اقلیتوں کا پرزور مطالبہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کی نظریں اقلیتوں کے تحفظ کے بل پر مرکوزتھیں۔ مگر سینیٹر انوار الحق کی سرپرستی میں اندرون سندھ گھوٹگی، سکھر اور حیدر آباد کے دور ے کے بعدجبری تبدیلی مذہب اور نکاح کی جو سفارشات حکومت کو پیش کی گئیں۔ ان میں حقائق کو توڑ مروڑ کر اس طرح پیش کیا گیا کہ ان واقعات میں جتنی شدت بتائی جاتی ہے، اتنی نہیں ہے۔ مطلب کہ اس دفعہ بھی اقلیتوں کے تحفظ کے بل کی منظور ی کی توقع رکھنا بے فائدہ ہے۔

اس وقت یہ احساس شدت سے پایا جا رہا ہے کہ اسمبلیوں میں موجودسلیکٹڈ اقلیتی نمائندے امتیازی قوانین کے خلاف آوازاٹھانے اور ان کے تحفظ کے لئے قانون سازی کروانے میں بھی کس قدر بے بس ہیں۔ جبکہ یہی سلیکٹڈ نمائندے رٹے رٹائے جملے کہنے کے ضرور پابند ہیں کہ وہ پاکستان کے برابرکے شہر ی ہیں اور انہیں برابری کے حقوق حاصل ہیں۔ یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ پاکستان میں اقلیتیں جنت میں رہتی ہیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ اگر جنت ایسی ہے تو دوزخ کیسی ہو گی۔

اوپر سے مذہبی وزارت برائے اقلیتی امور ختم کر کے انسانی حقوق کی وزارت بنا دی گئی ہے۔ اور مذہبی امور کی وزارت میں ایک بھی اقلیتی نمائندہ موجود نہیں۔ یہاں تک کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور میں بھی کوئی اقلیتی نمائندہ موجود نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکتوبر میں سینیٹ نے اقلیتوں کے تحفظ کا بل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کو بھیج دیا جس نے بحث کے بعد یہ بل ریجکٹ کر دیا۔ نئے بل کی کوئی امید نہیں۔

اور نہ ہی سندھ کا دورہ مکمل کرنے کے بعد بھی سینٹ اور قومی اسمبلی مشتمل کمیٹی کی سفارشات سامنے آئی ہیں۔ اس سے پہلے سپریم کورٹ نے اقلیتو ں کے تحفظ سے متعلق شعیب سڈل کمیشن 2015 کے فیصلے پر حکومت کو عمل در آمد کرنے کا حکم دیا تھا۔ جس پر مذہبی وذرات نے فوری طور پر قومی کمیشن برائے اقلیتیں تشکیل دے دیا۔ اس تشکیل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے مگر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں آیا۔

قومی اسمبلی قانون ساز اسمبلی کہلاتی ہے اور اب آٹھویں ترمیم سے صوبائی حکومتیں بھی خود مختیار ہو چکی ہیں۔ چاروں صوبوں سے اقلیتوں کے تحفظ کا قانون نہیں بن سکا۔ صوبہ سندھ میں چائیلڈ پرو ٹیکشن میرج ایکٹ موجود ہے جس کی روح سے 18 سالہ لڑکی کی شادی کی اجازت ہے۔ جب کہ صوبہ پنجاب میں عمر کی حد 16 سال ہے۔ جس کی وجہ سے کافی کمپلیکشن سامنے آ رہی ہیں۔ خیر حکومت کوشش کر رہی ہے کہ چاروں صوبوں میں شادی کی عمر برابر مقرر کی جائے۔

یہی وجہ ہے کہ اقلیتیں بار بار یہی مطالبہ کر رہی ہیں کہ انہیں اپنے نمائندے خود منتخب کرنے کے لئے ووٹ کا حق دیا جائے۔ اپنے نمائندوں کو ووٹ دے کر اسمبلیوں میں بھیجنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ حالانکہ ان کے نمائندوں کا ووٹ کسی بھی پارٹی کو برسراقتدار لانے کے لئے بہت بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ قومی اسمبلی کی 90 سے زائد نشستوں کی ہار یا جیت پر اقلیتی ووٹرز اثرانداز ہو سکتے ہیں

کل تک کچھ لوگ جدا گانہ الیکشن کے خلاف تھے او رالیکشن کو ختم کروانے میں پیش پیش تھے۔ جس میں غیر سیاسی، چرچ امبریلہ کے نیچے چلنے والی این جی اووز اور مذہبی قیادت، جنہوں نے مل کر 1982 میں لاکھوں پٹیشن جنرل مشرف کو جمع کر وائیں۔ جس کی دلیل یہ دی گئی کہ جدا گانہ اطرز انتخاب نے اقلیتوں کو قومی دھارے سے جدا کر کے رکھ دیا ہے اور وہ دوسرے درجے کے شہری بن کر رہ گئے ہیں۔ ان میں بہت سارے اوورسیزپاکستانی مسیحی بھی موجود ہیں۔

اور یورپ یونین نے بھی جدا گانہ انتخاب کو ختم کرنے کے لئے جنرل پرویز مشرف پر زور دیا۔ جس پر جنرل نے ایگزیکٹو آرڈر سے اقلیتوں کے جداگانہ الیکشن ختم کر دیے۔ بعد ازیں پی پی پی کی حکومت نے اقلیتوں کے جداگانہ الیکشن کے خاتمہ کے لئے باقاعدہ قومی اسمبلی سے بل پاس کرواکر اسے قانونی شکل دے دی جو آٹھویں ترمیم کا حصہ بن گیا۔ سلیکشن کی اس ترمیم کے خلاف سب سے بڑ ی مذہبی اقلیت مسیحیوں نے آواز بلند کی اورسپریم کورٹ میں اپیل کی کہ اقلیتوں کو اسمبلیوں میں اپنے نمائندے خود منتخب کرنے کے لئے ووٹ کا حق دیا جائے۔

مگر سپریم کورٹ نے اس درخواست کو قومی اسمبلی کو ریفر کر دیا کہ وہ اقلیتوں کے الیکشن کے لئے قانون سازی کرے۔ اس وقت کے چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا خان نے کہا کہ اس وقت جب کہ الیکشن سر پر ہیں۔ اقلیتوں کے لئے الیکشن کا انتظام نہیں کیا جا سکتا۔ اب چار الیکشن ہو چکے ہیں۔ مگر اقلیتوں کا یہ درینہ مطالبہ ابھی تک پورا نہیں کیا گیا۔

سلیکشن کا سسٹم انتہائی ناقص ہے۔ ان کی کامیابی اور نامزدگی سیاسی جماعتوں کی صوابدید پر ہے۔ سیاسی جماعتوں کے پاس ان اقلیتی امیدواروں کی نامزدگی اور ترجیحی فہرست کے لئے کوئی قانون یا مقررہ اصول موجودد نہیں۔ لہٰذا وہ اپنی مرضی سے یہ فہرست ترتیب دیتی ہیں۔ انتخاب کا طریقہ نہ صرف پیچیدہ او رپراسرار ہے بلکہ یک طرفہ بھی ہے۔ اس میں ووٹ کاسٹنگ یا خفیہ بیلٹ کے ذریعے ووٹنگ نہیں ہوتی۔ یہ سلیکٹڈ نمائندے نہ اقلیتی عوام کے سامنے جواب دہ ہیں اور نہ ہی ان میں اقلیتی تحفظ کے لئے قانون سازی کروانے کی سکت ہے۔ لہٰذا سلیکشن کا عمل بالکل غیر جمہوری ہے۔ اقلیتوں کا سپریم کورٹ، چیف آف آرمی سٹاف، صدر ممکت اور وزیراعظم عمران خان سے پر زور مطالبہ ہے کہ انہیں یہ حق دیا جائے کہ وہ خود اپنے ووٹ سے اپنے نمائندے منتخب کر سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •