کچھ سفر کے بارے میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سفر کرنا زمانہ قدیم سے لوگوں کا محبوب مشغلہ رہا ہے۔ عموماً لوگ خوشی حاصل کرنے کے لیے سفر پر نکلتے ہیں۔ خوشی کے ساتھ ساتھ سفر ایک مفید سر گرمی ہے سفر نوجوان شخص کے لیے تعلیم کا حصہ ہے اور عمر یافتہ لوگوں کے لیے ایک تجربہ ہے۔ جو لوگ سفر کے شوقین ہیں انہیں ”فرانسز بیکن“ کا مضمون ”آف ٹریول“ ضرور پڑھنا چاہیے کیونکہ یہ مضمون ان تمام لوگوں کے لیے مفید ہے جو سفر کے دلدادہ ہیں یا کبھی سفر پر جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ کیونکہ اس مضمون میں دوران سفر اور سفر کے بعد عمل کرنے کے لیے فرانسز بیکن بہت مفید نکات بیان کرتا ہے

مثلاً بیکن کہتا ہے مسافر کو اس علاقے یا ملک کی زبان سیکھ لینی چاہیے جس ملک یا علاقے میں وہ جانا چاہتا ہے۔ کیونکہ زبان کی رکاوٹ سفر کے لطف اور رنگینی کو تباہ کر دے گی۔

مسافر کو اپنے نوکر یا ٹیوٹر کی راہنمائی میں سفر کرنا چاہیے۔ اس کا نوکر یا ٹیوٹر اس کے رہنما کا کام کرے گا۔ اس کا گائیڈ اسے اس سرزمین کے متعلق اہم اور دلچسپ اشیا کے بارے میں بتائے گا۔ اور اسے ان لوگوں سے تعلق قائم کرنے کے بارے میں بتائے گا جو اپنی دانش اور اچھائی کی وجہ سے مشہور ہوتے ہیں اور ایسے لوگوں سے بچنے کا مشورہ بھی دے گا جو بدمزاج اور جھگڑالو ہیں۔

مسافر جب اجنبی سر زمین میں پہنچے تو جس غیر معمولی یا اہم شے کو پائے تو گہرے مشاہدے سے اسے دیکھے۔ تمام اہم واقعات اور مناظرکو جنھیں وہ دیکھے، ڈائری میں لکھے۔

مسافر کو چاہیے کہ غیر ملکی سرزمین میں بادشاہوں کے درباروں، انصاف مہیا کرنے والے کورٹس، مذہبی عدالتوں، شہروں اور قصبوں کی دفاعی مورچہ بندی، وہاں کی بندرگاہوں اور جہازوں کو دیکھنا چاہیے۔ اسے چاہیے کہ وہ علم وفضل کے اداروں میں جائے وہاں کی لائبریریوں اور کالجوں کا رخ کرے اور لیکچرز کو سنے۔ شہر کے باغوں اور تفریح گاہوں میں جائے۔ وہاں کے مال گوداموں، ایکس چینجز اور مالی اداروں کا مشاہدہ کرے۔ اس ملک کے دفاع کو جاننے کے لیے وہ ملک کے اسلحہ خانوں سپاہیوں کی ٹریننگ اور گھوڑوں کی مشقوں کا معائنہ کرے۔

ایک مسافر کو اس ملک کے لوگوں کے مشاغل، تفریحوں اور معاشرتی سرگرمیوں سے واقفیت پیدا کرنی چاہیے۔ اس طرح سے مختلف ملکوں کے بارے میں اس کے علم میں اضافہ ہو گا۔

بیکن کہتا ہے کہ اس طرح مسافر تجربے کی دولت سے مالا مال ہو گا۔ اور مسافر کو مشورہ دیتا ہے کہ ملک واپس آنے پر اسے ان لوگوں سے خط و کتابت جاری رکھنی چاہیے۔ اور باہر سے سیکھی گئی مفید چیزوں کو اپنے ملک کی مفید چیزوں کے ساتھ مدغم کرے۔

بیکن اس بات پر حیرانی کا اظہار کرتا ہے کہ سمندری سفر کے دوران آسمان اور سمندر دیکھنے کے علاوہ کچھ خاص نہیں ہوتا وہاں پر لوگ اپنی ڈائریاں لکھتے ہیں لیکن زمینی سفر میں جہاں مشاہدہ کرنے کے لیے بہت کچھ ہوتا ہے لوگ ان کا ذکر نہیں کرتے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ سمندر پر اتفاقی طور پر دیکھی ہوئی چیزوں کو تو لکھ لیا جاتا ہے لیکن زمینی سفر میں مشاہدہ کی چیزوں پر لوگ توجہ نہیں دیتے۔

زمینی سفر کے دوران ڈائری لکھنے کا رواج عام کرنا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •