سالِ نو مبارک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


گزشتہ سال بہت سے پیارے، عزیز و اقارب، دوست، رشتہ دار ہم سے ناگہانی طور پر جدا ہو گئے۔ آپ کے جاننے والے نہیں، مگر ان کے جاننے والے اس دنیا سے چل بسے۔ ہم زندہ ہیں۔ ہم بچ گئے۔ ہم  نے مل کر سال نو میں قدم رکھا اور اپنی اپنی حریت کی جنگ میں پھر سے محو ہونے والے ہیں۔

اپنے آس پاس لوگوں کا شکر گزار ہوں کہ وہ آپ کے ساتھ زندہ ہیں۔ اکیلا ہونا ایک ہیبت ناک کیفیت ہیں۔ ان کا شکریہ کریں جو آپ کے ساتھ رہے اور اس لمحہ بھی آپ کے ساتھ رہیں گے۔ سائنس مریخ، چاند اور دوسرے سیاروں پر تفتیش کرتے بلیک ہول تک پہنچ چکی ہے۔ سائنس نے پانی یا اکسیجن جیسے عناصر شاید ڈھونڈ لیے ہوں مگر اب تک ان کو انسان یا کوئی زندگی ہمارے سیارے کے علاوہ کہیں اور نہیں ملی اور شاید ممکن ہے کہ کبھی نا ملے۔ ہمارا وجود بس اسی سیارے پر ہے۔

روز اول سے اب تک صرف انسان نے ہی انسان نے مدد کی ہے۔ خدائے قادرمطلق نے ممکن ہے یہ کائنات بنائی ہو۔ اس کو سنوارا ہو۔ اس سیارے کی حفاطت ہماری ذمہ داری ہے۔ ہم  نے ہی ترقی کی۔ انسانی فلاح  کے لئے دن بہ دن ایجادات کیں۔ ہمارے بزرگوں کی تھیوریز کو ہم پریکٹیکلی واضح کرپ ائے۔ یعنی روز اول سے اب تک فقط انسان نے ہی اس سیارے پر اپنی بقا کے لئے خود کو صرف کیا۔

بھنڈر صاحب نے گزشتہ دنوں انسان کی اہمیت و افادیت بخوبی بیان کی۔

”انسان کو اپنے انسان ہونے پر فخر کرنا چاہیے، اور ہر وہ انسان جو خود کو انسان سمجھتا ہے وہ ایسا کرنے اور سوچنے میں حق بجانب ہے۔ انسان کو اپنے حاصلات، اپنے کارناموں کا بھی علم ہوتا ہے، اور اپنی ناکامیوں پر بھی نظر رکھتا ہے۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اس کے علاوہ اس کی کامیابیوں کو کوئی بھی یقینی نہیں بنا سکتا اور اس کی ناکامیوں کو کوئی دور نہیں کر سکتا۔ اس لیے وہ خود ہی اپنی کامیابیوں، ناکامیوں اور اغلاط کی پیمائش اور ان کی تصحیح کرتا ہے۔

انسان جس دنیا میں پیدا ہوا تھا، اس دنیا کو اپنی عملی فعلیت کے ذریعے بدل کر اس نے سماج میں بدلا، اور انگنت کارنامے سر انجام دیے۔ تمام علوم فلسفہ، منطق، سائنس، طب، طبیعات، کیمیا، حیاتیات، بشریات، تمام ایجادات، تکنیک سمیت ہر خیال، تصور، اقدار وغیرہ سب انسان نے خود پیدا کیے ہیں۔ جہاں تک کائنات کا تعلق ہے تو اس کی وضاحت بھی انسان ان علوم کے ذریعے جو اس کی اپنی تخلیق ہیں خود ہی کر رہا ہے۔ یہاں کائنات کو“ مکمل ”جاننے اور اس کے لاتعداد مظاہر کی تفہیم کے لیے کوئی طے شدہ تاریخ یا ڈیڈ لائن نہیں ہے کہ پوری کائنات کو فلاں تاریخ تک جان لو اور ناکامی کی صورت میں ایک دیوتا تراش کر سب اس کے کھاتے میں ڈال دو۔

کسی بھی دیوتا نے کائنات کی تفہیم اور اسے جاننے کے عمل میں ایک ذرے برابر بھی انسان کی مدد نہیں کی ہے، اور نہ ہی اس کائنات میں انسان کی بقا کے لیے انسان کی کچھ مدد ہی کی ہے۔ سردی، گرمی، بیماریوں، زلزلوں اور ہر طرح کی قدرتی آفات سے انسان اپنی عقل کے ذریعے خود ہی بچتا رہا ہے۔ یہ بات بہرحال الگ ہے کہ دیوتا مختلف اقوام کو تباہ و برباد کرنے کا دعوی کرتے ہوئے اپنے متکبرانہ رویے کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ لیکن کسی نے انسان کی بقا کے لیے اس کی رتی برابر مدد نہیں کی ہے۔

یہ دنیا کیسی ہونی چاہیے، اس میں انسانی و اخلاقی اقدار کا تعین کیسے کرنا ہے، اس میں علمی تحقیق کے کیا معیارات متعین کرنے ہیں، سیاسی و سماجی اقدار کی سمت کو کس طرف اور کیسے استوار کرنا ہے، معاشی و سماجی نظام کی ہیئت ترکیبی کیسی ہو گی، مختصر یہ کہ انسان سے منسلک ہر طرح کے عمل کو خود انسان نے اپنی عقل سے تشکیل دینا ہے۔ اور جدید انسان کی تاریخ انسانی عقل کی اسی عملی بالادستی کے تصور پر استوار ہے۔ انسان نے اپنی دنیا آپ پیدا کی ہے، کر رہا ہے اور کرتا رہے گا۔

اس لیے انسان ہی انسان کے لیے اکلوتی تکریم کا مستحق ہے۔ توہم پرستی انسان کی بدترین دشمن واقع ہوئی ہے، یہ اس کی فکری و عملی ترقی کے راستے کی رکاوٹ رہی ہے، اس نے سوائے خوف اور انسان کو انسان کی ذات سے بے دخل کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر طرح کی توہم کی باقیات کو سمجھ کر انہیں دفنا دیا جائے۔ توہم کی تدفین انسان کی زندگی کی ضامن ہو گی۔“

حاصل متن یہی ہے کہ ہم دن بہ دن مر رہے ہیں۔ ممکن ہے پھر کوئی وبا آئے اور ہمارے آس پاس کے گھر ویران کر کے چلتی بنی۔ شاید ہم اس کے لئے تیار نہ ہوں۔ شاید ہم اس سے سروائیو نا کرپائیں کیونکہ فی الحال ہم قدرت کی کئی زیادتیوں سے ناواقف ہیں۔ ہم اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ یہ ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔ ہمارے اختیارات میں جو ہے ہم اس پر کام کر سکتے ہیں۔ انسان کی اہمیت جانیئے اس لیے فتنہ فساد سے نکلیں۔ غیرت کے نام پر عورت کو قتل کرنا بند کریں کیونکہ اب تک اسی نے انسان پیدا کیے ہیں۔

قبائلی لڑائیوں سے باہر نکلیں۔ حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہو کر انسانیت کو بے کار مت کریں۔ مرے ہووں کے لئے مرنا چھوڑیں۔ مزار سے چادریں اتار کر مزار کے باہر بیٹھوں کو پہنائیں۔ زندوں کے لئے زندہ انسان بنیں۔ مذہبی تعصبات کی وجہ سے کسی انسان کو مت ماریں۔ ہر انسان قیمتی ہے۔ ہر انسان اس دنیا کی ترقی و بقا کے لئے اہم ہے۔ کوئی اگانے والا ہے تو کوئی کھانے والا ہے۔ کوئی خریدنے والا ہے تو کوئی بیچنے والا ہے۔ یہی قدرت کا قانون ہے۔ انسان کی قدر کریں۔ ایک دوسرے کو بچائیں۔

Latest posts by شارون شہزاد (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •