بانی پاکستان محمدعلی جناح ایک ہمہ گیرشخصیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اللہ پاک اپنے کچھ بندوں کو مخصوص قائدانہ صلاحیتوں سے نوازتا ہے۔ کیا خوب کہا تھا، شیکسپیئر نے کہ ’کچھ لو گ پیدا ہی عظیم ہوتے ہیں اور کچھ لوگ اپنے کاموں سے خود کو عظیم بنا لیتے ہیں‘ ۔ اگر یہ بات قائد اعظم محمد علی جناح کے لیے کہی جائے تو غلط نہیں ہوگی۔

قائد اعظم محمد علی جناح کی ہمہ گیر شخصیت تاریخ میں روشنی کے مینار سے تعبیر کی جاتی ہے۔ ان کی جدجہد اور اصول پسندی نے تاریخ کے دھارے کا رخ بدل کر رکھ دیا۔ عزم مصمم، استقلال اور جرات مندی ان کے اوصاف میں شامل تھی، ثقافت، اور مسلمانوں کے نظریات کو دنیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے استقامت کا پہاڑ بن کر کھڑے ہو گئے۔ مسلمانوں کے نظریات اور اسلام کی روایات کے دلائل نے اس قدر توانا کیا کہ اس دور کی سب سے بڑی سپر پاور اپنی ضد اورہٹ دھرمی سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئی۔ قائداعظم کی عظیم قیادت نے اسلامی نظریاتی مملکت کا احساس برصغیر کے مسلمانوں میں اس طرح ابھار دیا۔ کہ ان کے دلائل کے سامنے کوئی نہ ٹھہر سکا۔

جناح آف پاکستان ’کے مصنف پروفیسر اسٹینلے لکھتے ہیں،‘ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو تاریخ کا دھارا بدل دیتے ہیں اور ایسے لوگ تو اور بھی کم ہوتے ہیں جو دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیتے ہیں اور ایسا تو کوئی کوئی ہوتا ہے جو ایک نئی مملکت قائم کر دے۔ محمد علی جناح ایک ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے بیک وقت تینوں کارنامے کر دکھائے ’۔

برصغیر کے مسلمانوں کی بڑی اکثریت نے محمد علی جناح کو اپنا لیڈر اور قائد بنایا۔ آزادی کی جد و جہد میں شامل باقی قائدین کے ساتھ مل کر قیام پاکستان کی جنگ آئینی اور قانونی طریقے سے جیتی۔ قائد اعظم وہ عظیم الشان لیڈر تھے کہ ان کے مد مقابل سیاسی حریف برطانوی حکمران، کانگریسی لیڈر بھی ان کی ہمسری کا دعویٰ نہیں کر سکتے تھے، قائد ہمیشہ اپنے سیاسی حریفوں کے مد مقابل سر خرو ہوتے تھے قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ کو کئی دفعہ انگریزوں کی طرف سے مناصب کی پیش کش کی گئی، لیکن انہوں نے تمام مناصب، خطابات عہدوں کو برطانوی راج میں قبول نہ کیا اپنی منزل اور مقصد کی جانب گامزن رہے۔

1917 میں برطانیہ سے ایک وزیر ہند ایڈون مانٹیگو ہندوستان کے دورے پر آیا جہاں اس نے مختلف سیاسی جماعتوں کے لیڈران اور رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں لیکن وہ قائد سے اتنا متاثر ہوا کہ اس نے اپنی ڈائری میں لکھا، کہ ”جناح بہت سمجھدار انسان ہے یہ انتھائی ظلم اور افسوس کی بات ہے کہ ایسی صلاحیتیوں کے حامل شخص کو اپنے ملک کے معاملات چلانے کا کوئی اختیار نہیں“ برطانوی حکمرانوں نے ہندوستان کے مسلم ہندو فسادات کو ختم کرنے کے لیے 1930 میں لندن میں گول میز کانفرنس طلب کی۔

تو اس وقت لیبر پارٹی کا رہنما ریمزے میکڈونلڈ وزیراعظم بن چکا تھا جو قائد اعظم کا دوست بھی تھا، گول میز کانفرنس کی کامیابی کے لیے اس نے قاد اعظم کو ایک اشارہ دیا کہ برطانوی حکومت ہندوستان میں اہم قانونی تبدیلیاں کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تو کسی اہم آئینی ہندوستانی رہنما کو بھی ہندوستان کا حکمران یعنی گورنر بنایا جا سکتا ہے اس سے پہلے یہ اہم ترین اور حساس عہدہ برطانوی ہی لیتے تھے۔ قائد یہ اشارہ سمجھ گئے اور انہوں نے فرمایا مسٹر ریمزے میکڈونلڈ!

میری خدمات قابل فروخت نہیں ہیں۔ انہوں نے برطانوی حکمران طبقے کو واضح کر دیا کہ مجھے عہدوں کی چاہت نہیں اور یہ منصب مجھے رشوت کے طور پر خرید نہیں سکتے ایسی کئی مثالیں ہیں جب قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ کو خریدنے کی کوششیں کی گئی لیکن انہوں نے ہر دفعہ واضح کیا کہ ہندوستان کی تقسیم اور پاکستان بنانے کے علاوہ کسی اور پلان پر بات نہیں ہو سکتی۔ انگریزوں نے ہر حربہ استعمال کیا جس میں دھمکیاں بھی شامل تھیں۔ آخری برطانوی حکمران ماؤنٹ بیٹن نے بھی کئی پیشکش کیں لیکن اسے ہر دفعہ ہی صدمہ ہوا، آخر اس نے برطانوی حکمرانوں کو آگاہ کر دیا کہ قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ پاکستان کے قیام سے کم کسی بھی حل پر راضی نہیں ہیں۔

قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ پر اللہ پاک کا خصوصی فضل و کرم تھا۔ وہ پر اعتماد تھے کہ میں ہر صورت میں کامیاب ہو جاؤں گا مخصوص قائدانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے قوم کی تقدیر بدل دی۔ اور وہ ایک ایسا اسلامی نظریاتی ملک کے قیام میں کامیاب ہوئے جو اگست 1947 میں دنیا کے نقشے میں ابھر کر سامنے آیا۔ پاکستان جب وجود میں آیا تو برصغیر کے تمام مسلمانوں کی قیام گاہ بن گیا عرصہ دراز تک دور دراز کے علاقوں سے مسلمان ہجرت کر کے پاکستان آتے رہے قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ کا خواب کی تکمیل ہو گئی اور مسلمانوں کو ایک مرکز بھی عطا کر دیا، اور انتھائی کمزور حالات میں ریاست کو پاؤں پر کھڑا کیا اور ایک مثالی ریاست بنانے کے لیے اپنے رہنما اصول قوم کو منتقل کیے۔

آزادی کی نعمت کا تو ہم شکر ادا نہیں کر سکتے۔ قائداعظم محمد علی جناح کا یوم ولادت 25 دسمبر کو ہم منا رہے ہیں۔ لیکن آج کے اس دن کی مناسبت سے موجودہ دور کے حکمرانوں اور پچھلی تمام حکومتوں سے ایک سوال ہے کہ پاکستان کے بعد آزاد ہونے والی ریاستیں آج ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑی ہیں لیکن ہم ابھی تک ترقی پذیر ممالک میں شامل ہیں۔ ہم نے قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ کے رہنما اصولوں پر عمل کیوں نہیں کیا اور ان رہنما اصولوں پر عمل کرنے کا اعلان کب ہو گا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
حافظ بلال بشیر کی دیگر تحریریں