گورنمنٹ اسکول کا طالب علم اور ماسٹر جی کا مولا بخش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

” ہوم ورک کیا ہے؟“ سر کاظم نے ہاتھوں میں تھامے ڈنڈے کو لہراتے ہوئے پوچھا۔
” جی نہیں کیا ہے“ ۔ ہماری آواز میں ندامت کی جگہ سرکشی تھی۔

اسی کی دہائی غروب ہو رہی تھی۔ بہادر یار جنگ گورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکول میں ہم سینئر ترین جماعت کے طالب علم تھے۔ کلاس کے لائق لڑکوں میں ہمارا شمار ہوتا تھا۔ اس دن نہ جانے کیوں ہم کام نہیں کر پائے تھے۔ سرکشی کا سبب ہماری لیاقت ہرگز نہ تھی۔ اس کا غرور تو، اللہ غریق رحمت کرے، ہمارے اسسٹنٹ ہیڈ ماسٹر نے اسی دن خاک میں ملا دیا تھا جب بلا کسی تفریق کے، ہماری ساری کلاس کو پورے اسکول کے سامنے، اس معصوم جانور بننے کی مشق کروائی تھی جو صبح خیزی کی وجہ سے موذن مشہور ہے۔

اس دن ہمیں خوب اندازہ ہوا تھا کہ زخمی بدن سے زیادہ مجروح روح زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے۔ صرف بانگ دینے کا استثنا تھا ورنہ مرغ بننے کا یہ تجربہ ہمارے لئے کافی چشم کشا رہا۔ مثلاً اسی دن ہم پر یہ عقدہ کھلا کہ مرغا بننا کھیل نہیں ہے۔ اس کے لئے تجربہ شرط ہے۔ ایک خاص زاویے سے زیادہ اگر آپ جھک جائیں تو آپ کی کوشش ثمر آور بالکل نہیں ہے، بے سود ہے، رائیگاں ہے۔ اس حقیقت کا ادراک اس وقت ہوا جب ان زاویوں کو درست کرنے کے لئے ربڑ کے موٹے پائپ کی مدد لی گئی۔

اس دن یکجہتی کے معنی بھی ہم پر کھلے۔ تین چار لڑکوں کی شرارت، اگر مزاج حاکم پر اتنی گراں گزرتی ہے کہ وہ طاقت کے نشے میں چور، تمام طلبا کو اپنے غضب کا نشانہ بنانا چاہتا ہے تو بے شک بنا لے کہ کمزوروں کو ڈرایا تو جاسکتا ہے، مارا بھی جا سکتا ہے لیکن اگر وہ ایک ہو جائیں تو پھر جو وہ نہیں کرنا چاہتے، اس بات پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ تو ہم بھی دوستی کی راہ میں سرخرو رہے اور شرارت کرنے والوں کا بھید ان پر کھل نہ پایا۔

ہاں تو بات ہو رہی تھی انگریزی کے ہوم ورک کی۔ ہمارے تلملا کر جواب دینے کا سبب استاد سے بدتمیزی بالکل نہ تھی بلکہ اس بات کا مشاہدہ تھا کہ پچھلی صفوں سے شروع کیے گئے، جابرانہ سوچ کی عکاسی کرتا، ڈنڈا چلانے کا تسلسل، اس لڑکے پر آ کر ٹوٹ گیا تھا جو گو کہ پڑھائی میں کچھ خاص نہ تھا مگر ان کا چہیتا شاگرد تھا۔ ہوم ورک اس نے بھی نہ کیا تھا۔ ہماری باری آنے تک سوائے اس لڑکے کے، باقی سب کے ہاتھوں میں سرخی آ چکی تھی۔ ہمارا جواب سن کر انہوں نے یکسانیت بھرے لہجے میں کہا ”ہاتھ آگے کرو“ ۔

” جی نہیں کروں گا“ ۔ ایک پل میں ہم نے اکتاہٹ کو حیرت، حیرت کو جھنجھلاہٹ اور جھنجھلاہٹ کو غصے میں بدلتے دیکھا۔ ”کیا کہا! نہیں کرو گے“ ۔

”جی اس وقت تک نہیں کروں گا جب تک آپ میرے پیچھے بیٹھے ہوئے لڑکے کے ساتھ بھی وہ سلوک نہ کریں جو میرے ساتھ کرنے والے ہیں۔“ عجب تماشا ہے کہ ظالم، ظلم کرنے کا بھی جواز ڈھونڈتا ہے۔ انہوں نے گڑبڑا کر پہلے اس کے کام نہ کرنے کی وضاحت کرنا چاہی۔ پھر کچھ سوچا اور چپ ہو گئے۔ بھلے آدمی تھے، فطرتا نیک تھے، ۔ ہمارے قریب آئے اور کہا کہ نہیں بیٹا ایسی بات نہیں ہے۔ انہوں نے ڈنڈا جا کر میز پر رکھ دیا اور کچھ دیر تک خاموشی سے کرسی پر جا کر بیٹھ گئے۔ اس واقعے کے بعد پورا سال انہوں نے ہمیں انگریزی پڑھائی، البتہ وہ ڈنڈا ان کے ہاتھ میں ہم نے دوبارہ نہیں دیکھا۔

معاشرے میں شدت پسندی کا رونا روتے ہوئے ہم یہ فراموش کر دیتے ہیں اس کی بیج، اپنے گھر ہم میں اسی دن بو دیتے ہیں جب بچوں سے یہ کہا جاتا ہے کہ کیوں کہ میں یہ کہہ رہا ہوں اس لئے ایسا ہی ہو گا، چوں و چرا کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ اسی طرح اسکول میں اساتذہ کا اپنی پوزیشن کا غلط استعمال خواہ وہ جسمانی سزا کے ذریعے ہو یا اپنی حیثیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے طلبا کو تضحیک کا نشانہ بنانا ہو، غیر محسوس طریقے سے جبر کی ترویج کرتا ہے۔ منطق پر طاقت کی بالا دستی معاشرے میں انصاف کی نہیں بلکہ ظلم کی نیو رکھتی ہے۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ۔ دلیل۔ کا جواب محض اس سے بہتر دلیل کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے۔ شاید ہمیں اپنے آپ کو پہلے بدلنا پڑے گا تا کہ معاشرہ بدل سکے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •