خبر کی بھی خبر لیجیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم خبر کو باخبر رہنے کے لیے پڑھتے ہیں لیکن پھر بھی خبر پڑھنے کے باوجود بے خبر رہتے ہیں کیونکہ ہم خبر کے مندرجات یا خبر میں چھپی ہوئی خبر تک پہنچنے کی ہمت نہیں کرتے اور سرسری یا پھر خبر کی ہیڈنگ پر ہی اکتفا کر بیٹھتے ہیں اور پھر اسی بے دھڑ خبر کو آگے پہنچانے لگتے ہیں، محفلوں میں زیربحث لاتے ہیں۔ اس خبر سے متعلق کوئی معمولی لب کشائی کرے تو ہم فٹ سے جواب رسید کر دیتے ہیں، پتہ ہے پتہ، پڑھی ہے پڑھی ہے۔ اس خبر کی بات کرتے ہو۔

دوسرا شخص بھی فقط ہیڈ لائن سنانے پر خود کو باخبر ڈکلیئر کر دیتا ہے۔ پھر ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ یا تنقیدی گفتگو دوام پکڑ لیتی ہے۔ ہم زندگی کے ہر کام میں تن آسان ہو گئے ہیں۔ ہر چیز اور ہر جگہ شاٹ کٹ مارنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ خود سے نتیجے نکالنے اور خود سے امتحان گاہ میں بیٹھنے کے رویے ماحول میں رچ بس چکے ہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے ہم زندگی کے دیگر معاملات میں تگ و دو کے روادار نہیں، سب کچھ فٹا فٹ تیار اور جلد از جلد ملنے کے عادی ہو گئے ہیں۔

مطالعے اور خبر سے متعلق ہم محدودیت کے شکار ہیں۔ ہمیں کتاب کے مطالعے کے بجائے شارٹ نوٹس درکار ہوتے ہیں۔ ہم بیٹھے بٹھائے سب کچھ حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں۔ کم وقت میں زیادہ اور کم محنت سے زیادہ سے زیادہ کمانے کے سحر میں گرفتار ہیں۔

ہم ہر کام جلد بازی میں کرنا چاہتے ہیں اور اس جلد بازی میں بھی سب سے آگے نکلنا چاہتے ہیں۔ ایک ریس ہے ، ایک دوڑ ہے ایک اُڑا اُڑی ہے اور پھر جب بات میڈیا کی ہو تو ذمہ داری ان کے ساتھ جڑی ہوئی ہوتی ہے لیکن ادھر بھی ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی ایک دوڑ ہے۔ خبر کو جلد پہنچانے کی دوڑ میں بس جو سرا خبر کا ہاتھ لگا ، قارئین تک پہنچا دیتے ہیں ، یہ سوچ کر کہ بعد میں دیکھا جائے گا۔ حال ہی میں پی آئی اے سے متعلق خبر کو جلدی میں ایسے پیش کیا گیا کہ خبر کچھ اور طرح سے لگ رہی تھی لیکن جب عقدہ کھلا تو خبر کچھ اور طرح کی تھی۔ ذرا خبر پڑھیے اور پھر اس خبر کی وضاحت کو بھی جانچیے ، پھر نتیجہ آپ پر چھوڑتا ہوں کہ خبر کی بھی خبر لینی چاہیے کہ نہیں؟

پاکستان انٹرنیشنل ائرلائنز (پی آئی اے) نے اپنی خصوصی پرواز سے صرف ایک مسافر کو مانچسٹر سے اسلام آباد پہنچا کر منفرد ریکارڈ بنا لیا۔

گزشتہ روز پی آئی اے کی خصوصی چارٹر فلائٹ پی کے 9702 کے ذریعے صرف ایک مسافر برطانیہ سے اسلام آباد پہنچا۔

اس حوالے سے ترجمان پی آئی اے نے بتایا کہ سول ایوی ایش اتھارٹی (سی اے اے ) کی جانب سے سفری پابندی کی وجہ سے برطانیہ کے شہر مانچسٹر سے اسلام آباد آنے والی پرواز میں صرف ایک مسافر کو وطن واپس آنے کی اجازت ملی تھی۔ سی اے اے کی جانب سے عبد الرزاق کو کورونا وائرس کے لازمی ٹیسٹ کے تحت اجازت دی گئی تھی۔

پی آئی اے کی چارٹر فلائٹ پی کے 9702 سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچنے والے عبدالرزاق چوہدری کا تعلق صوبہ پنجاب کے شہر گجرات سے ہے۔ ترجمان پی آئی اے کے مطابق مانچسٹر سے اسلام آباد پہنچنے والے جہاز میں 371 مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش تھی۔

پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ خان نے بتایا کہ مانچسٹر سے پاکستان آنے والے طیارے کا قومی ائیرلائن کے فضائی بیڑے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہائی فلائی کا چارٹر طیارہ فیری فلائٹ کے طور پر پاکستان کے لیے پلان تھا۔ترجمان پی آئی اے نے بتایا کہ طیارے میں سوار مسافر کو حکومت پاکستان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر برطانیہ سے واپس آنے کی اجازت دی تھی۔ اورآخر میں ’’انہوں نے بتایا کہ مانچسٹر سے اسلام آباد واپس آنے والے عبدالرزاق میت کے ہمراہ پاکستان آئے تھے۔‘‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •