بلاول۔ پاکستان کا ”بے نظیر“ وکیل

ایک طرف بھارتی صحافت کا ایک بڑا اور معتبر نام 71 سالہ کرن تھاپر، جن کا صحافتی تجربہ قریباً چالیس پینتالیس سال، دوسری طرف پاکستان کا 37 سالہ نوجوان سیاست دان بلاول بھٹو زرداری، جس کی عمر اپنے مد مقابل کے صحافتی تجربہ سے بھی کہیں کم۔ یہ ایک انتہائی دلچسپ انٹرویو کا منظر نامہ ہے جس میں میزبان اپنے مہمان سے تابڑ توڑ متنازعہ سوالات کر رہا ہے اور دوسری طرف نوجوان کبھی مسکرا کر، کبھی انتہائی سنجیدگی اور

Read more

پاکستان کی سیاسی تحریکیں اور پی ٹی آئی کی تحریک

موجودہ ہائی برڈ سیاسی بندوبست میں آئین کی حکمرانی، قانون کی عملداری، پارلیمانی بالادستی، اظہار رائے اور اجتماع کی آزادی، اور عدلیہ کی خودمختاری پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ جمہوری عمل اور جمہوری اقدار پر یقین رکھنے والے حلقے حکومتی معاملات میں مقتدرہ کی مسلسل پیش قدمی اور سول نمائندہ اداروں کی پسپائی کو زوال پذیر جمہوریت سے تعبیر کر رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی حمایت پر کھڑی نون لیگی حکومت اور حکومت کے شراکت دار ایم کیو

Read more

روٹی، کپڑا اور ٹویٹ؟ پیپلز پارٹی کا نیا منشور

کبھی ”روٹی، کپڑا اور مکان“ کا نعرہ صرف انتخابی منشور نہیں تھا، یہ ایک عہد تھا، ایک انقلاب کا وعدہ، ایک پسے ہوئے طبقے کی چیخ کو زبان دینے کی کوشش۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اس نعرے کو عوامی شعور کا حصہ بنایا۔ بینظیر بھٹو نے اسے اپنی لہو سے سینچا۔ لیکن آج جب بلاول بھٹو زرداری اس ورثے کے امین ہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا وراثت صرف خطاب، لباس، اور ٹویٹ بن کر رہ گئی ہے؟ بلاول

Read more

عقيدہِ بيغن: ’دشمن ملک کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے‘ کی اسرائیلی پالیسی کیسے وجود میں آئی؟

جہاں تک بیغن کے عقیدے کا تعلق ہے تو وہ ایک سٹریٹیجک اصول پر مبنی ہے جس کے مطابق اسرائیل کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی ایسی ریاست کو جسے وہ دشمن سمجھتا ہے، جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روک دے۔

Read more

میڈیا اور انفارمیشن لٹریسی فریم ورک پر ایک قومی مکالمے کا احوال

چند روز قبل شہید ذوالفقار علی بھٹو انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے میڈیا سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر واجد ذوالقرنین سے میڈیا اینڈ انفارمیشن لٹریسی اور آج کے دور میں میڈیا کے کردار پر ایک مکالمہ ہوا۔ ڈاکٹر صاحب بہت جہاندیدہ شخصیت ہیں اور ابلاغیات و انفارمیشن کے میدان میں جدت پسندی کے قائل ہیں اور یہی وجہ ہے کہ زیبسٹ کا میڈیا سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ ان کے ویژن کا عکاس نظر آتا ہے جہاں طلباء کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں

Read more

بلاول بھٹو اس وقت ملکی اور عالمی سیاست میں کہاں کھڑے ہیں

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو اگر اس وقت دنیا کے چند نوجوان دانشور سیاسی رہنماؤں میں گنا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ بلاول بھٹو، شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد غیر معمولی حالات میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ ناتجربہ کار اور کم عمر ہونے کی وجہ سے وہ چیئرمین ہونے کے باوجود پارٹی معاملات سے دور دور رہے۔ اس دوران ان کی سیاسی تربیت جو پہلے ان کی عظیم والدہ

Read more

اُف توبہ! یہ تختی سیاست

جس معاشرے میں ہم آج سانس لے رہے ہیں، وہاں سیاست محض عوامی خدمت کا ذریعہ نہیں رہی بلکہ یہ ذاتی تشہیر کا ایک مستقل ذریعہ بن چکی ہے۔ سیاستدانوں کے لیے اب ترقیاتی منصوبے اس وقت تک مکمل نہیں ہوتے جب تک ان پر، اُن کا یا اُن کے خاندان کے کسی فرد کا نام نہ لکھا جائے۔ اس رجحان کو ہم تختی سیاست کہہ سکتے ہیں یعنی ایک ایسا مرض جو پورے ملک کی اجتماعی سوچ کو آلودہ

Read more

زرداری کے بعد

پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاست کا حالیہ ماڈل مکمل طور پر آصف علی زرداری کی شخصی حکمتِ عملی، اسٹیبلشمنٹ سے مفاہمت، سیاسی توڑ جوڑ اور پارٹی کے اندر داخلی توازن کے قیام پر استوار رہا ہے۔ وہ پارٹی کے اندر موجود جاگیرداروں، سرمایہ داروں، وڈیروں، سرداروں، بوتاروں، مختلف لسانی و علاقائی دھڑوں کے درمیان ایک قوتِ توازن (پاور بیلنس) کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔ ان کی غیر موجودگی، عدم فعالیت یا بیماری کے باعث سیاسی منظر نامے سے

Read more

پرانی یادیں: ایوب خان کا زوال اور مارشل لا

1968 میں 27 اکتوبر 1958 کے ایوب خان کے فوجی انقلاب کو دس سال ہو چکے تھے۔ اس موقعے پر ملک بھر میں تقریبات کا اہتمام کیا گیا تھا۔ حکومت اپنے کارنامے اجاگر کر نا چاہتی تھی۔ ایوب خان کے دور سے وابستہ متضاد آرا تھیں۔ ان کے دور میں ایک استحکام تھا جو اس کے بعد پاکستانی قوم کو کبھی نصیب نہیں ہوا۔ یہ وہ دور تھا جب پانچ سالہ منصوبے بنتے تھے اور ان پر عمل ہوتا تھا۔

Read more

بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ

کوئی بھی معاشرہ کامل اور پرفیکٹ نہیں ہوتا۔ اسے بہتر کرنے، سنوارنے اور قابل رشک بنانے کے لئے محنت درکار ہوتی ہے اور سماج کے سارے طبقات مل کر اپنی حیثیت کے مطابق اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ بہت سی رکاوٹوں کے باوجود بہتری اور ترقی کا یہ سفر جاری رہتا ہے۔ مگر نہ جانے کیوں مجھے محسوس ہوتا ہے کہ جس سماج کا ہم حصہ رہے ہیں وہاں یہ سفر کسی جگہ آ کر رک سا گیا ہے۔ کسی

Read more

کہاں گئے وہ لوگ“ اور عباس اطہر”

”کہاں گئے وہ لوگ؟“ عباس اطہر کے کچھ کالموں کا مجموعہ ہے۔ اگر ان کالموں کو بغور اور صاف دل سے پڑھا جائے تو یہ مکمل طور پر بلھے شاہ کے اس مصرع کی تفسیر ہیں کہ ”کیہہ جاناں میں کون؟“ ۔ یادِ رفتگاں پر مشتمل یہ تمام تحریریں ایسی ہیں کہ ان کی خواندگی کے دوران بار بار احمد مشتاق کا مندرجہ ذیل شعر جیسے یاد آ کر رک سا جاتا ہے۔ رہ گیا مشتاق دل میں رنگِ یادِ

Read more

سنہرا پاکستان: 1960 سے 1975 کا خواب نما دور

پاکستان کی تاریخ میں 1960 سے 1975 کا دور ایک ایسا سنہرا باب ہے جو آج بھی بزرگوں کی باتوں، پرانی فلموں، ریڈیو کی گونجتی آوازوں اور پرانی تصویروں میں زندہ ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب ملک ترقی کی جانب بڑھ رہا تھا، جب ثقافت، فن اور معاشرتی رشتے اپنی بہترین صورت میں موجود تھے۔ پاکستان نہ صرف ایک ابھرتی ہوئی معیشت تھا بلکہ ایک زندہ دل قوم کا آئینہ بھی۔ اس دور میں صدر ایوب خان کے پانچ

Read more

آپریشن فیئر پلے یا فاؤل پلے

ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے عہد وزارت عظمی میں جس زیریں جنرل کو چار اعلی جنرلز پر فوقیت دیتے ہوئے پاک فوج کا سربراہ بنایا تھا اسی جنرل ضیاء الحق نے 5 جولائی 1975 کو ان کی حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لاء لگا لگا کر جمہوریت پر شب خون مارا گیا جو 11 برس پر محیط رہا۔ اس وقت بھی آج کی طرح ساری سیاسی جماعتیں ایک سیاسی جماعت کے خلاف اتحادی بن گئیں تھیں جنھوں نے کھل

Read more

تاریخ کی تختی نہیں بدلتی

کہتے ہیں کہ تاریخ بڑی بے رحم ہوتی ہے، لیکن درحقیقت تاریخ سب کچھ یاد رکھتی ہے۔ وہ نہ صرف نیکیوں کا حساب رکھتی ہے، بلکہ تختیوں کی چوری بھی درج کر لیتی ہے۔ جو لوگ دوسروں کے نام اور کام پر اپنی تختی لگاتے ہیں، وہ وقتی واہ واہ تو سمیٹ لیتے ہیں، مگر تاریخ ان کے لیے کبھی دعائیہ جملے نہیں لکھتی، صرف طنزیہ حاشیے چھوڑ جاتی ہے۔ ہمارے ملک میں سیاست کا ایک نیا فن رائج ہو

Read more

ن لیگ کے جدِ امجد کا فرمان

کہتے ہیں کہ جاتی عمرہ میں دنیا کی ہر نعمت موجود ہے سوائے کتاب کے۔ نون لیگ کے حامی نامور صحافی مجیب الرحمان شامی بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ کتاب سوچنا سکھاتی ہے۔ مرد و زن کے مادی وجود کو انسان کا اخلاقی وجود عطا کر دیتی ہے۔ معاشرے میں کتاب سے دوری اور فتوے سے قربت پیدا کرنے والے نون لیگ کے جد امجد ضیاءالحق فرماتے تھے کہ میں استادوں اور شاعروں سے بہت تنگ ہوں۔ یہ بہت

Read more

پرانی یادیں : بھارت کے خلاف 1965 کی جنگ

1965 کی پاک بھارت جنگ پاکستانی تاریخ کے اہم ترین لمحات میں سے ایک ہے۔ اس جنگ کے نتائج نے بعد کی تاریخ پر بہت گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ یہ جنگ کشمیر کی آزادی کے نام پر لڑی گئی۔ لیکن اس جنگ کے نتیجے میں، اگر روایتی نعروں کو نظر انداز کیا جائے اور حقیقت پسندانہ انداز میں سوچا جائے، تو پاکستان نے بھارتی کنٹرول میں موجود کشمیر کو ہمیشہ کے لیے کھو دیا۔ اس جنگ کے ملکی معیشت اور

Read more

میزانیہ اور زائچہ!

بجٹ منظوری کی مشق آخری مرحلے میں ہے۔ یکم جولائی سے نئے مالی سال کا میزانیہ روبہ عمل آ جائے گا۔ عام آدمی پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے، صنعتی و تجارتی سرگرمیوں پر کیا گزرے گی، نیم جاں معیشت کس قدر توانا ہوگی، بیرونی سرمایہ کاروں کے لئے ہم اپنے ماحول میں کتنی کشش پیدا کرسکیں گے، محصولات میں کتنا اضافہ ہو گا، داخلی اور خارجی قرضوں پر انحصار کس قدر بڑھے گا یا کم ہو گا،

Read more

مرحوم مشاہیر کے نام پر قومی ادارے

نواز شریف کے سیاست میں آنے سے پہلے یہ روایت تھی کہ قومی اداروں کے نام مرحوم مشاہیر کے نام پر رکھے جاتے تھے۔ جیسے قائد اعظم یونیورسٹی، علامہ اقبال یونیورسٹی، قائد اعظم لائبریری۔ دوسری صورت میں مخیر حضرات اپنے پلے سے کوئی ادارہ اپنے نام سے بنا کر حکومت کے حوالے کر دیتے تھے۔ جیسے میاں منشی ہسپتال لاہور اور سردار بیگم ہسپتال سیالکوٹ وغیرہ۔ عوام کے لئے فلاحی ادارہ جب کوئی شخص اپنے پیسے سے بناتا ہے تو

Read more

بھٹو کی پنکی کی سالگرہ: قربانی، جمہوریت اور جرات کی روشن علامت

 21 جون ہے وہ دن ہے جب وقت نے تاریخ کا دروازہ کھولا، اور ایک بیٹی نے جنم لیا، جو صرف ذوالفقار علی بھٹو کی پنکی نہیں تھی، بلکہ وہ ہر مظلوم کی امید، ہر جمہور پسند کی آواز، اور ہر ظالم کے لیے للکار بن کر ابھری۔ محترمہ بینظیر بھٹو ایک نام نہیں، ایک نظریہ تھا۔ ایسی بیٹی، جو تخت و تاج کی خواہش لے کر نہیں، قربان گاہ کا وعدہ لے کر پیدا ہوئی تھی۔ ان کی زندگی

Read more

سرکاری چوہے اور ہمارے قومی ادارے

میں نہیں جانتا کہ قیام پاکستان کے وقت کن لوگوں نے کب اور کہاں بیٹھ کر طے کیا تھا کہ نومولود ملک اور اس کے عوام کو علم، ادب اور فنون لطیفہ کی آزاد فضاؤں سے محفوظ رکھا جائے اور خالص تحقیق و تخلیق کی بجائے اس طفل نوخیز کے ہاتھ میں جعلی تھیوریوں اور جعلی فنون کے جھنجھنے دے دیے جائیں تاکہ خاکم بدہن عوام نام کا انبوہ کثیر سماجی و تاریخی شعور سے بہرہ ور ہو کر اپنے

Read more

موہنجودڑو کی بیٹی کا رقصِ احتجاج

چوک کے ایک کنارے پر وہ مشہور تصویر نصب تھی۔ شاہِ ایران اور ذوالفقار علی بھٹو کی جو گل جی نے تانبے پر کندہ کی تھی۔ سورج کی تیز کرنیں تصویر پر پڑتی تھیں، مگر اس پر اداسی کی ایک گرد جمی تھی۔ وہ تصویر اب موہنجودڑو کے داخلی دروازے کے قریب لگائی گئی تھی، جیسے تاریخ نے اس مقام پر بھی وقت کو روک دیا ہو۔ کبھی یہ تصویر اس وقت کی علامت تھی جب مہمان بادشاہوں کو یہاں

Read more

پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے والی 5 شخصیات۔(2)

11 مئی 1998 ء کو سابق وزیر اعظم نواز شریف الماتے ( قازقستان ) میں ای سی او کانفرنس شرکت کے لئے گئے ہوئے تھے کانفرنس کے اختتام پر نواز شریف اور مشاہد حسین الماتے کے پہاڑوں جو مری کے پہاڑوں سے خاصی مشابہت رکھتے ہیں کی ٹھنڈی ہواؤں سے لطف اندوز ہونے کے لئے ہائیکنگ کرنے چلے گئے اس زمانے میں موبائل فون کی سہولت نہیں تھی وائرلیس پر پیغام موصول ہوا کہ ”وزیر اعظم کا ملٹری سیکریٹری بار

Read more

بھٹو پاکستان ایران

ایرانی قدیم قوم ماضی کے کارناموں سے مزین زندہ تاریخ کی حامل اپنے دور کی سپر پاور دور زرتشت سے اسلام تک کا لمبا سفر ان کی کہانی کا حصہ ہے۔ انقلاب ایران کے بعد انہوں نے ایک سخت گیر تبدیلی کی ہے فی زمانہ یہ امر طے شدہ ہے کہ اگر آپ افراد قوم کو جمہوری رویے سے نہیں دیکھتے جیسا کہ بہت سے ممالک میں دیکھا جا رہا ہے تو ریاستی انتشار آپ کا منتظر ہے ایک خاص

Read more

قوم پرستی، بھٹو ازم اور وکلا: سندھ کے مستقبل کی تین راہیں

کہتے ہیں تاریخ صرف کتابوں میں نہیں، زمین پر بھی لکھی جاتی ہے۔ سندھ کی زمین ایسی کئی کہانیوں کی گواہ ہے۔ موہنجو دڑو کی مٹی سے لے کر دریا بادشاہ کے کناروں تک، اور بھٹو کے قافلے سے لے کر آج کی وکلا تحریک تک۔ یہ وہی سندھ ہے جہاں کبھی جنرل ضیا الحق کے خلاف چوکوں اور چوراہوں پر نفرت انگیز نعرے لکھے جاتے تھے، جہاں ایک وقت تھا کہ محمد خان جونیجو کے خلاف دیواروں پر ”نہ

Read more

تنقیدی جائزہ: ”اپنا گریباں چاک“ از جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال

مصور پاکستان علامہ محمد اقبال کے صاحبزادے جسٹس (ر) ڈاکٹر جاوید اقبال اپنے روشن خیال نظریات، بے باک انداز گفتگو اور تحقیقی اور تعمیری افکار کی بدولت علمی و فکری دنیا میں بہت مقبول تھے۔ ان کی آپ بیتی ”اپنا گریبان چاک“ چھپی تو ان کی شہرت میں بہت اضافہ ہوا۔ یہ آپ بیتی سنگ میل پبلی کیشنز لاہور سے 2002 ء میں شائع ہوئی۔ آپ بیتی لفظ کے معانی ”سرگزشت“ یا ”جگ بیتی“ کے ہیں۔ آپ بیتی اصل میں

Read more

راجہ انور بطور ادیب اور مصنف

راجہ انور کو میں نے اپنے کالج کے زمانے میں ان کی بھرپور جوانی میں دیکھا تھا۔ 70 کی دَہائی کے وسط کی بات ہے۔ ہم تین دوست بینک روڈ راولپنڈی صدر میں گھوم رہے تھے۔ ہمارا ایک دوست زور سے چلایا۔ ”وہ دیکھو! راجہ انور!“ دراز قد، لمبے اور گھنے سیاہ بال، سیاہ ریش، سفید شلوار قمیض میں ملبوس سرخ و سفید رنگ کے راجہ انور دو تین ساتھیوں سمیت اُسی طرف چلے آرہے تھے، جہاں ہم کھڑے تھے۔

Read more

مذاق ہی مذاق میں گزری عید

عید گزری ہے لیکن حسب معمول اپنے ساتھ کچھ نئے واقعات، تجربات اور مشاہدات بھی لیتی آئی۔ ماضی میں ہم اخبارات کی مدد سے گزری عید کے واقعات و معمولات سے آگاہ ہوتے کیوں کہ عیدین کی چھٹیوں کے بعد اخبارات ایک طرح گزری چھٹیوں کا ضمیمہ ہوا کرتے تھے۔اب یہ معمول بدل چکا ہے اور خبروں سے وقتی دوری کی نعمت سے بھی ہم محروم ہو چکے ہیں۔ سوشل میڈیا سب کچھ ساتھ ساتھ نشر کرتا رہتا ہے اور

Read more

انا پرست سیاستدان

پاکستانی سیاست میں انا پرستی کی جڑیں بہت گہری اور پرانی ہیں۔ اکثر سیاستدان اپنی ذات کو قوم کے مفاد سے بلند تر سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف جمہوری اداروں کو کمزور کرتا ہے بلکہ عوام کے مسائل کو بھی نظر انداز کر دیتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں ہمیں کئی مثالیں ملتی ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں شخصی حکمرانی اور ”میں ہی سب کچھ ہوں“ کا تاثر ابھرا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں یہ

Read more

جدید سائنسی معاشروں میں دینی جماعتوں کا مستقبل؟

اس امر میں کوئی شبہ باقی نہیں رہا کہ ہماری مملکت کی ساخت، معیشت و سیاست کی حرکیات اور سماج کی ہیت بدل گئی یعنی ہمارا اجتماعی شعور روایتی طرز تمدن کو پیچھے چھوڑ کر ڈیجیٹل عہد کی نئی وسعتوں میں داخل ہو گیا، ٹیکنالوجی کی ترقی نے جنگ اور فن حکمرانی کو اتنا پیچیدہ بنا دیا کہ اقوام عالم کے مابین تعلقات کی نوعیت کے تعین کے علاوہ جمہوریت، آمریت اور استبدادیت کے مابین خط امتیاز کھنچنا دشوار ہو

Read more

پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے والی 5 شخصیات

27 مئی 1998 ء کی شام سورج اپنی تمام رعنائیاں سمیٹ کر مارگلہ کے پہاڑوں کی اوٹ میں غروب ہو رہا تھا۔ سائے تیزی سے بڑھ رہے تھے۔ دن کے اجالے تاریکی میں ڈوب رہے تھے۔ شہر اقتدار میں قومی سلامتی کے حوالے سے اہم فیصلے کیے جا رہے تھے۔ مجھے ڈاکٹر کیو خان لیبارٹریز سے انجنیئر فاروق کی کال موصول ہوئی کہ ڈاکٹر عبدالقدیر آپ سے فوری طور پر ملنا چاہتے ہیں۔ میں سینئر صحافی سہیل عبدالناصر مرحوم کے

Read more

شیخ مجیب الرحمان کے ساتھ قید سی آئی ڈی کے جاسوس راجہ انار خان کی یادداشتیں

راجہ انار خاں ریٹائرڈ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، سپیشل برانچ پنجاب پولیس پاکستان کی بنتی بگڑتی سیاسی تاریخ کے چشم دید گواہ ہیں۔ انہوں بہت اہم جگہوں پر تعینات رہ کر اپنے فرائض سرانجام دیے۔ جتنا عرصہ شیخ مجیب الرحمٰن مغربی پاکستان کی جیلوں میں قید رہ کر اپنے خلاف غداری کے مقدمے کا سامنا کرتے رہے، اس دوران راجہ انار خاں بطور انٹیلی جنس افسر ایک مشقتی کے روپ تمام عرصہ جیل میں ان کے ساتھ رہے۔

”تھانیداری“ ملنے پر میں رو رہا تھا
پہلی تقرری گجرات میں ہوئی
سہالہ میں ٹریننگ انسٹرکٹر کو پانی کا جگ دے مارا
جب میں چوہدری ظہور الٰہی کے بھتیجے چوہدری تجمل حسین کو پکڑ کر تھانے لے آیا
مونگی دی دال والا تھانیدار
جنرل بختیار کے قہقہے
چوہدری فضل الہی کے بھتیجے کی گرفتاری
1965 ء کی جنگ میں میرا حصہ
آرمی کی دو مربعے زمین پر قبضہ میں نے چھڑوا کر دیا
جب میں نے اپنے ایس پی کو تھپڑ دے مارا
جیل میں شیخ مجیب الرحمٰن کے ساتھ بطور سیکورٹی افسر
شیخ مجیب الرحمن محب وطن یا غدار
ڈھاکہ میں سرنڈر کے روز میں پھوٹ پھوٹ کر رو دیا
شیخ مجیب الرحمٰن کانپ رہے تھے
شیخ مجیب الرحمٰن کی چشمہ بیراج آمد
شیخ مجیب الرحمٰن چشمہ سے سہالہ
ذوالفقار علی بھٹو کی شیخ مجیب الرحمٰن سے ملاقات
شیخ مجیب الرحمٰن نے کہا انار خاں! تم میرے ایس پی ڈھاکہ ہو گے

Read more

بھٹو، بے نظیر اور نواز شریف: ایٹمی پروگرام کے بانیوں پر کیا بیتی؟

ستائیس مئی 1998 کی رات ہم نے روزنامہ نوائے وقت کے دفتر میں جاگ کر گزاری تھی۔ جس طرح بارہ اکتوبر 1990 کو نواز شریف کی حکومت کے خاتمے سے حوالے سے نام ور افسانہ نگار اشفاق احمد نے بارہویں شریف کا نام دیا تھا اسی طرح ہم نے بھی ستائیس اکتوبر کے رت جگے کو ستائیسویں کی رات قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس مرتبہ ستائیسویں کی رات عیسوی کیلنڈر کے حساب سے آئی ہے۔ ایٹمی دھماکے

Read more

لیاری۔ مارا ماری سے کانا یاری تک

ملک کے ناخداؤں نے لیاری میں دانستہ خون ریزی برپا کی۔ جب ایک ہی دسترخوان پر کھانا کھانے والے ساتھیوں میں ایسے اختلافات پیدا کیے گئے کہ بچھے ہوئے دسترخوان پر ہی دوست کے ہاتھوں دوست قتل ہوئے اور پھر دوستی سے دشمنی کی داستان نسل در نسل چلتی چلی گئی۔ جی ہاں بالکل گینگ آف واسع پور کی طرح لیاری کی گینگ وار بھی ایک ایسی ہی فلمی کہانی لگتی ہے لیکن یہ کوئی فلمی کہانی نہیں بلکہ رونگٹے

Read more

سیاست محروم الارث کیسے ہوتی ہے؟

لسان العصر اکبر الٰہ آبادی کے اقبال کے نام 133 خطوط حال ہی میں ڈاکٹر زاہد منیر عامر نے شائع کیے ہیں۔ قبلہ ڈاکٹر صاحب پنجاب یونیورسٹی میں اردو کے صدر شعبہ رہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف اردو لینگوئج اینڈ لٹریچر کے پہلے ڈائریکٹر ٹھہرے۔ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات میں مسند ظفر علی خان پر فائز رہے۔ جامعہ الازہر میں اردو اور مطالعہ پاکستان پڑھایا۔ ان دنوں ایران کی تہران یونیورسٹی میں پاکستان چیئر پر رونق افروز ہیں۔ علامہ اقبال

Read more

تحریک انصاف کی مزاحمتی سیاست: ایک موقع یا مغالطہ؟

پاکستان تحریک انصاف گزشتہ دو برس سے مقتدر حلقوں کے زیرِ عتاب ہے۔ اگرچہ بظاہر یہ جماعت اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے کے ساتھ سامنے آئی ہے، لیکن اس کے اندرونی رویے میں فوج مخالف جذبات کی کوئی گہرائی نظر نہیں آتی۔ ”حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف آج بھی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بھرپور مزاحمت اور اقتدار کے حصول میں اس کے کردار کو مکمل طور پر مسترد کرنے کے لیے ذہنی طور پر آمادہ نہیں ہے۔ 1979 میں ذوالفقار علی بھٹو

Read more

ایٹمی دھماکوں میں ڈاکٹر قدیر خان کا کردار ۔۔۔ نذیر ناجی کے تاریخی انکشافات

ستائیس برس قبل 28 مئی 1998 کو پاکستان نے چاغی کے پہاڑوں میں ایٹمی دھماکے کئے تھے۔ اس موقع پر ڈاکٹر قدیر خان کو بوجوہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کا بانی اور ہیرو قرار دیا گیا۔ ٹھیک پندرہ برس بعد مئی 2013 میں ملک کے معروف صحافی نذیر ناجی مرحوم نے ان دھماکوں میں ڈاکٹر قدیر خان کے کردار کا پول کھول دیا۔ واضح رہے کہ 1998 میں نذیر ناجی وزیر اعظم نواز شریف کے اندرونی حلقے کا حصہ تھے

Read more

شناخت کے دھاگے، قوم کے ستون: سندھ کی لازوال میراث

اجرک کے شوخ رنگ اور سندھی ٹوپی کی پیچیدہ دست کاری محض روایتی لباس سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ یہ وادی سندھ کی تہذیب کی جیتی جاگتی تاریخ ہیں، ایک ایسی شناخت سے ٹھوس روابط جو اس سرزمین پر ہزاروں سالوں سے پروان چڑھی ہے۔ یہ علامات، جو سندھ کی مقامی ہیں اور بلوچستان نیز جنوبی پنجاب کے سرائیکی بیلٹ میں بھی (مختلف رنگوں اور ڈیزائنوں کے امتزاج کے ساتھ) قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں، ایک ایسے ثقافتی

Read more

دو ہمسایہ ایٹمی طاقتیں ہمہ وقت حالتِ جنگ میں

دو ملکوں کے درمیان جنگ تو دور کی بات ہے مجھے گلی محلے میں ایک دوسرے کا گریبان پکڑے افراد کو دیکھ کر بھی خوف آتا ہے۔ ایسے رویے کے ساتھ ’’امن پسندی‘‘ کا ڈرامہ رچایا جا سکتا ہے۔ سچی بات مگر یہ ہے کہ میں ایک بزدل اور خوفزدہ آدمی ہوں۔ جنگوں سے گھبراہٹ کے باوجود مگر صحافتی ذمہ داریوں کی وجہ سے افغانستان،عراق اور لبنان میں برسرزمین جاکر وہاں جاری رہی قیامتوں کا مشاہدہ کیا۔ پاکستان اور بھارت

Read more

جنہوں نے خاموشی بیچی وہ آج بولنے کا حق نہ لیں

وفاقی حکومت کا سندھو دریا پر کینالز بنانے کے منصوبے سے پیچھے ہٹنا دراصل سندھ کے عوام کی زبردست جدوجہد اور مسلسل مزاحمت کا نتیجہ ہے نہ کہ کسی آئینی، اخلاقی یا پارلیمانی اصول کی پاسداری کا ثبوت۔ وفاقی حکومت کی یہ پسپائی واضح کرتی ہے کہ جب تک عوام سڑکوں پر نہ آئیں اپنی زمین، پانی اور شناخت کے لیے آواز بلند نہ کریں اس نظام سے کسی خیر کی توقع عبث ہے۔ وفاقی حکومت کا فیصلہ عوامی دباؤ

Read more

چاغی کی گواہی: جب ڈاکٹر عبدالقدیر نے تاریخ رقم کی

پاکستان کی تاریخ میں چند ایام ایسے ہیں جو قوم کی تقدیر کا تعین کرتے ہیں۔ 28 مئی 1998 ء کا دن، جسے ہم یومِ تکبیر کے نام سے یاد کرتے ہیں، انہی میں سے ایک ہے۔ یہ دن صرف ایٹمی تجربہ نہیں تھا بلکہ ایک مکمل فکری، سائنسی، عسکری اور قومی جدوجہد کا عملی اظہار تھا۔ مگر اگر اس دن کی کوئی آواز ہے، تو وہ سب سے پہلے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ہے، جنہوں نے علم، عزم اور

Read more

یوم تکبیر: بڑے زوروں سے منوایا گیا ہُوں

ممتاز شاعر اور قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندھری مرحوم کا یہ مصرع ”بڑے زوروں سے منوایا گیا ہُوں“ ان نازک حالات کی تصویر کشی کرتا دکھائی دیا جو پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کو عالم اسلام کی پہلی جوہری قوت بننے میں پیش آئیں۔ اسے رکاوٹوں اور عالمی طاقتوں کے دباؤ اور مشکلات کے کئی دریا عبور کرنے پڑے۔ یوم تکبیر اپنے نام کی طرح قومی توقیر اور ہمارے خوابوں کی تعبیر کا دن ہے۔ زندہ قومیں اپنے

Read more

پاک بھارت تنازع کے تناظر میں، تاریخ، سیاست، دفاع اور قومی یکجہتی

حالیہ پاک۔ بھارت تنازع، جو مئی 2025 ء میں بھارت کے میزائل حملوں سے شروع ہوا، نے پاکستان کی عسکری طاقت اور قومی اتحاد کو عالمی سطح پر اجاگر کیا۔ بھارت نے آپریشن سندور کے نام سے 22 اپریل 2025 ء کو پہلگام حملے کے جواب میں شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، لیکن پاک فضائیہ اور فوج نے پانچ بھارتی لڑاکا طیاروں کو گرانے سمیت بھرپور جوابی کارروائی کی، جسے آپریشن بنیان مرصوص کا نام دیا گیا۔

Read more

تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو

ہے اپنی یہ صلاح کہ سب زاہدان شہر اے دردؔ آ کے بیعت دست سبو کریں یہ مقطع خواجہ میر درد کی اسی غزل کا ہے جس کے تیسرے شعر کا پہلا مصرع ڈاکٹر قاسم بگھیو نے اپنی کتاب کا عنوان بنانے کے لیے اٹھایا ہے۔ تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو۔ ڈاکٹر بگھیو کا مزاج ایسا ہے کہ وہ شہر بھر کے زاہدوں کو دست ِ سبو پر بیعت کا درس دیتے مل سکتے ہیں ؛ مگر اس

Read more

ذکر ”مرد آہن محمد نواز شریف“ کی کتاب کی تقریب رونمائی

ٓانفارمیشن سروس اکیڈمی کا ہال کچھا کچھ بھرا ہوا تھا ہال میں جتنی نشستوں پر سامعین براجمان تھے اتنی تعداد میں کھڑے تھے وفاقی دار الحکومت اسلام آباد میں طویل عرصہ کے بعد غیر سرکاری پلیٹ فارم پر علمی ادبی و نیم سیاسی نوعیت کی تقریب منعقد ہوئی جس میں وفاقی وزراء، سیاست دانوں، ادیبوں اور صحافیوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی یہ اپنی نوعیت کی منفرد تقریب تھی جس شخصیت کے بارے کتاب لکھی گئی ہے اس (محمد

Read more

امریکہ کا بھارت کو حیران و پریشان کرنے والا مشورہ

غالب کا ’’ہم کہاں کے دانا تھے…؟‘‘ والا سوال عرصہ ہوا اپنی جبلت کا حصہ بنا لیا ہے۔ بھارتی حکومت کی جانب سے میرا نہ ہونے کے برابر ’’نصرت جاوید آفیشل‘‘ کے نام سے چلایا یوٹیوب چینل بند ہوا تو خیال آیا کہ کسی نہ کسی کے دل میں کہیں نہ کہیں میرے بیان کردہ خیالات اب بھی کانٹے کی طرح چبھ جاتے ہیں۔ ڈیٹا اکٹھا کرنے کی صلاحیت مجھ کو میسر نہیں۔ وہ مل بھی گئی تو شاید یہ

Read more

پلیز ڈاکٹر یاسمین راشد کو فوراً رہا کیا جائے

ڈاکٹر یاسمین راشد نے 1978 میں فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی سے ایم بی بی ایس کیا۔ 1984 میں رائل کالج آف اوبسٹریٹیشن اور گائنو کالوجسٹ سے ایم آرسی او جی کی ڈگری حاصل کی جو کہ دنیا میں اس شعبے میں گولڈ سٹینڈرڈ مانی جاتی ہے۔ اس ڈگری کے حاصل کرنے کے دس سال بعد انہیں ایف آر سی او جی کا اعزازی ٹائیٹل ملا جو کہ ان لوگوں کو دیا جاتا ہے جو اپنے شعبے میں ریسرچ کرنے، پڑھنے،

Read more

نواز شریف کی میدان سیاست میں واپسی (2)

سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے 9 اپریل 1981ء کو پنجاب کے وزیر خزانہ کی حیثیت سے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا وہ گزشتہ 40 سال سے ملکی سیاست میں اپنا رول ادا کر رہے ہیں میاں نواز شریف کی 40 سالہ سیاسی زندگی میں جہاں تخت کی رعنائیاں شامل ہیں وہاں قید و بند کی صعوبتوں اور جلاوطنی بھی ان کی سیاسی زندگی کا حصہ ہے نواز شریف تین بار ملک کے وزیر اعظم منتخب ہوئے لیکن

Read more

ڈھٹائی کی بھی ایک حد ہے

ہر بات کی طرح ڈھٹائی کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ تاہم بھارت کی بے شرمی اور ڈھٹائی کی کوئی حد نہیں ہے۔ جب بھی بھارت میں دہشت گردی کا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے، وہ فوری طور پر اس کا الزام پاکستان پر لگا دیتا ہے۔ اس ضمن میں وہ کسی تحقیق اور تفتیش کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ ماضی میں بھی اس کا یہی چلن تھا۔ آج بھی اس کا یہی وتیرہ ہے۔ پہلگام میں ہونے والی دہشت

Read more

طالبان کے قدموں تلے کچلا افغانستان

پاکستان کی مقتدرہ نے ہمیشہ افغانستان کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست ماننے کے بجائے اسے اپنا پانچواں صوبہ سمجھا ہے۔ موجودہ سیاسی لیڈرشپ میں آدھے تو ضیاء الحق کو اپنا پدر تسلیم کرتے ہی ہیں۔ ہم نے ان لوگوں کے پدر خانوں میں بھی ضیاء کا نام دیکھا ہے۔ جو اپنا امام ذوالفقار علی بھٹو کو مانتے ہیں۔ خیر یہ بات کسی سے ڈکی چھپی تھوڑی ہے۔ کہ حکمت یار، ربانی اور مسعود کن کی حکومت کے دوران مملکت

Read more

طنز و مزاح کے آئن سٹائن معین اختر

ٹی وی، سٹیج کے نامور مزاحیہ اداکار، میزبان، نقیب، نقال، گلوکار اور فلمی اداکار، معین اختر نے 24 دسمبر 1950 کو کراچی میں جنم لیا۔ ان کے والد کا نام محمد ابراہیم محبوب تھا۔ 6 ستمبر 1966 کے یوم دفاع پر انہوں نے اپنی پہلی ادا کاری کے جوہر دکھائے۔ ضیاء محی الدین شو میں اپنے فن کا جادو جگایا۔ انہوں نے پاکستان کی تمام بڑی زبانوں اردو، پنجابی، سندھی، گجراتی، میمنی اور بنگالی میں ادا کاری کی۔ وہ مزاحیہ

Read more

قصہ ڈاکٹر ہارون اور ان کے آشرم کا

                                    پروفیسر ہارون احمد صاحب سے پہلی ملاقات ایک کالج کے طالبعلم کی حیثیت سے لگ بھگ 4 دہائیوں قبل ہوئی، 80 کی دہائی، ملک بھر میں جنرل ضیاء کے آمرانہ دور کی سیاہ پرچھائیاں قومی تشخص پر مذہبی جماعتوں، افغان جہاد کی جنونیت اور ریاستی جبر کے تسلط کا ماسک چڑھانے کی کوششیں، معاشرے کے گرد گھٹن کے جالے جنھوں نے تعلیمی

Read more

ذہانت پر ”دیدہ وروں“ کی اجارہ داری

سیاست کے بارے میں ان دنوں ایک لفظ لکھنے کو بھی دل مائل نہیں ہوتا۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ جسے 1970 ء کی دہائی سے ”سیاست“ سمجھتا رہا وطن عزیز میں عرصہ ہوا ختم ہو چکی ہے۔ 1980 ء کی دہائی کے وسط میں جنرل ضیاء نے حبیب جالب کے بتائے ”یہ جو دس کروڑ ہیں۔ جہل کا نچوڑ ہیں“ یعنی گلی محلوں میں رینگتے ”عوام“ کے منتخب نمائندوں کو غیر جماعتی انتخاب کے نتیجے میں اقتدار و

Read more

جنگل میں رات اور خواب کی تھکن

بہار اس برس کچھ عجب رنگ سے آئی ہے۔ مارچ کٹ گیا اور اپریل گزرنے کو ہے۔ شاخوں پر جہاں تہاں پتے تو نکلے مگر ہوا میں بہار کی خوشبو نہیں لہرائی۔ آسمان پر اس دھانی چادر نے اپنا جادو نہیں دکھایا جو جاڑے کی کاٹ دار ٹھنڈک اور گرما کی جھلسا دینے والی تپش میں چند ہفتوں کے لئے خوشی بن کر گلیوں، بستیوں، کھیتوں اور میدانوں پر اترتی تھی۔ موسموں کے شناور بتا رہے ہیں کہ کرہ ارض

Read more

کیا بھٹو کے دادا نے ہندو مختیار کار کو قتل کیا؟

تحریر و تحقیق: علی بھٹو ترجمہ و تدوین: اسرار ایوبی 2 نومبر 1896 کو وڈیرہ غلام مرتضیٰ بھٹو، جو بعد میں پاکستان کے وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دادا بنے، صبح 7 بج کر 35 منٹ پر نوڈیرو سے لاڑکانہ جانے والی ریل گاڑی پر سوار ہوئے۔ یہ نوجوان وڈیرہ دودا خان بھٹو کا پوتا تھا، جو بالائی سندھ کے سرحدی ضلع کا سب سے بڑا زمیندار اور شکارپور کلکٹریٹ کے ممتاز ترین افراد میں شامل تھا۔ اسی صبح،

Read more

بلوچستان پر خاموشی آخر کب تک؟

جعفر ایکسپریس پر ہوئے حملے کے بعد سے بلوچستان کے بارے میں لکھنے سے پہلے سوبار سوچنا پڑتا ہے۔ وجہ اس کی ریاست یا انتہا پسندوں کا خوف نہیں۔ ذہن کو مفلوج بنانے کا سبب دونوں فریقین کا تعصب ہے۔ ریاست کے طاقتور ادارے بلوچستان کے ہر مسئلہ کی وجہ فقط بیرونی مداخلت اور سازش کو ٹھہراتے ہیں۔ مقصد جس کا قدرتی وسائل سے مالامال اس صوبے کی چین جیسے دوستوں کی مدد سے ترقی اور خوشحالی کو روکنا ہے۔

Read more

بلاول کا اعلان جنگ: کیا پیپلز پارٹی یہ جنگ جیت سکتی ہے؟

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے اس اعلان کو موجودہ حکومت کے خلاف اعلان جنگ سمجھنا چاہیے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ سندھ اور پاکستان کے عوام کینال کے منصوبے کو مسترد کرتے ہیں۔ وفاقی حکومت فوری طور پر یہ متنازع منصوبہ واپس لے ورنہ پیپلز پارٹی اس کے ساتھ نہیں چلے سکے گی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پیپلز پارٹی یہ جنگ جیت سکتی ہے اور کیا ’وفاقی حکومت‘ واقعی اس کینال منصوبے

Read more

پاکستان کی سیاست اور جیلیں!

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہمیشہ انتخابات کے نتیجوں میں ایسی حکومتیں آنی چاہئیں جو ملک کے عوام کی اُمیدوں، ضرورتوں اور خواہشات کو نہ صرف سمجھیں بلکہ ان سب چیزوں کا مداوا بھی کریں۔ پاکستان میں متعدد انتخابات ہوتے رہے مگر صرف مراعات یافتہ طبقے ہی کے افراد کامیابی کے زینوں پر چڑھتے رہے۔ پاکستان کی سیاست کا منظر نامہ ہمیشہ ہی سے ہنگامہ خیز رہا ہے۔ پاکستان کی مختصر سی سیاسی تاریخ کو پڑھنے سے پتا چلتا

Read more

دس اپریل اور حسنِ اتفاق

دو دن قبل 10 اپریل کی تاریخ گزری ہے۔ 10 اپریل کی تاریخ دنیا بھر میں بہت سے واقعات کے اعتبار سے اہم ہے۔ آئیے اِن واقعات کا مختصر مطالعہ کرتے ہیں جو دلچسپی سے بھرپور ہیں۔ کیلنڈر کا 100 واں دن دس اپریل کہلاتا ہے جس کے بعد سال میں 265 دن رہ جاتے ہیں۔ اپریل کی دس تاریخ نیوکلیئر ٹیسٹ کے حوالے سے نمایاں مقام حاصل کرچکی ہے۔ یہ محض اتفاق تھا یا کوئی اور وجہ کہ سوویت

Read more

ہائی سکول میں داخلہ

چھٹی جماعت میں ایک تو انگریزی کا نیا مضمون شروع ہوا تھا اور دوسرا عربی، فارسی اور ڈرائنگ تینوں مضامین میں سے ایک رکھنا تھا۔ میں نے ایک اچھا مسلمان ہونے کی حیثیت سے عربی زبان سیکھنے کو باقی دونوں مضامین پر ترجیح دی۔ ہمارے کلاس انچارج خوشی محمد صاحب پریاں والے تھے۔ پریاں والا اُن کے گاؤں کا نام تھا۔ جہاں وہ رہائش پذیر تھے۔ وہ ہمیں ریاضی اور اُردو کے مضامین پڑھایا کرتے تھے۔ انتہائی محنتی اور سنجیدہ

Read more

قوم پرست سیاست ناکامی کے محرکات

پاکستان میں قوم پرستی کی سیاست کی بڑی پرانی تاریخ رہی ہے اس سیاست کا محور زیادہ تر وہ علاقے رہے ہیں جہاں کے لوگوں کو سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی محرومیوں کا سامنا رہا ہے جیسے بنگال، بلوچستان، خیبر پختونخوا، سندھ اور کسی حد تک جنوبی پنجاب کا علاقہ شامل ہے۔ نیپ کا قیام 1957 میں سامنے آیا جب پشتون، بلوچ، بنگالی اور سندھی بائیں بازو کے سوشلسٹ، ترقی پسند اور قوم پرست رہنماؤں نے نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کی

Read more

بلوچستان میں بد امنی کے اسباب اور حل

بلوچستان، جو رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، ترقی کے لحاظ سے باقی ملک سے کافی پیچھے ہے۔ یہاں کے عوام طویل عرصے سے احساسِ محرومی کا شکار ہیں، جس کی بنیادی وجوہات میں بنیادی سہولیات کی کمی، تعلیمی اور معاشی پسماندگی اور سیاسی عدم استحکام قابل ذکر عوامل ہیں۔ اسی طرح بلوچستان کی سیاست میں روایتی قبائلی نظام کا گہرا اثر رہا ہے۔ یہاں کے سردار اور نواب تاریخی طور پر طاقت کے مراکز

Read more

بڑا کم ظرف تھا جو کر گیا ویراں شاموں کو

30 نومبر 1967 کو جب پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی گئی تو نوجوان احمد رضا قصوری بھی اس میں شامل ہو گئے۔ ان کے خاندان نے 1970 سے پہلے کبھی کسی یونین کونسل کا الیکشن بھی نہیں جیتا تھا۔ 7 دسمبر 1970 کو پاکستان کے پہلے اور تباہ کن عام انتخابات میں احمد رضا قصوری بھی پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر 30 سال کی عمر میں قومی اسمبلی کے رکن بن گئے لیکن کچھ عرصے بعد اپنے مزاج کی

Read more

پاکستان کی سیاست اور جیلیں

ہونا تو یہ چاہیے کہ ہمیشہ انتخابات کے نتیجوں میں ایسی حکومتیں آنی چاہئیں جو ملک کے عوام کی اُمیدوں، ضرورتوں اور خواہشات کو نہ صرف سمجھیں بلکہ ان سب چیزوں کا مداوا بھی کریں۔ پاکستان میں متعدد انتخابات ہوتے رہے مگر صرف مراعات یافتہ طبقے ہی کے افراد کامیابی کے زینوں پر چڑھتے رہے۔ پاکستان کی سیاست کا منظر نامہ ہمیشہ ہی سے ہنگامہ خیز رہا ہے۔ پاکستان کی مختصر سی سیاسی تاریخ کو پڑھنے سے پتا چلتا ہے

Read more

بیرسٹر عبدالحمید بھاشانی بھی جہان فانی سے کوچ کر گئے

امیر جعفری کا جب پیغام آیا کہ ہمارے مشترکہ دوست بیرسٹر بھاشانی بھی جہان فانی سے کوچ کر گئے تو میں چند لمحوں کے لیے ماضی کی بھول بھلیوں میں کھو گیا اور میرے ذہن کے نہاں خانوں میں چند یادیں سرگوشیاں کرنے لگیں مجھے وہ شام یاد ہے جب میرے کامریڈ دوست سید عظیم نے مجھ سے کہا تھا "میں ایک وکیل دوست سے ملنے گیا تھا۔ ان کا نام عبدالحمید بھاشانی ہے۔ میں سمجھا تھا وہ کمیونسٹ ہوں

Read more

سیاسی انبوہ میں تنہا، تاج حیدر

ستر کے عشرے میں کراچی یونیورسٹی میں این ایس ایف (رشید حسن خان گروپ) کے طلبہ کراچی کے جن نوجوان رہنماؤں اور دانشوروں سے متاثر تھے۔ ان میں سر فہرست معراج محمد خان اور تاج حیدر تھے۔ تاج حیدر کی شادی اسی زمانے میں ہوئی تھی اور ہمارے گروپ کے طلبہ ان کے ولیمے میں مدعو تھے۔ مجھے یاد ہے میں نے ریگل چوک سے انہیں تحفے میں دینے کے لئے داس کیپیٹل کا تین جلدوں پر مشتمل سیٹ خریدا

Read more

ذوالفقار علی بھٹو، نواز شریف اور عمران خان

پاکستان کی سیاست کا المیہ ہے۔ انتقام کی سیاست ایک دوسرے کا وجود ہی ختم کرنے کی کوشش میں اپنا بھی سب کچھ اس آگ میں بھسم کر دیتی ہے جب نوبت یہاں تک پہنچ جائے کہ ”میں نہیں تو کچھ بھی نہیں“ تو پھر سیاسی نظام کا تلپٹ ہوجانا غیر معمولی بات نہیں ہوتی۔ اقتدار پر قبضہ کرنے اور سیاسی مخالف کو اقتدار سے نکالنے کے لئے ہر حربہ کو جائز تصور کر لیا جائے اور بات ”قبر“ ایک

Read more

ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل

ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے عہد وزیر اعظم میں بہ لحاظ عہدہ جس زریں جرنیل کو فوج کا سربراہ بنایا اسی ضیاء الحق نے 5 جولائی 1975 کو اس کی حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لاء لگا دیا جو 11 برس پر محیط رہا۔ اس وقت بھی ایک سازش کے تحت آج ہی کی طرح تقریباً ساری سیاسی جماعتیں پی پی کے خلاف اتحادی بن گئیں تھیں جنھوں نے کھل کر ضیائی مارشل کی حمایت کی تھی، مٹھائیاں بانٹیں

Read more

نئی نہروں کے سوال پر بڑھتا تنازع

’گرین پاکستان انیشیٹو‘ کے تحت چولستان میں نہر نکالنے کے سوال پر سندھ میں بڑھتے ہوئے احتجاج کے بعد اب پیپلز پارٹی بھی ’سندھو پر دریا نامنظور‘ کا نعرہ لگا کر نہروں کے نئے منصوبے کے خلاف اعلان جنگ کر رہی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ روز ذوالفقار علی بھٹو کی 46 ویں برسی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ وفاق کے حامی ہیں لیکن سندھ کو اس کے حق سے محروم نہیں ہونے دیں

Read more

شہید ذوالفقار علی بھٹو – ایک عہد ساز شخصیت

ذوالفقار علی بھٹو کا نام پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک ایسے رہنما کے طور پر درج ہے جس نے ملک کو ایک نئی سمت دی۔ 4 اپریل 1979 کو انہیں ایک متنازع عدالتی فیصلے کے نتیجے میں شہید کر دیا گیا، لیکن ان کے نظریات اور خدمات آج بھی عوام کے دلوں میں زندہ ہیں۔ ان کی برسی نہ صرف ان کی یاد تازہ کرنے کا موقع ہے قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو ایک سحر انگیز شخصیت ذاتی قابلیت

Read more

4 اپریل اور شہید ذوالفقار علی بھٹو کی خدمات، قربانی، جمہوریت اور پاکستان

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایسے رہنما کم ہی ملتے ہیں جو عوام کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو بھی انہی میں سے ایک ہیں۔ وہ نہ صرف ایک سیاستدان تھے بلکہ ایک مدبر، مداح اور وژنری لیڈر بھی تھے، جنہوں نے پاکستان کو جدید بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے انقلابی اصلاحات کیں۔ میں سوچتا ہوں کہ کاش اسے شہید نہ کیا ہوتا، کاش 4 اپریل تاریخ میں نہ آیا ہوتا، کاش بھٹو شہید کا

Read more

جو قتل ہوا، وہ زندہ ہے

ذوالفقار علی بھٹو برصغیر کی تاریخ میں مخلوق خدا، مسلمانوں اور پھر ان دونوں میں موجود اکثریتی تعداد یعنی غریب، کمزور، بے بس، مقہور، مظلوم، بدبختیوں کے شکار انسانوں کے مایوس صحرا میں ان کے لئے صدائے ایمان و یقین، صدائے عزم و جہد، صدائے وقار و احترام بن کے ابھرا، گونجا، چمکا، تھرتھرایا، لوگوں نے اسے جئے بھٹو کے جھنکار آمیز نعروں کی یلغار میں کندھوں پہ اٹھا کے اعلان کیا، ہم ذلت کے مارے لوگوں کی صف میں

Read more

اپنی زنجیریں ہمیں خود توڑنا ہوں گی

پاکستان جیسے ملک کبھی ’’تیسری دنیا‘‘ کا حصہ تصور ہوتے تھے۔ آبادی کے اعتبار سے دنیا میں تقریباََ اکثریت کی حامل یہ دنیا خود کو سرمایہ دار اور کمیونسٹ کیمپوں سے الگ سمجھتی تھی۔ سامراج کی غلامی سے آزادی کے بعد بھی لیکن ان ممالک کی حکمران اشرافیہ کو سرد جنگ کے دوران مذکورہ بالا کیمپوں میں سے کسی ایک کا ساتھ دینا ضروری تھا۔ یہ ساتھ ملک میں ’’استحکام اور خوشحالی‘‘ کی خاطر جائز ٹھہرایا جاتا۔ ہماری حکمران اشرافیہ

Read more

’بھٹو کی پھانسی‘ : ٹونی عثمان کا نیا اسٹیج ڈرامہ

پاکستانی نارویجئن ڈائریکٹر، کہانی نویس اور اداکار ٹونی عثمان پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت کے بارے میں اسی عنوان سے ایک اسٹیج ڈرامہ پیش کرنے والے ہیں۔ پروگرام کے مطابق اس ڈرامہ کا پریمیم 9 اکتوبر کو اوسلو کے ایک تھیٹر میں ہو گا۔ 4 اپریل کو ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر ’کاروان‘ نے بھٹو کو سزائے موت کے موضوع اسٹیج ڈرامہ پیش کرنے کے حوالے سے ٹونی عثمان سے بات

Read more

متنازع کینالز کے خلاف سندھ میں احتجاج، قیادت کون کر رہا ہے؟

سندھ میں احتجاجی تحریک کون چلا رہا ہے؟ پیپلز پارٹی اتنی دفاعی پوزیشن لینے پر مجبور کیوں ہو گئی ہے؟ اس کا کس طرح سے حل نکالا جا سکتا ہے؟ ملک کے بڑے بڑے تجزیہ کار جب اپنی رائے دیتے ہیں تو ان کی باتوں سے صاف لگتا ہے کہ وہ سندھ کی زمینی حقائق سے بے خبر ہیں۔ کوئی سمجھتا ہے پیر پگارا کی فنکشنل لیگ اس احتجاج کو لیڈ کر رہی ہے، کوئی جی ڈی اے میں شامل

Read more

مریم نواز کی حکومت کا ایک سال (آخری قسط)

مریم نواز کی حکومت کا ایک سال مکمل ہونے پر حکومت پنجاب کی جانب سے شائع ہونے والے سپلیمنٹ نے اپوزیشن کو تنقید کا موقع مل گیا دیدہ زیب سپلیمنٹ کے ہر صفحہ پر مریم نواز کی بڑی تصویر بھی اپوزیشن کی آنکھوں میں چبھتی تھی۔ اگر ہر صفحہ پر مریم نواز کی تصاویر کی بجائے پراجیکٹس بارے میں مواد و تصاویر شائع کی جاتیں تو یہ ”کاؤنٹر پروڈکٹو“ نہ ہوتا مریم نواز اب سوشل میڈیا پر کسی مہم کی

Read more

عوام ناخواندہ ہو سکتے ہیں جاہل نہیں

” پاکستان ایک نازک دور سے گزر رہا ہے لیکن اس میں نئی بات کیا ہے ؔ؟“ جب یہ طنزیہ جملہ، بڑے پیمانے پر لکھا، بولا اور سنا جانے لگے تو اس سے لطف لینے کی بجائے اپنی لاچارگی پر ماتم کرنا چاہیے۔ اس طرح کی کڑوی اور زہر میں بجھی باتیں مفلس عوام کم، دانشور، متوسط و خوش حال طبقات کے لوگ زیادہ کرتے ہیں۔ ایسی باتیں کرنے والوں سے جب ملک کے اس حال تک پہنچنے کا سبب

Read more

ذوالفقار علی بھٹو اور نشانِ پاکستان

وطن عزیز پاکستان کے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو پاکستانی سیاست کا ایک ایسا نام ہیں جن کی سیاست سے آپ اختلاف کریں یا اتفاق لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ پاکستانی سیاست نہ صرف ان کے ذکر کے بغیر نا مکمل ہے بلکہ انہوں نے پاکستانی سیاست پر اتنے گہرے نقوش چھوڑے ہیں کے آج بھی پاکستانی سیاست میں ان کے نام کی گونج سنائی دیتی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ہی پاکستانی سپریم کورٹ نے ذوالفقار

Read more

شہنشاہ جذبات ادا کار محمد علی کا 19 واں یوم وفات

پاکستانی فلمی صنعت کی مختصر تاریخ ادا کار محمد علی کے ذکر کے بغیر بالکل ہی ادھوری رہے گی۔ انہوں نے 33 برس تک پاکستانی فلمی صنعت پر راج کیا۔ 1962 ء میں ہدایت کار فضل کریم فضلی کی، فلم چراغ جلتا رہا، سے اپنا فلمی عہد شروع کیا۔ اس فلم کا افتتاح محترمہ فاطمہ جناح نے کیا اور یہ فلم کراچی کے نشاط سنیما میں نمائش پذیر ہوئی۔ چراغ جلتا رہا اتنی کامیاب فلم ثابت نہ ہوئی لیکن یہ

Read more

پاکستان کی کہانی، ایک تصویر کی زبانی

پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں پاکستانیوں نے یوم قرار داد پاکستان جوش و خروش سے منایا۔ صدر مملکت آصف زرداری نے ایوان صدر اسلام آباد میں ایک پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی پالیسی کو مختصر اور جامع انداز میں بیان کیا۔ اگرچہ صدر زرداری کو تقریر پڑھنے میں اور سننے والوں کو سمجھنے میں دشواری کا سامنا تھا۔ اس ضعف اور لکنت کی وجہ سے بجا طور سے یہ سوال اٹھایا جائے گا کہ کیا معذوری

Read more

وفاداری بشرط استواری

ہمارے بچپن کی یادوں میں پرائمری جماعت کے درس عمر کے کسی حصے میں بھی فراموش نہیں ہوتے، ان نصابی اسباق میں اکثر سماجی برائیوں کے نقصانات کو سبق یا کہانی کی صورت میں پیش کیا جاتا تھا، ہمیں سبق کے ذریعے دھوکہ دہی اور جھوٹ کی لعنت سے دور رہنے کی تلقین کی جاتی تھی تاکہ ہمارے اندر سماجی تہذیب و شائستگی کے ساتھ سماج کے برتاؤ میں ایماندار رہنے پر ترجیح دی جائے اور ہمیں جھوٹ اور دھوکہ

Read more

تحریک نظام مصطفیٰ کا شہرہ آفاق کمالیہ نکیل کیس

21 مارچ 1977 کو پنجاب کے تاریخی شہر کمالیہ میں وقوع پذیر ہونے والے اس شرم ناک مگر شہرہ آفاق کمالیہ نکیل کیس کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی حکومت کی میعاد ختم ہونے سے قبل ہی عام انتخابات کا اعلان کر دیا۔ ان کا خیال تھا کہ اپوزیشن جماعتوں نے اپنی ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ کی الگ الگ مساجد بنا رکھی ہیں، لہذا وہ دو تہائی اکثریت کے ساتھ آسانی سے یہ انتخابات جیت

Read more

بلوچستان میں سیاسی مذاکرات کی تاریخ اور انجام

سانحہ جعفر ایکسپریس کے بعد بلوچستان میں موجود علیحدگی پسندوں سے نمٹنے کے لیے دو نظریات پر بہت زوروشور سے بحث ہو رہی ہے۔ پہلا یہ کہ اس مسئلے کے سیاسی حل کی طرف جایا جائے اور مذاکرات کی راہ اختیار کی جائے۔ دوسرا یہ کہ اس مسئلے کا حل صرف فوجی آپریشن ہی ہے۔ یہ دونوں نظریات نئے نہیں ہیں کیونکہ بلوچستان میں علیحدگی پسندی کا رجحان پاکستان بننے کے فوراً بعد سے ہی شروع کروا دیا گیا تھا۔

Read more

روایتی صحافت کی تباہی

امریکی صدر ٹرمپ نے بالآخر ’’وائس آف امریکہ‘‘ کو بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس کے واشنگٹن میں موجود دفاتر کو تالے لگا کر ملازمین کو فی الوقت دو ماہ کی جبری رخصت پر بھیج دیا گیا ہے۔ اس فیصلے سے امریکہ ہی میں نہیں بلکہ دنیا کے بے تحاشہ ممالک میں صحافی ہزاروں کی تعداد میں بے روزگار ہوں گے۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ وائس آف امریکہ کی بندش دنیا میں صحافت کے شعبے

Read more

مولانا کوثر نیازی

ایک اعلیٰ پائے کے سیاست دان، عالم دین، خطیب و مقرر، شاعر، صحافی، ادیب اور دانشور تھے۔ فروری 1934 ء کو میانوالی کے مردم خیز علاقہ موسیٰ خیل میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے۔ ان کے والد فتح خان نیازی اور چچا مظفر خان نیازی اپنے علاقے کی پر اثر شخصیات تھیں۔ کوثر نیازی کا پیدائشی نام محمد حیات خاں تھا۔ مدرسہ کی ابتدائی تعلیم کے دوران ہی شعر و شاعری شروع کر دی تو اپنا

Read more

دیپ جلتے رہے: عفت نوید کی کتاب

2024 کے نومبر میں کراچی کے ایک ہوٹل کی لابی میں میری ملاقات عفت نوید سے ہوئی۔ مجھے اعزاز بخشا اور ملنے آئیں۔ ملاقات بہت مختصر رہی۔ تنگی وقت نے سیراب نہ ہونے دیا۔ لوگ دوچار ملاقاتوں میں کھلتے ہیں ہم اتنے کم وقت میں ہی کھل گئے۔ عفت سے مل کر یوں لگا جیسے کوئی سہیلی بچپن کی۔ ہم نے باتیں بھی کیں اور ہنسے بھی۔ عفت نے اپنی کتاب بھی مجھے دی۔ عفت کو جانے کی جلدی تھی

Read more

پاکستانی سیاست کا المیہ: حکومت اور اپوزیشن کی نورا کشتی

میں آج تک سیاست پر رقم طراز نہیں ہوا۔ ہمیشہ مسائل پر بات کی ہے۔ لیکن پاکستانی سیاست کا ایک پہلو نہایت اہم ہے جس پر بات کرنا بے حد ضروری ہے جس کا سلسلہ ذوالفقار علی بھٹو کے وزیر اعظم بننے سے شروع ہوا۔ ہمارے ہاں سیاسی شخصیات کا سفر جمہوری اقدار کی بنا پر طے پاتا ہے، ان کی جدوجہد جمہوری ہوتی ہے۔ لیکن یہ شاذ و نادر ہی دیکھا گیا کہ ہمارے ہاں کوئی عوام کے ووٹوں

Read more

پاکستان کی بقا بلوچستان سے جڑی ہے

نوروز خان 1860 کے آخر یا 1870 کے اوائل میں پیدا ہوئے تھے۔ یہ بلوچی بلوچستان کے زرکزئی قبیلے سے تھا جسے زہری بھی کہا جاتا ہے۔ بلوچستان کا علاقہ چار شاہی ریاستوں قلات، مکران، لسبیلہ اور خاران پر مشتمل تھا۔ یہ ریاستیں کبھی افغانیوں، کبھی ایرانیوں اور کبھی دہلی کے حکمرانوں کی مطیع رہیں۔ 1875 یعنی نوروز خان کی پیدائش تک اس علاقے میں امن تھا۔ 1875 میں برطانوی راج کی نظر جیسے ہی اس وسیع علاقے پر پڑی

Read more

ایڈورڈز کالج پر حکومتی قبضہ اور اقلیتوں میں تشویش

ایڈورڈز کالج پشاور کا مسئلہ خاص طور پر پاکستان کی مسیحی برادری کے لیے ایک اہم مسئلہ ہے، جو اس ادارے کو اپنے تعلیمی اور مذہبی ورثے کی بنیاد کے طور پر دیکھتی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سے تعلق رکھنے والے گورنر خیبر پختونخوا (کے پی) کی جانب سے بورڈ آف گورنرز (بی او جی) کے حوالے سے حالیہ نوٹیفکیشن نے ان خدشات میں شدت پیدا کر دی ہے کہ کالج کو زبردستی حکومتی کنٹرول کا نشانہ

Read more

شکرگزاری کے مریض

آج کل ہماری سیاست نسلوں سے منتقل کی گئی ”شکرگزاری“ کے لا علاج مرض میں اس قدر مبتلا ہے کہ علم اور دانش کی منتقلی کے بجائے اب ہم ”دہشت گردوں“ کی امریکا حوالگی یا منتقلی پر پھولے نہیں سما رہے اور ہمارے حکمران اور اپوزیشن کہلائی جانے والی جماعت تحریک انصاف کا بس نہیں چلتا کہ وہ صدر ٹرمپ کی قدم بوسی کر کے ”شکر گزاری“ پہ سجدہ ریز ہو جائیں اور اس وقت تک نہ اٹھیں جب تک

Read more

قومی زوال کے تین غیر ریاستی کردار (3)

تمہید میں ایک حرف تشکر واجب ہے۔ سول اینڈ ملٹر ی گزٹ پر پابندی کے حکومتی اقدام کی حمایت میں مغربی پاکستان کے 16اخبارات میں مشترکہ اداریے کا ذکر آیا تھا۔ برادر گرامی امجد سلیم علوی نے متعلقہ ریکارڈ سے نہ صرف ان سات اخبارات کی فہرست عنایت کی جنہوں نے یونین آف جرنلسٹس کے پلیٹ فارم پر حکومت پنجاب سے سول اینڈ ملٹری گزٹ کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا بلکہ 16 مئی 1949 کو روز

Read more

بہن بیٹی کے نام سے خوفزدہ معاشرہ

گزرے دسمبر میں ایک دوست کے بیٹے کی شادی تھی۔ دعوتِ ولیمہ میں ملک بھر سے اہم شخصیات شریک تھیں۔ جہاں بڑے بڑے سرکاری عہدوں پر فائز لوگ، سیاستدان، وکلا اور کاروباری شخصیات موجود تھیں وہاں کئی مذہبی رہنما بھی تھے۔ جیسا کہ ہمارے ہاں ولیمے کا کھانا کھولنے سے پہلے کسی مولانا صاحب کو دعا کے لیے کہا جاتا ہے، تو اس ولیمے میں دعا کی سعادت چکوال کے ایک معروف عالمِ دین کو حاصل ہوئی۔ دعا کے دوران

Read more

دَورِ حاضر کے "سامراج”۔

روایتی ہو یا سوشل میڈیا۔ ’’صحافت‘‘ کا بنیادی کام ہمارے ہاں ان دنوں محض چسکہ فروشی رہ گیا ہے۔ ٹی وی کے ’’کرنٹ افیئرز‘‘ کے لئے مختص پروگراموں پر توجہ ڈالیں تو وہ ایک ہی موضوع کے بارے میں فکر مند سنائی دیتے ہیں اور وہ موضوع ہے شیر افضل مروت صاحب کے تحریک انصاف کے چند سرکردہ رہ نمائوں سے اختلافات۔ مذکورہ اختلافات کے نت نئے پہلواجاگر کرتے ہوئے طے یہ کر نے کی بھی کوشش ہورہی ہے کہ

Read more

مریم نواز، جنرل اقبال، راجہ گدھ اور غریب طبقہ

دو تین روز قبل بہاولپور شہر کے پوش علاقہ سیٹلائیٹ ٹاؤن کی مرکزی سڑک حسینی چوک تا بہاری کالونی پہ ڈپٹی کمشنر نے پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ کروڑوں روپے مالیت کے بنگلوں کے سامنے سرکاری جگہ پہ قائم کی گئی تجاوزات کے خلاف آپریشن شروع کیا۔ بنگلہ اگر دس مرلہ یا ایک کنال کا تھا تو سامنے گزرتی مرکزی سڑک کے اردگرد کی جگہ جو کہ سو فٹ چوڑی ہے اس کے دونوں اطراف بنگلہ مالکان نے چاردیواری

Read more

"شعور کا بہاؤ” شیخ رشید سے شیر افضل مروت تک

ریٹنگز کے حصول کو بے قرار ٹی وی اینکروں کو ان دنوں شیر افضل مروت ویسے ہی مطلوب ہیں جیسے کسی زمانے میں ’’غریب کی چھت‘‘ کے بارے میں منافقانہ ٹسوے بہانے والے راولپنڈی کے ترجمان عصر ہوا کرتے تھے۔ 2008ء میں کافی مشکلات کا سامنا کرنے کے بعد پیپلز پارٹی چند دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر مرکز میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی تو ’’میثاق جمہوریت‘‘ کی خاطر نواز شریف کے نام سے منسوب مسلم لیگ نے اسے

Read more

سر سکندر حیات خان آف واہ سے سردار سکندر حیات تک

قیام پاکستان سے قبل کی سیاست کے ایک اہم سرخیل متحدہ پنجاب کے پہلے مسلمان گورنر و پہلے مسلمان وزیر اعظم سر سکندر حیات خان مرحوم آف واہ کے پوتے، ضلع اٹک کی تحصیل فتح جنگ سے دو مرتبہ 1988 اور 1993 میں ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہونے اور 1993 میں صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات رہنے والے سردار سکندر حیات خان کی چند ماہ بیشتر 7 اکتوبر 2024 بروز سوموار کو لاہور میں رحلت سے پنجاب کی سیاست سے

Read more

بیچارے یوکرینی

یہ 37 برس پہلے 15 مئی 1988 ء کا دن تھا جب سوویت یونین کے جدید آرمرڈ پرسونل کیریئرز نے دریائے آمو پر ہیراتن پُل کراس کر کے واپس ماسکو کی راہ لی۔ افغانستان سے سوویت یونین کی فوجوں کے انخلاء کا یہ پہلا دن تھا اور یہ عمل 9 ماہ بعد یعنی آج سے 36 برس قبل 15 فروری 1989 ء کو مکمل ہوا۔ سوویت یونین کی فوجوں کی واپسی کی کمانڈ کرنل جنرل بورِس گروموو کر رہے تھے۔

Read more

راجہ انور کی ماضی کی یادوں کا حمام

راجہ انور کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ ہم انھیں اپنے زمانہِ طالب علمی سے جانتے ہیں اور انہی دنوں میں راولپنڈی میں ایک دفعہ ان سے ملاقات بھی ہوئی تھی۔ بہت عرصہ بعد دوسری ملاقات برمنگھم میں اُن کے کالموں کی کتاب ”بازگشت“ کی تقریب رونمائی میں ہوئی۔ 2022 ءمیں برطانیہ میں قیام کے دوران ایک دن سدرہ بیٹی نے ایک کتاب کی تقریب رونمائی میں چلنے کی دعوت دیتے ہوئے بتایا کہ اس کی سہیلی انیتا

Read more

عمران خاں کی رہائی کے لئے امریکی سینیٹر جووِلسن کی منطق

امریکہ سے اپنے قائد کی رہائی کے لئے پاکستان پر دبائو کی توقع باندھنے والے عاشقان عمران خان گزشتہ ہفتے سے خوش ہیں۔ چند دن قبل جنوبی کرولینا سے کانگریس کے لئے منتخب ہوئے جوولسن نے صدر پاکستان اور وزیر اعظم کے علاوہ آرمی چیف کو بھی ایک خط لکھا۔ اس خط میں پاکستان اور امریکہ کے باہمی تعلق کا ذکر کرتے ہوئے موصوف نے دعویٰ کیا کہ ان دو ممالک کے مابین دوستی کے رشتے ان دنوں مضبوط تر

Read more

جیل بیتی۔ 2

زندانی ادب کی دو مثالیں اسی راولپنڈی جیل سے نسبت رکھتی ہیں جس کا بڑا ذکر راجہ انور کی کتاب ”بڑی جیل سے چھوٹی جیل تک“ میں ملتا ہے۔ ان دو کتابوں میں سے ایک قیدی کی لکھی ہوئی کتاب ہے اور دوسری اس جیلر کی جو اس مشہور قیدی کی قید کے دوران یہاں کا سیکیورٹی چیف تھا۔ قیدی کا نام ذوالفقار علی بھٹو تھا اور جیلر کا نام کرنل رفیع الدین۔ ”اگر مجھے قتل کیا گیا“ بھٹو صاحب

Read more

اپنا آئین اپنی مرضی: سامنے آئینہ رکھ لیا کیجئے

عمر ایوب نے شکوہ کیا ہے کہ پاکستان میں آئین پر عمل نہیں ہو رہا۔ تحریک انصاف کے لیے آئین 10 اپریل 2022 کے بعد معرض وجود میں آیا۔ اس سے قبل صحافت پابند سلاسل، سوشل میڈیا اور میڈیا پر قابو پانے کے سو سو ٹوٹکے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، قانون کی عملداری جبکہ لاپتہ افراد ریاست کے باغی اور ہزارہ لاشیں بلیک میلر قرار پائیں۔ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت میں اشتراک کے سُنہرے دن، ہائبرڈ دور کی چاندنی راتیں

Read more