مشرقی پاکستان کا بنگلہ دیش کیسے بنایا گیا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"\"

پاکستان کے ابتدائی سالوں کو چھوڑ کر درمیانی مدت کی طرف چلتے ہیں۔ فیلڈمارشل ایوب خان کو خدا کروٹ کروٹ بے چین رکھے۔ جمہوری نظام کا انہدام، ایشیا کی دوسری تیزرفتار معشیت کا 65 کی جنگ میں بیڑہ غرق اور مشرقی پاکستان کو الگ کرنے کی شعوری کاوش۔ یہ فیلڈمارشل کی حقیقت کا آغاز ہے۔
اس کوشش کو اس کے منطقی انجام تک پہنچایا چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اورجانشین جنرل یحییٰ نے۔

1970 کے عام انتخابات میں شیخ مجیب کی عوامی لیگ نے تین سو نشستوں کی قومی اسمبلی میں ایک سو ساٹھ نشستیں جیت کر پاکستان میں مرکزی حکومتی بنانے کے لیے قطعی اکثریت حاصل کر تھی۔ یہ نتائج اس وقت کے حکمرانوں کے لیے ناقابلِ قبول تھے۔ چنانچہ بہانے بنانے اور الزام دھرنے کا ایک عجیب وغریب سلسلہ شروع کیا گیا۔ کیونکہ شیخ مجیب چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کومستقبل کی کوئی ضمانت دینے کے لیے تیار نہیں تھے اور حکومتی ٹولہ اقتدار سے دستبردار ہونے کا سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا۔

اس نازک موقع پر جناب ذوالفقار علی بھٹو فوجی جنتا کے بڑے کام آئے۔ اب تو جناب غلام مصطفیٰ کھر نے کچھ تفصیلات بھی جناب مجیب الرحمان شامی کے پروگرام میں پیش کر دی ہیں۔ لیکن اگر وہ اعتراف نہ بھی کرتے تو واقعات خود بہت کچھ بتا دیتے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کے ایماء پر بھٹو صاحب نے قومی اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔ بلکہ شرکت کرنے والوں کی ٹانگیں توڑ ڈالنے کی دھمکی دی۔ اس پر اُدھر تم اِدھر ہم کا نعرہ ِ مستانہ۔ جس سے ایسا تاثر دینا مقصود تھا گویا کہ دونوں مقابلے کے لیڈر ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ1970 میں پاکستان کے پانچ صوبے تھے۔ مشرقی پاکستان، پنجاب، سندھ، سرحد(اب کے پی کے) اور ایک آرڈینینس کے ذریعے پہلی دفعہ صوبے کا درجہ پانے والا بلوچستان۔ بھٹو صاحب کی حیثیت زیادہ سے زیادہ پنجاب کے لیڈر کی تھی۔ ( پیارے بڑو، جو دانشور بیان کرتے ہیں کہ 1970 میں مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان تھے۔ وہ آپ سے جھوٹ بولتے ہیں۔ اور آپ سے زیادہ خود اپنے آپ سے جھوٹ بولتے ہیں۔ اپنے آپ سے جھوٹ بولنے والے کو bad faith کا شکار بتایا جاتا ہے۔ جبکہ سفید جھوٹ بولنے والے کو سیاست دان یا سینئر تجزیہ کار بھی کہا جاتا ہے)۔

مشرقی پاکستان کے صوبے میں مُلک کی چھپن فیصد آبادی تھی۔ پنجاب میں بھٹو صاحب کی پیپلز پارٹی کو قطعی اکثریت حاصل تھی۔ سندھ میں پی پی پی کی سادہ اکثریت تھی جس کا مطلب ہے، حکومت بنانے کے لیے ایک اور پارٹی یا کافی افراد کو ساتھ ملانا پڑتا۔ جبکہ سرحد اور بلوچستان میں جمعیت علمائے اسلام اور نیشنل عوامی پارٹی مل کر حکومت بنا سکتے تھے۔ چنانچہ حکومتی حمایت و تعاون کے بغیر بھٹو صاحب کے وزیرِ اعظم ہونے کا چانس صفر تھا۔ اسی وجہ سے ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ سرکاری اور جرنیلی سرپرستی کے بغیر قومی اسمبلی کے بائیکاٹ اور اُدھر تم، اِدھر ہم والے نعرے میں بھی کوئی دم نہیں تھا۔ قومی اسمبلی کا اجلاس ہو جاتا تو شیخ مجیب وزیرِ اعظم منتخب ہو جاتے اور اس کے لیے شیخ صاحب کو اپنی پارٹی کے علاوہ کسی کی ضرورت ہی نہیں تھی۔

اس اجلاس کے نتیجے میں جنرل یحییٰ خان صدر نہ رہتے، اور جناب بھٹو صاحب قائدِ حزب ِ اختلاف ہوتے۔

اس بھیانک منظر کے حقیقت میں تبدیل ہونے سے پہلے جنرل یحییٰ اور رفقائے کار نے طے کیا کہ ایکشن لیا جائے۔ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہوگی اگرمستقبل میں کوئی انکشاف کرے کہ غیر بنگالیوں کا قتل اس ٹولے کا اپنا پلان تھا۔ خوفناک بات یہ ہے کہ جس حکومت کا فریضہ امن و امان برقرار رکھنے کا تھا، اُسی حکومت نے امن و امان کی بگڑتی صورتِ حال کو بہانہ بنا کر پاکستانی عوام کے منتخب وزیرِاعظم اور سب سے بڑی سیاسی جماعت کو نشانہ بنا گیا۔ اس کے بعد مشرقی پاکستان کے عوام، سیاسی کارکنوں اور دانشوروں پر جماعتِ اسلامی کے تعاون سے کیا کیا ظلم و ستم ڈھائے گئے، اب یہ کوئی راز نہیں رہا۔ اس گھناؤنے فعل میں جو تعاون نچلی سطح پر جماعتِ اسلامی فراہم کر رہی تھی ویسا ہی مرکز میں بھٹو صاحب اُسی طرح مارشل لاء کو فراہم کر رہے تھے۔

مارچ کے فوجی ایکشن سے دسمبر کی شکست تک پاکستان کے اصل حکمرانوں، مشرقی پاکستانی باشندوں سے کیا سلوک ہوا ہم اس پر شرمندہ ہیں۔ جن افراد نے وفاقی وزراء کے طور پر حکومت کرنا تھی، اُنہیں قتل کرنے کے لیے ڈھونڈا جاتا تھا۔ جس شخص کو وزیرِ اعظم کا حلف اُٹھانا تھا اُسے پابندِ سلاسل کر دیا گیا۔ ایسی بے یقینی کے ساتھ کہ اُسے خود معلوم نہیں تھا کہ اُسے کب موت کے گھاٹ اُتار دیا جائے گا۔ اگرچہ کہ زمانے بھی بہت بدل گئے ہیں لیکن یہ اعتراف کیے بغیر بھی چارہ نہیں کہ یحییٰ خانی وزارتِ اطلاعات نے اتنا اچھا پروپیگنڈہ کیا تھا کہ ہم جیسے عام انسان سرکاری خبر پر مکمل یقین رکھتے تھے۔ خبر یہ تھی کہ سارے فساد کی جڑ بنگالی ہیں جو غیر بنگالیوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے کتوں کو کھلا رہے ہیں۔ اس خبر کی حقانیت میں اگر کوئی کمی رہ گئی تھی تو وہ جناب الطاف حسن قریشی کے محبت کے زمزم میں ڈوب گئی۔ (آج کل ایک بے مقصد بحث کو ہوا دی جا رہی ہے کہ جو تحریریں جناب قریشی صاحب نے اکہتر کے بارے میں مشرقی پاکستان سے بھیجی تھیں اُن کا عنوان ’ محبت کا زمزمہ بہہ رہا ہے‘ نہیں تھا۔ حالانکہ موصوف کا بیان اور نفسِ مضمون ہی یہی تھا)۔

لیکن کچھ لوگ اس اندھے زمانے میں بھی بصیرت اور بصارت رکھتے تھے۔ جناب اصغر خان نے فوجی کارروائی کی مخالفت کی۔ شاعرِ انقلاب حبیب جالب نے ایک مصرعے میں صورت ِ حال کو سمو دیا۔ ’ محبت گولیوں سے بو رہے ہو‘۔ اس ضمن میں بھٹو صاحب اور جماعتِ اسلامی تن، من، دھن سے مارشل لائی ٹولے کے ممد و معاون رہے تھے۔ مقدور بھر فائدہ بھی اُٹھایا ہو گا۔ جیسے جناب نورالامین کو وزیرِ اعظم (بیڈ فیتھ بھی کہاں کہاں سر چڑھ کر بولتا ہے) بنایا گیا تو بھٹو صاحب کو نائب وزیرِ اعظم کا عہدہ عطا کیا گیا۔ یعنی مشرقی اور مغربی پاکستان کو حصہ بقدر جثہ دے دیا گیا، عرف بیڈ فیتھ۔ لیکن یہ سب برابر کے مجرم نہیں ہیں۔ ایسا ہو بھی نہیں سکتا تھا۔ وجہ یہ کہ ساری قوت تو یحیی خان کے جی ایچ کیو کے پاس تھی۔ اس قوت نے مکتی باہنی کو جنم دیا اور بھارت کو موقع فراہم کیا کہ اپنا کام دکھا سکے۔ حالات ابتر سے ابتر ہوتے چلے گئے اور پھر بھارت سے کھلی جنگ کا آغاز ہو گیا۔ ہم جیسے عام لوگوں کی آنکھوں پر تو وزارتِ اطلاعات و نشریات کی پٹی بندھی تھی۔ لیکن جی ایچ کیو کو تو حالات کا بخوبی علم تھا۔ اس وجہ سے پولینڈ کی جنگ بندی کی قرارداد کو پھاڑنے کا مظاہرہ کیوں کیا گیا یہ اب تک معمہ ہے۔ (وہ ایک اور احمقانہ بہانہ ہے کہ بھٹو صاحب نے اپنے کاغذات پھاڑے تھے۔ مقصد تو وہی تھا)۔

ان حقائق سے ایک ہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ مشرقی پاکستان کو الگ کرنے کا فیصلہ کر چکی تھی۔ یحییٰ خانی منصوبہ یہ معلوم پڑتا ہے کہ شیخ مجیب سے جان چھڑا لی جائے۔ اسی بہانے ’ بھوکے بنگالیوں‘ سے بھی جان چھوٹ جائے گی۔ باقی رہے سہے مغربی پاکستا ن پر ہمارا راج برقرار رہے گا۔ سقوطِ ڈھاکہ کے بعد اس نوعیت کی تقریر جناب چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر نے کی بھی تھی۔

فرق یہ ہے کہ یہ مشرقِ وسطیٰ نہیں کہ عبرتناک شکست کے بعد اقتدار پر گرفت مزید مضبوط ہو جائے۔ یہاں عوام، فوجی افسروں اور جوانوں میں اس قدر غم و غصہ تھا کہ فوجی آمر کو ایک سول آمر کے لیے جگہ خالی کرنا پڑی۔ یوں بھٹو صاحب باقی ماندہ پاکستان کے وزیرِ اعظم بن گئے۔ ایک ایسا وزیرِ اعظم جسے کبھی اس عہدے کے لیے مطلوبہ ووٹ نہیں ملے۔ تاہم یار لوگ بھٹو صاحب کو منتخب، جمہوری وزیرِ اعظم کہتے ہوئے ذرا بھی نہیں شرماتے۔

اب جی ایچ کیو کے کرنے کا کام تو یہ ہے کہ یحییٰ خانی ٹولے کا بعد از مرگ کورٹ مارشل کرے کہ اُن کو تو پتہ تھا کہ مشرقی پاکستان کی فوجی صورتِ حال کیا ہے۔ پھر بھی پولینڈ کی جنگ بندی کی قرارداد کو کیوں مسترد کیا گیا؟ اس وقت تو ایسامعلوم ہوتا ہے کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بننے دیا گیا یا بنایا گیا۔ یہ ہماری فوج پر ایسا دھبہ ہے جو مکمل، بے لاگ تحقیقات کا متقاضی ہے جسے صاف کرنا ہماری فوج کی عزت میں اضافہ کرے گا۔ یہ مشرقی پاکستان میں جان نچھاور کرنے والے ہمارے شہیدوں و غازیوں کا درست مقام تعین کرنے میں مدد دے گا۔ نیز ہمارے سابقہ مشرقی پاکستانی بھائی بھی حقائق سے آگاہی حاصل کر سکیں گے۔

کیا ایک ٹولے کی حرکات کی وجہ سے ہم ہمیشہ کے لیے اجنبی ٹھہریں گے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply