خون آشام ڈھاکہ سے ہماری واپسی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(رخسانہ محفوظ)\"\"

ماحول پر طاری سناٹا کسی طوفان کا پیش خیمہ تھا۔ یہ 1971 کا مشرقی پاکستان تھا۔ ڈھاکہ شہر کی ایک گورنمنٹ کالونی \”موتی جھیل\” میں ہمارا قیام تھا۔ حالات گو کہ بہت نازک تھے مگر اس کا ادراک صرف ہمارے بڑوں کو تھا۔ ہم بچے ہر فکر سے بےنیاز تھے۔ کالونی میں جا بجا خندقیں کھودی گئی تھیں تاکہ ہوائی حملوں کی صورت میں شہری ان میں پناہ لے سکیں۔ روزانہ رات کو بلیک آؤٹ کی وجہ سے کھڑکیوں پر دبیز پردوں کے باوجود ہم لائٹ بند رکھتے تھے۔ وہ دسمبر کی 16 تھی۔ شام روز سے زیادہ سوگوار تھی۔ سورج اس روز بھی ڈھلا تھا لیکن ڈھلتے ہوئے اس نے بہت ساری سرخی آسمان کے کناروں پر بکھیر دی تھی۔ کرفیو کے باعث اکثر سناٹا چھایا رہتا تھا۔ اس دن اندھیرا پھیلا تو ایک شور سنائی دیا ”لائٹ جلاؤ۔ لائٹ جلاؤ\”۔ ”روشنی کرو لوگو\” ہم نے پردوں کی درز سے جھانک کر دیکھا۔

کچھ بنگالی نوجوان اپنے گھروں سے نکل کر سڑک پر آگئے تھے اور چہار جانب پکار کر لائٹ جلانے کی ہدایت کر رہے تھے۔ ان کے چہرے خوشی سے دمک رہے تھے۔ ”ہم آزاد ہوگئے۔ ہمارا سونار بانگلہ آزاد ہوگیا۔ “ ان آوازوں میں بے پناہ جوش تھا۔ امی ابا کے چہروں پر لکھی پریشانی کی تحریر پڑھنا مشکل نہ تھا۔ ابا کہہ رہے تھے ”سب ختم ہوگیا۔ سب ختم ہوگیا۔ ہم نے مشرقی پاکستان کھودیا\”۔ ۔ ۔ ۔ ہمارا گھر کالونی کے اکا دکا غیر بنگالی گھروں میں سے تھا۔ رات بہت غیر محفوظ تھی۔ غیر بنگالیوں کے گھروں پر حملوں کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا۔ خندقیں ان کی لاشوں سے بھری جارہی تھیں۔

اپنے گھر کی عقبی کھڑکی سے ہم نے بھی یہ روح فرسا منظر دیکھا تھا کہ ایک خندق کے آس پاس بنگالی گھیرا ڈالے کھڑے تھے معلوم ہوا اس میں کسی کو مار کر ڈالا گیا ہے۔ ہمارے پڑوس میں جو فیملی رہتی تھی وہ لوگ سابق گورنر منعم خان کے دور پار کے رشتے دار تھے وہ پاکستان سے وفاداری کے جذبات رکھتے تھے۔ ان لوگوں نے ہمیں پیشکش کی کہ ہم یہ رات ان کے گھر مین گزاریں کیونکہ حملےکا شدید خطرہ تھا۔ وہ قیامت کی رات تھی جو ہم سب نے خوف کے عالم میں جاگتے ہوئے اور دعائیں پڑھتے ہوئے گزاری۔ صبح اپنے گھر واپس آگئے۔ دل کسی انہونی کے ڈر سے کانپ رہے تھے اور وہ انہونی ہوکر رہی۔ ہمارے گھر پر بھی بنگالیوں کے ایک گروہ نے حملہ کردیا۔ جواز یہ تھا کہ ہمارے گھرمیں اسلحہ ہے۔

اس اسلحے کی حقیقت یہ تھی کہ ہمیں جو خاتون قرآن پڑھانے آتی تھیں ان کے صاحبزادے نے ”البدر\” فورس میں شمولیت اختیار کی ہوئی تھی۔ رات کو جب چن چن کر ” البدر\” اور ”الشمس\” کے نوجوان مارے جانے لگے تو وہ صاحبزادے پناہ کی تلاش مین ہمارے گھر آگئے۔ ان کے پاس ایک رائفل بھی تھی۔ اب یہ یاد نہیں کہ ابا نے اپنے خاندان کی حفاظت کی خاطر ان سے گھر سے جانے کی استدعا کی یا وہ خود ہی کسی محفوظ پناہ گاہ کی جانب صبح ہونے سے پہلے ہی نکل گئے لیکن اپنی رائفل ہمارے یہاں ہی چھوڑ گئے۔ مجمع جو ہمارے دروازے پر تھا وہ یہی شور کر رہا تھا ” اسلحہ نکالو۔ اسلحہ ہمیں دو\”۔

والد صاحب کی محلےمیں شہرت اچھی تھی اور ہمارے بنگالیوں سے تعلقات بھی اچھے تھے۔ ایسے میں ہمارے پڑوس میں قیام پذیر دو بھائی خیرالرحمان اور صدیق الرحمان اور ہمارے وہ پڑوسی جنہوں نے ہمیں رات کو پناہ دی تھی، سبحان صاحب ہمارے دروازےپر جم کر کھڑے ہوگئے اور کسی طرح بھی مجمع کو گھر میں نہیں داخل ہونے دیا۔ ان سے بات کرکے ان کو اس بات پر آمادہ کرلیا چند افراد ان لوگوں کے ساتھ گھر میں داخل ہوں گے اور تلاشی لے کر چلے جائیں گے۔ ابا سے بھی انہوں نے کہا کہ جو رائفل ہے وہ آپ ان لوگوں کے حوالے کردیں تاکہ یہ لوگ واپس چلے جائیں۔

مجمع نے آتے ہی گیراج کا تالا توڑ کر ابا کی موٹر سائیکل لوٹ لی تھی وہ لوگ کچھ بھی کرسکتے تھے سو ابا کو یہی مناسب لگا کہ رائفل اس بپھرے ہوئے مجمع کے حوالے کردی جائے۔ یوں اللہ رب العزت کی مہربانی اور پڑوسیوں کی مدد سے اس خون آشام شام ہم سب محفوظ رہے۔ لیکن خطرہ کیونکہ اب مستقل تھا اس لئے اگلے دن ہم ڈھاکہ شہر کے ایک بہت پرانے تقسیم سے قبل کے علاقے نواب پور منتقل ہوگئے۔ یہان ہندوؤں سمیت کئی قومیتیں آباد تھیں اور علاقہ نسبتاً محفوظ تھا۔

وہاں کچھ عرصہ قیام کے بعد ایک دوسری انتہائی کٹھن ہجرت کر کے کلکتہ پہنچے۔ اور وہاں سے نیپال کے شہر کٹھمنڈو۔ اباجان پاک پی ڈبلیو ڈی میں سول انجینئر تھے۔ سو پاکستان گورنمنٹ نے اپنے ملازمین کے لئے نیپال سے جہاز چارٹر کیے تھے جن میں ہماری واپسی ممکن ہوئی۔ اس طرح ایک طویل اور صبر آزما سفر طے کرنے کے بعد وطن کی مٹی کی خوشبو نے ہمارا استقبال کیا۔

رخسانہ محفوظ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply