حکومت، اپوزیشن اور سرائیکی صوبہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پی ڈی ایم کے جلسے کے حوالے سے ملتان اور وسیب کے باقی تمام اضلاع میں تین روز تک جاری رہنے والی سیاسی کشیدگی کے بعد کون جیتا اور کون ہارا یہ بحث تو شاید 13 دسمبر کو لاہور مینار پاکستان پر ہونے والے پی ڈی ایم کے جلسے تک جاری رہے مگر اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ حکومت پنجاب اور ملتان انتظامیہ نے کارکنوں پر مقدموں، پکڑ دھکڑ اور رکاوٹوں کے ذریعے جس طرح جلسے کو کامیاب کرانے کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کیا اسے تحریک انصاف حکومت کی بدانتظامی حوالے سے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکے گا کیونکہ قلعہ کہنہ قاسم باغ کے بجائے چوک گھنٹہ گھر میں ہونے والے جلسے نے جس طرح پورے ملک کو اپنی طرف متوجہ کر لیا اس طرح کی توجہ شاید آزادی کے ساتھ جلسہ کر کے حاصل نہیں کی جا سکتی تھی۔

یوں تو جلسے میں پی ڈی ایم میں شامل 11 جماعتوں کے تمام رہنماؤں نے اپنی تقریروں میں تحریک انصاف کی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور وزیر اعظم عمران خان کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کی مگر مسلم لیگ کی نائب صدر مریم نواز کی تقریر کا ذکر کرنا چاہوں گا جنہوں نے آٹا چینی بحران، معاشی زبوں حالی سمیت تمام انتخابی وعدوں کو عمران خان کا فریب قرار دیتے ہوئے جنوبی پنجاب صوبے کا بھی ذکر کیا ان کا کہنا تھا 2018 کے انتخابات سے قبل ہمارے ممبران کو توڑ کر صوبہ محاذ بنایا گیا اور پھر عمران خان نے صوبہ محاذ کو تحریک انصاف میں ضم کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ ان کی جماعت اقتدار میں آ کر 100 دنوں میں جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنائے گی مگر جنوبی پنجاب صوبے کا اعلان بھی عمران خان کا ایک فریب تھا ”

یقیناً مریم نواز کی اس بات کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ سرائیکی صوبے کے نام پر وسیب کے عوام کے ساتھ دھوکہ ہوا مگر اس تلخ حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ وسیب کے ساتھ دھوکے کی تاریخ بہت پرانی ہے جو جماعت بھی اقتدار میں آئی اس نے وسیب کے حقوق پامال کرنے اور صوبے کے نام پر عوام کا استحصال کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا تاریخ کے اس تاریک باب میں مسلم لیگ نون کا کردار سب سے زیادہ افسوس ناک ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کو بھی بری الزمہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔

2012 میں جب پاکستان پیپلز پارٹی کے اقتدار کے آخری دن تھے تو انہیں اچانک جنوبی پنجاب صوبے کا خیال آ گیا اس حوالے سے ایوان بالا میں قرارداد بھی پیش کی گئی تو اس وقت پاکستان مسلم لیگ نون نے پنجاب اسمبلی دو صوبوں کے متعلق قرارداد پیش کر کے پاس کرا لی کیونکہ پنجاب میں ان کی حکومت تھی اس لیے کوئی مشکل پیش نا آئی پھر مسلم لیگ ق اور پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی اس قرارداد کی حمایت کی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ ”ایک قومی کمیشن تشکیل دیا جائے جو پانی، دیگر وسائل اور جغرافیائی حدود کا تعین کر کے صوبوں کے قیام کو عملی جامہ پہنائے اور بہاولپور کے عوام عرصہ دراز سے ریاست بہاولپور کی بحالی کا مطالبہ کر رہی ہے وفاقی حکومت اس حوالے سے فوری اقدامات اٹھائے“ یوں معاملہ الجھ جانے کے بعد پھر کسی کو ایک صوبہ یاد رہا اور نا دو صوبے اور بات قرارداد سے آگے نہ بڑھ سکی۔

2013 کے انتخابات کے بعد پاکستان مسلم لیگ نون اقتدار میں آئی مرکز اور دو صوبوں میں اس کی حکومت تھی مگر ان پانچ سالوں میں نون لیگ نے ایک بار بھی کسی ایک صوبے یا دو صوبوں کا ذکر نہیں کیا لیکن 2018 کے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد ایک بار پھر مسلم لیگ نون کے دل میں دو صوبوں کی ہمدردی جاگ اٹھی نون لیگ کی طرف سے ایک بار پھر بہاولپور اور جنوبی پنجاب صوبہ کے بارے میں ایک ترمیمی بل قومی اسمبلی میں جمع کرایا گیا جس میں کہا گیا کہ آئین میں ترمیم کر کے بہاولپور اور جنوبی پنجاب صوبہ کی تشکیل کے الفاظ شامل کیے جائیں آئینی ترمیمی بل کے مطابق بہاولپور صوبہ وہاں کے موجودہ انتظامی ڈویژن پر مشتمل ہوگا جبکہ جنوبی پنجاب صوبہ موجودہ ڈیرہ غازیخان اور ملتان ڈویژن پر مشتمل ہوگا ”

یہ تمام تلخ حقائق اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان مسلم لیگ نون نے جب بھی صوبے کی بات کی صوبے کے قیام کے لیے نہیں کی بلکہ صوبے کے معاملے کو الجھانے کے لیے کی اور کبھی بھی سنجیدگی کے ساتھ وسیب کے عوام کی ترجمانی نہیں کی بلکہ ہمیشہ وسیب کو تقسیم کرنے کی سازش کی یوں بھی وسیب کی محرومیوں کی سب سے زیادہ ذمہ داری نون لیگ پر عائد ہوتی ہے کیونکہ وہ طویل عرصہ تک پنجاب پر حکمرانی کرتی رہی ہے۔ جہاں تک برسراقتدار جماعت تحریک انصاف کا تعلق ہے اس تلخ حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ پورے قوم کی طرح وسیب کے لوگوں نے تحریک انصاف سے جو امیدیں وابستہ کی تھیں اور آنکھوں میں تبدیلی کے جو سپنے سجائے تھے وہ تمام حکومت کے نصف دورانیہ کے دوران ہی چکنا چور ہو گئے ہیں حالانکہ تحریک انصاف نے صوبہ محاذ کے ساتھ انضمام کے موقع پر جو معاہدہ کیا تھا اس میں بھی واضح طور لکھا گیا تھا کہ تحریک انصاف اقتدار میں آئی تو 100 دنوں میں الگ صوبے کے قیام کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

مگر پہلے تو دو سال تک صوبے کے قیام کے معاملے کو لٹکایا جاتا رہا مگر اب تحریک انصاف نے بھی ایک مکمل اور با اختیار صوبے کے قیام کو الجھا کر انتظامی بنیادوں سول سب سیکرٹریٹ تک محدود کر دیا ہے اور وہ بھی آدھا تیتر اور آدھا بٹیر والی حالت میں ہے ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے بننے والے سول سب سیکرٹریٹ میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری بہاول پور میں بیٹھے گا جس کی سربراہی میں مختلف محکموں کے اسپیشل سیکرٹری کام کریں گے جبکہ ایڈیشنل آئی جی ملتان میں بیٹھے گا مگر افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ سب سیکرٹریٹ بھی ابھی تک مکمل فعال نہیں ہوسکا جبکہ تحریک انصاف کی اس نا انصافی پر ہر سو خاموشی ہے کیونکہ کوئی بھی سیاسی جماعت سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ سرائیکی صوبہ بننے کے حق میں نہیں۔

یقیناً ہر دور میں برسر اقتدار آنے والی سیاسی جماعتیں، موجودہ حکومت اور اپوزیشن ہی نہیں بلکہ وسیب سے منتخب ہونے والے سیاستدان بھی سب سے بڑھ کر وسیب کی محرومیوں کے ذمہ دار ہیں اور صوبے کے قیام میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں جو ہر سیاسی جماعت کے لیے سہولت کا کردار تو ادا کرتے ہیں مگر وسیب کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کرتے سچ تو یہ ہے کہ وسیب میں کھڑے ہو کر صوبے کی بات کرنے والے کسی بھی جماعت کے رہنما وسیب کے زخموں پر مرہم نہیں لگاتے بلکہ اپنے ہی لگائے گئے زخموں پر نمک چھڑکتے ہیں اور یہ اس وقت تک ہوتا رہے گا جب تک وسیب کے لوگ اپنے دکھوں کے مداوے کے لیے خود کوئی کردار ادا نہیں کریں گے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •