سوشل میڈیا کا سرکس اور سچی جھوٹی تصویریں (۲)۔


\"\"

(پہلا حصہ)

یہ تمام منظرنامہ اور اس موضوع پر ہونے والی بحثیں نفسیاتی اور مابعدالطبیعاتی اعتبارات سے بہت دلچسپی کی حامل ہیں۔ یہ دونوں جہتیں نہ صرف باہم گنجلک ہیں بلکہ شعوری اور غیرشعوری درجات پر کسی نہ کسی طرح سماج میں منتقل ہوتی ہیں۔ یہاں مابعدالطبیعاتی جہت حقیقت کی تشکیل سے تعلق رکھتی ہے۔ اس موضوع پر تفصیلی عبارت آرائی ممکن ہے کہ قدیم ادوار میں بھی علم کے وسائل پر قابو، بھرتی کی تاریخ نویسی اور سامراجی افعال کو عقلیت پسند بنیادیں فراہم کرنے کے لئے مختلف سلاطین و حکمران کسی نہ کسی طرح حقیقت کی تشکیل کرتے آئے ہیں لیکن ہمارے زمانے میں حقیقت کی تشکیل کےصرف یہ سادہ سے معنی نہیں۔ یہ ایک کہیں زیادہ پیچیدہ جہت ہے جہاں ہر فرد نہ صرف ایک شہری صحافی کے طور پر حقیقت کی تشکیل میں شامل ہے بلکہ واقعاتی اعتبار سے بھی سامنے موجود مظاہر اس حد تک ’’حقیقی‘‘ ہیں کہ ان کو مشاہداتی اعتبار سے اپنی حتمی ترین درجے میں ردوقبول کے عمل سے گزارنا بے انتہا وسائل کے بغیر ممکن نہیں۔ ہر فرد متن و تصویرکے ذریعے سماج کی جانب ذات کا ایک پھیلاؤ رکھتا ہے، خبر سے متعلق ہے، اپنی موضوعی ترجیحات کی بنیادوں پر خبر کو آگے پہنچانا اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے اور یوں حقیقت کی تشکیل میں ایک ننھے سے جوہر کے طور پر مستقل شامل رہتا ہے۔ لہٰذا حقیقت کی تشکیل سے کہیں زیادہ دلچسپ بات یہاں یہ ہے کہ مختلف ترجیحات کی بنیاد پر سچائی کی پیش قیاسی کسی نہ کسی طرح سچائی کی تشکیل پر اثرانداز ہو رہی ہے۔ یقین اور تشکیک باہم خلط ملط ہے اور ایک ہی شخص جو حقیقت کے کسی ایک مظہر پر غیرمتزلزل ایمان رکھتا ہے، فوراً کسی دوسرے مظہر کو جھٹلانے پر کمربستہ نظر آتا ہے حالانکہ وہ مشاہداتی اعتبار سے دونوں مظاہر سے یکساں فاصلے پر ہے۔

سوشل میڈیا کے ڈزنی لینڈ میں بھٹکنے والےہم سارے حقیقت تراش ناظر پوری نیک نیتی سے یہی سمجھتے ہیں کہ ایک مظہر ’واقعاتی‘ ہے جب کہ دوسرا ’قیاسی‘ یا ’افسانوی‘ اور اس کے یقین کی ماہیت کم و بیش ویسی ہی ہوتی ہے جیسی اس پانچ سالہ بچے کی جو افسانے اور حقیقت میں فرق کرنے سے قاصر ہوتا ہے۔ یقیناً یہ ایک عمومی منظرنامہ ہے اور اس کے ہرگز یہ معنی نہیں کہ تحقیق اور تگ و دو کے ذریعے حقیقت تک رسائی یکسر ناممکن ہے۔ میں نے جمع متکلم کا صیغہ اسی لئے استعمال کیا کہ لمحۂ موجود میں تجزئیے اور تنقید کا یہ عمل بھی سچائی کی تشکیل یکسرسے خالی نہیں۔ لہٰذا ایک عمومی تناظر میں اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حقیقت اور لاحقیقت کے مابین کوئی سرحد ہے بھی یا نہیں؟ یعنی کوئی ایسی سرحد جس کی بابت آخری اور حتمی درجے میں ماننے سے زیادہ جاننے کا دعوی کیا جا سکے۔ سوشل میڈیا کی سماجی و سیاسی جہت کی حد تک یہ وہی عجیب و غریب شعوری کیفیت ہے جسے مابعد الجدید فلسفے میں حقیقت سے زائد یا مابعدالحقیقت وغیرہ جیسی اصطلاحوں میں قید کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

میں کچھ پیش قیاسی ذہنی عوامل کے مال مسالے سے لبریز متن اور تصویر کے ایک مرکب کو دیکھتا ہوں، میرے اندر خوشی، غمی، انکار، اقرار، غصہ، اضطراب اور ہیجان جیسی مختلف کیفیات پیدا ہوتی ہیں، ذات کا دائرہ پھیلتا ہے، میں خود کو اظہار پر مائل پاتا ہوں، واقعاتی بڑھوتری ہوتی ہے، حقیقت پر ایک اور تہہ کا اضافہ ہوتا ہے اور یوں یہ سفر مسلسل چلتا رہتا ہے۔ یہ سفر تقریباً غیرعمداً دو تین مختلف راہوں پر ایک ساتھ یا موضوعی مناسبت سے کسی ایک راہ پر جاری رہتا ہے۔ ہم یوں تصور کر سکتے ہیں کہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر موجود معلومات، تصورات اور اشیاء کا کوئی بھی صارف ایک نیم خوابی کی سی حالت میں خود کو اس سفر میں پاتا ہے۔ ایک مخصوص نظریہ بندی (ژان بودریار دیکھئے) کے نزدیک یہ ایک ایسی سماجی صورت حال ہے جس میں حقیقت کا تصور سرے سے معدوم ہے اور چونکہ ایک بھی ناظر ایسا نہیں جو اس تمثیلی حقیقت کے خارج میں کھڑے ہو کر مشاہدے کا دعوی کر سکے لہٰذا یہ اب جو کچھ بھی ہے یہی حقیقت ہے۔ دوسرے ذرا کم متشدد نظریہ سازوں (بورخیس اور امبرٹو ایکو) کے نزدیک یہ ایک ’’اصل نقل ‘‘ (authentic۔ fake)کی سی صورت حال ہے۔ یہاں ایک مسلسل بیش عملی (hyperpraxis) رونما ہورہی ہے جہاں ناظر سامنے موجود کسی بھی منظر کو نظریاتی، سماجی، مذہبی، روحانی، جذباتی اور ذہنی میلانات کی بنیاد پر ایک فطری ہنرمندی سے برتتا اور اپنی ذات کا حصہ بنا لیتا ہے۔ یعنی ناظر خود بھی منظر میں مدغم ہو جاتا ہے اور یوں حقیقت کو زائد معنی فراہم کرتے ہوئے اس لامتناہی تشکیل کا حصہ بن جاتا ہے۔

ٹیکنالوجی کی مابعدالطبیعات پر ہائیڈیگر کے بعد سے اتنا کچھ لکھا جا چکا ہے کہ زیرِ بحث مسئلے سے متعلقہ ہونے کے باوجود سرسری حد تک بھی چھیڑنا ممکن نہیں لیکن خالص سائنسی بنیادوں یعنی سائنسی تناظر سے قبل پیش قیاسکیے جانے والے فلسفۂ شعور کے بالکل حالیہ مفروضوں کا سرسری سا ذکر کرنا دلچسپی سے خالی نہیں ہو گا۔ فلسفۂ ذہن اور نفسیات کے سائنسی مطالعے مشترکہ طور پر ایک ایسے ذہنی عمل کو انگریزی اصطلاح cognition کے نام سے جانتے آئے ہیں جو غوروفکر، احساس اور تجربے سے ملے جلے طور پر معروف معنوں میں ’’علم‘‘ یا ’’آگاہی‘‘ حاصل کرتا ہے۔ سائنسی تناظر چونکہ تجربات اور مشاہدے تک محدود ہوتا ہے لہٰذا وہاں تو یہ مفروضہ معقول مانا جاتا ہے کہ آگاہی سے جڑے یہ تمام ذہنی عوامل انسانی جسم اور پھر انسانی جسم میں کھوپڑی کی حدود کے اندر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ یعنی مختصراً ہمارا ذہن ہماری کھوپڑی کے اندر ہے۔ یوں فلسفیانہ تناظر میں سائنسی افادیت پسندی اور تجربیت پسندی کے نکتۂ نظر سے ذہن کی انسانی جسم کے ایک مخصوص جزو تک مکانی تحدید کی جاتی ہے۔ لیکن 1998 میں شائع ہونے والے ایک اہم ترین فلسفیانہ مقالے نے فلسفے اور اب سائنس میں بھی ایک مکمل نئے علمی میدان کو جنم دیا ہے جو اب نظریۂ ذہن درازی (Extended Mind Theory) کی اصطلاح سے معروف ہے۔

مصنفین ایک ایسے نظری تجربے سے آغاز کرتے ہیں جہاں ایک انسانی عاملہ (human agent) کو تین مختلف حالتوں میں فرض کیا گیا ہے۔ پہلی صورت میں وہ کمپیوٹر اسکرین کے سامنے موجود ہے۔ اس کے سامنے کچھ دوبعدی ہندسی اشکال (two dimensional geometrical shapes)موجود ہیں جنہیں مختلف شکلوں کے کچھ خانوں (sockets) میں بٹھانے کا مسئلہ درپیش ہے۔ ظاہر ہے کہ ہر شکل اور متناسب خانے کا جائزہ لے کر شکل کو گھمانا پڑے گا تاکہ وہ مطلوبہ خانے میں بیٹھ سکے۔ واضح رہے کہ پہلی صورت میں عاملہ کو صرف ذہن کے ذریعے ہی شکلوں کو گھمانے کی اجازت ہے۔ دوسری صورت بھی بعینہٖ یہی ہے لیکن اب وہ ذہن کے ساتھ ساتھ ہاتھوں کی مدد بھی لے سکتا ہے۔ یہ فرض کیا جا سکتا ہے کہ اس عمل کی رفتار میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔ تیسری صورت میں اس کے ذہن میں ایک ایسا برقی کنٹرول نصب ہے جہاں وہ پچھلی (یعنی دوسری) صورت میں ایک کلاسیکی ذہنی عمل اور اس مشینی ذہنی عمل میں ترجیح و انتخاب پر قادر ہے۔ آخر الذکر اسے وہی رفتار مہیاکرتا ہے جو وہ ہاتھوں سے حاصل کرتا ہے۔ اس مثال پر مختلف جہتوں سے تجزیے کے ذریعے مصنفین یہ سوال اٹھانا چاہتے ہیں کہ جسے ہم ’’ذہنی عمل‘‘ کہتے ہیں اس کی ماہیت و حدود کیا ہیں؟ کون سے ذہنی عمل کو ’’حقیقی‘‘ کہا جائے گا اور کون سے ذہنی عمل کو ’’مصنوعی‘‘ کہنا باجواز ہو گا؟ ذہنی فعلیت کے تناظر میں’’داخل‘‘ اور ’’خارج‘‘ کے مابین سرحد کہاں واقع ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔ مصنفین کا ایک اہم نتیجہ یہ ہے کہ ذہنی فعلیت اور انسانی وجود کے خارج میں حقیقت کی تشکیل ایک مربوط نظام کی طرح ہے جس میں سرحدیں کافی مبہم ہیں، ہاں ان کو افادیت پسند تناظر میں قائم کرنا ایک بالکل دوسری بات ہے۔ انسانی عاملہ کے اعتقادات (beliefs) خارج میں حقیقت کی واقعاتی تشکیل میں ایک اہم مدخلہ (input) ہوتے ہیں اور گو ذہنی فعلیت کے بہت سے متغیرات انسانی کھوپڑی کے اندر ہی ہوتے ہیں لیکن انسانی ’’ذہن‘‘ لسانی تناظر میں اسی وقت ایک بامعنی اصطلاح ہے جب کھوپڑی سے باہر اس کی وسعت کو تسلیم کیا جائے۔

اس مکمل تناظر میں یہ سوال دلچسپ معلوم ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا کے مجازی چیمبر میں موجود ایک انسانی شعور کیا حقیقت میں ضم ہو تا ہے یا خارج سے معروضی کلام ممکن ہے؟ کیا ٹیکنالوجی انسانی شعور کا نامیاتی جزو بننے کے بعد اب حقیقت اورلاحقیقت سرحدوں کو مکمل طور پر دھندلا چکی ہے؟ بے اختیار افلاطون کے مکالمے ’’فیدروس‘‘کی یاد آتی ہے جس میں سقراط فیدروس کو کہتا ہے کہ تم متن کے ذریعے اپنے شاگردوں کو حقیقت نہیں بلکہ حقیقت کی ایک تمثیل دے رہے ہو۔ و ہ بہت کچھ پڑھیں سنیں گے، لیکن کچھ جان نہ پائیں گے۔ وہ یوں تو ہمہ دان معلوم ہوں گے لیکن عمومی طور پر کچھ نہ جانتے ہوں گے۔ ان کی رفاقت تھکا دینے والی ہو گی کیوں کہ دانش کے تمام مظاہرے حقیقت کےبغیر ہوں گے۔ لکھی ہوئی لفظی علامات ان کی یاداشت مٹا چکی ہوں گی۔


سوشل میڈیا کا سرکس اور سچی جھوٹی تصویریں (۱)۔

Facebook Comments HS

عاصم بخشی

عاصم بخشی انجینئرنگ کی تعلیم و تدریس کے پیشے سے وابستہ ہیں۔ ادبی تراجم اور کتب بینی ان کے سنجیدہ مشاغل ہیں۔

aasembakhshi has 80 posts and counting.See all posts by aasembakhshi