ٹکراو اور بداعتمادی کی سیاست

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہماری سیاست اور جمہوریت بند گلی میں ہے۔ کیونکہ دونوں فریق حکومت او رحزب اختلاف ایک دوسرے کے سیاسی وجود کو قبول کرنے سے انکاری ہے۔ سیاست اور جمہوریت مفاہمت کے ساتھ آگے بڑھتی ہے او ر اس کی کنجی مکالمہ سے جڑی ہوتی ہے۔ لیکن یہاں کوئی بھی فریق کسی سے بات چیت یا مفاہمت کے لیے تیار نہیں۔ عمومی طور پر حکمران طبقہ کی ضرورت سیاسی مفاہمت ہوتی ہے۔ حکومت ہی کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ صورتحال کو بگڑنے سے بچانے کے لیے حزب اختلاف کو مفاہمت کے ساتھ جوڑ کر آگے بڑھنے کا کوئی درمیانی راستہ تلاش کرے۔ لیکن عمران خان کی حکومت اور ان کا سخت گیر یا جارحانہ رویہ بھی مفاہمت میں بڑی رکاوٹ ہے۔ یہ ہی رویہ حزب اختلاف کا بھی ہے جو کسی بھی طور پر مفاہمت تو کجا عمران خان کی حکومت کے سیاسی مینڈیٹ کی قبولیت سے ہی انکار ی ہے۔

حزب اختلاف یا پی ڈی ایم اسٹیبلیشمنٹ سے تو بات چیت کے لیے تیار ہے لیکن حکومت کے ساتھ بیٹھنے کے لیے تیار نہیں۔ ان کے بقول اسٹیبلیشمنٹ سے بھی اسی صورت بات چیت ممکن ہوگی جب عمران خان کی حکومت کو ختم کیا جائے۔ یقینی طور پر ایسی شرائط پر تو کوئی بھی حکمران طبقہ حزب اختلاف سے بات چیت نہیں کرے گا۔ حزب اختلاف کا مطالبہ نئے منصفانہ اور شفاف انتخابات ہیں مگر یہ سب کچھ کیسے ہوگا اس کا کوئی سیاسی بیلوپرنٹ ان کے پاس نہیں۔

ایک طرف منصفانہ اور شفاف انتخابات کا مطالبہ تو دوسری طرف اسٹیبلیشمنٹ سے حکومت کے خاتمہ کا مطالبہ خود اپنے داخلی تضاد کی سیاست کو نمایاں کرتا ہے۔ اس وقت حزب اختلاف سیاسی میدان میں ہے۔ کرونا کی دوسری وبا اور اس مرض کے بڑھتے ہوئے معاملات کے باوجود پی ڈی ایم بضد ہے کہ ان کی تحریک نہیں رکے گی۔ ان کے بقول دسمبر او رجنوری تک ہر صورت عمران خان کی حکومت کا خاتمہ یقینی بنانا ہے۔

بنیادی طور پر حکومت او رحزب اختلاف کے درمیان مفاہمت یا بات چیت کے لیے پہلی شرط دونوں اطراف کے لیے سازگار ماحول کا ہوتا ہے۔ کیونکہ مفاہمت کے ماحول کے بغیر مفاہمت کی سیاست آگے نہیں بڑھ سکتی۔ یہ ذمہ داری حکومت سمیت حزب اختلاف دونوں کی ہی ہوتی ہے کہ وہ خود ایسا ماحول پیدا کرے جو مفاہمت کی پیش رفت کو آگے بڑھاسکے۔ لیکن جب سیاسی ماحول حکومت کو گرانے یا حکومت کے مخالف کو دیوار سے لگانا ہو تو پھر مفاہمت کا راستہ نزدیک نہیں بلکہ دور ہوجاتا ہے۔ حکومت ہو یا حزب اختلاف بظاہر لگتا ہے کہ انہوں نے اپنی سیاسی مخالفت یا تقسیم کو عملاً ایک دشمنی کی سیاست میں تبدیل کر دیا ہے۔ سیاسی تعصب، نفرت، بغض، الزام تراشیوں، کردار کشی پر مبنی سیاست نے ہماری سیاست کو کافی تلخ کر دیا ہے۔

بدقسمتی یہ بھی کہ دونوں اطراف میں موجود سنجیدہ سطح کے اہل سیاست بھی موجود ہیں۔ لیکن جب مفاہمت کی بجائے بگاڑ کی سیاست کو ہی غلبہ حاصل ہو جائے تو سنجیدہ سطح کے لوگوں کو سیاسی جماعتوں میں زیادہ پذیرائی نہیں ملتی۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کی قیادت خود بھی محاذ آرائی کی سیاست کو ہی پسند کرتی ہیں۔ ان کا خیال ہوتا ہے کہ محاذ آرائی کی سیاست ان کو سیاسی فائدہ دیتی ہے او راسی بنیاد پر یہ اپنے سیاسی کارکنوں کو اسی محاذ آرائی کی سیاست سے جوڑ کر اپنا سیاسی مفاد بھی تلاش کرتی ہیں۔

ایسی صورتحال میں جب سیاسی فریق آپس میں بات چیت یا مفاہمت کے لیے تیار نہ ہو تو ایک ڈیڈلاک کی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔ ایسے میں سیاست کے اصول یہ ہی کہتے ہیں کہ کوئی تیسرا فریق بیچ میں فریق بن کر دونوں اطراف میں مفاہمت کا راستہ نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ایسی صورتحال میں جب حالات دونوں اطراف بند دروازے کی ہے او رکوئی کسی فریق کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تو تیسرا فریق چاہے وہ سول یا ہویا اسٹیبلیشمنٹ کے ہوں کوئی بھی تیار نہیں۔

پی ڈی ایم کے لوگوں نے جس انداز میں اداروں کو بھی اپنی تنقید یا ٹارگٹ کیا ہے او ربالخصوص لوگوں کے نام لے کر اداروں کے سربراہان کو نشانہ بنایا جا رہا ہے توکون ایسی صورتحال میں مفاہمت کے لیے آگے بڑھے گا۔ خود وزیر اعظم عمران خان، نواز شریف، مریم نواز اور مولانا فضل الرحمن جو ایک دوسرے کے خلاف لب ولہجہ اختیار کیے ہوئے ہیں وہ کسی بھی طرح جمہوری سیاست کی عکاسی نہیں کرتا۔ یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر مفاہمت کی طرف دونوں فریق نے آگے بڑھنا ہے تو اس کا ایجنڈا کیا ہوگا۔

کیونکہ اس وقت تو ایجنڈا ایک ہی ہے کہ ہم نے ہر صورت میں عمران خان او ران کی حکومت کو گھر بھیجنا ہے اور یہ ہی نکتہ ایسا ہے جس پر حکومت او رحزب اختلاف کا بیٹھنا کسی بھی صورت میں ممکن نہیں لگتا۔ خاص طور پر جب حزب اختلاف کرونا سے بڑا بحران وزیر اعظم عمران خان کو کرونا سے تشبیہ دی جا رہی ہو تو پھر ڈیڈلاک کا پیدا ہونا فطری نظر آتا ہے۔

حکومت اور حزب اختلاف کی اس بڑی لڑائی یا بداعتمادی کی ایک بھاری قیمت ملک میں موجود داخلی او رخارجی مسائل کو دینی پڑرہی ہے۔ ایسی صورتحال میں جب ملک کو کئی حوالوں سے کئی بڑے چیلنجز کا سامنا ہے تو ایسے میں حکومت او رحزب اختلاف کے درمیان بڑھتی ہوئی بداعتمادی کو ہر صورت میں کم ہونا چاہیے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم عمومی طور پر حکومت یا شخصیات کی مخالفت میں اس حد تک آگے بڑھ جاتے ہیں کہ ہم ریاست یا قومی مفادات کی سیاست کو بھی پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔ ایسے میں سیاست اور جمہوریت کے ساتھ ساتھ ریاست کے اپنے مفادات بھی کمزور ہوتے ہیں۔ ذاتیات کی سیاست کو اس حد تک آگے نہیں بڑھنا چاہیے کہ اس کے نتیجہ میں سیاست میں ذاتی رنجشیں اس حد تک آگے بڑھ جائیں کہ واپسی کا راستہ ممکن نہ ہو۔

اسی طرح بداعتمادی کا ماحول محض اہل سیاست تک محدود نہیں بلکہ ہمیں اہل سیاست اور اداروں کے درمیان بھی کافی تلخیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں جو زیادہ خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔ کیونکہ جب حکومت ہو یا حزب اختلاف یا اداروں کے درمیان ٹکراو کا ماحول پیدا ہوگا تو اس کے نتیجے میں سیاسی او رادارہ جاتی کشیدگی میں اور زیادہ تلخیاں پیدا ہوں گی۔ ایسی صورت میں ہمیں تمام فریقین کے درمیان زیادہ تدبر اور فہم فراست کی ضرورت ہے۔ ذاتیات کی سیاست سے زیادہ قومی سیاست سے جڑے معاملات پر ہمیں اپنی سنجیدگی دکھانا ہوگی کہ کیسے ہم ان حالات میں ملک کو بڑی مشکل سے نکال سکتے ہیں۔ اس میں یقینی طور پر حکومت کو ہی بڑی پہل کرنی ہوگی اور معاملات کو جذباتی انداز میں دیکھنے کی بجائے مفاہمت کے دروازے کو ہی کھولنا ہوگا۔

اہل سیاست کو سمجھنا ہوگا کہ مفاہمت کا راستہ بھی خود ان کو ہی تلاش کرنا چاہیے۔ دوسرے فریقوں پر انحصار کرنے کی پالیسی درست نہیں اور اگر اہل سیاست چاہے وہ حزب اقتدار یا حزب اختلاف سے ہو مل بیٹھ کر خود اپنے معاملات حل نہیں کر سکتے تو پھر سیاست او رجمہوریت کا عمل بہت پیچھے رہ جائے گا۔ اس لیے اب بھی حزب اقتدار او رحزب اختلاف دونوں کے پاس راستہ ہے کہ وہ بند راستوں کو کھولیں اور آپس میں بات چیت یا مفاہمت کے عمل کو تقویت بھی دیں اور سیاسی طاقت بھی۔

وگرنہ دوسری صورت میں نقصان بھی اہل سیاست یا اہل جمہور کا ہی ہوگا جو بند راستوں کو کھولنے کے بجائے پہلے سے موجود سیاست میں اور زیادہ بگاڑ کو پیدا کرنے کی وجہ بنے ہیں۔ مسئلہ کسی کی ہار او رکسی کی جیت نہیں ہونا چاہیے بلکہ اصل جیت پاکستان ا ور اس سے جڑے مفادات سے ہو او ریہ ہی ہماری اولین ترجیح بھی ہونی چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •