محمود خان اچکزئی صاحب: گپ شپ اور تاریخی حقائق میں بہت فرق ہوتا ہے


لاہور میں پی ڈی ایم اے کا جلسہ ہوا۔ اس جلسہ پر طرح طرح کے تبصرے ہو رہے ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ لیکن ذاتی طور پر مجھے سب سے زیادہ حیرت محمود خان اچکزئی صاحب کی تقریر پر ہوئی ہے۔ یہ جلسہ ایک سیاسی جلسہ تھا اور اس کا مقصد پی ڈی ایم کی تحریک کو تیز کرنا تھا۔ اور توقع یہی تھی کہ اس موقع پر جو تقاریر کی جائیں گی ان کا تعلق پی ڈی ایم کی تحریک سے ہوگا۔ لیکن محمود خان اچکزئی صاحب نے اس جلسہ میں برصغیر کی تاریخ پر لیکچر دینے کی کوشش فرمائی۔ انہوں نے فرمایا۔

”برا نہ مانیں واحد وطن جس نے ان سامراجیوں [یعنی انگریزوں ] کے خلاف کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا وہ دریائے آمو سے اباسین تک افغان پشتون وطن تھا لیکن ہمیں گلہ ہے ہندوستان کے باقی رہنے والوں کے ساتھ ہندو اور سکھوں کے ساتھ تھوڑا سا ساتھ لاہوریوں نے بھی دیا انگریزوں کا ۔ اور سب نے مل کر افغان وطن کو قبضہ کرنے کے لئے انگریزوں کا ساتھ دیا۔“

میں اچکزئی خاندان خاندان کے پرانے سیاستدانوں احترام کرتا ہوں اور اس وجہ سے مجھے خاص طور پر اس بیان پر نہ صرف حیرت بلکہ صدمہ بھی ہوا ہے۔ اس جلسہ میں اس تبصرے کا کون سا موقع تھا۔ آپ پاکستان کی موجودہ سیاسی حالات پر تبصرہ کرتے تو آپ کے بیان پر غور کیا جاتا۔ آپ آج کوئی ڈیڑھ سو سال پرانے واقعات پر تبصرے کرنے بیٹھ گئے۔ اگر کسی کے پڑدادا نے ڈیڑھ سو سال قبل انگریز کا ساتھ دیا تھا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آج آپ کو اس قسم کی باتیں سنانے کا لائسنس مل گیا ہے۔ اگر آپ کی یہ باتیں درست بھی ہوتیں تو اس طرح پنجاب کے دل میں ان کا اظہار ایک توہین آمیز رویہ ہی سمجھا جاتا۔

پہلے تو ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ وہ کون سا مرحلہ تھا جس پر ہندوستان پر انگریز حکومت سب سے زیادہ خطرے میں پڑی ہوئی تھی اور سب سے کمزور حالت میں تھی۔ ظاہر ہے کہ یہ مرحلہ 1857 کی جنگ کا مرحلہ تھا۔ اگر یہ بات درست ہے کہ ہندوستان میں صرف پشتون تھے جو کہ انگریز سامراج سے لڑ رہے تھے اور باقی اقوام انگریزوں کی مدد کر رہی تھیں تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ تمام ہندوستان کے پشتون اپنی بندوقیں، تلواریں بلکہ باورچی خانے کی چھریاں تک لے کر ہندوستان میں موجود انگریزوں کا کاٹ کر رکھ دیتے۔ آخر ہندوستان میں ان انگریزوں کی تعداد صرف چند ہزار ہی تو تھی۔

یہ جائزہ لیتے ہیں کہ اس جنگ کے دوران پشتون علاقوں میں کیا صورت حال تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس جنگ کے دوران پشتون علاقوں میں انگریزوں کے خلاف بہت کم بغاوت ہوئی تھی۔ اور پشتون علاقوں میں بھی جن لوگوں نے انگریز کے حکومت کے خلاف بغاوت کی تھی ان کی اکثریت پشتون نہیں تھی بلکہ ان کی اکثریت یو پی اور پنجاب کی سپاہیوں پر مشتمل تھی۔

