کیا تعلیمی اصلاحات کے بغیر ریاست مدینہ کا حصول ممکن ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

٫

وزیراعظم عمران خان نے جب قوم سے یہ وعدہ کیا کہ وہ اس ملک پر ریاست مدینہ کا نظام رائج کرنا چاہتے ہیں تو پوری قوم نے انہیں بہت سراہا اور امیدیں لگائیں کہ ان کے معاملات بہتر طریقے سے حل ہوں گے۔ اگر ریاست مدینہ کے نظام کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ اس کی بنیادیں بہتر تعلیمی نظام پر رکھی گئیں تھیں۔ اور یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ حضور ﷺ کے سامنے تعلیم کو ہی سب سے زیادہ اہمیت حاصل تھی۔

وہ سمجھتے تھے کہ مسلمان صرف تعلیم حاصل کرنے سے ہی ترقی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے تعیلم کو اولین ترجیح پر رکھا لیکن لگتا یہ ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کی ترجیحات میں یہ شامل ہی نہیں۔ حضور ﷺ نے جنگ بدر کے قیدیوں کو اس شرط پر رہا کرنے کا اعلان فرمایا کہ ہر قیدی کم از کم دس ناخواندہ لوگوں کو لکھنا پڑھنا سکھائے گا۔

یہ بات قابل توجہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کسی اور شعبے پراتنا زور کیوں نہیں دیا؟ انہوں نے معیشت درست کرنے کے بدلے قیدی رہا کرنے کا حکم کیوں نہیں دیا؟ انہوں نے ڈاکٹروں کو صحت میں بہتری کے بدلے رہا کرنے کا فیصلہ کیوں نہیں کیا؟ اس کا ایک مختصر اور سادہ سا جواب یہی ہے کہ وہ تعلیم کو دیگر شعبوں پرفوقیت دیتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ تعلیم کو درست کر دیں تو باقی سارے نظام بہتر ہو جائنگے اب اگر دیکھا جائے تو پی ٹی آئی حکومت نے اس سلسلے میں کچھ بھی نہیں کیا۔

معیشت کی بہتری کے لئے معیشت دانوں کو اپنے مشیروں کی فوج میں شامل کیے جب کہ آج بھی ہمارا تعلیمی نظام انگریزوں کے بنائے گئے نظام کے تحت ہی چل رہا ہے جو کہ نہایت فرسودہ ہو چکا ہے، جسے انگریز خود چھوڑ چکے ہیں۔ آج بھی ہمارے نظام میں صرف کلرک پیدا کرنے کے علاوہ کسی اور پیشے کے لیے ماہرین پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں۔ ہمارا یہ تعلیمی نظام اکیسویں صدی کے ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت نہیں ہی رکھتا۔ ہم جدید علوم سے آج بھی ناواقف ہیں ہمارے پاس ٹیکنالوجی نہیں ہمارے پاس مشکل حالات میں تعلیم جاری رکھنے کا کوئی اور طریقہ کار نہیں۔ آج بھی ہمارے پاس چند مضامین کے سوا کوئی اور انتخاب نہیں۔

اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا معاشی بدحالی نے ہمارے تعلیمی نظام کو تباہ کیا ہے یا ہمارے بدترین تعلیمی نظام نے معاشی نظام کوبرباد کیا ہے؟ اس کے علاوہ سوچ و فکر کرنے اور تحقیق کرنے پر اسلام نے زور دیا ہے۔ آج ہمارے تعلیمی نظام سے سب سے پہلے اس کو نکال دیا گیا ہے۔ آج ہمارے تعلیم یافتہ لوگوں کے ذہنوں میں سوال اٹھتا ہی نہیں۔ تعلیمی اداروں میں بچوں کو سوال اس لیے پوچھنے نہیں دیا جاتا ہے کہ شاید اساتذہ اس کا جواب نہیں دے پائیں۔

ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ڈاکخانے کا نظام بہتر ہو گیا ہے۔ ریلوے میں ترقی ہوئی ہے۔ سڑکیں بن گئیں اور میٹرو بس چل رہی ہیں، بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے لیے گئے قرضے واپس کر دیے گئے ہیں، ایف بی آر کے نظام کو بہتر کر دیا گیا، غریبوں کے لئے صحت کارڈ اور احساس پروگرام جاری کر دیے گئے۔ اور اگر کچھ بھی نہیں کیا گیا تووہ تعلیمی نظام کے ساتھ کیا گیا حکومت نے ایک نصاب کے کاغذات بناکر جاری کر دیے جو آج الماریوں اور کمپیوٹرز کے زینت بنے ہوئے ہیں۔

تعلیم میں کوئی انقلابی اصلاحات نہیں کی گئی، نہ ہی کسی دوسرے ملک سے کچھ سیکھا گیا۔ نہ ہی دوسرے ملکوں میں مقیم پاکستانی تعلیمی ماہرین کی خدمات حاصل کی گئیں کویڈ 19میں تعلیمی اداروں کو بند کرنے کے بعد تعلیم کو جاری رکھنے کا کوئی مربوط نظام نہیں بنایا گیا۔ پہلی لہر کے بعد اساتذہ کوتربیت نہیں دی گئی کہ وہ انٹرنیٹ کا استعمال کر کے بچوں کو کس طرح سے پڑھائیں۔

ریاست مدینہ میں تعلیم کے معاوضے لینے پر پابندی تھی۔ آج اچھی تعلیم حاصل کرنے کے لیے زیادہ تر خاندان اپنے کمائی کا زیادہ تر حصہ لٹا دیتے ہیں۔ کیا ہم اس بات پر حق بجانب ہے کہ یہ حکومت نہ صرف ریاست مدینہ بنانے میں ناکام ہو رہی ہے کیونکہ اس کی سمت ہی غلط ہے۔ جب تک تعلیم کو اہمیت نہیں دی جائے گی دوسرے شعبے کسی بھی طرح سے ٹھیک نہیں ہوں گے۔ یہ حکومت کس سے امید لگا کر بیٹھی ہے کہ وہ آ کر اس نظام کو بہتر کرے گا۔ حکومت کو تعلیم میں فوری طور پر انقلابی اصلاحات کرنے چاہیے اور بھی ایسی کہ یہ تبدیلیاں عام آدمی کو نظر آئیں۔ لوگوں کو امید ہو کہ اگر اس وقت وہ خود اگرمشکل دور سے گزر رہے ہیں تو اس کا مقابلہ کر لیں گے۔ لیکن اس ملک میں ان کے بچوں کا مستقبل تابناک ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
طائب جان کی دیگر تحریریں