فلائٹ 8303 کے مسافر شہید ہیں یا نہیں، پی آئی اے نے وضاحت کر دی


پی آئی اے کی طرف سے ایک خط جاری کیا گیا ہے جس میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ کراچی ائرپورٹ پر تباہ ہونے والی بدقسمت فلائٹ پی کے 8303 کے مسافروں کو شہید کہا جا سکتا ہے یا نہیں۔

وضاحت میں لکھا گیا ہے کہ پی آئی اے کی مینیجمنٹ اور مسافروں کے ورثا/لواحقین کے درمیان ملاقاتوں میں بعض لواحقین نے یہ خواہش ظاہر کی کہ پی آئی اے ان مسافروں کی شہادت کے سٹیٹس کے بارے میں وضاحت جاری کرے۔

پی آئی اے نے اس ضمن میں مختلف جید اور غیر جانبدار مذہبی علما سے رجوع کیا۔ ان علما کے مطابق شہید دو طرح کے ہوتے ہیں۔

پہلے وہ جو حقیقی شہید ہوتے ہیں جبکہ دوسری قسم کے شہیدوں کو شہید الحکمی کہا جاتا ہے اور ان کے ساتھ آخرت میں شہیدوں کا سا سلوک کیا جائے گا۔ اس قسم کے شہدا کی اقسام چالیس سے زیادہ ہوتی ہیں۔ انہیں احادیث میں مختلف مقامات پر بیان کیا گیا ہے۔

ان میں ایسے مسلمان بھی شامل ہیں جو اچانک حادثے کا شکار ہو جائیں، جل کر مر جائیں، اپنی رہائش سے دور فوت ہوں یا کسی عمارت کے ملبے تلے دب کر جاں بحق ہو جائیں۔

پی آئی اے نے واضح کیا کہ جہاں تک آخرت کے معاملات کا تعلق ہے تو کسی کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہاں کیے جانے والے سلوک کے بارے میں کوئی حتمی سرٹیفیکیٹ دے سکے۔ بندے کو اپنے کسی انتقال کر جانے والے عزیز کے بارے خدا کی رحمت پر ایمان ہونا چاہیے، لیکن کسی بندے کی آخری منزل کے بارے میں کوئی سرٹیفیکیٹ جاری نہیں کیا جا سکتا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اس اندوہناک حادثے کے مسلمان انتقال کنندگان حقیقی شہید کی کسی دنیاوی حکم کے تحت نہیں آتے، لیکن چونکہ وہ اچانک حادثاتی موت کا شکار ہوئے ہیں، اس لیے بندے کو خدا سے امید رکھنی چاہیے کہ ان کے ساتھ آخرت میں شہیدوں کا سلوک ہو گا۔

Facebook Comments HS