ہندوستان میں لاکھوں کسان گزشتہ 35 روز سے سراپا احتجاج

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہندوستان میں کسانوں کی عظیم الشان تحریک، جس کا آغاز 9 اگست کو مودی سرکار کی جانب سے تین متنازعہ قوانین پاس کرنے سے ہوا تھا، 26 نومبر کو ایک حیرت انگیز تحریک کی شکل اختیار کر گئی۔ لاکھوں کسان گزشتہ 35 روز سے دھلی، بمبئی اور دیگر شہروں میں سراپا ٔ احتجاج ہیں۔ ان میں بچے بھی ہیں، بوڑھے بھی اور بہت بڑی تعداد محت کش کسان خواتین کی بھی، جو اپنی زمینوں پر اپنی مرضی سے کاشت کرنے اور منڈی میں مناسب دام پر فروخت کرنے کے حق کے سلب ہو جانے کے خلاف اپنی کشتیاں جلا کر گھر سے نکلے ہیں۔ احتجاجی کسان متنازعہ قوانین کی منسوخی تک اپنا احتجاج ختم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

کسانوں کی یہ تحریک سب سے پہلے پنجاب میں شروع ہوئی تو کیرالہ کی کمیونسٹ سرکار نے ان کی حمایت میں مرکزی سرکار کے یہ متنزعہ قوانین اپنی حدود میں نافذ نہ کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی ہریانہ اور یو پی کے کسان نکل آئے اور پھر مہاراشٹرا، راجستھان، کرناٹکہ اور ہماچل پردیش کے کسان بھی شامل ہو گئے۔ کسانوں کا متحدہ محاذ، جسے کسان ایکتا مورچہ ”کہتے ہیں ہندوستان کے کسانوں کی 31 تنظیموں کا متحدہ پلیٹ فارم ہے جسے ہندوستان کی حزب اختلاف کی تمام سیاسی جماعتوں کی حماعت حاصل ہے اور اب تو ایک سیاسی قوت بنتا جا رہا ہے۔

اب تک کسانوں اور ان کی حمایت میں نکلنے والے مدوروں اور شہریوں کی تعداد 250 ملیں سے تجاوز کر چکی ہے، جو کہ دنیا کی تاریخ کی کمبے عرصے تک چلنے والی سب سے بڑی تحریک بن گئی ہے۔ اب تو مودی سرکار کی حامی کسان تنظیموں نے بھی اس تحریک کی حمایت کر دی ہے۔ یہ تحریک اس وقت طاقتور اور منظم ہوئی جب سرکار نے انہیں روکنے کے لیں کنٹینرز کھڑے کر دیے، واٹر کینن استعمال کیے اور تشدد پر اتر آئی۔ دوسری طرف ہندوستان کی سپریم کورٹ نے کسانوں کے احتجاج کو ان کا جمہوری حق تسلیم کرتے ہوئے تشدد بند کرنے اور رکاوٹیں ہٹانے کا حکم دے یا۔

برصغیر کے ایک ارب پچھتر کروڑ سے زائد انسان آزادی کے 73 برس گزر جانے کے بعد بھی بنیادی انسانی حقوق حقوق، بنیادی ضرورتوں، حتیٰ کہ پینے کے صاف پانی سے بھی محروم ہیں۔ ان ملکوں کی 90 فیصد سے زائد عوام اکیسویں صدی کی سائنسی ایجادات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل اور کمپیوٹر دور میں بھی بنیادی انسانی ضرورتوں سے محروم ہے۔

ہندوستان اور پاکستان دونوں ممالک کے بالادست طبقات اور اسٹیبلشمینٹ آزادی کے وقت سے ہی اقتدار پر قابض ہے اور انہوں نے عوام کے آزادی کے خواب کو چکنا چور کر دیا ہے۔ پاکستان تو آزادی کے چند برس بعد ہی اسٹیبلشمینٹ کے مکمل کنٹرول میں چلا گیا تھا، اور یہ وہی اسٹیبلشمینٹ ہے جو تقریباً اڑھائی صدیوں سے انگریز سامراج کا موثر ہتھیار تھی، اور لڑاوٴ اور رول کرو کا کامیاب تجربہ رکھتی تھی۔ اب تو ہندوستان کے حکمران طبقات بھی عوام کو تقسیم کرنے اور ان کے استحصال کو بڑھانے کے لیے ذات پات، مذہب اور لسانی تفریق کو ہو دیتے ہیں۔ ہندوستان کی اشرفیہ اور رولنگ الیٹ نے گزشتہ ایک دہائی میں مذہبی کارڈ کو اس قدر بے دردی سے استعمال کیا ہے کہ وہاں کی جمہوری اور سیکولر تاریح اور اقدار ملیا میٹ ہو گئی ہیں۔ اس عمل نے نہ صرف ہندوستان کی جمہوری فورسز کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ ترقی پسند تحریک کی بنیادوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔

گزشتہ چند برسوں میں ہندوستان اور پاکستان میں ترقی پسند قوتوں کو یکجا کرنے اور ایک نئی تحریک پیدا کرنے کی بڑی حوصلہ افزا کوششیں ہوئی ہیں۔ ترقی پسند قوتوں نے اتحاد اور مرجرز کے ذریعے اپنے وسائیلز اور قوت کو یکجا کرنے اور اپنی سٹریٹ پاور کو دوبارہ بحال کرنے کی حوصلہ افزہ کوششیں کی ہیں اور اسں کے اثرات بھی ہمیں واضح نظر آ رہے ہیں۔ گزشتہ ماہ گلگت بلتستان میں عوامی ورکرز پارٹی کے مرکزی راہنما بابا جان سمیت 14 سیاسی اسیران کی ریائی کے لیے 7 روزہ عظیم الشان دھرنے نے ہماری جابر اور بے ہنگم اسٹیبلشمینٹ کو مجبور کر دیا کہ جن اسیران کو انہوں نے دہشت گردی اور غداری کے جھوٹے مقدمات کے تحت 40 سے 90 برس تک سزائیں دلوائی تھیں، انہیں کسی عدالت میں پیش کیے بغیر دھرنا مذاکر ات اور معاہدہ کے تحت رہا کرنے پڑا۔

ادھر ہندوستان میں گزشتہ چند برسوں میں ترقی پسند سیاست اور پسے ہوئے طبقات کے حقوق کی جدوجہد میں زبردست ابھار آیا۔ گزشتہ تین چار برسوں میں مزدوروں اور کسانوں کی اتنی بڑی بڑی ریلیاں ہوئیں جو تارئخ میں پہلے کبھی دیکھنے کو نہ ملی تھیں۔ حالیہ کسانوں کی تحریک کے تحت بمبئی اور دھلی میں لاکھوں کی تعداد میں کسانوں کے احتجاج کو آج یہ مضمون لکھتے وقت 35 روز ہو چکے ہیں۔ اب تو کسانوں نے مطالبات منظور نہ ہونے پر بمبئی اور دھلی کے تمام ٹول پلازوں کا کنٹرول سمبھالنے اور ملک کے دوسرے شہروں میں بھی ایسے ہی دھرنے دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ آئیے ذرہ کسانوں کے مطالبات پر نظر ڈالیں :

1۔ کسانوں کے لیے تمام سرکاری سبسڈیز اور اور کم سے کم سپورٹ پرائس یا ایم ایس پی، جو حکومت کسانوں کو اناج کی فصلوں، چاول، گندم وغیرہ کی بہتر کاشت کی ضمانت دیتا تھا، کو ختم کر دیا ہے۔ حکومت انفراسٹرکچر چلاتی تھی یعنی خریداری کے گوداموں کا انتظام کرتی تھی، جہاں کوئی کسان اپنی فصل اٹھا کر حکومت کو بیچ سکتا تھا۔ لیکن نئے قانون کے تحت مروجہ طریقہ خرید کی جگہ حکومت نجی کارپوریشنوں اور نجی کمپنیوں کو سرکار کی جگہ لے آئی ہے، جہاں کارپوریٹ اور نجی شعبے کے ساتھ کسانوں کو کنٹریکٹ کاشتکاری کرنا پڑے گی۔ کمپنی جو کچھ چاہے گی وہ معاہدے میں شامل کر لے گی اور خود ہی قیمت بھی اپنی مرضی سے مقرر کرے گی۔ ہندوستان میں پہلے ہی غریب کسانوں کا بڑی بے دردی سے استحصال ہو رہا ہے جو اور بھی زیادہ بڑھ جائے گا اور کسانوں کا کوئی پرسان حال نہ ہو گا۔

2۔ اگر کوئی کسان کا فصل کی فروخت کے سلسلے میں نجی کمپنی سے تنازعہ ہو جاتا ہے تو وہ کسان عدالتوں میں نہیں جاسکتا۔ اگر ہندوستان کے شہری کی حیثیت سے کوئی بڑی کارپوریشن ان کا استحصال کرتی ہے تو ہندوستان کی 50 سے 60 ٪ دیہی آبادی کو کوئی قانونی سہارا میسر نہیں ہو گا۔ وہ داد رسٔی کے لیے اپنے ہی ملک کی عدالتوں میں نہیں جا سکیں گے۔ اس کے بجائے کچھ مقامی سرکاری عہدے داروں کو اختیار ہو گا کہ وہ تنازعات کو رفع دفع کرنے کی کوشش کریں۔ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ بدعنوان سرکاری اہلکار کس کے حق میں ہوگا؟

3۔ کوئی بھی شخص یا ادارہ کسی بھی ضروری سامان یا کھانے کی مصنوعات کو لامحدود مقدار میں جمع یا ذخیرہ کر سکتا ہے۔ 90 سے 95 ٪ کسانوں کے پاس اپنا کولڈ اسٹوریج بنانے کا نہ کوئی ذریعہ ہے اور نہ ہی وسائل، لیکن بڑی کارپوریشنیں یہ کر سکتی ہیں اور وہ اس طرح جب چاھیں اجناس کا ذخیرہ کر کے قیمتیں بڑھا کر منافہ کئی گنا کر سکتی ہیں۔ اس طرح ہندوستانی سرکار اپنی آبادی کا سب سے بڑا اور غریب طبقہ بھیڑیوں کے حوالے کر رہا ہے۔

4۔ حتجاج کرنے والے کسان بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے جا ٹیکسوں کی بدولت ان پر بڑھتے ہوئے قرضوں اور بجلی کے بلوں کی مکمل اور غیر مشروط چھوٹ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ آل انڈیا کسان سبھا نے الزام لگایا ہے کہ اس کی بدولت جون 2017 سے لے کر اب تک قرضوں میں جھکڑے 1753 کسانوں نے اپنی خود ہی جان لے لی یعنی خود کگی کر لی۔ دنے۔

5۔ کسانوں نے کھیتوں کی پیداوار کے معوضہ کے لئے کاشت پر آنے والی لاگت کا کم سے کم 1.5 گنا کی قیمتیں مقرر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

6۔ کسانوں کے مطالبات کا جائزہ لینے کے لیے بنائے گیے سوامیاتھن کمیشن کی سفارشات ے سوامیاتھن کمیشن کی سفارشات پر فوری عملدرآمد کرنے کا کسانوں کے مطالبات کو جائز قرار دیا گیا ہے اور یہ رپورٹ کسانوں کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے۔

7۔ فروری میں غیر موسمی بارشوں، ذالہ باری اور گلابی بولیورم کے حملے کی وجہ سے فصلوں کے نقصانات کا ازالہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

8۔ ریاستی حکومت ترقیاتی منصوبوں کے نام پر زرعی زمینوں پر زبردستی قبضہ بند کرے۔ کاشتکاروں کا مطالبہ ہے کہ فارسٹ رائٹس ایکٹ کو نافذ کیا جائے، جس سے قبائلی آبادی جو کہ بہت ہی غریب اور پسماندہ ہے اس کو تحفظ فراہم ہوگا۔

ہندوستان کے مزدوروں کی 27 ٹریڈ یونینوں کے مشترکہ پلیٹ فارم نے کسانوں کی جدوجہد کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اعلان کیا ہے جس میں ہر سطح پر ان کے احتجاجی اقدامات میں عملی شرکت شامل ہے۔ اسی طرح مشترکہ کسان تحریک نے بھی صنعتی مزدوروں کی عام ہڑتال کی حمایت اور یکجہتی کی ہے۔ انتہائی اہم بات یہ ہے کہ ہنوستان میں یہ یکجہتی محض بیانات تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ یہ زمینی سطح پر عمل میں نظر آ رہی ہے۔ دونوں مشترکہ پلیٹ فارم کے ذریعہ یکجہتی اور حمایت کے مطالبے سے مزدوروں اور کسانوں کی تحریکوں میں وسیع پیمانے پر ہم آہنگی پیدہ ہوئی ہے اور انہیں عمل میں لایا گیا ہے۔ ہڑتال کی ابتدا کے روز سے ہزاروں کسانوں اور زرعی کارکنوں نے ملک بھر میں احتجاجی کارروائیوں میں حصہ لیا۔ ہزاروں مزدوروں اور کسانوں کے احتجاج سے اظہار یکجہتی کے لئے آج عوام بھی سڑکوں پر ہیں۔ بی جے پی حکومت نے مظاھرین کو قومی دارالحکومت تک پہنچنے سے روکنے کے لئے ہر اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے۔

ہندوستان کا مزدور طبقہ کسانوں کی حمایت کے لئے پوری طرح سے یکجہتی کی کارواؤں میں مصروف ہے۔ ٹریڈ یونینوں کے مشترکہ پلیٹ فارم نے اپنے کارکنوں سے یکم دسمبر سے مقامی سطح پر مظاہروں کے لئے آل انڈیا کسان جدوجہد کوآرڈینیشن کمیٹی کے مطالبے کی مکمل حمایت کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور اس پر عمل درآمد کر رہی ہے۔ مزدوروں اور کسانوں کے مابین ایک دوسرے کے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کے لئے ’مزدور مخالف، ملک مخالف، نو لیبرل پالیسیوں اور مودی کی زیرقیادت بی جے پی حکومت کی تقسیم اور رول کی سازشوں کے خلاف جدوجہد کو تیز کرنے کا متحدہ راستہ اپنایا ہے۔

انتخابات سے تقریباً ایک سال قبل کسانوں کے اس فقیدالمثال خاموش ’لانگ مارچ‘ سے حکومت زبردست دباؤ میں ہے۔ این ڈی اے کے ایک واضح حلقہ اور شیو سینا سمیت دیگر حزب اختلاف کی تمام سیاسی جماعتیں کسانوں کی بھرپور حمایت میں کھل کر سامنے آ گئیں ہیں۔ مقامی لوگوں کے ذریعہ سرخ پرچم لیے مارچ کرنے والے ’لال سمندر‘ نے لوگوں کے تصور کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ سیاسی کارکن اور عام شہری تاریخ میں پہلی مرتبہ کسانوں سے بات کرتے اور ان کے ساتھ سیلفیاں بٹاتے ہوئے بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

ذات پات، رنگ، نسل اور مذہب سے بالا تر ہندوستانی محنت کشوں، کسانوں، مزدوروں اور مظلم محکوم پسے ہوئی طبقات کی یہ تحرک خطے میں رواداری اور بھائی چارے کی نئی بنیادیں رکھے گے۔ ہم امید کر سکتے ہیں کہ اس تحریک کے خطے کی سیاسیات پر دوررس اترات مرتب ہوں گے اور یہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان امن کی جدوجہد کو تقویت بخشے گی اور دونوں ملکوں کی عوام دشمن رولنگ الیٹ جنگی جنون پیدا کر کے اور اپنے عوام کا پیٹ کاٹ کر عوامی بجٹ اسلحہ کے انبار لگانے پر خرچ کرنے سے باز آئے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پرویز فتح (لیڈز-برطانیہ)

پرویز فتح برطانیہ کے شہر لیذز میں مقیم ہیں اور برٹش ایروسپیس انڈسٹری سے وابستہ ہیں۔ وہ برطانیہ میں ساوتھ ایشین ممالک کے ترقی پسندوں کی تنظیم ساوتھ ایشین پیپلز فورم کورڈینیٹر ہیں اور برطابیہ میں اینٹی ریسزم اور سوشل جسٹس کے لئے سرگرم ہیں۔

pervez-fateh has 12 posts and counting.See all posts by pervez-fateh