انسان کے اندر چھپی بھیڑ اور بھیڑیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج چند لمحوں کی فراغت نصیب ہوئی۔ چائے کا ایک کپ لے کر اپنے ان بلاگز کا جائزہ لیا جو ”ہم سب“ پر شائع ہو چکے ہیں۔ فہرست نکالی اور تفصیل سے پڑھنے پر نتیجہ اخذ کیا کہ معاشرے میں موجود برائیوں کے اسباب اور سدباب پر اظہار خیال کیا گیا ہے۔ جبکہ معاشرہ تو اچھائیوں اور برائیوں دونوں کا مرکب ہے۔ اگر اچھائی نہ ہوتی تو معاشرہ ہی ختم ہو جاتا۔ کچھ تو ہے جو نا صرف ہمارے جینے کا سبب ہے بلکہ معاشرے کے تن مردہ میں بھی روح پھونکتا ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو برائی کو ختم تو نہیں کر پاتے لیکن اسے کم کرنے کا باعث ضرور بنتے ہیں۔

ارد گرد نظر دوڑائیے، دودھ میں ملاوٹ، ناپ تول میں کمی، منافقت کا بازار گرم غرض ہر شے میں بے ایمانی ہی نظر آئے گی۔ لیکن چلیں آج اپنی بصیرت کو وسعت بخشتے ہیں۔ فرض کریں کہیں جا رہے ہیں۔ عین سڑک پر گاڑی خراب ہو جاتی ہے۔ ہم گاڑی سے اترتے ہیں دھکا لگانے کو اور آس پاس سے پانچ چھ لوگ اپنے کام چھوڑ کر مدد کو آ جاتے ہیں۔ کیا انھوں نے یہ کام کسی معاوضے کی لالچ میں کیا؟ نہیں ، ہم تو انھیں شکریہ کہہ کر اپنی منزل سدھار جائیں گے اور وہ اپنی منزل۔ اب معاوضہ جس ذات سے ملنا ہے اس کے پاس تو انہوں نے اپنا نام لکھوا لیا  ہے۔

ذاتی تجربہ بیان کروں تو آج بھی بے غرض لوگوں کی کمی نہیں ہے ، کسی کے نامساعد حالات دیکھ لینے کے بعد ان سے واجبات کی ادائیگی کا مطالبہ نہیں کرتے اور محض یہ نہیں بلکہ جتاتے بھی نہیں ہیں کہ کوئی ایسی نیکی کر رہے ہیں، ایک طرف جہاں ڈاکٹرز زیادہ سے زیادہ کمائی کے لیے مریضوں کو لوٹنے میں لگے ہوئے ہیں وہیں کچھ طبیب انسانیت کے ناتے ضرورت مند افراد کو سہولیات فراہم کرتے نظر آئیں گے۔ یقیناً ایسے لوگوں کو بدلہ صرف وہ ذات دے سکتی ہے جو دینے پر قادر ہے۔

ہمارے معاشرے کی ایک بات قابل غور ہے کہ عورت اپنے ساتھ ہوئی چھوٹی سے چھوٹی زیادتی کا پرچار کرتی ہے ، یقیناً یہ ان کا حق ہے کیونکہ ظلم کے خلاف آواز نہ اٹھائی جائے تو وہ بڑھ جاتا ہے بالکل ویسے ہی اچھائی کی تعریف نہ کی جائے تو میرے مطابق وہ ختم ہو جاتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں آج بھی وہ عظیم لوگ موجود ہیں جو خواتین کو عزت دیتے ہیں ، چند دفترں میں ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جن کے باعث خواتین کو ایذا کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، ذاتی تجربے کے مطابق وہ افسران بھی ہیں جو عزت و احترام کے ساتھ نگاہیں اٹھائے بغیر بات کرتے ہیں ، جن کی موجودگی میں خواتین محفوظ محسوس کرتی ہیں۔

بات یہیں ختم نہیں ہوتی ایسی ہزاروں مثالیں ہم روزانہ دیکھتے ہیں لیکن ان کو بیان نہیں کرتے ، صرف برائی کا ہی اعلان کرتے ہیں۔ ہم یہ سنتے آئے ہیں اور درست بھی ہے کہ انسان میں اچھائی اور برائی دونوں موجود ہیں۔ اس کی روح میں بھیڑ (امن پسند جانور) بھی ہے اور بھیڑیا (ظالم) بھی ، اب یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ بھیڑ بنے یا بھیڑیا۔

یہ بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ لوگ جو بے غرض ہو کر نیکیاں کرتے ہیں، اپنے ارد گرد موجود افراد کے رہنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں ، ان کا اجر تو انہیں وہ ذات دے گی جو ہر نیکی کا اجر کئی گنا بڑھا کر دیتی ہے۔ لیکن ان کا ذکر کر کے ہم اپنے اندر ان اچھائیوں کو ابھار سکتے ہیں۔ ان کے اچھے کاموں کی منادی ہمیں اچھائیوں پر اُکسا سکتی ہے ، ہم بھی نیکی کے کاموں کی طرف راغب ہو سکتے ہیں ، اپنی روح کے بھیڑیے کو سُلا کر بھیڑ کو جگا سکتے ہیں اور معاشرہ سدھار سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •