مذاکرات یا لانگ مارچ: حکومت ابھی فیصلہ کر لے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 2006 میں اپنی ماضی کی غلطیوں کو تسلیم کرتے ہوئے آئندہ انہیں نہ دہرانے کا عہد کرتے ہوئے ”میثاق جمہوریت“ پر دستخط کیے اور یہ طے کیا گیا کہ معاملات باہمی مشاورت سے طے کیے جائیں گے۔ لیکن افسوس کہ اس معاہدے کی سیاہی سوکھنے سے پہلے ہی اس کی خلاف ورزی کی گئی اور بار بار کی گئی۔ وہ خواہ جنرل پرویز مشرف سے مذاکرات ہوں، عدلیہ بحالی کی تحریک یا عمران خان اور طاہر القادری سے دھرنے کے بارے میں بات چیت۔

2018 کے الیکشن میں ”سلیکٹ“ کی گئی عمران حکومت پر دھاندلی کے الزامات شروع دن ہی سے لگ گئے، لیکن جمہوری نظام کو تلپٹ کرنے کی کوششیں نہیں کی گئیں۔ تمام اپوزیشن پارٹیوں نے نہایت نظم و ضبط کے تحت جمہوری دائرے میں رہتے ہوئے احتجاج کا راستہ اختیار کیا گیا، جس کی کوئی خاص شنوائی نہ ہوئی۔ لیکن اب جبکہ تحریک انصاف کو حکومت بنائے ہوئے تقریباً اڑھائی سال کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن حکومت کی کارکردگی نہ صرف یہ کہ دکھائی نہیں دیتی بلکہ بدانتظامی اور بدنظمی نے ملکی نظام کو زمین بوس کر دیا ہے اور مہنگائی، بے روزگاری اور افراط زر نے عام آدمی کا جینا محال کر دیا ہے۔ کوئی غیرمتوقع واقعہ یا حادثہ لوگوں کو جذبات کو مہمیز دے کر بھڑکا سکتا ہے۔ حکومت کو ڈرنا چاہیے کہ جب لوگوں کے جذبات اس سطح پر پہنچ جائیں تو پھر انہیں ٹھنڈا کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور لوگوں کا غصہ حکومت کو گھر بھیج کر ہی ٹھنڈا ہوتا ہے۔ خوش قسمتی ہے ابھی تک مڈل کلاس کے جذبات تحریک انصاف اور عمران خان کے خلاف تو بھرے پڑے ہیں لیکن لوئر کلاس کو کوئی مہمیز نہیں ملی۔ ایسے میں پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے اپوزیشن جماعتوں نے سلیکٹڈ حکومت سے مرحلہ وار نجات کا فیصلہ کیا ہے۔

حکومت کے خلاف حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ (پی ڈی ایم) میں جلد ہی اختلافات سامنے آنا شروع ہو گئے۔ پہلا اختلاف کوئٹہ کے جلسے کی تاریخ پر ہوا۔ پی ڈی ایم کی اسٹیئرنگ کمیٹی نے جلسہ 11 اکتوبر کو کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن جے یو آئی اور پی کے میپ نے اپنے طور پر جلسہ 18 اکتوبر تک ملتوی کر دیا۔ پیپلز پارٹی کو 18 اکتوبر کی تاریخ اور تنظیمی ڈھانچے پر تحفظات تھے۔ پیپلز پارٹی 18 اکتوبر کو یوم شہدائے کارساز مناتی ہے لیکن پھر بھی جلسہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم میں بڑا اختلاف اس وقت سامنے آیا جب متحدہ اپوزیشن (پی ڈی ایم) کے گوجرانوالہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے لندن میں موجود پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا نام لے کر ان پر مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو گھر بھجوانے اور عمران خان کی حکومت کو برسراقتدار لانے کا الزام عائد کیا۔ میاں نواز شریف نے پہلی بار فوجی قیادت کا نام لیتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ 2018 کے الیکشن میں دھاندلی کروانے اور انھیں وزیراعظم کے عہدے سے ہٹانے میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا براہ راست کردار تھا۔ گوجرانوالہ کے اس جلسے میں مسلم لیگ نواز کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام (ف) اور حزب اختلاف کی دیگر جماعتوں نے بھی حصہ لیا تھا جن کا مطالبہ تھا کہ ”اسٹیبلشمنٹ“ کو سیاست میں مداخلت سے باز رہنا چاہیے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کا نام لینے کو میاں نواز شریف کا ذاتی فیصلہ قرار دیا اور پی ڈی ایم میں طے شدہ امور سے ہٹ کر بیانیہ قرار دیا کیونکہ بلاول بھٹو زرداری کے بقول اے پی سی میں اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ دھاندلی یا سیاست میں مداخلت کا الزام کسی ایک ادارے یا شخص پر نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کا کہہ کر لگایا جائے گا۔ سابق صدر آصف علی زرداری جنہوں نے 2015 میں اپنے متنازعہ بیان کی وجہ سے ایک بار خود بھی مشکل میں پھنس گئے تھے، نے واضح طور پر اپنے آپ کو نواز شریف کے اس بیان سے علیحدہ کر لیا کہ حزب اختلاف اگر کئی محاذ کھول لے گی تو مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر پائے گی بلکہ پی ڈی ایم کو صرف سلیکٹڈ وزیر اعظم عمران اور پی ٹی آئی کو نشانہ بنانا چاہیے۔ پی ڈی ایم نے ایک نیا میثاق جمہوریت بنانے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ جو اس طرح کے اختلافات پیدا ہونے سے روکے گی۔

