ہسپتال کے تقدس کا خیال کیجئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا بھر میں کرونا کی وبا کی دوسری لہر حملہ آور ہے اور وباء کی شدت میں اضافہ پہلے کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔ ہم میں سے کئی ایک لوگوں کو کو ان ہسپتال جانا پڑ رہا ہوگا  یا ہو سکتا ہے  کہ مستقبل قریب میں خدانخواستہ جانا ہو ، اسی لئے میں اپنا ایک مشاہد ہ  پڑھنےوالوں کے ساتھ شیئر کرنا چاہوں گی  کہ  ہم میں اکثر لوگ جب کبھی ہسپتال جاتے ہیں تووہاں کے طے شدہ  ضابطوں اور قوانین کی پروا نہیں کرتے۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ  ہماری یہ تربیت ہی نہیں کی گئی کہ ہسپتال کا کیا مقام ہے اور وہاں کس طرح سے برتاؤ کیاجانا چاہیئے۔

بڑے بڑے گروپ بنا کر لوگ مریضوں کی خبرگیری کرنے پہنچ جاتے ہیں اور اس امر کا کوئی لحاظ نہیں رکھا جاتا کہ کیا یہ وقت ہسپتال میں ملاقات کی اجازت کا ہے بھی یا نہیں ۔ ڈاکٹرز سے ملیں گے تو اس کے سامنے شکایات کا ایک انبار لگادیں گے اور بجائے کہ بیماری کو سمجھیں اور ڈاکٹرز کی بات توجہ سے سنیں ہم یہ ڈھنڈورا پیٹنے لگتے ہیں کہ ڈاکٹرز نے ہی کچھ ایسا کردیا ہے۔ اگر کسی مریض کی طبیعت زیادہ خرا ب ہوگئی ہے تو ہم نے سارے کاسارا الزام ہی ڈاکٹر پہ دھر دینا ہے۔ اور اگر خدانخواستہ مریض کی موت واقع ہوجائے تو پھر تو ہم مارپیٹ اور توڑ پھوڑ تک پہ اتر آتے ہیں۔

ایسا نہیں ہے کہ کبھی ڈاکٹرز سے شکایت نہیں ہوسکتی لیکن ہمارے ہاں یہ تصور بہت عام کردیا گیا ہے کہ ضرور ڈاکٹر نے ہی ایسا کچھ کیا ہوگا۔ہمارے لوگ  تو اتنے معصوم ہیں کہ ملاقات کے اوقات کے علاوہ ہسپتال چلے جاتے ہیں اور اگر طبی عملہ اس دوران ملاقات سے روک دے تو اس پہ سیخ پا ہوجاتے ہیں۔  ایسا ہونا تو نہیں چاہیئے کیونکہ ہسپتال ایک مقدس جگہ ہے اور اس کے تقدس کے اپنے ضابطے ہیں ۔ایک پروٹوکول ہے ۔

جب آپ ڈاکٹر سے بھی بات کررہے ہوں تو اس رابطے کا بھی ایک تقدس ہے آپ کو ہر لمحہ ان کا احترام باقی رکھنا ہے انہیں اپنے کام پر متوجہ رہنے دیں ۔ کیونکہ مریض کے طریقہ کار ء علاج کا سب سے بہتر علم تو ڈاکٹر کو ہی ہوتا ہے کہ کیا ٹسٹ کروائے جانے لازم ہیں کون سی دوا مناسب ہے وغیرہ۔ہمارا ڈاکٹر پہ اعتماد اور بھروسہ ہمارے اپنے مریض کی صحت و سلامتی کے لئے لازم ہے۔ کیونکہ اسی میں ہمارے مریض کی بہتری ہے۔

جمگھٹا بنا کر ہسپتال پہنچنا ، مریض کے گرد اکٹھے ہوجانا ڈاکٹر کا گھیراؤ کرلینا یہ سب غیر مہذب اور بدتمیز رویئے ہیں ۔ ہمیں چاہیئے کہ ان سے اجتناب کریں اور ڈاکٹر پہ بھروسہ اور اعتماد کریں کیونکہ اسی میں ہماری اور ہمارے سماج کی صحت اور سلامتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ڈاکٹر فوزیہ سعید کی دیگر تحریریں