کورونا کے دوران ’حمل ضائع ہونے پر بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شیرل
BBC
عام حالات میں بھی بچے کا ضائع ہو جانا یا مردہ بچے کی پیدائش بہت مشکل ہوتا ہے۔ یہ صورتحال جھیلنے کے لیے آپ اکیلے ہوتے ہیں۔

لیکن اگر اس میں کورونا وائرس کی پابندیوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو اس کا جذباتی اثر اور بڑھ جاتا ہے، نہ صرف آپ کے اندر بلکہ باہر ہسپتال کے ماحول پر بھی۔

رواں ماہ جولائی میں کورونا وائرس کی پابندیوں کو زچہ و بچہ وارڈز میں بھی کم کیا گیا تھا۔ شمالی آئرلینڈ میں اب بچے کے والد کو اپنی اہلیہ یا پارٹنر کے ہمراہ ڈاکٹر کے پاس جانے دیا جاتا ہے۔

لیکن شیرل مالون اور ان کے پارٹنر اینڈریو کاسل کے ساتھ ایسا نہیں تھا۔ یہ جون کا آغاز تھا اور وہ ڈاکٹر سے بات کرنے کے لیے جی پی سرجری کے باہر موجود تھیں۔

مزید پڑھیے

’اسقاطِ حمل نہ کروا کر میں نے اپنی زندگی کا بہترین فیصلہ کیا‘

پاکستان میں بچے کی پیدائش پر کتنا خرچ آتا ہے؟

’والدین نے مجھے کنوار پن کا ٹیسٹ کروانے کی دھمکی دی‘

پاکستان میں ماہواری پر بات اور سینیٹری پیڈز تک رسائی مشکل کیوں؟

انھیں مشورے کی ضرورت تھی، ایک نجی کلینک سے الٹراساؤنڈ کے بعد بتایا گیا کہ اُن کا دس ہفتے کا حمل زیادہ عرصہ باقی نہیں رہ سکے گا۔

پریشان حال شیرل اور اینڈریو کار میں بیٹھے انتظار کر رہے تھے۔

اینڈریو اور شیرل

BBC
اینڈریو اور شیرل کو بتایا گیا کہ حمل 10 ماہ سے زیادہ نہیں بڑھ پائے گا

ایک مرد ڈاکٹر تھا جس نے شیرل کو فون کیا جب وہ گھر سے دور تھے اور کہا کہ ’آپ دو ایبوپروفن لے لیں۔ یہ ایسے ہی ہو گا جیسے بہت زیادہ ماہواری ہوتی ہے۔‘

انھوں نے ڈاکٹر کے مشورے پر عمل کیا لیکن جو ہوا وہ بہت زیادہ ماہواری نہیں تھی۔

شدید درد

تیسرے دن شیرل نے کہا کہ ’مجھے شدید دردِ زہ تھا۔‘

انھوں نے بی بی سی نیوز شمالی آئرلینڈ کو بتایا کہ درد سے نجات کے لیے کچھ بھی کام نہیں کر رہا تھا۔

چوتھے دن وہ رائل جوبلی میٹرنٹی ہسپتال کے اس یونٹ میں گئے جہاں حمل کے دوران ابتدائی عرصے کی خواتین کو دیکھا جاتا ہے۔ پابندیوں کی وجہ سے شیرل کو اکیلے جانا پڑا۔

اس کے بعد جو ہوا شیرل اس کے بارے میں کہتی ہیں ویسا کبھی بھی نہیں ہونا چاہیے۔

ان کے معائنے اور انھیں امداد دینے کے بعد انھیں گھر جانے کو کہا گیا۔ شیرل کہتی ہیں کہ انھوں نے وہاں موجود مڈ وائف سے کہا کہ انھیں گھر نہ بھجوائیں کیونکہ وہ ایک اور رات تکلیف میں بسر نہیں کر سکتیں۔ لیکن انھیں کہا گیا کہ وہ دو دن بعد آجائیں۔

وہ کہتی ہیں ایک اور رات شدید تکلیف میں گزری۔

شیرل کا حمل اُن کے گھر میں ہی ضائع ہوا۔ اینڈریو کہتے ہیں کہ اس دوران جو بھی ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا اور اس بارے میں ان کی رائے ہے کہ یہ ٹھیک نہیں ہے۔

شیرل کا کہنا ہے کہ ’حمل کے ضیاع کے وقت بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا تھا، کوئی معلومات نہ مشورہ دیا گیا تھا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اس تمام تجربے پر انھیں شدید تکلیف پہنچی ہے۔