حکومت نے گلگت انتخابات میں اپنی بھرپور مہم چلانے کے بعد کورونا ایس او پیز کو بہانہ بنا کر جلسے جلوسوں پر پابندی لگا دی ہے۔ لیکن خیبر پختونخوا حکومت سے اجازت نہ ملنے کے باوجود پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے پشاور میں سیاسی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ پشاور جلسے کے دوران ہی پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کو لندن میں ان کی دادی کے انتقال کی افسوسناک خبر ملی اور وہ جلسے سے خطاب نہ کرسکیں اور مختصر بات چیت کے بعد پنڈال سے چلی گئیں۔ انتقال کی اس خبر پر بھی محترمہ کلثوم نواز کی بیماری اور موت کی طرح حکومتی حلقوں کی طرف سے گھٹیا سیاست کی گئی۔

پی ڈی ایم اور اس کی اتحادی جماعتوں کا اصل امتحان اس وقت شروع ہو گا جب وہ پنجاب میں داخل ہوں گے۔ دسمبر اور جنوری کے مہینے اپوزیشن اتحاد کے لیے بڑے فیصلہ کن ہیں۔ ملتان اور پھر لاہور کے جلسے میں احتجاجی تحریک اپنی بھرپور طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کرے گی اور پھر معاملہ لانگ مارچ کی طرف جائے گا۔ فی الحال تو حکومت پکڑ دھکڑ کے ذریعے اپوزیشن کو کمزور کرنا چاہتی ہے اور مذاکرات کی طرف آنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ مذاکرات کا مطلب حکومت سمجھتی ہے کہ اپوزیشن کو صرف این آر او چاہیے۔ جبکہ تحریک انصاف کی حکومت کا خاتمہ اور انتخابات کا فوری انعقاد اپوزیشن کا مطمح نظر ہے۔ حکومت کے لیے پانچ سال کی مدت پوری کرنا پہلی ترجیح ہوگی۔ گویا مذاکرات ہوتے نظر نہیں آتے۔ جبکہ پرامن مذاکرات کے لیے یہی وقت انتہائی مفید ہے۔ ورنہ لانگ مارچ کے اسلام آباد میں داخل ہونے پر بازی حکومت کے ہاتھ سے نکل کر اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں آ جائے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید حسن رضا نقوی

‎حسن نقوی تحقیقاتی صحافی کے طور پر متعدد بین الاقوامی اور قومی ذرائع ابلاغ کے اداروں سے وابستہ رہے ہیں، سیاست، دہشت گردی، شدت پسندی، عسکریت پسند گروہ اور سکیورٹی معاملات ان کے خصوصی موضوعات ہیں، آج کل بطور پروڈیوسر ایک نجی ٹی وی کے ساتھ منسلک ہیں

syed-hassan-raza-naqvi has 9 posts and counting.See all posts by syed-hassan-raza-naqvi