ملاوٹ کا راج اور حکومتی بے بسی


اس وقت معاشرے میں اگر کسی طبقے کا اجارہ نظر آتا ہے تو وہ ملاوٹ کرنے والوں کا ہے۔ ملاوٹ کرنے والے بددیانتی اور دھوکے بازی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اس بارے میں ہمارے نبی کا واضح فرمان ہے کہ ”ملاوٹ کرنے والا ہم میں سے نہیں“ ملاوٹ بہت سنگین جرم ہے۔ اس جرم کے ذریعے انسانی جانوں سے کھیلا جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے کا ملاوٹ کرنے والوں کے خلاف ردعمل افسوس ناک ہے۔ اس معاملے میں پورا معاشرہ بے حس ہو چکا ہے ورنہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ہمارے ارد گرد جعلی اشیا بنانے والے کارخانے موجود ہوں ان جعلی کارخانوں کے مالک وسیع و عریض گھروں میں رہ رہے ہوں، بڑی بڑی گاڑیوں پر پھر رہے ہوں اور معاشرہ ان کو عزت کے سنگھاسن پر بٹھا کے رکھے ہوئے ہو۔

یہاں پر غلطی سے بھی کوئی چیز خالص نہیں ملتی۔ بچوں کے لئے سب سے اہم غذا خالص دودھ لانا سچ مچ کا جوئے شیر لانا ہے۔ دودھ میں خالی پانی ملا ہو تو پھر بھی غنیمت ہے مگر یہاں تو کئی قسم کے ڈیٹرجنٹ اور زہریلے کیمیکلز کو اس کے اندر ڈالا جاتا ہے۔ پاؤڈر والا جعلی دودھ بنا کر اچھی کمپنی کے ڈبوں میں بند کر کے بیچا جاتا ہے۔ اس عمل سے بیشمار بچے بیمار ہوتے ہیں ان کی ذہنی اور جسمانی نشوونما ٹھیک طرح سے نہیں ہو پاتی۔

ہر گھر میں بچے، بڑے، مرد، عورتیں بیمار ملیں گے اور کیوں نہ ملیں سبزیاں کیمیکل ملا اور گٹر والے پانی سے تیار ہوتی ہیں۔ لہسن اور کئی پھلوں کو تیزاب سے دھو کر چمکایا جاتا ہے۔ مردہ جانوروں کا نہ صرف گوشت کھلایا جاتا ہے ان کی ہڈیوں اور انتڑیوں کو پگھلا کر مضر صحت گھی اور تیل بنایا جاتا ہے۔ مرچوں کے اندر لکڑی کا برادہ اور خون مکس کیا جاتا ہے۔ گوشت کے اندر پانی ڈال کر وزن بڑھایا جاتا ہے۔ بیمار اور مردہ مرغیوں کے گوشت سے کباب اور شوارمے تیار ہوتے ہیں۔

کئی محلوں کے اندر گھروں میں مضر صحت سوڈا واٹر تیار کر کے معروف کمپنیوں کی بوتلوں میں بھرا جاتا ہے رات گئے ٹرک آتے ہیں اور محلے والوں کی آنکھوں کے سامنے یہ دھندا جاری رہتا ہے اور متعلقہ محکمے بھی کسی نہ کسی وجہ سے ہی آنکھیں بند کیے ہوتے ہیں ورنہ یہ محکمے ایک غریب کی سڑک کنارے کھڑی ریڑھی الٹا نے پل بھر میں آ دھمکتے ہیں۔ اس معاملے میں ہما را نام نہاد معاشرہ مغربی معاشروں کا پر تو بھی نہیں، جہاں اس قسم کی حرکتوں کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

ہمارے شہروں کی ہوا میں بھی ملاوٹ ہو چکی ہے فیکٹریوں کا دھواں فضا کو آلودہ کیے ہوئے ہے۔ عالمی رینکنگ میں کراچی لاہور اور فیصل آباد ٹاپ ٹین آلودہ ترین شہروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ملاوٹ شدہ شراب پی کر بیسویں افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔ سگریٹ جعلی بنائے جا رہے ہیں۔ ہر چیز ملاوٹ سے اور جعلی طریقے سے بنانے کی انتہا یہ ہے کہ لوگوں کو خودکشی کے لئے اصلی زہر بھی دستیاب نہیں ہے اور کئی لوگ زہر کھا کر بھی زندہ رہتے ہیں اور خودکشی کرنے کے بھی متبادل طریقے استعمال کرنے پڑتے ہیں۔

جب یہ ملاوٹ شدہ اشیا کھا کر لوگ علاج کرواتے ہیں تو دوائیں بھی جعلی ملتی ہیں اور یہ بڑے بڑے سٹوروں میں پڑی ہوتی ہیں۔ آٹا چینی نمک مصالحہ جات اور دالوں میں بھی ملاوٹ کی بھرمار ہے۔ بڑے شہروں میں تو پھر بھی کچھ معیاری چیزیں مل جاتی ہیں چھوٹے چھوٹے دور دراز کے قصبات اور گاؤں میں تو بچوں کو شدید مضر صحت کیمیکل رنگ شدہ ناقص گولیاں ٹافیاں بیچی جاتی ہیں اس طرح چائے کی پتی، مٹھائیاں، صابن، اور شربت بھی ناقص اور گھٹیا معیار کے بیچے جاتے ہیں اس سارے کاروبار کے پیچھے بھی اکثر بڑے شہروں میں رہنے والے معزز قسم کے سیٹھ ہوتے ہیں جنہوں نے چھوٹے چھوٹے قصبوں میں اپنے ڈیلر رکھے ہوتے ہیں۔

اس طرح کسانوں کے ساتھ بہت ظلم ہوتا ہے ان کو جعلی بیج مہیا کیا جاتا ہے پھر جعلی کیڑے مار دوائیاں، اور ملاوٹ شدہ کھاد دی جاتی ہے۔ ان نیٹ ورکس کے مالک بھی شہروں میں رہائش پذیر ہوتے۔ ان حالات میں گورنمنٹ کے محکموں کی کارکردگی ظاہر ہے ناقابل ستائش ہے۔ محکمے بھی سوسائٹی کا عکس ہوتے ہیں۔ ملاوٹ مافیا کے خلاف برائے نام کارروائیوں کے علاوہ سنجیدگی سے کبھی کام نہیں کیا گیا۔ کچھ سال قبل فوڈ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا جس سے ہوٹلوں میں صفائی اور کھانوں کے معیار میں کچھ بہتری آئی چونکہ اس میں کچھ پروفیشنل لوگ بھی بھرتی کیے گئے تھے تو اس سے کچھ بہتری ضرور آئی تاہم اختیارات کے حوالے سے یہ کمزور ثابت ہوئے ہیں کیونکہ یہ ڈی سی اور اے سی سے آزادانہ کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں جیسا کہ لاہور میں ایک نامور افسر عائشہ ممتاز لاعلمی میں ایک بڑے مافیا پر ہاتھ ڈال بیٹھی تھیں تو ان کو نہ صرف فوڈ اتھارٹی سے فارغ کیا گیا۔

بلکہ وہ ابھی تک عدالتوں کے چکر لگا رہی ہیں جہاں ان کے خلاف مختلف پٹیشنز دائر کر دی گئیں۔ اس کے بعد اتھارٹی میں بڑے بڑے جعل سازوں کو پکڑنے کا دم خم نہیں رہا ہے۔ اس طرح وقت گزرنے کے ساتھ ان کی کارکردگی تنزلی کا شکار ہے۔ انسانی جانوں سے کھیلنے والے اس جرم کے خلاف مجرمانہ خاموشی ہے۔ جس طرح کرپشن، نارکوٹکس اور قبضہ مافیاز کے خلاف مہم چلائی جاتی ہے سخت سزائیں دی جاتی ہیں محکموں کو با اختیار بنایا گیا ہے اس طرح ملاوٹ مافیا کے خلاف بھی آہنی ہاتھوں کے ساتھ نمٹنا ہو گا۔ محلے کی سطح تک اینٹی ایڈلٹریشن کمیٹیاں بننی چاہیں۔ افسران کی کارکردگی کا معیار اس وقت بہترین ہوگا جب اس کے علاقے میں کسی کو جعلی مال بنانے کی ہمت نہ ہو گی اس طرح عوام کو بھی اپنے درمیان موجود ان کالی بھیڑوں کی نشان دہی کرنا چاہیے۔

Facebook Comments HS