غزہ میں ہوا سے پانی بنانے کا کامیاب منصوبہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسرائیلی کمپنی نے ماحولیاتی واٹر جنریٹر تیار کیے ہیں جو ہوا کی نمی سے پانی بنانے کا کام انجام دیتے ہیں۔

غزہ میں یہ پروجیکٹ فلسطینی علاقے میں قائم ہے جس کے روح رواں ایک روسی نژاد اسرائیلی ارب پتی مائیکل میریلاشویلی ہیں۔

مائیکل میریلاشویلی ‘واٹرجن’ نامی کمپنی کے سربراہ ہیں۔ اس کمپنی نے ماحولیاتی واٹر جنریٹر تیار کیے ہیں جو ہوا کی نمی پر انحصار کرتے ہیں۔ یہ جنریٹرز یومیہ پانچ ہزار سے چھ ہزار لیٹر پینے کا صاف پانی پیدا کرتے ہیں۔

نمی جذب کرنے کے بعد مشین اسے پانی میں تبدیل کر دیتی ہے اور پھر اس پانی کو فلٹر کر کے پینے کے قابل بناتی ہے۔

غزہ میں ‘واٹرجن’ کی چند ہی مشینیں کام کر رہی ہیں اس لیے وہ اسرائیل، مصر اور بحیرہ روم کے گنجان آباد علاقوں میں رہنے والے 20 لاکھ لوگوں کے لیے پانی کی مانگ پوری کرنے سے فی الحال قاصر ہے۔

واٹرجین کا دفتر غزہ سے 80 کلو میٹر شمال میں تل ابیب کے گلاس ٹاور میں واقع ہے۔ کمپنی کے سربراہ مائیکل میریلاشویلی 2009 میں روس سے اسرائیل منتقل ہوئے اور ان کے ساتھ ہی ‘واٹرجین’ کمپنی بھی اسرائیل آگئی۔ تب سے اب تک واٹرجین 80 ممالک کو اپنی مشینیں ایکسپورٹ کر رہی ہے۔

اسرائیل نے 2007 سے غزہ کی ناکہ بندی کر رکھی ہے اور اسرائیل کی کوئی کمپنی غزہ میں براہِ راست کام نہیں کر سکتی۔ اس لیے ‘واٹرجن’ کمپنی کی ہوا سے پانی بنانے والی مشینیں غزہ میں سول سوسائٹی کا ایک گروپ ‘دامور’ چلا رہا ہے۔

دامور سے وابستہ انجینئر فتح شیخ خلیل نے فرانسیسی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جب ہوا میں نمی کا تناسب 65 فی صد سے زائد ہو تو ‘واٹرجین’ کی مشینیں روزانہ تقریباً پانچ ہزار لیٹر پینے کا پانی بنا سکتی ہیں۔

اُن کے بقول اگر نمی کا تناسب 90 فی صد سے بڑھ جائے تو ایک ہزار لیٹر اضافی پانی بنایا جا سکتا ہے۔

مائیکل میریلاشویلی
مائیکل میریلاشویلی

غزہ کی پٹی برسوں سے اقتصادی مسائل، بجلی اور پینے کے صاف پانی کے بحران سے دوچار ہے۔ یہاں کا پانی کھارا ہونے کے ساتھ ساتھ آلودہ بھی ہے جو پینے کے قابل نہیں بلکہ مضرِ صحت بھی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق غزہ کا صرف تین فی صد پانی بین الاقوامی معیار پر پورا اترتا ہے۔ عالمی ادارے نے سن 2012 میں پیش گوئی کی تھی کہ ماحولیاتی دباؤ کے سبب غزہ میں رہائش آسان نہیں۔

مختلف مطالعات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ غزہ کے غیر معیاری پانی سے پتھری اور اسہال کا مرض تیزی سے پھیلتا جارہا ہے۔

یورپی یونین سمیت کئی ادارے پانی کے مسئلے کو حل کرنے میں کوشاں ہیں۔ وہ قلت پر قابو پانے کے لیے سمندر کے پانی کو قابلِ استعمال بنانے کی غرض سے پلانٹ لگانے کے حامی ہیں۔

اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ‘واٹرجن’ کے سربراہ مائیکل میریلاشویلی کا کہنا تھا کہ “جب مجھے غزہ میں پانی کے بحران سے متعلق علم ہوا تو میں فوری مدد کرنا چاہتا تھا۔ میرا ہدف دنیا میں ہر انسان کو پینے کا پانی فراہم کرنا ہے۔”

مائیکل نے بتایا کہ انہوں نے غزہ میں اپنی مشینوں کو چلتے نہیں دیکھا کیوں کہ اُنہیں اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی میں داخلے کی اجازت نہیں ملی۔

اُن کے بقول، “مجھے پتا ہے غزہ کے رہنے والے واٹرجین کو میری طرف سے تحفہ نہیں سمجھتے۔ یہ خدا کی جانب سے تحفہ ہے۔ غزہ کے رہائشی سمجھتے ہیں کہ جب کوئی چیز خدا کی طرف سے ملے تو اسے قبول کرنا چاہیے۔

‘واٹرجین’ نے دو مشینیں غزہ کو عطیہ کی ہیں جب کہ ایک مشین غزہ کی آر او انسٹی ٹیوٹ کو دی ہے جو اسرائیل کے جنوبی علاقے میں واقع ہے۔

ایک مشین غزہ کے علاقے خان یونس کے ٹاؤن ہال میں نصب کی گئی ہے جس کی مالیت 61 ہزار ڈالر ہے۔

واٹرجن کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ان کی تیار کردہ مشینیں مکمل طور پر پانی کی قلت کا خاتمہ نہیں کر سکتیں البتہ انہوں نے مسئلے کا حل ضرور پیش کیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 997 posts and counting.See all posts by voa