حلب و عدن کی جنگ ہماری نہیں!


\"\"یہ واقعہ میں اپنے کئی دوستوں کو سنا چکا ہوں۔ اک بار پھر سہی۔

2011 میں، مجھے میرے اک عزیز دوست نے آبپارہ ، اسلام آباد، میں واقع اک ہوٹل میں اک گفتگو میں مدعو کیا۔ یاری دوستی میں وہاں گیا تو معلوم ہوا کہ وہ اسلام آباد میں رہنے والے شامی طلباء اور خاندانوں کا  اجتماع تھا کہ جس سے کئی لوگوں نے خطاب کرنا تھا۔ جماعت اسلامی کے  نچلے درجے کے رہنما بھی موجود تھے، اک دو ریٹائرڈ فوجی حضرات اور آخر میں، میں۔ تمام \”اہم\” لوگوں نے خطاب کیا اور شام میں بشارالاسد کی حکومت کو اس سو، ڈیڑھ سو لوگوں کے مجمع میں ختم کروا کے ہی دم لیا۔ ڈاکیومنٹری بھی چلائی گئی جس میں بشارالاسد کی حکومت کے شام میں اکثریتی سُنی علاقوں میں کئے گئے ظلم دکھائے گئے تھے۔ خیر سے جب میری  باری آئی تو میں نے وہاں موجود شامی نوجوانوں سے یہ کہا کہ  جدید دنیا میں انقلاب اور جنگ سے معاشرے تعمیر نہیں ہوسکتے، اور یہ کہ آپکو بھلے اک ملئین شکایات ہوں، مگر ان شکایات کو اپنے ملک کے موجودہ سیاسی و آئینی بندوبست میں ہی حل کرنے کی کوشش کریں۔ آپکی ریاست، جیسی بھی ہے، اک منظم ریاست ہے، اسکو کسی بھی بات کی بنیاد پر بکھرنے نہ دیں۔ میری گفتگو کے دوران ہی مجھ پر ہُوٹنگ شروع ہو گئی، مجھے اپنی بات مختصر کرنا پڑی، اور بعد میں ان نوجوانوں، اور انکے حمائیتیوں کی جانب سے جارحانہ رویہ کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ بہرحال، وہاں سے نکلنے میں ہی عافیت جانی۔ اپنے ان دوست سے دوستی بھی گئی، کہ وہ بھی ناراض ہو گئے تھے، اور شام کے معاملہ پر تُرک پالیسی کے حامی تھے۔

\"\"اب سوچتا ہوں کہ وہ سارے شامی بچے، قریبا چھ سال کے بعد کیا سوچتے ہونگے، اور کیا محسوس کرتے ہونگے کہ خانہ جنگی، کہ جس کی اصل بنیاد میں معاشی مفادات کارفرما ہیں اور اسلامی فرقہ واریت  محض اک ہتھیار بنی، نے سارا ملک تباہ کر مارا، اور اک منظم ریاست کو جیسے \”خالہ جی دا ویہڑا\” بنا ڈالا۔ جس  ملک کا جو جی چاہا، اک لمبے عرصہ تک کر گزرتا رہا!

پچھلے سال، سعودی عرب اور یمن کا قضیہ شروع ہوا تو پاکستانی شیعہ دوست بھی بہت بلند آواز ہو لئیے، بالکل ویسے ہی کہ جیسے شام کے معاملہ پر پاکستانی سُنی دوست تھے۔ میں خود حقیقی اور سوشل میڈیائی گفتگوؤں کے درمیان پھنسا دیا گیا، اور سچ تو یہ کہ اس دور میں بڑے بڑے \”لبرل، سیکولر اورملحدوں\” کے چہروں سے جدیدیت کا غازہ اترتے اور انکے اندر کا  بھیانک مسلکی چنگاڑیں مارتا دیکھنے کو ملا۔ فہرست طویل ہے۔ پھر کبھی سہی!

گزری کل شامی افواج نے حلب پر  کوئی پانچ سال کی جنگ کے بعد قبضہ کر لیا، اور اسکی لہریں پاکستان میں بھی محسوس کی گئیں۔ سُنی العقیدہ دوستوں نے، جس میں جماعت اسلامی کے درمیانے درجے کے رہنما بھی شامل رہے، حلب کو کربلا سے تشبیہہ دی، جبکہ شیعہ العقیدہ دوست، اسے حق سچ اور حسینیت کی فتح گردانتے رہے۔ ہنسی کی بات یہ ہے کہ یمن کے معاملہ میں کربلا اور حق سچ کی تشبیہات الٹ ہوجاتی ہیں، اور یہ افیونی دائرہ جاری رہتا ہے۔ یاد رہے کہ اس افیونی دائرے نے  پاکستان میں لاکھوں لوگوں موت کے گھاٹ اتارا ہے، اور کئی ملئین لوگ اس  افیونی دائرے کے تشدد کی وجہ سے آج شدت کے نفسیاتی مریض بنے ہوئے ہیں۔

\"\"پاکستانی سُنی اور پاکستانی شیعہ، اپنے اصل میں پاکستانی ہیں، مگر انکے دل ایران اور سعودی عرب کے ساتھ کیوں دھڑکتے ہیں؟ یہ وہ سوال ہے، جو ہمارے معاشرے میں موجود ہے، دبے دبے الفاظ میں اٹھایا جاتا ہے، مگر اس پر کبھی عمومی بحث نہیں ہوتی۔ بحث ہو بھی نہیں سکتی کہ اس ایرانی یا سعودی محبت میں پاکستان اور پاکستانیوں کی اپنی شناخت کے بحران کی داستان ہے۔ اور شناخت کا بحران، چاہے اک شخص کا ہو، یا اک قوم کا، وہ اپنے ہونے کی دلیل اور وجہ ایسے حوالوں میں تلاش کرتا ہے جو نہ صرف اسکے ہونے کو ثابت کرسکیں، بلکہ وہ خود کو اک بڑے قبیلے کا فرد سمجھ کر اک بڑے کام کے لیے چلتا ہوا، اپنی اہمیت  کے ساتھ ساتھ، اپنے وجود کی دلیل بھی دے سکے۔ یہ مگر خوابوں اور خیالوں کی بات ہوتی ہے۔ سیاسی اور معاشی حقائق اسکے عموما نہیں، بلکہ ہر مرتبہ ہی برعکس ہوتے ہیں، اور نظریات کو تکلیف  دینے والے ہوتے ہیں۔ اس تکلیف سے بچنے کے لیے مذہبی، مسلکی اور گروہی نفسیات کی چھتری تلے ایسے موضوعات کی افیون چبائی جاتی ہے جو موجود حقائق سے فردا ور قوم کو نہ صرف  اک خوابی دنیا میں رکھتے ہیں، بلکہ  وہ خوابی دنیا اور ان موضوعات کی افیون اک دائرہ کی شکل میں فرد اور قوم کو مسلسل  اک \”خوشبودار دلدل\” میں دھکیلے چلے جاتے ہیں۔ اپنے تئیں یہ جتنی بھی خوشبودار ہوتی ہو، دلدل، دلدل ہی ہوتی ہے،  صاحبو!

پاکستانی سُنی او رپاکستانی شیعہ دوستوں سے کہنا یہی ہے کہ محترمین، حلب، بغداد اور عدن کی جنگ، شام، عراق اور یمن کی ہے، ہماری \"\"نہیں۔ ہمارا کسی بھی حوالے سے ان جنگوں سے کچھ لینا دینا یا کوئی واسطہ نہیں۔ ہماری جنگ ہمارے ملک کے اندر ہے اور ہمارے ملک کی مشرقی اور مغربی سرحدوں پر۔ ہمارے ملک کے اپنے ہی لاکھوں اندرونی چیلنجز ہیں، اور یہ ولایت فقیہہ اور خلافت کی بحث ان چیلنجز میں اک منفی اضافہ ہی کررہی ہے۔ خبر یہ بھی ہے  کہ بھلے  یہاں ملائیت اپنی معاشرتی شکل میں موجود ہے، مگر پاکستان اک جمہوری ریاست ہے اور ہم جدید ریاست بنتے ہوئے، دنیا کے ساتھ جڑتے ہوئے اپنے سیاسی اور معاشی مفادات حاصل کرینگے، کہ پرائی جنگوں میں، اپنے اپنے مسلک کی بنیاد پر  اک دوسرے پر فاتح محسوس کرنے کے رستے پر صرف بربادی ہے۔ شام، افغانستان، عراق، صومالیہ، لیبیا اسکی \”شاندار\” مثالیں ہیں۔ انشاءاللہ، پاکستان میں ولایت فقیہہ یا خلافت کا کوئی امکان نہیں۔

حلب و عدن کی جنگ، میرے دوستو، ہماری جنگ نہیں۔ یاد رکھئیے گا، وگرنہ کل کسی دوسرے ملک کے دارالخلافہ میں بھیک مانگتی اور جسم فروشی کرتی  ہوئی آپ کی اور میری بہنیں، بیٹیاں بھی ہو سکتی ہیں۔

Facebook Comments HS