کرونا

کرونا وائرس نے دنیا بھر میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو متاثر کیا ہے۔ ابھی تک صرف احتیاط ہی اس وائرس سے محفوظ رہنے کا بہترین علاج ہے۔ کرونا وائرس کی ابتداء سے متعلق کئی باتیں مشہور ہو رہی ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ یہ بعض جانوروں کو غذا کے طور پر استعمال کرنے کی صورت میں پیدا ہوا ہے جبکہ بعض یہ کہتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ یہ وائرس باقاعدہ حیاتیاتی لیبارٹریوں میں بنا کر پھیلایا گیا ہے یا پھر غلطی سے پھیل گیا ہے۔

Read more

استاد گوگل

گوگل انٹر نیٹ کی دنیا میں ایک سرچ انجن ہے، مگر میں اسے ”استاد“ کہتا ہوں۔ آپ خود استاد گوگل سے کچھ بھی پوچھ کر دیکھ لیں، فوری طور پر جواب آ جائیں گے۔ آپ استاد گوگل سے کچھ اچھا پوچھیں تو استاد گوگل وہ اچھا، آپ کو بہت اچھی طرح سے بتائے گا۔ آپ استاد گوگل سے کچھ برا پوچھیں، تو استاد گوگل وہ برا بھی آپ کو بہت اچھی طرح سے بتائے گا۔ غرض استاد گوگل ہر وقت آپ کے ہر مطلوبہ سوال کا مطمئن کرنے والا جواب دینے کے لیے موجود رہتے ہیں۔ کسی روایتی استاد کے لیکچر میں آپ 45 منٹ سے زیادہ نہیں بیٹھ پاتے، مگر استاد گوگل میں نہ جانے کیا جادو ہے کہ دقیقے گھنٹوں میں بدل جاتے ہیں، مگر اکتاہٹ کا نام و نشان تک نظر نہیں آتا۔ کہتے ہیں سوال علم کی کنجی ہے اور استاد گوگل کے پاس ہر سوال کا جواب ہوتا ہے۔ جب پوچھیں، جہاں پوچھیں اور جو بھی پوچھیں استاد گوگل اس کا جواب دینے کے لیے ہمہ وقت موجود ہوتے ہیں۔

آج استاد گوگل کے سحر میں ساری دنیا ہی مبتلا نظر آتی ہے۔ نامور سائنسدان ہوں، ماہرین تعلیم ہوں، محقق ہوں، پروفیسر ہوں یا دنیا کے کسی بھی شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے ماہرین ہوں، استاد گوگل نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ آج دنیا میں کسی بھی موضوع سے متعلق معلومات کی فراہمی کا تیز ترین اور بہترین ذریعہ یہی استاد گوگل ہیں۔ میں ذاتی طور پر استاد گوگل کا پرستار ہوں۔ اب بھلا بتائیے کہ ایک وہ وقت تھا جب کسی بھی علمی مشکل کے حل کے لیے اس علم کے ماہر کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرنا لازم تھا مگر آج آپ کو کسی بھی موضوع سے متعلق جو بھی معلومات درکار ہوں، صرف لمحے بھر میں استاد گوگل کے توسط سے فراہم ہو جاتی ہیں۔ کوئی بھی استاد ہو وہ صرف کسی ایک شعبے یا پھر ممکن ہے کہ چند شعبوں میں ہی مہارت رکھتا ہو گا، مگر کیا کہنے ہیں استاد گوگل کے کہ ہر شعبے سے متعلق موصوف کی معلومات کے معیار سے انکار ممکن نہیں ہے۔ ساری دنیا ہی استاد گوگل کو ہر فن مولا مانتی ہے۔ استاد گوگل کی علمی استطاعت کے سامنے بڑے بڑے ماہرین لا جواب نظر آتے ہیں۔

Read more

میڈیا پر تنقید

ریاست اور صحافت کے درمیان رسہ کشی کوئی نئی بات نہیں اور شاید ہی دنیا کا کوئی ملک ہو جہاں ریاست اور صحافت کے درمیان اختلاف نہ ہو۔ ریاست مختلف قوانین کے نفاذ کے ذریعے صحافت کو پابند کرنے کی کوشش میں رہتی ہے جبکہ صحافت آزادی اظہار کے معاملے میں کوئی سمجھوتا کرنے پر آمادہ نہیں ہوتی۔ وطن عزیز میں بھی ابتداء سے صحافت اور ریاست کے درمیان رسہ کشی جاری ہے۔ وسعت اللہ خان، 12 اکتوبر 2018 کے بی بی سی ڈاٹ کام پر لکھے گئے اپنے کالم میں لکھتے ہیں۔

Read more