حلب سے برما تک بہتا خونِ ناحق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"\"حلب میں ظلم کی تاریخ رقم ہو رہی ہے۔ حکومتی فوجوں اور باغیوں کے درمیان کئی برس سے جنگ کے بعد اب حکومتی فوجیں حلب پر قبضہ مکمل کرنے کو ہیں۔ ظلم و ستم کی ہوشربا داستانین سننے کو مل رہی ہیں۔ ایک عمارت پر حملوں کی اطلاعات ہیں جس میں صرف بچے ہیں۔ ایک عمارت سے چھوٹے چھوٹے بچے ملے ہیں جو سات دن سے بھوکے تھے اور تمام بڑے مر چکے تھے۔ حکومتی فوجوں کے گھروں میں گھس کر عام لوگوں کو قتل کرنے کی اطلاعات ہیں۔ اقوام متحدہ کے ترجمان کے مطابق ایسی رپورٹ ملی ہے کہ حکومتی دستوں نے گھر میں گھس کر شہری مارے ہیں جن میں گیارہ عورتیں اور تیرہ بچے بھی شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق 82 شہریوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کی اطلاعات ہیں۔ داعش، القاعدہ کی جبہتہ النصرہ اور دوسرے حکومت مخالف گروہ بھی اپنے نومقبوضہ علاقوں میں یہی کرتے آئے ہیں۔

بشار الاسد کی حکومت بری ہے، کیونکہ وہ ایک اقلیتی نصیری مسلک کی حکومت ہے جو کہ اکثریت پر حکومت کرنا چاہتی ہے اور سنی اکثریت کو پورا حق ہے کہ اسے ہٹا دیں۔ بشار کی حکومت کا یہ دعوی نہیں مانا جا سکتا ہے کہ اس کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کو بغاوت کو ’ہر ممکن طریقے‘ سے کچلنے کا حق حاصل ہے۔ باغیوں کا یہ حق مانا جائے گا کہ وہ اسے بزور بازو ہٹا دیں۔

بحرین میں اکثریت اہل تشیع کی ہے۔ عوام نے بغاوت کی۔ بحرین کی سنی اقلیتی حکومت گرنے کو تھی کہ سعودی ٹینک آن پہنچے اور شیعہ اکثریت پر ’ہر ممکن طریقے‘ سے قابو پا لیا۔

یمن میں حوثی باغی حکومت سے لڑ رہے ہیں۔ فوجی طور پر انہوں نے اپنا لوہا منوا لیا تھا اور بڑھتے ہی چلے جا رہے تھے کہ سعودی مدد آن پہنچی۔ حوثی، زیدی شیعہ ہیں۔ جب عرب دنیا کا حکمران مصر تھا تو صدر جمال ناصر مخالف دھڑے کے حامی تھے اور سنی سعودی حوثیوں کے۔ صدر ناصر چلے گئے۔ سعودی اب حوثیوں کے مخالف ہیں۔ وہ بھی یمن پر ویسے ہی بمباری کر رہے ہیں جیسے روسی شام پر کر رہے ہیں۔ بم مارتے ہوئے دیکھتے نہیں ہیں کہ ہسپتال ہے، جنازہ ہے یا سکول ہے۔ بلکہ کئی حلقے تو سعودیوں پر جان بوجھ کر ان ہی جگہوں پر بمباری کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔

کیا سعودی عرب حوثی باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں کے ساتھ وہی نہیں کر رہا ہے جو کہ روس شامی باغیوں کے علاقوں میں کر رہا ہے؟

\"\"

برما میں بدھ اکثریت ہے۔ وہ اقلیتی مسلمانوں کی نسل کشی کروا رہی ہے۔ ہم اس ظلم پر احتجاج کر رہے ہیں۔ گو کہ ہم مانتے ہیں کہ وہ ظلم ویسا شدید نہیں ہے جیسا کہ حلب میں بشار کی فوجیں سنیوں پر کر رہی ہیں، اور دولت اسلامیہ کے علاقوں میں داعش شیعہ اور غیر مسلم اقلیتوں پر کر رہی ہے۔

پنڈت نہرو یاد آ جاتے ہیں گو کہ وہ ان بمباروں جتنے ظالم نہیں تھے۔ سینئیر تجزیہ نگار ابن انشا کے الفاظ میں، ’راجہ نہرو بڑے دھرماتما آدمی تھے۔ صبح سویرے اٹھ کر شیرشک آسن کرتے تھے۔ یعنی سر نیچے اور ٹانگیں اوپر کر کے کھڑے ہوتے تھے۔ رفتہ رفتہ ان کو ہر معاملے کو الٹا دیکھنے کی عادت ہو گءی۔ حیدرآباد کے مسئلے کو انہوں نے رعایا کے نقطہَ نظر سے دیکھا اور کشمیر کے مسئلہ کو راجہ کے نقطہَ نظر سے‘۔

ہم مسلک زدہ پاکستانی بھی وہی شیرشک آسن کر رہے ہیں جو پنڈت نہرو کیا کرتے تھے۔ شام کے مسئلے کو عوامی اکثریت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اور بحرین کے مسئلے کو اقلیتی حکومت کے نقطہ نگاہ سے۔ اور یمن؟ یمن کو ہم دیکھتے ہی نہیں ہیں کہ وہاں مارنے والا، مرنے والے سے بہت زیادہ طاقتور ہے۔


مجرم صرف بشار الاسد ہی ہے
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1380 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Leave a Reply