لاہوریے فراڈیے ہیں


لاہور میں آنے والے معصوم پردیسی جب انارکلی میں کھڑے ہو کر راولپنڈی کا راستہ پوچھتے ہیں تو گھنٹے بھر بعد خود کو امرتسر کے نواح میں پاتے ہیں۔ اب غلطی ان کی اپنی ہوتی ہے، لاہوریوں نے تو درست راستہ بتا کر انہیں جی ٹی روڈ پر چڑھا دیا ہوتا ہے، اب اگر وہ خود ہی جی ٹی روڈ پر پہنچ کر مغرب کی بجائے مشرق کا رخ کر لیں تو لاہوریوں کا کیا قصور، مگر پردیسی امرتسر پہنچ کر یہی بتاتے ہیں کہ لاہوریے فراڈیے ہیں راستہ تک غلط بتاتے ہیں۔ بہرحال ہم لاہوریوں کی صاف گوئی کی صفت کو تو ہمارے شدید مخالف بھی مانتے ہیں۔ اس لیے کچھ اعترافات کرنے میں چنداں مضائقہ نہیں۔

لاہوریوں کا مقصد حیات صرف اچھا کھانا اور خوب ہنسنا ہے۔ وہ کچھ معصوم سی غلطیاں بھی کر جاتے ہیں جنہیں راہ راست سے بھٹکے ہوئے پردیسی دھوکہ سمجھ لیتے ہیں۔ مثلاً پردیسی کو جی ٹی روڈ پر چڑھانے کے بعد اگر لیفٹ رائٹ بتانے میں بھول چوک ہو جائے اور ہم پنڈی کے لیفٹ کی بجائے امرتسر کا رائٹ بتا دیں، تو یہ ایسی بات تو نہیں کہ اسے دھوکہ کہا جائے۔ لیفٹ رائٹ تو اکثر لوگوں کا خراب ہوتا ہے، بھلا اس میں ایسی مائنڈ کرنے والی کیا بات ہے؟

پنجابیوں میں بالعموم اور لاہوریوں میں بالخصوص تعصب بالکل نہیں ہے۔ سارا پنجاب کیا سارا پاکستان یہاں پہنچا ہوا ہے، ہم نے تو کبھی کسی کو نہیں کہا کہ تم فلاں جگہ سے آئے ہو اور فلاں زبان بولتے ہو تو تم لاہوریوں کی نہ صرف ملازمتیں چھین رہے ہو بلکہ اپنی عجیب و غریب ڈرائیونگ سے ہماری زندگی عذاب کر رہے ہو۔ بھلے مانسو، لاہوریوں کی طرح بہترین انداز میں گاڑی نہیں چلا سکتے تو یہاں گاڑی کیوں لے آئے ہو؟ ہاں ہم یہ ضرور پوچھتے ہو کہ کہاں سے آئے ہو، مقصد اس کا تعصب نہیں ہوتا، صرف یہ ہوتا ہے کہ پردیسی کا محل وقوع اور ذات برادری پتہ کر کے فیصلہ کیا جا سکے کہ اس پر کون سی جگت لگانی ہے اور کون سا لطیفہ فٹ کرنا ہے تاکہ بندہ کچھ ہنس بول سکے۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ پنجابیوں میں تعصب بالکل نہیں ہے، اس لیے اسی فراخ دلی سے پردیسیوں پر بھی لطیفے فٹ کیے جاتے ہیں جیسے پنجابیوں پر۔

بہرحال یہ سب کچھ اس لیے یاد آیا کہ کل لاہور میں متحدہ اپوزیشن کا ایک جلسہ ہوا۔ ہم تو خیر ٹی وی اور ٹینشن دینے والے دیگر معاملات سے دور رہتے ہیں، مگر اپوزیشن کے بعض حامی بھی یہ کہتے سنے گئے کہ جلسہ اتنا بڑا نہیں تھا جتنا اپوزیشن نے شور مچایا ہوا تھا۔ بڑا تھا مگر شور سے زیادہ نہیں۔ اس کا مقابلہ عمران خان کے سنہ 2011 کے بعد سے لاہور میں کیے جانے والے بہت بڑے جلسوں سے نہیں کیا جا سکتا۔

حق بات ہے۔ ضرور ایسا ہی ہوا ہو گا۔ اب یہی دیکھ لیں کہ سنہ 2011 کے بعد سے لاہوریے جوق در جوق عمران خان کے جلسوں میں شریک ہوتے ہیں، نون لیگ کے جلسے ان کے سامنے شرمندہ ترین دکھائی دیتے ہیں۔ ہمیں خود یاد ہے کہ سنہ 2013 کے انتخابات میں لاہوری حلقوں میں تحریک انصاف کے عام امیدواروں کے جلسے بھرے ہوئے دکھائی دیتے تھے اور نون لیگ کے امیدوار شہباز شریف اور حمزہ کو بلانے پر مجبور ہوتے تھے مگر خالی کرسیاں پھر بھی ان کا منہ چڑاتی تھیں۔

مگر جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ لاہوریے اپنی فطری معصومیت میں کچھ کا کچھ کر دیتے ہیں اور اگلا بندہ پنڈی کی بجائے امرتسر پہنچ کر انہیں فراڈیا کہنے لگتا ہے۔ اب سنہ 2013 اور 2018 کے انتخابات میں بھی یہی ہوا۔ لاہوریوں نے جلسے تو تحریک انصاف کے بھر دیے اور بیلٹ باکس نون لیگ کے۔ اس لیے اپوزیشن کے حالیہ جلسے کے بارے میں بھی ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ اپوزیشن واقعی ناکام ہو گئی ہے یا اس کے حامی جلسے کی بجائے کھانا کھانے چلے گئے تھے اور ووٹنگ کے وقت دوبارہ واپس آ جائیں گے۔ بات تو جھوٹ ہے مگر بہرحال پردیسی کہتے ہیں کہ لاہوریے فراڈیے ہیں۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar