جنوبی انگلستان میں موسم گرما قلیل مدت کا مہمان ہوتا ہے اس لئے انتہائی چاؤ سے اس کا خیرمقدم کیا جاتا اور میلے کی طرح منایا جاتا ہے۔ چمکدار دھوپ کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے بار بی کیوز کا اہتمام کیا جاتا ہے اور یار دوست تفریح مناتے ہیں۔ ایسی ہی ایک پر تکلف پارٹی ڈاکٹر بلال کے ہاں سجی تھی، ہم دم سادھے ان کی زبانی ان کے نئے شوق ان کے بیش قیمت تنور کی کہانی سن رہے تھے۔ مبلغ پانچ سو پاؤنڈ کا یہ محض تنور ہزاروں میل کا سفر طے کر کے ہندوستان سے یہاں منگوایا گیا تھا۔
ڈاکٹر بلال کے سامنے علاقے کے بڑے بڑے لوگ بھی منہ کھولنے سے گھبراتے تھے، کیونکہ وہ دانتوں کے جانے مانے سرجن تھے، تو پھر ہماری کیا مجال جو چوں کرتے، بس دل ہی دل میں یہ سوچ رہے تھے کہ بھلا اس فضول خرچی کی کیا ضرورت تھی۔ گفتگو کا رخ تنور سے ہٹا تو ہمارے ماہر معدہ و جگر ڈاکٹر اویس کی طرف ہو گیا جنہوں نے حال ہی میں تین ہزار پاؤنڈ کی خطیر رقم خرچ کر کے ترکی سے سر کے مصنوعی بال لگوائے تھے اور اپنے تئیں اپنی عمر کی گاڑی کو ریورس گیئر لگا کر پھر تیس سال کے جوان نظر آنے لگے تھے۔
Read more