ایران کی شکست۔ ایک خواہش رائیگاں

ایران، اسرائیل اور اس کے حواریوں کے درمیان ہونے والی حالیہ جنگ کے تناظر میں جہاں مختلف طبقہ فکر کے دانشوروں نے اپنے اپنے خیالات کو سپرد قلم کیا، وہاں پاکستانی لیفٹسٹس کا رویہ حیران کن حد تک عصبیت سے چور چور ہے۔ محض مذہبی سوچ، انتہا پسندی کو نہیں جنتی ہے۔ مذہب دشمنی کی زرخیز کوکھ سے بھی یہ عفریت جنم لیتا ہے۔ آئیے اس کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔ انسانی رویوں میں نفرت ایک ایسا جذبہ ہے جو

Read more

بزرگ، شادی، خاندان، روایات: انیس سو چوراسی کا کراچی

اسی کی دہائی اپنے جوبن پر تھی جب ہوش سنبھالنے کے بعد ہم پہلی مرتبہ دبئی سے پاکستان آنے تھے۔ ہماری سب سے چھوٹی خالہ کی شادی تھی۔ پرانا زمانہ تھا آسائشیں ابھی ضروریات نہیں بنی تھیں۔ مڈل کلاس گھروں کے لئے الیکٹرانکس کی امد ابھی بھی ”ہنوز دلی دور است“ کی مانند تھی۔ فرج کی جگہ ”نعمت خانہ“ ، انٹرنیٹ اور ٹیلیویژن کے بجائے، ریڈیو اور ٹیپ ریکارڈر راج کرتے تھے۔ کچن جو کہ اب تک باورچی خانہ کہلایا

Read more

1445 محرم کی کربلا

ہم گزشتہ کئی سالوں سے محرم کا پہلا عشرہ کرنے کسی اور شہر کا رخ کرتے ہیں۔ اس بار ہماری خوش نصیبی کہ ہمیں یہ شرف ملا کہ ہم سنہ اکسٹھ ہجری میں حق اور باطل کو الگ کرتی ہوئی تا قیامت رہنے والی واضح تفریق کربلا کا پہلی بار ان ایام میں براہ راست مشاہدہ کر سکیں۔ بغداد پہنچے۔ کاظمین دو دن قیام کیا۔ امام موسی کاظم ع اور امام محمد تقی ع کے دربار میں حاضری دی۔ ملوکیت

Read more

سفر، نامہ اور کتاب

السلام علیکم جاوید بھائی میسنجر پر آپ کا پیغام ملا اور ”اکبر زمیں میں غیرت۔ قومی سے گڑ گیا“ ۔ بھلا اس بات کا کیا عذر تلاش کریں کہ خود مصنف اپنی کتابیں آپ کو ارسال کرے اور آپ اس کی رسید تک نہ بھیج پائیں۔ تو ہم ”عذر گناہ بدتر از گناہ“ کو صحیح جانتے ہوئے اپنی ناخلفی اور بد تہذیبی کا ندامت میں ڈوبا ہوا اعتراف کرنا چاہیں گے۔ گو کہ ”ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی

Read more

کیا آپ یاور بھائی کو جانتے ہیں؟

فنا، وجود کا لازمہ ہے۔ اپنے اکلوتے یاور کو خاک برد کرنے کے بعد ، ائرپورٹ کی انتظار گاہ میں روانگی کے لیے بیٹھے ہم یہ سوچ رہے ہیں کہ اگر یہی واحد سچائی ہے تو پھر اس ہستی کی بھلا کیا ہستی ہے۔ کیا زیست محض رائیگانی کا استعارہ ہے یا آیا کوئی جوہر ہے جو فنا آشوب زندگی کو دوام بخشتا ہے۔ موت انہونی کا نام تو نہیں ہے کہ شہر خموشاں کی اگتی قبروں میں جا بجا

Read more

سرکاری پرائمری اسکول ، محنت کش خواتین اور بچے

ایک شادی کے سلسلے میں بہت ہی مختصر مدت کے لئے کراچی جانا ہوا۔ کراچی میں ہمارا قیام بہن کے یہاں ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آج کل وہ رضاکارانہ طور پر سرکاری پرائمری اسکول میں تدریس کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔ ”کل ساتھ چلنا۔ ہیڈ مسٹرس سے میں نے بات کی ہے۔ تمہیں مسائل کا اندازہ ہو جائے گا۔“ صبح جب ہم تقریباً سات دہائی قدیم عمارت میں داخل ہونے تو ہیڈ مسٹرس اور تین معلماؤں نے

