کورونا کی نئی لہر اور ایک برطانوی خاتون کے تلخ تجربات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

برطانیہ میں کورونا وائرس پر کافی حد تک قابو پانے کے بعد دسمبر میں صورت حال ایک بار پھر بہت خراب ہو گئی ہے۔ برطانیہ ایک بار پھر اس وائرس کی ایک نئی قسم کے حملہ کا شکار ہوا ہے۔ وائرس کی یہ نئی قسم بہت ہی تیزی سے پھیلتی ہے۔ پچھلے ایک ہفتے سے روزانہ پینتیس سے چالیس ہزار افراد اس وائرس کا شکار ہو رہے ہیں۔ ایسی صورت حال میں این۔ ایچ۔ ایس بھی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ ہسپتالوں میں بھی کورونا کے مریض زیادہ ہونے کی وجہ سے صورت حال بہت زیادہ خراب ہے۔

کورونا کی یہ تیزی سے پھیلنے والی قسم لندن میں دسمبر کے پہلے ہفتے میں دریافت ہوئی جس سے یہاں اس کے مریضوں کی تعداد میں اچانک اضافہ ہوا۔ اس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے پہلے لندن اور اس کے نواح میں مکمل لاک ڈاؤن لگا یا گیا لیکن اس میں بہتری نہ آنے پر سال کے آخری دن پورے ملک میں لاک ڈاؤن لگا دیا گیا ہے۔

اس سے قبل بھی یہاں کورونا کے لیے وضع کردہ ایس او پی پر باقاعدہ عمل کرایا جاتا ہے۔ بڑے اور چھوٹے سب سٹورز پر ماسک کی پابندی، سینی ٹائزر کا استعمال اور ایک مخصوص حد تک افراد کی سٹور میں انٹری پر سختی سے عمل کیا جاتا ہے۔ بسوں اور ریل گاڑیوں میں بھی ان سب باتوں پر سختی سے عمل کرایا جاتا ہے۔ دسمبر کے دوسرے ہفتے سے یہاں ویکسینیشن کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ ملکی تیارکردہ ویکسین کی منظوری بھی ہو گئی ہے جو چند دن کے بعد لگنی شروع ہو جائے گی۔ برطانیہ میں کورونا کی نئی لہر کی وجہ سے یورپ اور دوسرے کئی ممالک نے برطانیہ سے فضائی آمدورفت بھی معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس کی وجہ سے ہم بھی یہاں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

موسمی اثرات بھی کورونا کے شکار افراد پر اثرانداز ہوتے ہیں کیونکہ سردی کی وجہ سے لوگ سانس اور پھیپھڑوں کی بیماریوں کا شکار زیادہ ہوتے ہیں۔ کورونا وائرس میں نمونیہ اور سانس کی بیماری زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ برطانیہ میں ہسپتالوں، سرجریوں اور پرائیویٹ ہسپتالوں پر بہت زیادہ دباؤ کی وجہ سے ان کی کارکردگی بھی متاثر ہوئی ہے۔ ہسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹرز اور نرسیں مریضوں کی تعداد میں بے تحاشا اضافہ اور فرنٹ لائن پر ہونے کی وجہ سے وائرس میں مبتلا ہونے کے خطرہ کی وجہ سے دوہرے دباؤ کا شکار ہیں۔ مجھے کورونا وائرس کا شکار این ایچ ایس میں کام کرنے والے دو تین ڈاکٹرز سے ملنے کا اتفاق ہوا ہے جو تین چار ماہ گزرنے کے باوجود ابھی تک صحت یاب نہیں ہو سکے ہیں۔

کورونا کا شکار ایک خاتون کا انٹرویو برطانوی جنرل پریکٹیشنر کے میڈیکل میگزین کی سات نومبر کی اشاعت میں چھپا ہے۔ اس سے آپ کو کورونا کے شکار افراد کی حالت کا اندازہ ہو جائے گا۔ لیزا مینسن ایک برطانوی شہری ہے جو کورونا میں مبتلا ہوئی تو یہ اس کے لیے ایک بالکل نیا تجربہ تھا۔ وہ پچھلے چھ ماہ سے کورونا وائرس اور اس سے پیدا ہونے والی پیچیدہ صورت حال کو بھگت رہی ہیں۔ اس انٹرویو میں انہوں نے بتایا ہے کہ کیسے کورونا سے وہ متاثر ہوئی اور کتنے لمبے عرصہ تک وہ اس وائرس کے زیر اثر رہی ہیں۔

وہ اپریل میں کورونا وائرس کا شکار ہوئی۔ پہلے اپنے ڈاکٹر کو دکھایا جس نے انھیں کوئی دوائی نہیں دی اور گھر میں رہنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ انھیں ہسپتال میں اس وقت تک داخل نہیں کیا جائے گا جب تک وہ بہت زیادہ بیمار نہ ہو جائیں۔ یہ الفاظ بظاہر تو بہت ہی سیدھے سادے تھے لیکن ان پر عمل کرنا کتنا پریشان کن اور خوفناک تھا، اس کا اسے اندازہ نہیں تھا

دو تین دن میں ہی جو علامات ظاہر ہوئیں ان میں سانس لینے میں دشواری، سینے میں درد، بدن میں آکسیجن کی کمی، اختلاج قلب، چکر آنا، حواس باختہ ہونا، سردرد، گلے میں خراش، جلد پر سرخ دانے، کمر درد اور بہت سی دوسری علامات بھی ان میں ظاہر ہوئیں جن سے نبٹنے کے لیے انہیں بالکل تنہا اور اکیلا چھوڑ دیا گیا۔ وہ اپنے فلیٹ میں بالکل اکیلی تھیں۔ ان کی ان کے ڈاکٹر تک رسائی صرف ای میل تک محدود ہو کر رہ گئی تھی۔ ڈاکٹر نے ان کی بہت ساری ای میلز کا جواب ایک جیسی دو برقی چٹھیوں کی صورت میں دیا۔ جس میں انہوں نے امید ظاہر کی تھی کہ ان کی بیان کردہ علامتوں میں کافی بہتری آ رہی ہے۔ ایسے برتاؤ سے انہیں لگا جیسے وہ ایک انسان نہیں بلکہ لکڑی کا ایک بکس ہیں۔ انہیں اس جیتے جاگتے شخص کی طرح نہیں لیا گیا جو کہ کسی نامعلوم اور ممکنہ طور پر کسی سنگین بیماری میں مبتلا ہو گیا تھا۔

اپنی بیماری کے بدترین ہفتوں کے دوران انہوں نے اپنے ڈاکٹر کو متعدد بار فون کیا۔ ڈاکٹر کی بات ہمیشہ اس مکالمے پر ختم ہوجاتی، آپ نے گھر پر ہی رہنا ہے، آپ کے لیے ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ ڈاکٹر کی گفتگو میں ممکنہ علاج کا انتخاب یا دوسری معلومات کا فقدان نہیں ہوتا تھا لیکن جس چیز نے انہیں پریشان کیا وہ ڈاکٹر صاحب کی گفتگو میں ہمدردی کا فقدان تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ ڈاکٹر سے گفتگو کر کے انہیں کبھی تسلی نہیں ہوئی بلکہ ہمیشہ ایسا محسوس ہوا جیسے ڈاکٹر نے ان سے ہمدردی کرنے کی بجائے ان سے جان چھڑائی ہے یا ان کو ٹرخایا گیا ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد انہوں نے انٹرنیٹ پر کورونا وائرس کے شکار اپنے جیسے دوسرے افراد کی تلاش شروع کی۔ انٹرنیٹ پر اپنی علامات کی تحقیق کرنا شروع کر دی اور اس بارے میں کھوج لگا کر کافی کچھ پڑھ لیا۔ انٹرنیٹ پر انہیں ممکنہ طور پر تیس سے زیادہ علامات کا پتہ چلا جو کورونا وائرس کے شکار افراد میں ظاہر ہوتی ہیں۔ اس میں سب سے مفید معلومات کووڈ 19 سپورٹ گروپ کے بارے میں ملیں ۔ جو لوگ برطانیہ میں کورونا وائرس میں مبتلا ہوئے انہوں نے اپنا ایک گروپ تشکیل دیا تھا، جس میں وہ اپنے اپنے تجربات شیئر کرتے تھے۔ اس وائرس سے نبٹنے کے اپنے طریقہ کار اور تجربے بتاتے تھے۔ انہوں نے اپنی علامات، اس وائرس میں مبتلا ہونے کے محرکات کا دوسرے ممبران سے موازنہ کرتے ہوئے ان گنت گھنٹے اس گروپ کے ساتھ گزارے۔ وہ اپنے نوٹس کا موازنہ کرتے اور دوسری بہت سی نئی چیزیں سیکھتے۔ اس سیکھنے کے مرحلے میں انہوں نے اپنے طرز زندگی میں بہت ساری تبدیلیاں کی ہیں جس نے ان کی بہت مدد کی ہے۔

یہ بات بہت وسیع پیمانے پر تسلیم کی گئی ہے کہ جسمانی صحت تنہائی اور پریشانی سے زیادہ خراب ہوتی ہے۔ ڈاکٹر کی ہمدردی ممکن ہے کہ کورونا کا علاج نہ ہو لیکن مریض سے بالکل ہمدردی نہ کرنا یا بہت کم کرنا مریض کو حقیقی نقصان پہنچا سکتی ہے۔ وہ یاد کرتی ہیں ان کو کورونا میں مبتلا ہوئے چھ ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن وہ ابھی تک مکمل صحت یاب نہیں ہوئی ہیں۔ انہوں نے ڈاکٹر کو بتایا ہے کہ وہ ابھی بھی بیماری کے خلاف جدوجہد کر رہی ہیں لیکن ڈاکٹر نے انھیں کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ یہ سمجھتی ہیں کہ یہ مرض ابھی نیا ہے اس لیے ڈاکٹروں کے پاس اس کا علاج نہیں ہے۔ لیکن پھر بھی وہ چاہتی ہوں کہ ڈاکٹر ان کی بات ہمدردی اور غور سے سنے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنے ڈاکٹر کے پاس جانا چھوڑ دیا ہے اور سینئر پروفیسر سے اپنی ملاقات بھی کینسل کر دی ہے۔ اس کی بجائے اب میں گھر بیٹھ کر کورونا سپورٹ گروپ سے ان کی علامات اور ان کو پیش آنے والے مسائل اور تکلیف پر بات کرتی ہیں لیکن اب بھی صورت حال کافی حد تک غیر یقینی ہے۔

پاکستانیوں کی بڑی تعداد لندن، مڈلینڈ اوریارکشائر میں آباد ہیں۔ ایسٹ مڈلینڈ اور یارکشائر کا مانچسٹر، اولڈہم اور بریڈفورڈ کا زیادہ ایریا اس وائرس سے متاثر ہوا ہے۔ ان علاقوں میں پاکستانی اور ایشیئن کمیونٹی کے لوگ بہت زیادہ اس وائرس کا شکار ہوئے ہیں جن میں سے ایک بڑی تعداد اس وجہ سے موت سے بھی ہم کنار ہوئی ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ پہلے پہل اس کمیونٹی نے کورونا کو سنجیدہ نہیں لیا اور آپس میں میل جول میں کوئی احتیاط نہیں کی۔

حال ہی میں مڈ لینڈ میں ایک وفات پر بہت سے لوگ بغیر کسی احتیاط کے شریک ہوئے، جس سے ایک ہی خاندان کے بیسیوں لوگ اس وائرس کا شکار ہوئے اور ان میں سے اس وائرس کی وجہ سے بہت اموات بھی ہوئیں۔ ڈربی سے ایک دوست کا کہنا ہے ویسٹ مڈ لینڈ میں ایک جنازہ میں ڈربی سے تیس افراد شریک ہوئے۔ وہ سب کے سب کورونا کا شکار ہوئے اور ان میں سے اکیس افراد کی موت واقع ہو گئی۔ اب گورنمنٹ نے بھی سختی کرنا شروع کی ہے اور ایس او پی پر عمل درآمد نہ کرنے والوں کو ہزاروں پاؤنڈ جرمانے کیے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •