تبدیلی کہاں سے شروع ہو گی؟
سال کے اختتام کا جشن منانا اچھی بات ہے کیونکہ اختتام کے بعد نئی شروعات ہوتی ہیں۔ ہر سال کے بعد ایک نیا سال آتا ہے۔ نئے سال کا موٹو ہونا چاہیے کہ خود کو بدلیں۔ جس طرح ہر سال بدلتا ہے اور ہر نیا سال پرانے سال سے مختلف ہوتا ہے ، اسی طرح انسان کو بھی ہر سال کی طرح اپنے آپ کو تبدیل کرنا چاہیے یہی حقیقی تبدیلی ہے۔ نئے سال کی ابتدا ہو چکی، اب ہم سب نے سوچنا ہے کہ دو ہزار بیس میں کیا غلط ہوا تھا یا غلط کیا گیا؟
دو ہزار بیس میں کیا اچھا ہوا اور اس اچھائی کو کیسے جاری رکھا جائے؟ خود سے سوال کریں کہ دو ہزار بیس کیسا رہا؟ اور دو ہزار اکیس کو کیسا ہونا چاہیے؟سوال کریں اپنے آپ سے کہ دو ہزار بیس میں آپ کے ساتھ کیا کچھ ہوا؟ کس نے آپ کی تعریف کی تھی اور کیوں کی تھی؟ آپ کے جس ایکشن کی تعریف کی گئی تھی کیا اس ایکشن کو جاری رکھنا چاہیے یا نہیں؟ دو ہزار بیس میں ہم میں سے ہر ایک کی بڑی ناکامی کیا تھی اور کیوں یہ ناکامی سرزد ہوئی، اس کا جواب اور گروتھ بھی دو ہزار بیس میں پوشیدہ ہے؟ دو ہزار بیس کا سب سے بڑا سبق کیا تھا؟ کیا ہم نے اس سے کچھ سیکھا یا نہیں؟
اس کا جواب بھی وہیں پر ہے؟ سوچیں دو ہزار بیس میں کسی نے آپ کی مدد کی اور اس کے بدلے آپ نے اس کا شکریہ ادا نہیں کیا تو دو ہزار اکیس کی ابتدا ہے اور بھاگ کر آپ اس کے پاس جائیں اور اس کا شکریہ ادا کریں کیونکہ آپ کے شکریہ ادا کرتے ہی آپ کی گروتھ شروع ہو جائے گی۔ سوچیں دو ہزار بیس میں آپ کے ساتھ یا اس دنیا کے ساتھ جو حادثات یا سانحات ہوئے اس کی وجہ کیا تھی؟ جس لمحے آپ کو وجہ مل جائے گی پھر آپ جذبے کے ساتھ آگے بڑھ پائیں گے۔
دو ہزار بیس کے وہ خوشی کے لمحات جن کی وجہ سے آپ نے زندگی کے حقیقی حسن سے لطف اٹھایا، کیا ان لمحات کو دوبارہ آپ اپنی زندگی میں دیکھنا چاہتے ہیں، سوچیں اگر ان لمحات کو واپس لانا ہے تو آپ کو کیا کرنا چاہیے؟ دو ہزار بیس کے بہترین فیصلوں پر نگاہ دوڑائیں، سوچیں دو ہزار بیس کے کون سے فیصلوں کی وجہ سے آپ کو شان دار انرجی اور خوبصورت طاقت نصیب ہوئی تھی؟ کیا آپ دو ہزار بیس کے اپنے کچھ فیصلوں کو دوبارہ دہرانا چاہتے ہیں؟ یاد رکھیں ایک بہترین ابتدا ایک شاندار انجام کی طرف لے کر جاتی ہے اور بری ابتدا ایک خوفناک انجام کی طرف لے کر جاتی ہے۔
یاد رکھیں زندگی گزارنے یا انجوائے کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ جہاں انسان کا فوکس اور جذبہ ہے ، انسان کو اسی طرف جانا چاہیے۔ جو پسند ہے وہی کام کرنا چاہیے۔ جہاں انسان کو خوشی ملتی ہے اسی طرف آگے بڑھنا چاہیے ، اسی کا نام تبدیلی اور اسی کا نام زندگی ہے۔ اس سال آپ نے یہ اپنا مقصد بنانا ہے کہ کون سی وہ منفی عادات یا خیالات ہیں جن کی وجہ سے آپ کو نقصان پہنچا، اب ان منفی خیالات اور نظریات سے جان چھڑانے کا وقت ہے۔
سوچیں وہ کون سے فیصلے ہیں جو آپ کو لینے چاہیے تھے اور آپ نے نہیں لیے۔ غلط فیصلے لینے سے اتنا نقصان نہیں ہوتا جتنا فیصلے نہ لینے سے ہوتا ہے۔ ہم انسان اس قدر خوف زدہ ہیں کہ فیصلے ہی نہیں لیتے، ڈرتے ہیں کہ فیصلہ غلط ہو گیا تو کیا ہوگا؟ کیا ہو گا کچھ بھی نہیں ہوگا؟ لیکن اگر ڈر کی وجہ سے فیصلے نہ لیے تو پھر بہت برا ہو گا؟ سوچیں آپ نے دو ہزار بیس میں کون سے وہ فیصلے تھے جو نہیں لیے اور اب کیسے وہ فیصلے لینے ہیں اور کیوں لینے ہیں؟
ہر انسان کی زندگی کے کچھ مقاصد ہوتے ہیں، کسی انسان کی زندگی کے مقاصد رشتوں کو نبھانا ہوتا ہے اور وہ بھی شان دار انداز میں، کسی کے مقاصد اقتصادی ہوتے ہیں کہ کیسے اس نے زیادہ سے زیادہ مال دولت کمانی ہے۔ کسی کا مقصد ہوتا ہے کہ کیسے اس نے اپنے صحت کے مسائل کو کم سے کم کرنا ہے اور کچھ لوگوں کا مقاصد روحانی ہوتے ہیں۔ اب ہر انسان نے سوچنا ہے کہ کیسے وہ اپنے مقاصد کو کامیابی سے آگے بڑھا کر شان دار زندگی کا آغاز کر سکتا ہے؟
دو ہزار اکیس کا آغاز اس بات سے کریں کہ میں نے اب کی بار دنیا کی نہیں سننی، اپنی بات سننی ہے؟ دنیا آپ کو پچھلے سال کی طرح اس سال بھی پریشان کرے گی، اس پریشانی سے بچنے کا ایک ہی حل ہے کہ وہی کرو جو آپ کا دل چاہتا ہے، اس طرف مت جاو جس طرف دنیا آپ کو دوڑانا چاہتی ہے۔ یاد رکھیں وہ انسان کبھی جیت نہیں سکتا جو شروعات کرنے سے ڈرتا ہے، جیتتے وہی ہیں جو وقت پر جو فیصلہ کرتے ہیں اور پھر اس فیصلے پر ڈٹ جاتے ہیں۔
نئے سال کی resolution کے آئیڈیاز بہت ہیں کہ کیسے نئے سال بہتر بجٹ بنانا ہے؟ کیسے بہتر روٹین کی تعمیر کرنی ہے؟ کون سی کتابیں پڑھنی ہیں؟ کس چیز یا نظریے کو دریافت کرنا ہے؟ اس سال زیادہ سے زیادہ وقت اپنے آپ کے ساتھ گزاریں؟ سوچیں آپ کیا ہیں؟ کیوں ہیں؟ کیسے اس دنیا کو خوبصورت اور دلکش بنا سکتے ہیں؟ اس سال ہر انسان کو اپنے آپ کو reinvent کرنا ہو گا۔ یہی بدلنے کا سچا اور حقیقی انداز ہے۔ اس سال یہ عزم کر لیں کہ ہر لمحہ آپ کا لمحہ، آنکھوں میں جیت کے جو خواب ہم نے چھپائے ہوئے ہیں ان تمام خوابوں کو ہم نے اب سب کے سامنے عیاں کر کے عملی شکل دینی ہے۔
یاد رکھیں کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا مکمل طور پر بدل چکی ہے۔ دو ہزار بیس سے پہلے کی جو دنیا ہے وہ اور تھی اب دو ہزار اکیس سے جو دنیا شروع ہوئی ہے وہ اور ہوگی۔ دنیا کے اصول، قوانین اور ٹیکنالوجی جو دو ہزار بیس سے پہلے تھے اب نہیں ہوں گے، اب نئے مواقع اور نئے راستے انسان کا انتظار کر رہے ہیں، اب ہم نے سوچنا ہے کہ ہم میں سے ہر ایک انسان نے کون سا راستہ اختیار کرنا ہے۔ اس سال انسان کے بزنس کرنے کے مواقع اور انداز نئے ہوں گے، ان نئے طریقوں کو سیکھنے کے لئے ہر انسان کو کچھ نہیں سوچنا پڑے گا، کچھ نیا کرنا ہوگا، کچھ نئی تکنیک کو سیکھنا پڑے گا۔
اس سال اپنے نئے مقاصد کو تعمیر کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں کاغذ پر لکھ لیں، اس سے سمجھ لیں سال دو ہزار اکیس کا آپ نے آدھا کام کر دیا۔ اس سال آپ کا دھیان صرف اور صرف کچھ نہ سیکھنے پر رہنا چاہیے۔ سوچیں کون سی learning آپ کو آگے لے جا سکتی ہے۔ پہیہ گھماتے چلیں، آگے بڑھتے چلیں، سوچ لیں آپ نے پہیے کو کبھی روکنا نہیں۔ اس لیے learning کے راستے پر چلتے جائیں اس سے ہ میں سے ہر انسان کا دل اور دماغ کھلتا چلا جائے گا اور پھر کائنات ہماری گود میں ہوگی۔
یاد رکھیں کھلا دماغ اور کھلا دل ہی کھلتا ہے۔ کنویں کے مینڈک جیسا دماغ اور دل ہوگا تو دو ہزار بیس کی طرح دو ہزار اکیس میں بھی ہم پریشان ہی رہیں گے۔ جو انسان سیکھنے کے مقصد کو زندگی بنا لیتے ہیں تو کامیابی ان کی غلام بن جاتی ہے۔ اس سال یہ عزم کر لیں کہ باقی بچ جانے والی زندگی کو آپ نے انسانیت، کائنات اور دنیا کے لئے بہترین زندگی بنانا ہے۔
دو ہزاراکیس میں پاکستان کو بہتر اور ترقی یافتہ بنانا ہے تو اس کے لیے ہماری سیاست کو بدلنا ہو گا۔ سیاستدان کو یہ عزم کرنا ہو گا کہ وہ کسی کی مداخلت کے بغیر جمہوریت کے لیے ڈٹ کر کھڑیں رہیں گے اور ہر بڑی سے بڑی طاقت کا مقابلہ کریں گے چاہے اس کے لئے کوئی بھی قربانی انہیں دینی پڑے۔ وہ سیاستدان جو ووٹ کی عزت کی جنگ کے لیے میدان میں نکلے ہیں ان کے لئے دو ہزار اکیس میں یہ عزم کرنا ہوگا کہ ہر صورت وہ اس سال ووٹ کی عزت کے لیے جدوجہد کرنی ہوگی چاہے کچھ بھی ہو جائے۔
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کو اس سال یہ عزم کرنا چاہیے کہ انہوں نے قوم سے جو وعدے کیے ہیں ہر صورت وہ ان وعدوں کو مکمل کریں گے۔ سیاستدانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر حکومت کو پانچ سال مکمل کرنے دیں گے اور کسی سازش کا حصہ نہیں بنیں گے۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو بھی اس سال عزم کر لینا چاہیے کہ وہ اب کبھی بھی سیاست اور جمہوریت میں مداخلت نہیں کریں گے۔ اسٹیبلشمنٹ اگر اس ملک کو آگے بڑھتا دیکھنا چاہیے تو انہیں اپنی حدود میں رہنے کا عزم کرنا ہو گا۔
فوج کا کام سرحدوں کی حفاظت ہے، فوج کا کام یہ نہیں کہ وہ ریاستی معاملات مین مداخلت کرتے رہیں۔ اس سال اسٹیبلشمنٹ اپنا یہ مقصد بنا لے کہ انہوں نے غداری اور محب وطنی کے سرٹیفیکیٹ نہیں بانٹنے بلکہ اپنی حدود میں رہنا ہے۔ فوج کی ذمہ داری ہے کہ وہ عمران خان، مریم نواز، مولانا فضل الرحمان، محمود اچکزئی، علی وزیر سمیت سب کو ایک نگاہ سے دیکھیں اور سیاستدانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مقاصد کے لیے فوج کو ملوث نہ کریں اور نہ ہی اداروں کو نشانہ بنائیں۔
اس سال کا پاکستان گزشتہ سال کے پاکستان سے مختلف ہونا چاہیے اور یہی ایک حقیقی تبدیلی ہے۔


