پوٹھی مکوالاں : خصوصی رپورٹ
آزاد کشمیر کے سب سے بڑے سرمایہ کار گروپ کا تحریک انصاف میں شمولیت کا فیصلہ ”انکل“ آبائی نشست سے بھتیجے کو اسمبلی کا الیکشن لڑائیں گے۔ مبینہ طور پر ”خواص“ نے سرمایہ کار کو وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز کروانے کی یقین دہانی کروا دی، سرمایہ کار آٹھ ارب روپیہ پارٹی فنڈ میں عطیہ کریں گے۔ سرمایہ کار کے وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائر ہونے کے بعد ایکٹ 74 کی طرح ایک نیا ایکٹ سامنے لا کر آزاد کشمیر کا حکومتی ڈھانچہ بھی تبدیل کیا جائے گا حکومتی ڈھانچہ میں تبدیلی کی صورت میں تنویر الیاس چغتائی آزاد کشمیر کے پہلے وزیراعلیٰ ہو سکتے ہیں۔
نئی حکومت کے قیام کے لیے سرمایہ کار کو جہانگیر ترین کی ڈیوٹی دیے جانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ سرمایہ کار تنویر الیاس چغتائی نے پی ٹی آئی میں شمولیت کے ساتھ تحریک انصاف کی قیادت کی خواہش بھی کی۔ لیکن چوہدری سرور، شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کی طرف سے بیرسٹر سلطان کو صدارت سے ہٹانے کی مخالفت پر سر دست پی ٹی آئی کشمیر کی صدارت ملنے کا امکان فی الحال ختم ہو گیا۔ تنویر الیاس چغتائی کو کالا باغ ڈیم میں کروڑوں روپے عطیہ کرنے، ملتان میں کروڑوں روپے کے عطیات دینے پر مقتدر حلقوں کی حمایت حاصل ہے تو ساتھ معاون خصوصی کی ذمہ داریاں نبھانے اور بطور چیئرمین انوسٹمنٹ بورڈ حکومت پنجاب کردار ادا کرنے پر عثمان بزدار کی خاص حمایت بھی حاصل ہے قمر زمان میاں وحید گل خنداں اخلاق رسول جاوید ایوب نے بھی جیتنے کی صورت تنویر الیاس چغتائی کو وزیراعظم بنانے ساتھ دینے کا طے کیا ہے۔
تنویر الیاس چغتائی کو مشتاق منہاس کی طرح وسطی باغ سے الیکشن لڑانے کا منصوبہ، قمر الزمان اور کرنل نسیم مرحوم کی خاندان کی مخالفت کی وجہ منسوخ کر کے اپنے بھتیجے صغیر چغتائی کی جگہ آبائی حلقہ پاچھیوٹ پونچھ LA 5 سے الیکشن لڑایا جائے گا۔ جہاں ان کا مقابلہ نون لیگ کے سابق سپیکر سیاب خالد اور خالد ابراہیم مرحوم کے فرزند اسد ابراہیم سے ہوگا۔ تنویر الیاس چغتائی جہانگیر ترین کی طرح آزاد کشمیر کے بعض حلقوں جن میں راجہ فاروق حیدر، یعقوب خان، عتیق خان، ملک نواز، غلام صادق، فاروق طاہر، چوہدری یاسین، طارق فاروق کے آبائی حلقے قابل ذکر ہیں میں تحریک انصاف کے امیدواروں کو جتوانے ”کردار“ ادا کریں گے۔
دو تہائی اکثریت کی صورت تنویر الیاس چغتائی کو وزارت عظمیٰ دی جائے گی، جبکہ صدر کے منصب پر بیرسٹر سلطان کو فائز کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ روز قبل تنویر الیاس چغتائی کی طرف سے آزاد کشمیر کو سینٹ اور پاکستان کی قومی اسمبلی میں نمائندگی دینے کی تجویز بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ تنویر الیاس چغتائی نے مستقبل کے حقائق کا ادراک کر کے اس تجویز کو سامنے لایا۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ تحریک انصاف میں پہلے سے ہی ایک دھڑا بیرسٹر سلطان کو ہرانے آبائی شہر میر پور میں ذوالفقار عباسی اور ان کے ساتھیوں کی صورت میں نا صرف متحرک ہے بلکہ پہلے سے لیگی رہنماء اور بیرسٹر سلطان کو ہرانے والے سابق وزیر چوہدری سعید کے رابطے میں ہے۔
یہ دھڑا بھی پس پردہ اس منصوبہ سازی کا حصہ ہے۔ واضح رہے کہ اس دھڑے نے بیرسٹر سلطان کے دست راست امتیاز خان کو بیرسٹر سلطان کی سفارش کے باوجود سیکرٹری اطلاعات نہیں بنے دیا۔ ان کی جگہ ایک ایسے شخص کو اس عہدے پر سلیکٹ کیا گیا جس نے عہدہ پہلے حاصل کیا اور پارٹی میں شمولیت بعد میں کی۔ تنویر الیاس چغتائی کی وزارت عظمیٰ کے حصول میں ایک بڑی رکاوٹ ان کے آبائی حلقہ سے تعلق رکھنے والے موجودہ آئینی عہدہ پر فائز شخصیات جنہوں نے کچھ عرصہ قبل اسلام آباد کے ”بادشاہ“ سے ملاقات کر کے یہ پیش کش بھی کی کہ وہ ماہ دسمبر میں عہدہ سے مستعفی ہوجائیں گے انھیں الیکشن کے بعد یہ ذمہ داری دوبارہ دی جائے لیکن اس تجویز کو ”تبدیلی سرکار“ نے نہ مسترد کیا نہ ہی فوراً قبول کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ”ڈیلنگ“ ابھی جاری ہے مذکورہ شخصیت پاک چین دوستی کے تناظر میں حکومت پاکستان کے لیے ”اثاثہ“ ہیں ان کی خواہش کو آسانی سے رد کرنا ممکن نہیں۔ آزاد کشمیر کی تاریخ میں اس سے قبل صدر و وزیر اعظم کبھی ایک حلقہ سے نہیں رہے۔ ایسے بھی امکان ہیں کہ پہلی دفعہ دونوں ”عہدے“ ایک حلقہ میں آجائیں۔


