شکرپڑیاں اور گکھڑ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’ آپ کو ڈر نہیں لگتا یہاں سے گزرتے ہوئے؟‘ ، میں نے ابو سے پوچھا۔ یہ دسمبر کی ایک سخت سرد اور اندھیری رات تھی۔ ہم یک رویہ سنسان سڑک پہ رواں دواں تھے دونوں طرف جنگل تھا اور میں ابو کے کاواساکی موٹر سائیکل پہ ان کے پیچھے ان کی جیکٹ میں ہاتھ ڈالے دبکا بیٹھا تھا۔ میں سڑک کے دونوں طرف کے درختوں کو سہم کر دیکھتا جاتا۔ یہاں پہ رات کو گیدڑوں، سؤروں، ہرنوں اور کبھی کبھار ریچھ نظر آنے کے واقعات میں نے سن رکھے تھے۔

اگرچہ یہ سفر میرے بچپن میں سردیوں کی تعطیلات کا معمول تھا لیکن پھر بھی سارا رستہ خوف اور سردی کی ملی جلی کپکپاہٹ میں طے ہوتا اور کشادہ اسلام آباد ہائی وے آنے تک درود شریف اور جتنی دعائیں امی نے یاد کروا رکھی تھیں پڑھ چھوڑتا۔ ابو کا جواب آج بھی میرے ساتھ ہے ’بیٹا ڈر انسان کے اندر ہوتا ہے باہر کی چیزوں میں تو کچھ نہیں ہوتا، اندر کا ڈر مار دو تو پھر آپ بہادر بن جاؤ گے۔‘

یہ سڑک اسلام آباد کی گارڈن ایوینیو یا شکرپڑیاں روڈ کہلاتی ہے جو اسلام آباد کے سیکٹر ایچ ایٹ کے سامنے سے شروع ہوتی ہے اور کسی سانپ کی مانند بل کھاتی جنگل میں اپنا رستہ تلاشتی شکرپڑیاں کینٹین پہ جاکے دم لیتی ہے۔ یہاں ابو کی دکان تھی جہاں کہنے کو تو چائے پانی وغیرہ ملا کرتا لیکن دادا ابو نے اس کا نام آشیانہ ریسٹورنٹ رکھ چھوڑا تھا۔ یہ وہی جگہ ہے جو نہ صرف شہر کے ابتدائی سیاحتی مقامات میں سے ایک تھا بلکہ کبھی پورے پاکستان والوں کے لئے اسلام آباد شہر کا تعارف بھی تھا۔ یہیں فلم ستاروں محمد علی، زیبا، ندیم، شبنم، جاوید شیخ، نیلی اور مدیحہ شاہ نے بیسیوں رومانوی گانے ریکارڈ کروائے۔

شہر میں کئی جدید تفریحی مقامات بن جانے کے بعد شکرپڑیاں کا وہ مرتبہ تو نہیں رہا جو کبھی ہوا کرتا تھا لیکن بہرحال اس کی ایک منفرد تاریخی حیثیت ہے جو اسے باقیوں سے ممتاز کرتی ہے۔ گارڈن ایوینیو کی پیچ دار سڑک نیچرل ہسٹری میوزیم، ایک جدید ریستوران، لوک ورثہ، کنول جھیل، قدیمی مسجد اور اوپن ائر تھیٹر سے ہوتی ہوئی اپنی آخری عمودی ڈھلوان چڑھتی ہے جہاں پہنچتے ہی ہماری موٹر سائیکل کا سانس پھول جاتا اور سائیلنسر سے دمہ زدہ بڑھیا کی سی آواز آنے لگتی۔

شکرپڑیاں اپنی موجودہ شکل میں آنے سے قبل ایک گاؤں تھا، یہ وہ وقت تھا جب اسلام آباد کا بیشتر حصہ ایک جنگل ہوا کرتا تھا۔ باقی خطۂ پوٹھوہار کی طرح اس گاؤں میں بھی جو افراد آباد تھے ان میں اکثریت کا تعلق گکھڑ برادری سے تھا۔ گکھڑ قدیمی جنگجو ہیں جو اپنا سلسلۂ نسب آریان قبیلہ سے جوڑتے ہیں، یہ فارسی سلطنت کے عظیم بادشاہ دارا ( 522 تا 486 ق م) کا قبیلہ تھا۔ ان کے روایتی قصوں کے مطابق ان کا شجرہ فارس (ایران) کے کیانی حکمرانوں سے بھی ملتا ہے اسی لئے ان میں سے کچھ خاندان کیانی بھی کہلواتے ہیں۔ گکھڑ شاہ نامی ایک جنگجو نے سلطان محمود غزنوی کے ساتھ ہندوستان پہ چڑھائی کی مہمات میں بھی حصہ لیا۔ صدیوں سے پوٹھوہار کی پٹی میں مقیم گکھڑوں نے مختلف ادوار میں مغلوں، سکھوں اور تاج برطانیہ کے ساتھ کبھی کندھا ملایا اور کبھی بر سر پیکار رہے۔

پاکستان بننے کے بعد دارالحکومت کے لئے جگہ کے انتخاب کا مرحلہ پیش آیا تو ایک کمیشن قائم کیا گیا جس نے کافی غوروخوض کے بعد راولپنڈی کے شمال مشرقی علاقے کو اس کے لئے منتخب کیا۔ اس وقت کے مطلق العنان صدر ایوب خان نے 24 مئی 1960 کو شکر پڑیاں کے ایک مقام پر کابینہ کے خصوصی اجلاس میں اسلام آباد کے ماسٹر پلان کی منظوری دی۔ اس کے بعد شکرپڑیاں گاؤں کے باسیوں کو اسلام آباد کے مختلف سیکٹروں میں جگہ الاٹ کر کے یہاں سے منتقل کیا گیا اور اسے ایک تفریحی و سیاحتی مقام میں تبدیل کر دیا گیا۔

راجہ محمود اکبر کیانی صاحب جو کہ اب ستر کا سن پار کر چکے ہیں، مجھ سے بات کرتے ہوئے تخیل میں شکرپڑیاں گاؤں کی گلیوں میں کھو گئے جن میں دوڑتے بھاگتے انہوں نے بچپن سے لڑکپن کی منزل پار کی۔ موجودہ لوک ورثہ، جو پاکستانی لوک ثقافت کا ورثہ ہے، محمود صاحب کے بچپن کے ہمجولیوں اور رشتہ داروں کے کچے گھروں کا مدفن ہے۔ اس خوبصورت عمارت کی جگہ چھوٹے چھوٹے گھروں کے علاوہ بھینسوں کا ایک باڑہ بھی ہوا کرتا تھا۔ جہاں راجہ صاحب کا ذاتی گھر تھا وہاں آج آشیانہ کینٹین پہ بچے انکل کو برگر اور چپس کے آرڈر اور بیرو ں کو ٹپ دیاکرتے ہیں۔

گاؤں کی قدیمی مسجد ہی ایک ایسی چیز ہے جسے ایماں کی حرارت والوں نے اپنی اصلی حالت میں برقرار رکھا ہے، یہ لوک ورثہ کے پہلو میں واقع ہے اور مجھے یہاں کئی جمعے پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ مسجد کے پیچھے ایک بیٹھک ہے جس کے بارے میں کہاوت مشہور ہے کہ یہاں قادریہ سلسلے کے بزرگ حضرت شاہ عبدالطیف کاظمی المعروف بری امام سرکار ( 1617۔ 1705 ) عبادت کیا کرتے تھے۔ آج بھی ان کے ماننے والے یہاں حاضری دیتے اور منتیں مانتے ہیں۔

نیچرل ہسٹری میوزیم کے سامنے صدیوں پرانا قبرستان ہے جہاں گکھڑ خاندان کے فوجی، پولیس افسر اور سیاست دان مدفون ہیں۔ جب سی ڈی اے نے زندہ جاگتا گاؤں ویران کر دیاتو فیصلہ کیا کہ اب یہ مقبرے ورثا کے حوالے کردیے جائیں۔

گاؤں کی مشہور پرانی ’راجہ ظفر کی حویلی‘ اب ایک نئے ریستوران میں ڈھل چکی ہے جہاں جدید پکوان انسان کی قدیم جبلت، بھوک کا سامان کرتے ہیں۔ اگرچہ معاہدے کے مطابق انتظامیہ ریستوران کا ایک حصہ حویلی کی اصل شکل میں قائم رکھنے کی پابند ہے، مگر روایت کاروبار کے معاملے میں ہمیشہ ہی ہاری ہے۔ جہاں باقی دنیا کی اقوام اپنی تاریخ کو محفوظ کرتی ہیں جو نہ صرف سیاحت کے فروغ کا باعث بنتی ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لئے آگہی کا سامان بھی ہوتی ہے وہاں ہم اپنی روایات کو مٹا کر خوش ہوتے ہیں۔

یہیں قریب ہی گاؤں کا تکیہ ہوا کرتا تھا، جہاں بوڑھے شام کو چوپٹ کھیلتے اور جوان تاش کھیلتے یوں یہ گاؤں کا ایک سوشل کلب تھا، جیسے کہ پنجاب کے دیہات میں فیس بک اور ٹک ٹاک کی ایجاد سے پہلے چوپال ہوا کرتی تھی۔

کنول جھیل جسے 1970 میں سیاحتی شکل دی گئی، کسی زمانے میں گاؤں کی خواتین کا دھوبی گھاٹ ہوا کرتا تھاجہاں کنارے پڑی پتھر کی بڑی بڑی سلوں (جنہیں مقامی زبان میں پڑیاں کہا جاتا ہے ) پر بیبیاں کتکا مار مار کر کپڑے دھویا کرتیں جبکہ ان کے بچے تالاب کے شفاف پانی میں نہایا کرتے۔ برسوں کی بے اعتناعی کے بعد ان پڑیوں کی بھی سنی گئی اور اب سرکار جھیل کی تزئین و آرائش اور بحالی کررہی ہے۔ گاؤں کے تالاب کی پڑیوں نے شکرپڑیاں تفریحی پارک تک کا سفر طے کر لیاہے اوراب سربراہان مملکت یہاں شجرکاری کرتے ہیں۔

ابو کی بات تب تو مجھے سمجھ نہ آتی تھی مگر اب سمجھ آئی، انسان کے اندر کئی طرح کے خوف ہوتے ہیں، مثلاً زمین کے چھن جانے کا ڈر گمنامی کا ڈر وغیرہ لیکن حقیقت وہی ہے جو شکر پڑیاں اپنی کہانی میں سناتی ہے۔ زندگی کی چوتھی دہائی میں جب میں گارڈن ایوینیو کی سڑک سے گزرتا ہوں تو زمین سے یہ صدا آتی ہے کہ جیسے تم یہاں سے بنا رکے گزرتے ہو، ایک صدی پہلے یہیں بے نشان راستوں پرکوئی گکھڑ جنگجو گزرا تھا، آج اسے کوئی نہیں جانتا، کل تمہارا نام لیوا بھی کوئی نہ ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •