گھن چکر – بے گناہ کا لہو اور مکافات عمل

میں نے اڈیالہ جیل سے باہر آ کر کھلی ہوا میں لمبا سانس لیا تو دھوئیں اور گرد کا بادل گلے میں پہنچا اور کھانسی کا دورہ پڑ گیا۔ میں نے فوراً جیب سے ترلوچن سنگھ کی دی ہوئی پھکی نکال کر منھ میں رکھی اور زور زور سے سانس اندر کھینچنے لگا۔ مدتوں پہلے سکھ حکیم کی دی ہوئی دمے کی دوا پنڈی کے تمام سکھ خاندانوں کی طرح ایکسپائر ہو چکی تھی۔ 14 سال عمر قید کاٹنے کے

Read more

ذہنی معذور

”آپ نے کتنے قتل کیے ہیں؟“ رپورٹر نے سوال کیا۔ ”تین“ طاہرہ کا جواب جذبات سے عاری اور سرد تھا ”کیوں“ شاہد کو پہلے کسی مجرم کا انٹرویو کرنے کا کوئی اتفاق نہیں ہوا تھا۔ اسے صحافت کا امتحان پاس کیے ابھی صرف ایک ماہ ہوا تھا۔ ”کیونکہ وہ سب اسی لائق تھے، ہا ہا ہا ہا“ طاہرہ کے چہرے پہ سختی تھی، شاہد نے جب اسے اپنی طرف گھورتے ہوئے پایا تو اسے اپنی کمر پہ پسینہ رینگتا ہوا

Read more

اندھی ویگن اور مریل کھمبا

میں اپنے ہسپتال کے کمرے میں بیٹھا مکھیاں مار رہا تھا کہ مجھے کھڑکی کے باہر سے ٹیں ٹیں کی آواز آئی۔ میں نے بیزاری سے باہر دیکھا تو ایک ڈیلیوری وین تھی جو ریورس ہو رہی تھی اور ایک محفوظ اور ذمہ دار گاڑی ہونے کے ناتے وہاں پہ ناموجود افراد کو غائبانہ طور پر خبردار کیے جا رہی تھی کہ ذرا بچ کے بھائی، گاڑی ریورس ہو رہی ہے۔ معمول کے مطابق میرے پاس کافی تعداد میں مکھیاں

Read more

باجی رشیدہ

آج سکول سے واپس آتے گرمی سے میرا سر ابل رہا تھا۔ میرا سکول شہر کے نواحی قصبے میں تھا جہاں سے گھر آنے کے لئے، سوزوکی کے سفر کے علاوہ کچھ فاصلہ پیدل چل کر بھی طے کرنا پڑتا تھا۔ سورج یوں آگ برسا رہا تھا جیسے جہنم اٹھ کر یہیں آ گیا ہو۔ حلق سوکھ کے کانٹا ہو رہا تھا۔ میں نے صحن میں آ کر اپنا دوپٹہ اتار پھینکا اور پنکھے کے سامنے بیٹھ گئی۔ ریفریجریٹر پچھلے

Read more

عورت کا جہاں اور ہے، مرد کا جہاں اور

چند دن پہلے ایک پاکستانی فیس بک پیج پہ کووڈ ویکسین کی معلوماتی پوسٹ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ تصویر میں ایک نوجوان خاتون انجکشن لگوا رہی تھی اور اس مقصد کے لئے آستین کندھے سے اوپر کر رکھی تھی۔ پوسٹ میں دی گئی معلومات پڑھنے کے بعد اس کے نیچے مردوں کی طرف سے دیے گئے کمنٹس پڑھ کر حیرانی اور دکھ ہوا۔ پوسٹ کے مقصد کو نظر انداز کر کے خاتون کی جسمانی ساخت، چہرے کے نقوش، بناؤ سنگھار

Read more

اندیشہ ہائے دور دراز

جب مریم نے اس پر اعتراض کیا تو اس نے کہا کہ اس کا ارادہ گھر والوں کو سرپرائز دینے کا تھا۔ لیکن اب اس نئی صورتحال میں اس نے اپنے والد کو فون کر کے آگاہ کیا۔ پہلے تو وہ بہت خفا ہوئے اور پیشگی اطلاع نہ دینے کا گلہ کیا لیکن اگلے ہی لمحے ان کا لہجہ پگھل گیا۔ اتنے برسوں بعد بیٹا آیا تھا اور وہ پوتے پوتیوں سے ملنے کے لئے بے حد بے تاب تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سب کام چھوڑ کے گھر پہنچ رہے ہیں۔ ٹیکسی نے ابھی چند ہی میل کا فاصلہ طے کیا تھا کہ اچانک دھماکے کی آواز سنائی دی اور گاڑی لڑھکتی ہوئی کھمبے سے جا ٹکرائی، ہائی وولٹیج بجلی کے تار ٹوٹ کر گاڑی پہ گرے اور گاڑی کو آگ لگ گئی۔ احمر نے محسوس کیا کہ اس کا وجود اس کا ساتھ چھوڑ رہا ہے۔ اس نے چلانا چاہا مگر اس کی آواز گلے میں گھٹ کر رہ گئی اور وہ ایک تاریکی کی طرف کھنچتا چلا گیا۔

Read more

وکٹوریہ کی بلی

وکٹوریہ نے اپنی آستین اوپر کی اور مجھے اپنے کندھے کی خراشیں دکھاتے ہوئے کہا، ’دیکھو کل کیٹی نے میرا کیا حشر کیا، میں ساری رات صحیح سے سو نہیں سکی، وہ چلاتی رہی اور مجھ سے لحاف چھینتی رہی‘ وکٹوریہ، جسے سب وکی بلاتے تھے، کو میں نے کہا ’وکی تمہیں کیا ملتا ہے اس منحوس بلی سے ، جسے تم نے اپنے سر پر سوار کر رکھا ہے، رات بھر تمہیں سونے نہیں دیتی، میں تو کہتا ہوں

Read more

کلی چمن میں کھلی تو مجھے خیال آیا

سردیوں کا موسم اپنے اندر ایک اداسی لئے ہوتا ہے۔ زندگی کی چوتھی دہائی کا اس موسم سے یہ تعلق بھی ہے کہ اس میں درختوں کے سوکھے پتوں کی چرچراہٹ سے من آنگن میں چند نئے پٹ کھلتے ہیں اور حقیقتیں عیاں ہونے لگتی ہیں۔ میں اپنے آس پاس دیکھتا ہوں تو جیسے میں جوانی اور ادھیڑ عمر کے سنگم پہ کھڑا ہوں ویسے ہی میرا بیٹا سہمے ہوئے مگر پرجوش قدموں سے بچپن اورلڑکپن کی سرحد پہ کھڑا

Read more

شکرپڑیاں اور گکھڑ

’ آپ کو ڈر نہیں لگتا یہاں سے گزرتے ہوئے؟‘ ، میں نے ابو سے پوچھا۔ یہ دسمبر کی ایک سخت سرد اور اندھیری رات تھی۔ ہم یک رویہ سنسان سڑک پہ رواں دواں تھے دونوں طرف جنگل تھا اور میں ابو کے کاواساکی موٹر سائیکل پہ ان کے پیچھے ان کی جیکٹ میں ہاتھ ڈالے دبکا بیٹھا تھا۔ میں سڑک کے دونوں طرف کے درختوں کو سہم کر دیکھتا جاتا۔ یہاں پہ رات کو گیدڑوں، سؤروں، ہرنوں اور کبھی

Read more

ہندو ہمارے بھائی ہیں

چند دن ہوئے دیوالی (دیپ آولی) گزری ہے، یہ ہندو ؤں کا مذہبی تہوار ہے۔ ہمارے دوست، ڈاکٹر راجیش پانڈے انگلینڈ میں کئی سال سے مقیم ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کافی دھارمک آدمی ہیں، کچھ تو عمر کا تقاضا اور کچھ پردیس کا معاملہ، تو ایسے میں وہ تمام مذہبی تہوار خاصے جوش و خروش سے مناتے ہیں۔ انہوں نے گھر کا ایک کونا مندر بنا رکھا ہے جہاں وہ دیوالی کی مخصوص پوجا کا اہتمام کرتے ہیں اور رامائن کے کچھ باب پڑھتے ہیں۔ سیتا اور رام کی واپسی کی خوشی میں دیے روشن کرتے ہیں اور دو ہفتے کے لئے صرف سبزی خوری کرتے ہیں اور گوشت نہیں کھاتے۔

Read more

1947 ء ابھی ختم نہیں ہوا

بہاول پور کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں دکھاں بی بی اپنے کچے صحن میں چارپائی پر ہاتھ سے پنکھا جھل رہی تھی اور پاس زمین پہ اس کا پڑپوتا اور پڑپوتی کھیل رہے تھے۔ شادو کی عمر بارہ سال اور مٹھو پانچ سال کا تھا۔ دکھاں کی عمر اب ستاسی برس ہو چلی تھی۔ اس عمر کے بزرگ گھر میں رکھے پرانے فرنیچر کی طرح ہو جاتے ہیں جنہیں گھر کی تین نسلوں نے ہوش سنبھالنے سے دیکھا ہوتا

Read more

گیتا موہن داس (افسانہ)

یہ پچھلے مہینے کی بات ہے، میرا دل ہسپتال کی فضا، کرونا اور مریضوں سے تکدر کا شکار ہوا تو صبح کی سیر کو نکل پڑا چلتے چلتے ایک قبرستان پہنچ گیا۔ انگلینڈ کے قبرستان پاکستان کے مقابلے میں زیادہ منظم اور صاف ہوتے ہیں لیکن پاکستان کے مقابلے میں ویرانی زیادہ ہوتی ہے کہ سالوں کسی ذی روح کا وہاں سے گزر نہیں ہوتا۔ وہاں کی خاموش پر سکون تروتازہ فضا سے مجھے فرحت بخش احساس ہوا، سینکڑوں برس پرانے درخت اور جا بجا بکھرے خزاں رسیدہ رنگین پتے بھلے محسوس ہو رہے تھے۔

Read more

وسطی عمر کا ہیجان

جنوبی انگلستان میں موسم گرما قلیل مدت کا مہمان ہوتا ہے اس لئے انتہائی چاؤ سے اس کا خیرمقدم کیا جاتا اور میلے کی طرح منایا جاتا ہے۔ چمکدار دھوپ کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے بار بی کیوز کا اہتمام کیا جاتا ہے اور یار دوست تفریح مناتے ہیں۔ ایسی ہی ایک پر تکلف پارٹی ڈاکٹر بلال کے ہاں سجی تھی، ہم دم سادھے ان کی زبانی ان کے نئے شوق ان کے بیش قیمت تنور کی کہانی سن رہے تھے۔ مبلغ پانچ سو پاؤنڈ کا یہ محض تنور ہزاروں میل کا سفر طے کر کے ہندوستان سے یہاں منگوایا گیا تھا۔

ڈاکٹر بلال کے سامنے علاقے کے بڑے بڑے لوگ بھی منہ کھولنے سے گھبراتے تھے، کیونکہ وہ دانتوں کے جانے مانے سرجن تھے، تو پھر ہماری کیا مجال جو چوں کرتے، بس دل ہی دل میں یہ سوچ رہے تھے کہ بھلا اس فضول خرچی کی کیا ضرورت تھی۔ گفتگو کا رخ تنور سے ہٹا تو ہمارے ماہر معدہ و جگر ڈاکٹر اویس کی طرف ہو گیا جنہوں نے حال ہی میں تین ہزار پاؤنڈ کی خطیر رقم خرچ کر کے ترکی سے سر کے مصنوعی بال لگوائے تھے اور اپنے تئیں اپنی عمر کی گاڑی کو ریورس گیئر لگا کر پھر تیس سال کے جوان نظر آنے لگے تھے۔

Read more

سگنل

کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ چوراہے پہ ملنے والا شخص، ٹرین میں نظر آنے والا چہرہ، بازار میں ٹھٹکتی ہوئی عورت یا بس کی کھلی کھڑکی میں سے نظر آنے والی مانوس آنکھیں آپ کے حافظے میں معمولی سے معمولی تفصیلات کے ساتھ نقش ہو جاتے ہیں، جیسے کیمرے سے لی گئی تصویر کے ساتھ، وہ لمحہ بھی ہمیشہ کے لئے قید ہو جاتا ہے۔

میری گاڑی سگنل پہ رکی، میں نے گھڑی پہ وقت دیکھا اور دائیں بائیں جھانکنے لگا۔ ساتھ والی گاڑی میں ایک شخص دکھائی دیا جو کچھ گنگنا رہا تھا۔ مجھے لگا شاید اس کو کہیں دیکھا ہے اور سوچ میں پڑ گیا، مگر کچھ یاد نہ آیا۔ مسکراہٹ کا تبادلہ ہوا اور سگنل کھل گیا۔ میں نے گاڑی آگے بڑھا دی۔ کانفرنس میں پہنچا، تو ابھی کارروائی شروع ہونے میں ایک گھنٹہ باقی تھا۔ یہ ایک میڈیکل کانفرنس تھی، جو سینٹ مارکس اسپتال لندن کے آڈیٹوریم میں منعقد کی جا رہی تھی۔ میں آئی ٹی سے وابستہ ایک فرم کی جانب سے ٹیکنیکل سپورٹ سسٹم فراہم کر رہا تھا۔ میں نے اپنا کمپیوٹر سسٹم سیٹ کیا اور کام میں مشغول ہو گیا۔

Read more

یادیں برائے فروخت

’ہمارے ویزے آ گئے ہیں‘ احمر نے سرگوشی کے انداز میں مریم کو بتایا۔ مریم جو آج تک یہ ہی سمجھے بیٹھی تھی کہ احمر ایک ناممکن خواب کے پیچھے بھاگ رہا ہے جس کی ناموافق تعبیر کا احساس ہی اسے پریشان کر دیتا، مگراب وہ خواب حقیقت بنے اس کے سامنے کھڑا دکھائی دے رہا تھا۔ پچھلے کئی ہفتوں میں اس نے احمر کے شوق کو دیکھتے ہوئے بے دلی سے اس کی کامیابی دعائیں تو مانگی تھیں مگر

Read more

گناہ گار عورتیں

میں صحن سے گزر رہی تھی تو میرے پھپھی زاد بھائی نے میری کلائی پکڑ کر اپنی گود میں بٹھا لیا اور گدگدی کرنے لگے، مجھے بہت ہنسی آئی، اگلے دن وہ مجھے چپس دلانے کے لئے محلے کی دکان پر لے گئے اور واپسی پہ ایک ویران احاطے میں لے گئے، مجھے کچھ سمجھ نہ آئی لیکن کچھ ایسا عجیب محسوس ہوا کہ درد کی شدت سے میرے اندر جیسے تیزدھار آلے سے اعضاء کٹ رہے ہوں، چیخ کر

Read more

تخلیق کے معجزے

صبح سے بے چینی طاری تھی، آج تہیہ کیے بیٹھا تھا کہ کچھ لکھا جائے گا مگر دل کسی ایک موضوع پر ٹھہر نہ پا رہا تھا۔ اضطراری کیفیت میں قلم اور ڈائری ہاتھ میں لی اور اس کشمکش کو ہی کاغذ پر منتقل کرنے لگا۔ یہ اندیشہ ہونے لگا کہ شاید ذہن بنجر ہو گیا ہے اور یہ سوکھی زمین تخلیق کی کھیتی کے قابل نہ رہی تھی یہ کیفیت انسان کو ذہنی پژمردگی کا شکار بنا سکتی ہے۔

میں نے معقولیت پر مبنی سوچ کے استعمال کی شعوری کوشش کی اور بزرگ تخلیق کاروں کے بارے سوچا کہ ایک لکھاری، شاعر، مصور یا سنگ تراش کچھ لکھنے یا بنانے سے پہلے کن مراحل سے گزرتا ہو گا۔ کسی بھی فن پارے کی تخلیق سے پہلے کہ جب ابھی اس کا خیال ان کے ذہن میں وارد نہیں ہوا ہو گا، اور وہ اس کشمکش میں ہوں گے کہ ایسا کیا تخلیق کیا جائے یا لکھا جائے جو دلوں کو گرما دے، ان کی ذہنی کیفیات بھی خلجان کی سی ہوں گی۔ ہو سکتا ہے کہ اس تردد میں انہیں بھی یاسیت آن گھیرتی ہو۔

Read more

خواہشات کی بھینٹ چڑھا ایک افسر

فرخ چند دنوں سے شدید دباؤ کا شکار تھا، محرم کے دن تھے اور ہر سال کی طرح ضلع بھر میں انتظامی معاملات کے سب جھنجھٹ اس کے ذمہ تھے۔ وہ ایک نوجوان اسسٹنٹ کمشنر تھا جسے ضلع نارووال میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالے کچھ ہی عرصہ ہوا تھا۔ آج کل کے ہنگامہ خیز حالات سے ضلعی مشینری حتیٰ المقدور نبرد آزما ہو رہی تھی، سارے دن کی تھکا دینے والی مصروفیت اور دیر تک چلنے والی میٹنگز سے فراغت کے بعد دیر سے گھر آنا ان دنوں کا معمول تھا۔

اس کی بیوی سلمیٰ اس کی اس روٹین کی رفتہ رفتہ عادی ہو رہی تھی، بچے سارا دن باپ کا انتظار کرتے اور اس کے آتے ہی اس سے چپک جاتے اور سارے دن کے حالات، ایک دوسرے کی شکایتیں اور فرمائشیں اور نجانے کیا کچھ نہ ہوتا ان کے پاس سنانے کو ۔ جب کہ اسے شکم کی بھوک مٹانے اور پھر سونے جلدی ہوتی کیونکہ ایک لمبے دن کی تکان کے بعد اگلا دن پھر مصروفیات کی لمبی فہرست لئے ہوئے ہوتا۔ صبح بھاگم بھاگ ناشتہ اور بچوں کو سکول پہنچا کر دفتر جاتا اور پھر کولہو کے بیل کی طرح زندگی کا ایک اور چکر شروع ہو جاتا، اس کی زندگی مشینی سی ہو کر رہ گئی تھی۔

Read more

پترمینوں نوٹ وکھا میرا موڈ بنے

اگرچہ خبر کچھ پرانی ہو گئی ہے مگر ہر نئے سننے والے کوتکلیف ضرور پہنچاتی ہو گی۔ آج ایک دوست نے فیس بک پیغام شیئر کیا جو کہ ایک اردو اخبار کے تراشے کاعکس تھا، خبر پڑھ کر دل کو یقین نہ آیا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے؟ ویسے ہونے کو توہمارے دیس میں ہر انہونی ہو کر رہی بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اس ملک کا وجود میں آنا ہی ایک انہونی تھی مگر ہو

Read more

گاڈ سیو دا کوین (God Save the Queen)

یہ 14 اگست 2020 کی گرم مرطوب شام تھی، ہوائی جہاز نے نیو اسلام آباد ائرپورٹ سے اڑان بھری تو طاہر نے اپنی سیٹ کی حفاظتی بیلٹ کھول دی، فضائی میزبان کی مترنم آواز گونجی جس نے ضروری سفری معلومات اور تفریح طبع کے مواد کے بارے میں بتایا۔ اس نے کھڑکی سے باہر اپنے دیس کے مدھم ہوتے مناظر پر حسرت بھری آخری نگاہ ڈالی اور پھر آنکھیں بند کر لیں۔ اس کا دماغ سولہ سال پیچھے گھوم گیا

Read more

جنت میں ناسٹیلجیا

احمر آج معمول سے زیادہ اداس تھا ایک مستقل متذبذب کیفیت اسے بے چین کیے رکھتی۔ کل شام چائے کی میز پر جب وہ ماضی کی یادوں میں کھویا ہوا تھا تو اس کی بیوی کی چہکتی آواز نے اسے چونکا دیا۔ بھئی اگر دنیا میں کہیں جنت ہے تو وہ صرف امریکہ ہے، مریم کی آنکھوں کی چمک اور پر سکون چہرہ دیکھ کر اسے لمحہ بھر کو طمانیت کا احساس ہوا اور اس نے اپنے رجائیانہ خیالات کو

Read more

تاریخ کا بہاؤ اور مجسمے ماضی کے

برطانیہ میں آج کل عہد رفتہ کے زعما کے بنائے گئے مجسمے گرانے کی تحریک زوروں پر ہے، جس میں کچھ شدت پسندی کی جھلک بھی نظر آ تی ہے۔ سترہویں صدی کی کامیاب کاروباری شخصیت ایڈورڈ کولوسٹن، جو کہ غلاموں کی تجارت کے حوالے سے مشہور تھے، کا مجسمہ برسٹل کے علاقے میں گرا دیا گیا۔ اس تحریک کے محرک ’بلیک لائیوز میٹر‘ کے مظاہرین تھے جن کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ ایسے تمام مجسمے سیاہ فام اور چند دوسری نسلوں کے خلاف استحصالی قوتوں کی علامت ہیں۔ اٹھارہویں صدی کے ایک اور سیاہ فام غلاموں کے تاجر رابرٹ میلیگن کا مجسمہ مشرقی لندن کے علاقے کی مقامی کونسل نے مظاہروں کے ڈر سے ہٹا دیا ہے۔

Read more