ہیتھر اور ڈیوڈ لزبرن کے رہنے والے ہیں اور انھیں بھی موسمِ بہار میں پتا چلا تھا کہ ان کے ہاں بچہ پیدا ہونے والا ہے۔

کورونا کی وجہ سے لگی پابندیاں ان پر بھی اس کے آغاز میں ہی اثر انداز ہوئیں۔

ہیتھر بھی جب 12 ہفتوں بعد سکین کروانے گئیں تو انھیں اکیلے جانا پڑا۔ اس سے قبل دو بار وہ اپنا حمل کھو چکی تھیں۔

تکلیف اور غم

ڈیوڈ کار میں اپنے تین بچوں کے ساتھ کسی خبر کے منتظر تھے۔ ہیتھر کو یاد ہے کہ جب انھوں نے ڈیوڈ کو بتایا کہ کچھ ٹھیک نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ کار میں واپس جانا بہت مشکل تھا۔

‘بچوں کو پتا چل گیا تھا کہ کچھ غلط ہوا ہے۔‘ وہ کہتی ہیں کہ ’وہ کار سے باہر نکلے اور اُن دونوں کو گلے لگایا۔‘

ڈیوڈ کہتے ہیں کہ ’یہ معلوم نہ ہونا کہ ڈاکٹر نے ہیتھر کو کیا بتایا ہے، یہ بہت مشکل تھا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ہیتھر صدمے کی کیفیت میں تھیں اور وہ فقط یہ جاننا چاہتے تھے کہ کیا حمل کے ساتھ جو بھی مسئلہ ہے اسے ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔

تین دن بعد ڈاکٹرز نے کہا کہ بچے میں کسی قسم کی معذوری ہو سکتی ہے اور اس کی عمر محدود ہوگی۔

دونوں والدین نے اپنے مسیحی عقیدے کی وجہ سے حمل کو تب تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا جب تک کہ اس کے دل کی دھڑکن رہے گی۔

وہ چاہتے تھے کہ وہ اس وقت کی یادیں اپنے ساتھ رکھیں۔ انھوں نے چھٹیاں لے لیں اور بچوں کو بتا دیا کہ آگے والے دنوں میں کیا ہونے والا ہے۔

23 ہفتوں سے کچھ دن اوپر ہوئے، ہیتھر کے ہاں جاب کی پیدائش ہوئی۔ یہ رائل جوبلی میٹرنٹی ہسپتال ہی تھا۔

ڈیوڈ کو ہی ان سے ملنے کی اجازت دی گئی، کوئی اور اندر نہیں جا سکتا تھا۔

بچے کی تدفین میں قریبی لوگ موجود تھے۔ ہیتھر کہتی ہیں کہ لوگوں کو گلے نہ لگا سکنا بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔

ہیتھر کی وہاں موجود مڈ وائفز نے بچے کا نام رکھنے میں اور یادداشتی باکس کی تیاری میں بہت مدد کی۔

لیکن وہاں ایک مڈ وائف تھی جو ان سب سے اوپر موجود تھی۔ ان کا نام بابرا گرگیٹ تھا۔ انھوں نے ہیھتر اور شیرل دونوں کے ساتھ کام کیا۔

باربرا اس ہسپتال میں صدمے سے نمٹنے میں مدد دینے میں مہارت رکھنے والی مڈوائف ہیں۔

دونوں خواتین کے لیے یہ سادہ سی بات ہے۔ باربرا ان کے غم کو سمجھتی ہیں اور یہ بھی کو کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے ان کے احساسات کس قدر شدت اختیار کر گئے۔

باربرا ہر وزٹ پر ہیتھر کے ساتھ موجود ہوتی تھیں، جب ان کے شوہر کو اندر جانے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔

اب شیرل ایک بار پھر امید سے ہیں۔ وہ باربرا کو ایک روشنی کہتی ہیں جو کہ ان کے ایک برے تجربے کے بعد سامنے آئیں۔

باربرا گرگیٹ کہتی ہیں کہ رائل جوبلی میٹرنٹی ہسپتال اس بات کو محسوس کرتا ہے کہ کچھ خاندانوں کے لیے موسمِ بہار میں لگنے والی پابندیاں بہت مشکل رہیں۔

لیکن یہ بھی یقین رکھتا ہے کہ اب جب چیزیں آگے بڑھ رہی ہیں اور خطرات کے حوالے سے اندازے بہتر ہو رہے ہیں، ہسپتال اب نسبتاً بہتر جگہ بن رہی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17958 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp