تاریخ میں صحافت برائے امن

تاریخ میں سیاست نفرت و عناد پیدا کرتی ہے۔ جب کہ ثقافتی تاریخ معاشرتی سرگرمیوں کی عکاسی ہوتی ہے۔ جس میں انسانی رابطوں اور رشتوں کا اظہار ہوتاہے اور جس میں انسانی قدریں اور روایات چھائی ہوئی ہوتی ہیں۔ جیساکہ صحافت برائے امن سے مراد صرف تناوکے عدم وجود سے نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کے لئے انصاف کا ہونا ضروری ہے۔ تاریخ پر اگر نظر ڈالی جائے۔ تو لگتا یہ ہے کہ ماضی کے لکھاریوں نے تاریخ کو حکمرانوں کے پاؤں تلے مسخ کر دیا ہو۔ تاریخ کیوں ضروری ہے؟ تاکہ لوگ ماضی میں ہونے والے واقعات اور تاریخی عمل سے واقف ہوکرزہنی وشعوری طورپرپختگی حاصل کرسکیں۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ پچھلی قومیں جو غلطیاں کرچکی ہیں ان سے بچا جاسکے۔

تاریخی مطالعہ قوموں کو ایک احساس دلاتاہے۔ ان میں ایک وجدان پیداکرتاہے۔ کہ ماضی کے تجربات سے وہ حال کی رفتار کو سمجھ سکیں۔ تاریخ کی سب سے بڑی افادیت اس وجہ سے بڑھ جاتی ہے کہ یہ معاشرے کی یاد داشتوں کو مجموعی طور پر محفوظ کرتی ہے۔ ایک زمانہ تھا۔ کہ انسان کے لئے یہ دنیا بہت چھوٹی تھی وہ جس شہر، گاؤں اور دیہات میں رہتا تھا وہیں پوری زندگی گزاردیتا تھا۔ جس کہ وجہ سے اس کے تجربات بڑے محدود ہوتے تھے۔ اور اس کی معلومات افواہوں پر ہواکرتی تھیں۔

اس کے مقابلے میں آج کی دنیا بہت پھیل گئی ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی انسانی ذہن بھی پھیلا ہے۔ اب یہ تاریخ کا کام ہے۔ کہ وہ دنیاکی قوموں، ملکوں، اور معاشروں کے بارے میں پوری پوری اور صحیع صحیع معلومات فراہم کرے تاکہ یہ انہیں ایک دوسرے کے قریب لائیں۔ کیونکہ تاریخ انسان کو صرف انسان کی حیثیت سے دیکھتی ہے۔ اس کے مذہب نسل اور رنگ سے اسے سروکارنہیں ہوتا۔

جو حکمران اور قومیں شکست کھاجاتی ہیں۔ تاریخ میں وہ بھی اپنا جائز مقام حاصل کرنے میں ناکام ہوجاتی ہیں۔ کیونکہ ان کی جانب سے ان کے حق میں دلائل دینے والا کوئی نہیں ہوتا اور فاتحین کی تاریخ لکھنے والے ان سے ہر برائی کو منسوب کردیتے ہیں۔ اس کی مثال ابراہیم لودھی کی شخصیت ہے، پانی پت کی جنگ میں اس کی شکست کے بعد مغل مورخوں نے اس کی شخصیت کو مسخ کر کے پیش کیا۔ اور اسے نا اہل اور ظالم حکمران ثابت کیا تاکہ مغل حکومت کے قیام کا جواز پیداہو سکے۔ لکھاریوں کی اس مسخ شدہ تاریخ کے نتیجے میں فاتحین کو احساس ملامت اور مفتوح کو احساس جرم سے بھی دور رکھا۔

جاپان میں ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بموں نے جوتباہی مچائی تو اس کے نتیجہ میں اس کے وہ مظالم جو اس نے مشرقی بعید کے ملکوں میں کیے تھے وہ پس منظر میں چلے گئے۔ اور ان میں اپنے جرائم کے بارے میں احساس جرم نہیں ہوا۔ قوموں کے ذہن بدلنے کے لئے اور دنیاسے جنگ وخون ریزی کو ختم کرنے کے لئے ضروری ہے۔ کہ فاتحین اور ظالموں میں احساس جرم پیداکیاجائے۔ کیونکہ اس کے بعد یہ ممکن ہوگا۔ کہ لوگ جنگ و جدل سے نفرت کریں گے اور اسی صورت میں دنیامیں پائیدار امن قائم ہو سکے گا۔

صحافت برائے امن کے بانی ڈاکٹر جان گلتونگ نے کچھ اہم اصول قائم کیے جوامن صحافت کے لئے اہم رہنمائی کا کام کر سکتے ہیں۔

ا:تنازعات کی تشکیل کو دریافت کریں۔ کون شامل فریق ہیں۔ ان کے مقاصد کیا ہیں؟ تنازعہ کا سماجی و سیاسی اور ثقافتی تناظرکیا ہے؟

2:تشدد کی پوشیدہ وجہ کیا ہے؟
3:اس میں شامل فریقوں کی انفرادیت چھین نے سے گریزکریں اور ان کے مفادات کو بے نقاب کریں۔
4:نچلی سطح پر ہونے والے عدم تشدد کے اقدامات کی اطلاع دیں اور مفاہمت کے مراحل کی پیروی کریں۔

تاریخ کا وسیع تناظر میں مطالعہ نہ کرنے سے ہم عالمی صورتحال اور اپنے خلاف ریشہ دوانیوں میں مصروف طاقتوں سے پوری طرح باخبر نہیں ہو پاتے اور نہ ہی اپنے ملک کے حالات کو بہتر طریقے سے سمجھ سکتے ہیں۔ اس کی مثال اس سے دی جا سکتی ہے کہ جب بنگال ہم سے علیحدہ ہواتو ہمارے ملک کی اکثریت اس شدید دھچکے کے لئے ذہنی طور پر تیارنہیں تھی۔ کیونکہ ہمارے شہری اس صحیع تاریخی پس منظر سے واقف نہیں تھے۔ جو پاکستان بنے کے بعد وہاں تشکیل ہوا تھا۔

ٰ یہی صورتحال آج بھی ہے کہ ہم پاکستان کے چاروں صوبوں کی تاریخ اور وہاں کے بدلتے ہوئے حالات سے ناواقف ہیں اس لئے حالات کے بارے میں صحیع فیصلہ نہیں کر سکتے۔ چنانچہ موجودہ حالات کو سمجھنے کے لئے عالمی تاریخ سے آگہی انتہائی ضروری ہے۔ تاکہ تاریخ کو نفرت و تعصب پیدا کرنے کا ذریعہ بنانے کے بجائے ا س سے تعمیر و تشکیل کاکام لیاجائے۔

Latest posts by ارحم خان، حیدر آباد (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words
ارحم خان، حیدر آباد کی دیگر تحریریں