ہے۔ جس طرح دیہاتوں میں تفریح کی غرض سے مرغے کو مرغے سے لڑوا نے کا کھیل کھیلا جاتا ہے بالکل اسی طرح یہاں کچھ مرغ بازوں نے کرونا کو مذہب سے لڑوانے کا کھیل بھی کھیلا ہے اور خوب محظوظ بھی ہوئے ہیں۔ مگر یاد رکھنا چاہیے کہ کرونا وائرس درحقیقت ایک طبی مسئلہ ہے اور اسے مذہبی یا عقیدتی ابحاث کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ کرونا وائرس انسانی جسم میں بیماری پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے لہٰذا اس وائرس سے حفاظت کے لیے کسی مستند طبی ماہر کی رائے پر عمل کرنا ہی عقل مندی بھی ہے اور دینداری بھی۔

مستند طبی ماہرین کے مطابق جب تک کرونا وائرس کا باقاعدہ علاج دستیاب نہیں ہوتا ہے تب تک احتیاطی تدابیر اختیار کرنا بہت ضروری ہیں۔ کرونا وائرس سے محفوظ رہنے کے لیے ضروری ہے کہ جب گھر سے باہر جانا ہو تو ماسک کا استعمال کیا جائے، سینی ٹائزر کا استعمال کیا جائے، بار بار ہاتھوں کو صابن سے اچھی طرح دھویا جائے، بغیر دھلے ہاتھوں سے اپنی آنکھ، کان یا ناک کو چھونے سے اجتناب کیا جائے، کھانسی آنے کی صورت میں ٹشو پیپر کا استعمال کیا جائے یا پھر اپنے منہ کو کہنی سے ڈھانپ لیا جائے اور ان جگہوں پر جانے سے پرہیز کیا جائے جہاں لوگوں کی ایک مخصوص تعداد جمع ہو۔ بخار، کھانسی اور سانس لینے میں دشواری کی صورت میں فوری طور پر کسی مستند معالج سے رجوع کیا جائے۔

اس سال کے ابتداء میں کرونا وائرس کی پہلی لہر نے دنیا بھر میں کافی تباہی مچائی تھی مگر خدا کے فضل و کرم سے پاکستان اس طرح کے نقصانات سے محفوظ رہا تھا جس کا اندازہ لگایا جا رہا تھا۔ اب دنیا بھر میں کرونا وائرس کی دوسری لہر نے تباہی مچانا شروع کردی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ کرونا وائرس کی آنے والی یہ دوسری لہر پہلی لہر سے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ لہٰذا اس مرتبہ زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ مگر ملک عزیز کی موجودہ صورت حال تو یہ ہے کہ لوگ اس طرح روزمرہ کے امور انجام دے رہے ہیں جیسے کرونا وائرس کا یہاں وجود ہی نہیں ہے یا پھر کرونا وائرس کسی اور خطۂ زمین کی داستان ہے۔

دیکھا یہ گیا ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو اس کرونا وائرس کے بارے میں، میں نہ مانوں کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے اور مستند طبی ماہرین کی ہدایات کے مطابق احتیاطی تدابیر کو خاطر میں نہیں لاتا ہے۔ اس میں نہ مانوں طبقے کی نظر میں کرونا وائرس کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ یہ میں نہ مانوں طبقہ کرونا وائرس سے متعلق احتیاطی تدابیر کو نہ صرف ہوا میں اڑاتا نظر آتا ہے بلکہ ان احتیاطی تدابیر کا مذاق تک اڑاتا دکھائی دیتا ہے۔ جس کے باعث ہمارے معاشرے کا یہ میں نہ مانوں طبقہ نہ صرف خود خطرے کی شدید زد پر ہے بلکہ تمام معاشرے کو بھی غیر محفوظ بنا رہا ہے۔

کرونا وائرس ایک وبائی بیماری ہے جو ایک شخص سے دوسرے شخص میں بہت تیزی سے منتقل ہوجاتی ہے۔ ممکن ہے کہ کسی کے جسم میں قوت مدافعت زیادہ ہونے کے باعث یہ وائرس اس کے جسم پر بیماری کے اثرات پیدا نہ کرے مگر جس میں قوت مدافعت کم ہے اس کو ضرور اپنی صحت سے متعلق مشکل صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ لہٰذا اپنے لیے نہ سہی دوسروں کی زندگیاں محفوظ رکھنے کے لیے ہی کرونا وائرس سے بچنے کے لیے بتائی گئی احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔ اس بات سے ہرگز انکار ممکن نہیں ہے کہ ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے مگر اپنی نادانی یا غیر ذمہ داری کے باعث خود کو یا دوسروں کو موت کے منہ میں دھکیلنا ہرگز بھی درست اقدام نہیں ہے اور ایسے کسی بھی عمل کی نہ تو عقل اجازت دیتی ہے اور نہ ہی شریعت۔

Latest posts by گلزار علی رضوی (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
گلزار علی رضوی کی دیگر تحریریں