بزدار حکومت اگرچہ اپنی کارکردگی کے لحاظ سے اکثر شدید تنقید کی زد پر رہی ہے اور اس کی ایک وجہ وزیر اعلی کا کام کرنے کا دھیما انداز بھی ہے۔ لوگ ان کا موازنہ شہباز شریف کے بلند آہنگ انداز حکمرانی سے کرتے ہیں۔ شہباز شریف اگرچہ اسٹیبلشمنٹ کے آگے ابریشم کی طرح نرم نظر آتے ہیں، لیکن بطور وزیر اعلی وہ فولاد بن جاتے۔ خاکی سفاری سوٹ پہن کر حبیب جالب کی مظلوموں کے لئے لکھے گئی انقلابی نظمیں اپنی غیر مترنم آواز میں گاتے رہتے، عوامی پذیرائی حاصل کرنے کے لئے بارش کے فوراً بعد گھر سے نکل پڑتے اور ربڑ کے جوتے پہنے سیوریج کی خرابی کی وجہ سے کھڑے پانی میں اتر جاتے تاہم اپنے ساتھ میڈیا لے جانا کبھی نہیں بھولتے۔
اپنی انگلی کو جلالی انداز میں ہلا ہلا کر بیوروکریسی کو ایک پل کے لئے چین نہ لینے دیتے تھے۔ بزدار اپنی وضع داری کی وجہ سے اس طرح کے کام نہیں کر پا رہے ہیں۔ اسی طرح مختلف مسائل سے عہدہ برا ہونے کے لئے پالیسیوں کی تشکیل کی حد تک بھی ان کے ہاتھ بندھے ہوئے معلوم ہوتے ہیں اور سب سے بڑے صوبے کو چلانے کے لئے اس طرح کے اختیارات ابھی حاصل نہیں کر پائے جو شہباز شریف اور ان کے ہونہار بیٹے کو حاصل تھے۔ کرونا وبا سے نمٹنے کے لئے بھی ان کو وفاق کی ہدایات پر عمل کرنا پڑ رہا ہے اور ان کی اور کابینہ کی خواہش کے باوجود سخت لاک ڈاؤن نہیں نافذ ہونے دیا جا رہا۔
Read more