جب یہ ہنگامہ شروع ہوا تو انگریز پشتون علاقوں میں بہت خطرہ محسوس کر رہے تھے کیونکہ ان کے قبضہ میں پشتون علاقوں کی سرحد پشتون امیر کابل کی ریاست سے ملتی تھی۔ اور روایتی طور پر پشتون اپنے پاس زیادہ اسلحہ رکھتے ہیں۔ امیر کابل سے خدشے تو بالکل بے بنیاد ثابت ہوئے۔ انہوں نے تو انگریزوں کے خلاف انگلی تک نہیں ہلائی۔

اگر ہم پشاور کے علاقے کا جائزہ لیں تو اس علاقے میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوج میں دو ہزار آٹھ سو انگریز اور آٹھ ہزار مقامی سپاہی موجود تھے۔ اور انیس کی تعداد میں چھوٹی توپیں ان کے پاس تھیں۔ یہ سپاہی زیادہ تر یو پی یا پنجاب سے تعلق رکھتے تھے۔ اور ان کی کمان برگیڈیر سڈنی کاٹن کر رہے تھے۔

اس جنگ کے وقت پنجاب اور پشتون علاقے کے درمیان رابطہ اٹک کا قلعہ ایک خاص اہمیت رکھتا تھا۔ اس وقت انگریز جنگی کمان نے میٹنگ میں فیصلہ کیا کہ اٹک کے قلعہ میں موجود سپاہیوں کی وفاداریاں مشکوک ہیں چنانچہ ان کو وہاں سے نکال دیا جائے اور ان کی جگہ فتح خان نام کے ایک تجربہ کار پشتون سپاہی کی قیادت میں سو پشتونوں کو مقرر کیا جائے۔ تاکہ یہ رابطہ محفوظ رہے۔ چنانچہ یہ مقام محفوظ رہا۔

ہندوستان کے باقی علاقوں سے پشتون علاقوں میں خطوط بھجوائے جا رہے تھے کہ یہی موقع ہے انگریزوں کو یہاں نکال دو۔ لیکن ان خطوط سے زیادہ تر وہ سپاہی متاثر ہو رہے تھے جو کہ یو پی اور پنجاب سے تعلق رکھتے تھے۔ جب ان سپاہیوں میں بے چینی پھیلنی شروع ہوئی تو انگریز افسروں نے پشاور کے علاقے میں ایک گھڑ سوار اور تین پیدل رجمنٹوں کو غیر مسلح کر دیا۔ انگریز افسروں نے غیر مسلح کرنے کی اس تقریب دیکھنے کے لئے مقامی پشتون اہم شخصیات کو بھی مدعو کیا۔ تاکہ ان پر رعب پڑے۔

لیکن ان کو غیر مسلح کرنے کے بعد انگریزوں کو اس علاقے میں فوجی، گھوڑے اور اسلحہ بھی درکار تھا۔ چنانچہ اس وقت کی فوجی رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے اس وقت مقامی پشتون بہت بڑی تعداد میں انگریزوں کی فوج میں بھرتی ہونے لگ گئے اور سب ان میں سب سے زیادہ تعداد آفریدی پشتونوں کی تھی۔ اور جب یہ منظر بعض ہندوستانی سپاہیوں نے دیکھا تو انہوں نے اپنے ساتھیوں کو یہی مشورہ دیا کہ انگریزوں کے خلاف بغاوت نہ کرو کیونکہ مقامی آبادی انگریزوں کے ساتھ مل گئی ہے۔

اس کے علاوہ مقامی آبادی نے اپنے گھوڑے اور اسلحہ بھی ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوج کو فروخت کرنا شروع کر دیا۔ اور یہ فروخت ان کی فوج کی تقویت کا باعث بنی۔ پشاور میں ہندوستانی سپاہیوں کی 51 رجمنٹ کی ڈھائی سو سپاہی فرار ہو کر مختلف سمتوں میں چلے گئے۔ پشاور کی مقامی آبادی نے ان سب کو پکڑ کر انگریزوں کے حوالے کر دیا اور انہوں نے اس کے سرغنہ کو سر عام پھانسی دی۔ ان وجوہات کی بناء پر انگریزوں نے اپنا کھویا ہوا اعتماد جلد بحال کر لیا اور انہوں نے حملے کر کے اپنے خلاف کھڑے ہونے والے سپاہیوں کو حملے کر کے قتل کرنا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ ایک حملہ میں ڈیڑھ سو کے قریب یو پی اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے سپاہی قتل کیے گئے۔ اور آفریدی سپاہی انگریزوں سے بغاوت کرنے والوں کی تلاشیاں لیتے اور ان کو ذلیل بھی کرتے۔

کئی آفریدیوں پر حکومت نے پابندیاں لگائی ہوئی تھیں۔ جب یہ جنگ شروع ہوئی تو وہ مسلح ہو کر سینکڑوں کی تعداد میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوج میں اس شرط پر شامل ہو گئے کہ ان پر پابندیاں ختم کر دی جائیں۔ پشاور کے علاقے میں انگریزوں نے جنگ کے دوران چھ فیصد سود کے وعدے پر مقامی امراء سے لاکھوں روپے کا قرضہ بھی حاصل کر لیا تھا۔

اس وقت سوات انگریزوں کے تحت نہیں تھا۔ اس جنگ کے دوران بجائے اس کے کہ وہ انگریزوں پر حملہ کرتے انہوں نے ایک دوسرے سے لڑنا شروع کر دیا۔ اور ان کی خانہ جنگی میں بعض بھاگے ہوئے ہندوستانی سپاہی بھی شامل ہو گئے۔

مہمند قبیلے سے تعلق رکھنے والے چالیس پچاس سپاہیوں نے انگریزوں کے خلاف بغاوت کی لیکن جب ایک افسر کرنل ایڈروڈز نے انہیں یہ پیغام پہنچایا کہ اگر وہ کسی حیلے سے بغاوت کرنے والوں کے ایک سرغنہ سید امیر کو افغانستان کے امیر دوست محمد کے پاس پہنچا دیں تو ان کا جرم معاف کر کے ان کی سہولیات بحال کردی جائیں گی۔ تو انہوں نے اس پیغام پر عمل کر کے سید امیر کو امیر دوست محمد کے پاس پہنچا دیا جس نے ان کو گرفتار کر لیا۔ اسی طرح ایک گاؤں نرنجی میں بغاوت ہوئی جسے جلد ختم کر دیا گیا۔ اس دوران کوہاٹ بنو اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی کوئی خاطر خواہ بغاوت نہیں ہوئی اور انگریزوں نے ان علاقوں سے اپنی افواج دوسرے علاقوں میں منتقل کر کے وہاں اپنے مخالفین کو کچل دیا۔

یہ حقائق بہت واضح ہیں۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ محمود خان اچکزئی صاحب کس بناء پر لاہور یا باقی ہندوستان کے لوگوں سے شکوہ کر رہے ہیں۔ اصل میں تو ہندوستان کے لوگوں کو ان سے شکوہ کرنا چاہیے کہ جب ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف بغاوت ہو رہی تھی تو پشتون علاقوں میں اکثریت انگریزوں کے ساتھ مل گئی تھی اور انہوں نے انگریزوں کے خلاف کھڑے ہونے والے سپاہیوں کے قتل عام میں مدد دی تھی۔ جذباتی احباب سے درخواست ہے کہ جذبات میں آنے سے پہلے نیچے درج حوالہ پڑھ لیں۔ مزید حوالے اور ثبوت بھی پیش کیے جا سکتے ہیں۔

(Punjab And Indian Revolt 1857 by Ihsan H. Nadiem p140-167)

Facebook Comments HS