Read more

شہر گناہ اور پیسیو سننگ

جوئے کی دنیا کا دارالحکومت سمجھے جانے والے لاس ویگس کے سفر کا منصوبہ اچانک بنا۔ پہلا خیال تو یہ آیا کہ خانہ بدوشی کی عادت عزت سادات کو ملیا میٹ کر کے دم لے گی۔ پھر خود کو تسلی دی کہ ویگس میں تو محض خیمہ نصب کریں گے، اصل سفر تو گرانڈ کینین کے لئے ہو گا۔ یونائیٹڈ ائرلائن کے ٹکٹ لئے اور ہیوسٹن سے تین گھنٹے کی فلائٹ پر سوار ہو گئے۔ دوران پرواز دو بسکٹ اور

Read more

جہاز، شکاگو اور زندگی

طیاروں کی مرمت سے وابستہ لوگ اے۔ او۔ جی کی ترکیب سے بخوبی واقف ہیں۔ اس سے مراد ہوائی جہاز کا تھکن سے چور ہو کر مزید پرواز سے انکار کر دینا ہے۔ اگر ایسا گھر میں ہو یعنی ائر لائن کے بیس اسٹیشن پر تو نسبتا اسے آسانی سے فوراً منا لیا جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے کہ روٹھی ہوئی اہلیہ کا یہ سوچ کر لاڈ کیا جاتا ہے کہ نقصان کا اندیشہ شدید ہے۔ جہاز میں یہ

Read more

سفر استنبول اور مسلم آیاصوفیہ

وبا کے دنوں میں سفر کا لطف ہی سوا ہے۔ آپ وہ سب دیکھتے ہیں جو عام دنوں میں ممکن نہیں ہے۔ یہی دیکھ لیجیے کہ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ کسی شہر اور وہ بھی ڈیڑھ کروڑ کی آبادی والے استنبول جائیں اور وہاں آپ کو مقامی کہیں دکھائی نہ دیں سوائے دکانداروں کے، باقی سب محض آپ ہی کی طرح سیاح ہوں۔ ہم ہفتے کی شام جب استنبول اترے تو اگلے ڈیڑھ دن ہم نے شہر

Read more

تجدید عشق کا سفر

ہمارے معاشرے میں شادی کو اگر بیس برس گزر جائیں تو ازدواجی تعلقات کی حدت کچھ یوں محسوس ہوتی ہے کہ جیسے بھڑکتے ہوئے شعلوں میں لپٹے کوئلے سلگ سلگ کر محض راکھ سے بن گئے ہوں۔ سالہا سال سے ذرہ بہ ذرہ پڑتی ذمہ داریوں کی گرد تعلقات کو بے کیف بنا دیتی ہے۔ شادی شدہ زندگی کا حسن، نشاط کی اوج پر پہنچے ہوئے جذبے سے شروع ہو کر باہمی احتیاج کی چوکھٹ پر سانس توڑ دیتا ہے۔

Read more

فرض کریں آپ ایک ہزارہ نوجوان ہیں

پھر اچانک چیخوں سے فضا گونج اٹھی۔ میرے برابر میں ہاتھ پاؤں بندھے حسن کی شہ رگ میں جنت تلاش کی جا رہی تھی۔ آپ کو ایک ایسی بات بتاؤں جو کہ آپ کو یقیناً پتہ نہیں ہو گی۔ نامعلوم کی کوکھ اندیشے جنتی ہے اور یہ اندیشے خوف کے گہوارے میں پروان چڑھتے ہیں۔ کبھی کبھی یوں ہوتا ہے کہ برسوں پرورش پانے والے ان اندیشوں کو ادراک کی محض ایک گھڑی، محض ایک ساعت زنجیر خوف سے آزاد کر دیتی ہے۔ مجھے بھی شاید اسی لئے چھری کے کند ہونے کا پتہ نہیں چل پایا۔

ہاں یوں بھی نہیں کہوں گا کہ یہ سب آسانی سے انجام پایا۔ سوچ کے سارے دھارے گھر والوں کی جانب پھوٹ پڑے۔ بابا کی دوائیاں کافی مہنگی ہیں۔ وہ کون لائے گا۔ بہنیں پڑھ رہی ہیں۔ ان کی فیس کا کیا ہو گا۔ وہ نیک بخت جس نے گھر کو سنبھالا ہوا ہے، جب یہ خبر سنے گی تو اس کو کون سنبھالے گا۔ میری پریاں اب کس کا راستہ دیکھیں گی۔

Read more

گورنمنٹ اسکول کا طالب علم اور ماسٹر جی کا مولا بخش

” ہوم ورک کیا ہے؟“ سر کاظم نے ہاتھوں میں تھامے ڈنڈے کو لہراتے ہوئے پوچھا۔
” جی نہیں کیا ہے“ ۔ ہماری آواز میں ندامت کی جگہ سرکشی تھی۔

اسی کی دہائی غروب ہو رہی تھی۔ بہادر یار جنگ گورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکول میں ہم سینئر ترین جماعت کے طالب علم تھے۔ کلاس کے لائق لڑکوں میں ہمارا شمار ہوتا تھا۔ اس دن نہ جانے کیوں ہم کام نہیں کر پائے تھے۔ سرکشی کا سبب ہماری لیاقت ہرگز نہ تھی۔ اس کا غرور تو، اللہ غریق رحمت کرے، ہمارے اسسٹنٹ ہیڈ ماسٹر نے اسی دن خاک میں ملا دیا تھا جب بلا کسی تفریق کے، ہماری ساری کلاس کو پورے اسکول کے سامنے، اس معصوم جانور بننے کی مشق کروائی تھی جو صبح خیزی کی وجہ سے موذن مشہور ہے۔

Read more

قصہ نیشنل کیڈٹ کور کا۔

” یا اللہ یہ مصیبت کب ختم ہو گی“ ؟ اگر آپ لوگوں میں سے کوئی یہ سمجھ رہا ہے کہ یہ الفاظ کسی بے صبرے اور پست ہمت شخص نے کہے ہوں گے تو فیصلہ سنانے سے قبل کم سے کم وجہ تو جان لیجیے۔ اگر آپ لوگ کراچی کے مقامی ہیں اور کراچی کے ان چنیدہ طالبعلوں میں سے ایک ہیں جن کو آدم جی سائنس کالج میں پڑھنے کا اعزاز حاصل رہ چکا ہے تو آپ اس کے

Read more

محنت کش

صبح کے تقریباً نو بج کر پانچ منٹ ہو رہے تھے جب ہم نے پی آئی بی کالونی کے قدیم پوسٹ آفس کے احاطے میں قدم رکھا۔ غور کریں تو تعجب ہوتا ہے کہ اس پوسٹ آفس میں رکھے گئے ہمارے پچھلے اور اس قدم کے درمیان فاصلہ، تین دہائیوں کا ہے۔ آخری ایروگرام لڑکپن میں دیار غیر میں شفقت و محبت کے پیکروں کو بھیجا تھا۔ خوش قسمتی سے اس خط کے بعد ہمیں ان کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع دوبارہ مل گیا تو خطوط کا سلسلہ منقطع ہو گیا تھا۔ آج جب کہ وہ دونوں محبت میں گندھے خمیر خاک نشیں ہیں تو اس پوسٹ آفس میں واپسی نے ایک گھر سے بچھڑے ہوئے بچے کے دل میں والدین سے ملنے کی ہوک پھر سے بھڑکا دی ہے۔

Read more

جوتی

کلاس ختم ہوتے ہی میں جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی اور تیز قدموں سے باہر نکل گئی۔ آج فائن آرٹس کی ایکسٹرا کلاس تھی اور کوئی بھی دوست لیکچر میں موجود نہیں تھا۔ تجریدی آرٹ کی تھیوری یوں بھی ہمارے سمجھ میں نہیں آتی ہے۔ صبح دیر سے آنکھ کھلی تھی۔ ہبڑ دبڑ میں چائے تک بھی نہ پی پائے تھے اور طرفہ یہ کہ جوتی بھی وہ پہن لی جس کا پٹہ ٹوٹنے کے قریب تھا۔ سر میں شدید

Read more

سبکدوشی کی کہانی

” بھائی صاحب! یوں سمجھ لیجیے کہ جتنا کوئی شخص اپنی موت کے لئے تیار ہوتا ہے، کم و بیش اتنا ہی تیار نوکری چھوٹ جانے کے لئے بھی ہوتا ہے“ ۔ یہ جملے آج سے کچھ سال قبل، ہمارے ایک عزیز نے جو ایک فرم میں کافی عرصے سے آپریشنل مینیجر تھے، رخصتی کا رقعہ تھمائے جانے کے بعد ہم سے کہے تھے۔ نوکری کا چلا جانا ہم نے بس اتنے ہی قریب سے دیکھا تھا۔ ہم عرصہ دراز

Read more

کراچی، محرم اور طالب جوہری

یہ اس زمانے کی بات ہے جب بچپن نے آنکھیں موند کر ہمیں لڑکپن کے سپرد کیا تھا۔ کراچی میں آمد کے بعد جب پہلی مرتبہ محرم وارد ہوا تو پتہ چلا کہ شام پانچ بجے نشتر پارک میں مجلس ہو گی۔ دوبئی سے آئے ہوئے لڑکے کے لئے مجلس کا وقت اور جگہ دونوں حیرت کا باعث تھے۔ بھلا یہ کون سا وقت ہے مجلس کا اور وہ بھی پارک میں۔ ۔ ! یہ بھی شنید تھی کہ طالب جوھری

Read more