اسلام آباد میں شمشان گھاٹ فعال، ہندو مندر’کرشنا کمپلیکس‘ کی چاردیواری کی اجازت دے دی گئی

ریاض سہیل - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں وفاقی ترقیاتی ادارے سی ڈی اے نے ہندو کمیونٹی کو شمشان گھاٹ اور مندر کے باہر چار دیواری کی تعمیر کی اجازت دے دی ہے۔ تحریک انصاف کے اقلیتی ارکان اسمبلی نے اسے مندر کی تعمیر کے سفر میں اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

چاردیواری کی مشروط اجازت

سی ڈی اے کی جانب سے اسلام آباد ہندو پنچائت کے صدر پریم داس کو لکھے گئے خط میں آگاہ کیا گیا ہے کہ اسلام آباد کے سیکٹر ایچ نائن ٹو میں ہندو کمیونٹی کے لیے مندر، کمیونٹی سینٹر اور شمشان گھاٹ کے لیے چاردیواری کی مشروط اجازت دی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مندر نہیں بنے گا!

اسلام آباد میں شمشان گھاٹ کے لیے زمین الاٹ اسلام آباد میں مندر کی تعمیر، اسلام مخالف یا جناح کے خواب کی تعبیر

اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے خلاف درخواستیں غیر موثر قرار

خط میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ چاردیواری سات فٹ سے اونچی نہیں ہوگی۔ خط کے مطابق یہ دیوار یا تو ٹھوس دیوار ہوسکتی ہے یا ایک فٹ تک اس میں ٹھوس چنائی باڑ لگائی جاسکتی ہے۔

کرشنا کمپلیکس

نواز شریف کی حکومت نے سنہ 2017 میں ہندو کمیونٹی کو مندر، شمشان گھاٹ اور کمیونٹی سینٹر کی تعمیر کے لیے ایچ نائن ٹو میں چار مرلے زمین الاٹ کی تھی، جہاں ہندو کمیونٹی مندر کے ساتھ کمیونٹی سینٹر کی تعمیر کا ارادہ رکھتی تھی، جس کا نام کرشنا کمپلیکس تجویز کیا گیا۔

تاہم اس کمپلیکس کی بیسمنٹ سمیت مجوزہ تین منزلہ عمارت کی تعمیر کے لیے فنڈز کی عدم دستیابی کے بعد تعمیر کا کام تاخیر کا شکار رہا۔

تحریک انصاف کی حکومت کے قیام کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے کمپلیکس کی تعمیر کے لیے 100 ملین رپے کی رقم مختص کی، جس کے بعد مندر کی تعمیر کا آغاز کیا گیا۔

مخالفت اور مزاحمت

مندر کی تعمیر کے آغاز سے ہی بعض مذہبی حلقوں اور جماعتوں کی جانب سے شدید اعتراضات اور احتجاج سامنے آیا۔

لاہور کے مدرسہ جامع اشرفیہ کے مفتی محمد ذکریا نے فتویٰ جاری کیا جس میں انھوں نے کہا ہے کہ اسلام کے مطابق اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی دیکھ بھال اور انھیں قائم رکھنا جائز ہے تاہم نئی عبادت گاہوں کی تعمیر کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں مندر کی تعمیر کو رکوانے کے لیے تین درخواستیں دائر کی گئیں اور مندر کی تعمیر رکوانے کے لیے اس نقطے کو بنیاد بنایا گیا تھا کہ مندر کی تعمیر اسلام آباد کے ماسٹر پلان میں شامل نہیں ہے تاہم عدالت درخواستوں کو غیر موثر قرار دے کر نمٹا دیا۔

ہائی کورٹ کے جج جسٹس عامر فاروق نے فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا تھا کہ اگرچہ اسلام آباد کے ماسٹر پلان میں مندر کے لیے جگہ مختص نہیں تھی مگر اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے سی ڈی اے کے چیئرمین اور سی ڈی اے کے بورڈ ممبر لے آؤٹ پلان کے تحت بھی وفاقی دارالحکومت کے کسی سیکٹر میں پلاٹ الاٹ کرنے کے مجاز ہیں۔

اسلامی نظریاتی کونسل سے منظوری

حکومت کی جانب سے پاکستان اسلامی نظریاتی کاؤنسل سے رائے طلب کی گئی۔ کونسل نے مندر کی تعمیر کے حق میں فیصلہ دیا اور اپنے تحریری فیصلے میں کہا کہ ہندو کمیونٹی کو اپنی رسومات کی ادائیگی کا آئینی حق حاصل ہے۔

کونسل کا مزید کہنا تھا کہ آئینی حق کے مطابق ہندو کمیونٹی کو رسومات کی ادائیگی کے لیے موزوں جگہ فراہم کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے، جہاں وہ نہ صرف شادی کی تقریبات بلکہ آخری رسومات اور مذہبی فرائض بھی ادا کر سکتے ہیں۔

مندر کی تعمیر کے لیے سرگرم تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی لال چند ملہی کا کہنا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے یہ بھی واضح کیا کہ اقلیتوں کے لیے مختص فنڈ سے اس کی مندر کی تعمیر ہوسکتی ہے اور قانون سازی کے ذریعے متروکہ وقف املاک سے حاصل آمدن سے بھی معاونت حاصل کی جاسکتی ہے۔

اسلام آباد

BBC

آس پاس قدیم مندر

اسلام آباد کے قریب راولپنڈی شہر میں ہندو کمیونٹی کے فعال مندر کے علاوہ کٹاس راج اور ٹیکسلا کے آثار قدیمہ میں ہندو کمیونٹی کے مندر موجود ہیں۔ اسلام آباد ہندؤ پنچایت کے سابق صدر پریتم داس ان افراد میں سے ہیں جو سنہ 1973 میں تھرپارکر سے اسلام آباد آئے تھے۔

مزید پڑھیے

اسلام آباد میں شمشان گھاٹ کے لیے زمین الاٹ

مندر کی تعمیر: اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم امتناعی جاری کرنے سے انکار

ان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے علاقے سید پور میں ایک چھوٹا سا مندر تھا، جس کی اس وقت تعمیرِ نو کی گئی جب اس علاقے کو قومی ورثہ قرار دیا گیا۔ یہ ایک علامتی عمارت تھی جو کہ یہاں کی ہندو برادری کی ضروریات پوری نہیں کر سکتی تھی۔

اسلام آباد ہندو پنچائت کے مطابق اسلام آباد میں 3000 ہندو بستے ہیں۔

پریتم داس بتاتے ہیں کہ ‘ہندو برادری کے لیے اپنی رسومات ادا کرنا بہت مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ ہمارے پاس آخری رسومات کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔ ہمارے پاس کوئی کمیونٹی سینٹر نہیں تھا جہاں ہم دیوالی یا ہولی منا سکتے، مجھے خوشی ہے کہ حکومت نے آخرکار ہماری سُن لی۔’

رکن اسمبلی لال چند ملہی کا کہنا ہے کہ شمشان گھاٹ فعال ہوچکا ہے۔ پچھلے مہینوں ایک تاجر کے والد کے انتقال کے بعد اس کا اگنی سنسار یہاں پر کیا گیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17352 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp