ذوالفقار علی بھٹو کا ادھورہ مشن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

5 جنوری 1928 ء ایک ایسی شخصیت کا یوم پیدائش ہے جس نے پاکستانی مروجہ سیاست کا پانسہ پلٹ دیا، وہ سیاست جو صرف بیوروکریسی اور جاگیردار طبقے کی مرہون منت تھی اسے ڈرائنگ روم اور ڈیروں سے نکال کے کھیت کھلیانوں، فیکٹریوں اور چوپالوں پر لا کھڑا کیا ۔ ہم ذوالفقارعلی بھٹو کے سیاسی قول و عمل، اقدامات اور اس کے بعد گزرے حالات و نتائج سے اختلاف اور اس پر تنقید کر سکتے ہیں لیکن اس حقیقت کو ماننا پڑے گا کہ بھٹو نے پاکستانی سیاست میں ایسے انمٹ نقوش چھوڑے جن کا ذکر کیے بغیر پاکستان کی سیاست ادھوری ہے ، پاکستان میں رائج جمہوریت ادھوری ہے ، آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ادھوری ہی تو ہے ، مکمل کب ہوئی ہے؟

یہ کون سی جمہوریت ہے جس میں جمہور آج بھی استحصالی قوتوں کے پنجے میں جکڑئے ہوئے ہیں ، ادارے آج بھی بالادست قوتوں کے ہاتھوں یرغمال ہیں تو پھر یہ کون سی جمہوریت اور آئین ہے جس کی بنیاد ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی تھی ، بات صاف ہے کہ کوئی بھی بنیاد، کوئی بھی قدم حرف آغاز ہوتا ہے ، اس سفر کو جاری رکھنا پڑتا ہے ، اس تعمیری بنیاد کو مکمل اختتام تک پہنچانا پڑتا ہے ۔

آپ ذوالفقار علی بھٹو کی طرز سیاست اور ان کے نظریے سے لاکھ اختلاف کریں لیکن اس بات سے اختلاف نہیں کر سکتے کہ انھوں نے اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کو تسلیم بھی کیا۔ اپنی خود نوشت (اگر مجھے قتل کر دیا گیا) میں انہوں نے اپنی بہت ساری غلطیوں کو تسلیم کیا اور پھر اپنے مخالفین اور مارشل لاء کے جبر کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہو گئے اور اپنے نظریات پر قائم رہتے ہوئے بالادست قوتوں کے ہاتھوں اپنی جان اور سیاست کا سودا نہ کر کے تاریخ میں امر ہو چکے ورنہ وہ بھی سیاست سے دست بردار ہو کر باقی زندگی جلاوطنی میں گزارنے کی شرط پر جان بخشی کروا سکتے تھے لپکن انہوں نے اپنی جان گنوا کر تاریخ میں زندہ رہنے کا فیصلہ کیا کیونکہ وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ سیاہ رات کتنی بھی طویل ہو آخر سحر نے طلوع ہونا ہی ہوتا ہے

رات جب کسی خورشید کو شہید کرے
تو صبح ایک نیا سورج تراش لاتی ہے

آج پیپلز پارٹی اپنی سیاست میں بھٹو کی سیاسی جدوجہد، کارناموں، استقامت اور شہادت کا تو ذکر کرتی ہے مگر اس نظریے کا پرچار، فروغ یا اسے عملی جامہ نہیں دیتی جس سے حقیقی معنوں میں پاکستان کے عوام کو روٹی کپڑا اور مکان دیا جا سکتا ہو ۔ بھٹو کا دیا گیا سوشلسٹ منشور آج کی پیپلز پارٹی کی کون سی ترجیح میں شامل ہے؟  یہ نہ قیادت کو یاد ہے اور نہ اس پارٹی کے کارکنوں کو اس کی اہمیت کا احساس ہے؟  کیا 5 جنوری کو صرف ذوالفقار علی بھٹو کے جنم دن کا کیک کاٹ کر اس کے ادھورے مشن کو پورا کیا جاسکتا ہے؟

جس مشن کی تکمیل کے لیے بھٹو نے اپنی جان دے دی لیکن کوئی مصالحت نہیں کی اس کا جواب قیادت دے نہ دے لیکن کارکنوں کو ضرور سوچنا چاہیے کہ آج ملک میں غربت، مہنگائی اور بے روزگاری پہلے سے بھی بہت زیادہ ہے ، آج غریب، مزدور اور محنت کش طبقہ پہلے سے زیادہ مشکلات کا شکار ہے۔  پاکستان پیپلز پارٹی کو شہید ذوالفقار علی بھٹو کے بنیادی سوشلسٹ منشور پر لوٹتے ہوئے اس ملک کے محنت کش اور نوجوانوں طبقے کے لئے واضح پروگرام دینا ہوگا۔

اس ملک کی نوجوان اکثریت کو باعزت روزگار چاہیے ، اگر اس ملک کے غریب عوام کی حالت نہیں بدلتی تو انہیں پیپلز پارٹی کے اقتدار میں آنے سے کوئی دلچسپی نہیں ، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو پارٹی قیادت اس ملک کی نوجوان نسل کو سونپنا ہوگی جن کا دامن کرپشن سے پاک ہو اور وہ واقعی اس ملک کی قسمت تبدیل کرنا چاہتے ہوں ورنہ بھٹو خاندان کی تمام قربانیاں بیکار جائیں گی ، بھٹو کے بنیادی فلسفے پر عمل کرنا ہی پیپلز پارٹی کا بنیادی مقصد ہونا چاہیے ورنہ اس پر سمجھوتہ کر کے اقتدار حاصل کرنا بے سود ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •