بھارت: متنازع زرعی قوانین کے خلاف ہزاروں کسانوں کا احتجاج

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھارت میں زرعی قوانین کے خلاف ہزاروں کسانوں نے احتجاج کرتے ہوئے دارالحکومت نئی دہلی کو جانے والی اہم شاہراہوں کو بلاک کر دیا ہے۔ حکام نے ہفتے کو نئی دہلی کی سرحد پر پولیس اور نیم فوجی دستے تعینات کر دیے ہیں۔

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق مظاہرین اور حکومت کے درمیان ایک دن پہلے ہونے والے معاہدے کی رُو سے مظاہرین نئی دہلی میں ایک مخصوص جگہ پر احتجاج کریں گے۔ تاہم مظاہروں میں ایک بار پھر شدت آ گئی ہے اور کسانوں کا کہنا ہے کہ نئے قوانین کے اطلاق سے کسان اپنی اجناس کی طے شدہ کم سے کم قیمت حاصل کرنے سے بھی محروم ہو جائیں گے۔

بھارت کی پارلیمنٹ سے رواں سال ستمبر میں ایک زرعی بل منظور کیا گیا تھا جس میں کاشت کاروں کو اپنی اجناس مارکیٹ میں فروخت کرنے کا کہا گیا تھا۔ کاشت کاروں کا یہ خدشہ تھا کہ اس سے وہ اپنی اجناس کی کم سے کم قیمت سے محروم ہو جائیں گے جو وہ سرکاری ہول سیل مراکز میں فروخت کرنے سے حاصل کر لیتے تھے۔

نئی دہلی اور ریاست ہریانہ کی سرحد پر جمعے کو پہنچنے والے کسانوں نے ہفتے کو ٹرکوں اور بسوں کے ذریعے شاہراہ کو بلاک کر دیا ہے۔

کسان وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں اور انہوں نے ہاتھوں میں کسان تنظیموں کے لال، زرد اور سبز جھنڈے تھام رکھے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق مظاہرین ایک لمبے عرصے تک دھرنا دینے کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں اور انہوں نے مظاہروں کے لیے طے شدہ مقام پر منتقل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ جس کے باعث مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کا خدشہ ہے۔

اس سے قبل جمعے کو پولیس نے مظاہرین کا دارالحکومت کی طرف مارچ کو روکنے اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال بھی کیا تھا۔

بھارت کی شمالی زرعی ریاست پنجاب سے تعلق رکھنے والے 75 سالہ ہربھجن سنگھ کا کہنا ہے کہ وہ اور دیگر مظاہرین دھرنا دینے کے لیے تیار ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کی طرف سے کسانوں کا استحصال کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ نئے قوانین کو واپس لینے کے لیے پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس بلایا جائے۔

ہربھجن سنگھ نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے دیگر ریاستوں کے کسان بھی احتجاج کا حصہ بنیں گے۔

دوسری طرف حزبِ اختلاف کی جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ ان کا نعرہ تھا کہ ‘فوجی کو سلام، کسان کو سلام’۔ ان کے بقول وزیراعظم نریندر مودی نے فوج کو کسانوں کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ جو بہت خطرناک ہے۔

راہول گاندھی نے ایک ٹوئٹ بھی کی جس میں ایک پولیس والا، ایک کسان کو مارنے کی کوشش کر رہا ہے۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا ہول سیل مارکیٹوں کو ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور کسان اپنی مرضی سے خریداروں کا انتخاب کر سکتی ہے۔

حکومت پر امید ہے کہ ایسا کرنے سے زراعت میں کی جانے والی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا اور رسد کے مرحلے کے دوران آنے والی مشکلات کا ازالہ ہو گا جو کہ ایک چوتھائی پیداوار ضائع ہونے کا سبب بنتی ہے۔

اس سے قبل رواں سال ستمبر میں زرعی قوانین کی منظوری کے بعد بھی حزب اختلاف اور کسان تنظیموں نے ملک گیر احتجاج کیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 901 posts and counting.See all posts by voa