کورونا بمقابلہ غیر سنجیدہ رویے
دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی کورونا کی دوسری لہر آئی ہے اور بڑی شدت سے آئی ہے۔ تا دم تحریر پاکستان میں کورونا وائرس کے سبب انتقال کرنے والوں کی کل تعداد 8398 ہو چکی ہے جبکہ ایکٹو کیسز کی تعداد جو کچھ دن پہلے تک کم ہو رہی تھی اب اس میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے روزانہ دو ڈھائی سو کیسز بڑھنے کی وجہ سے ایکٹو کیسز کی تعداد 53 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس وقت ایک دن میں کورونا کی وجہ انتقال کرنے والوں کی تعداد 30 سے 60 کے درمیان ہے۔
این سی او سی کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں کورونا کے 3795 نئے کیسز سامنے آئے جبکہ 37 لوگ کورونا کی وجہ سے موت کے گھاٹ اتر گئے۔ اس خطرناک صورتحال میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ انفرادی اور اجتماعی رویوں میں سنجیدگی آتی مگر ایسا نہیں ہوا بلکہ لوگ پہلے سے زیادہ لا پرواہ اور بے احتیاط ہو گئے ہیں۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی پے در پے ہونے والی میٹنگز میں جو فیصلے ہو رہے ہیں ان پہ مکمل عملدرآمد نہیں ہو رہا اور نہ ہی سنجیدگی سے کورونا ایس او پیز کو فالو کیا جا رہا ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنی رٹ قائم کرنے میں ناکام نظر آتی ہیں۔
پاکستان کے حکمرانوں یا دیگر سیاستدانوں کا رویہ عوام سے یا یوں کہہ لیں کہ عوام کا رویہ حکمرانوں اور سیاستدانوں سے مختلف نہیں ہے اور ایسا اس لئے ہے کیونکہ ہم بحیثیت قوم احتیاط پسند نہیں ہیں۔ عوام کی اکثریت اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ٹریفک قوانین کو فالو نہیں کرتی بلکہ ٹریفک رولز کی خلاف ورزی کو ہم کوئی جرم ہی نہیں سمجھتے۔ اس رویے کے ساتھ کورونا کا مقابلہ کیسے ہوگا؟ سونے پہ سہاگہ یہ کہ قوم کے لیڈران خود غیر سنجیدگی دکھا رہے ہیں ابھی پچھلے ہی دنوں این سی او سی کی سربراہی کرنے والے اسد عمر اندرون سندھ بڑی تعداد مجمع اکٹھا کر کے خطاب کر چکے ہیں۔
وزیراعظم پاکستان عمران خان بھی جلسے اور بڑے بڑے اجتماعات سے خطاب کرتے رہے۔ اپوزیشن نے بھی جلسوں کا باقاعدہ اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا ایسا لگتا ہے کہ سیاست کرنے کا یہ ”آخری چانس“ ہے اس کے بعد سیاست ختم ہو جائے گی۔ کسی کو یہ چھوٹی سی بات سمجھ نہیں آ رہی کہ ”جان ہے تو جہان ہے“ ۔ زندہ رہیں گے تو سیاست بھی کر لیں گے سیاست کون سا گھڑی دو گھڑی کا کھیل ہے یہ تو چلتا رہے گا۔ کیا آپ کی سیاست آپ کے ووٹر/سپورٹر کی جان سے زیادہ قیمتی ہے۔ جب ملک کے تعلیمی ادارے بند ہو سکتے ہیں تو جلسے جلوس کیوں نہیں۔
جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ اس رویے کے ساتھ تو کورونا پہ قابو نہیں پایا جا سکتا۔ اپنی اسی غیر سنجیدگی اور لا پرواہی کی وجہ سے حکومت اپنی رٹ قائم کروانے میں ناکام نظر آتی ہے کیونکہ اب ہر طبقہ اب اپنی مرضی کرنے پہ تلا ہوا ہے سب کے پاس یہ جواز موجود ہے کہ جلسے ہو رہے ہیں تو ہم کیوں اپنے کام روکیں۔ نجی اسکول مالکان ہوں یا شادی ہالز مالکان علماء ہوں یا تاجر سب کا یہی کہنا ہے کہ جب سیاستدان مجمع اکٹھا کر سکتے ہیں تو ہم اپنے ضروری کام کیوں نہیں کر سکتے۔
عوام اپنے لیڈران کے ”نقش قدم“ پہ چلتے ہوئے لاپرواہی برت رہے ہیں۔ اس لا پرواہی کا کیا نتیجہ نکلے گا یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ میں تو بس کہہ سکتی ہوں کہ اگر آپ خود اپنی پرواہ نہیں کریں گے تو کوئی دوسرا آپ کی پرواہ نہیں کرے گا زندگی رہی تو سیاست بھی ہو جائے گی لہذا اپنا خیال خود رکھیں ماسک پہنیں ہاتھ دھوئیں اور سماجی فاصلہ بنائے رکھیں۔


