ہم صرف گھبرائے نہیں، باقاعدہ ڈر گئے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قائد اعظم کے چودہ نکات اتنے مشہور ہیں کہ بچے بچے کو یاد ہیں، اسی فارمولے پر چلتے ہوئے عمران خان نے بھی 17 نکات پیش کیے، ”نکات“ کا لفظ آتے ہی پوری قوم کا ذہن قائداعظم کی طرف مائل ہوا، سب لوگ سمجھنے لگے کہ یہ بندہ تو بالکل قائد اعظم کی طرح پرامید ہے اور ضرور کچھ نیا کریں گے۔ یہی آس اور امید نے ان کے مداحوں میں بے تحاشا اضافہ کیا۔ اب بھی عمران خان کے کچھ تقاریر میرے کانوں میں گونجتے ہیں، جیسے کہ ”90 دن میں تبدیلی لاؤں گا، میرے ساتھ ایکسپرٹ ٹیم ہے جو یہ سب کچھ 90 دن میں کریں گے۔

“ یہی تقاریر اور مسحور کن باتیں لوگوں کو پی ٹی آئی کی طرف مائل کرنے لگے۔ عمران کے مداحوں نے ان کے تصاویر کو ایڈیٹ کرتے ہوئے ایک چہرہ قائد اور دوسرا عمران کا لگایا، زبردست ایڈیٹنگ سے عوام کی امید میں اور بھی اضافہ ہونے لگا، نوجوانوں میں 1940 والا جوش و جذبہ پیدا ہوا، بوڑھوں کو اپنی جوانی یاد آنے لگی۔ پی ٹی آئی کے نعرے بھی بڑے دلکش اور مسحورکن تھے، جیسے ”اب نہیں تو کب، ہم نہیں تو کون“ ، ”امید کی آخری کرن“ ، ”دو نہیں ایک پاکستان“ وغیرہ وغیرہ۔

یہی وجہ تھی کہ لوگ دھڑا دھڑ پی ٹی آئی میں شامل ہونے لگے، محفل میں بیٹھ کر پی ٹی آئی کے خلاف بات کرنا گناہ کبیرہ سمجھا جاتا تھا۔ دوسری طرف اسد عمر نے بھی دھرنوں میں بڑی زبردست باتیں کی تھی کہ پٹرول انٹرنیشنل مارکیٹ میں جس ریٹ پر ملتے ہیں اگر ہماری حکومت آئی تو ہم عوام کو 46 روپے پر لیٹر فراہم کریں گے۔ یہ الگ بات ہے کہ انہوں نے پھر کہا کہ ”میں تو مذاق کر رہا تھا۔“ یہی مذاق کافی وقت تک لوگ برداشت کرتے رہے، کیونکہ عمران اپنے چہیتوں کو یہی کہتے تھے کہ ”آپ نے گھبرانا نہیں“ اور وہ اپنے دلوں کو بڑا کر کے ”گھبرانا“ کو خیال میں بھی نہیں لاتے تھے۔

2018 میں بھاری اکثریت سے عمران حکومت میں آیا، اکتوبر 2018 میں اپوزیشن نے واویلا شروع کیا کہ ”90 دن گزر گئے، عمران نے اپنا وعدہ پورہ نہیں کیا۔“ یہ باتیں نہ صرف پی ٹی آئی کے سپورٹرز بلکہ عوام نے بھی اگنور کر لیے کیونکہ وہ سوچھتے تھے کہ اتنے کم عرصہ میں کچھ بھی نہیں ہوتا۔ خیر اللہ اللہ کر کے 2018 گزر گیا، اپوزیشن نے ہلکا سا احتجاج کیا، پی ٹی آئی والے پھر بھی امید میں تھے کہ کچھ ہو جائے گا کیونکہ انہیں اپنے لیڈر نے کہا کہ ”گھبرانا نہیں 2019 میں نیا کر کے دکھاؤں گا۔

خیر یہ سال بھی گزر گیا اور وہ اپنے ملک کے عوام تو دور کی بات، اپنے ورکرز کو بھی مطمئن نہ کر سکا۔ 2019 میں کے آخر میں انہوں نے کہا کہ ”اس سال ہم تھوڑا سٹیبل ہوئے 2020 خوشحالیوں اور نوکریوں کا سال ہوگا“ اور پھر پورا پنڈال تالیوں سے گونج اٹھا۔ مگر یہی سال جب آخر تک پہنچ گیا اور لوگوں نے تھوڑا تھوڑا ڈرنا شروع کیا تو عمران خان قوم سے خطاب کرتے ہوئے دلکش مسکراہٹ سے کہا کہ ”دو ڈھائی سال تک ہمیں تو حکومت کرنے کی سمجھ بھی نہیں آئی۔“ عمران خان کی یہی مسکراہٹ ان کے سپورٹرز کے لیے باعث ندامت بنا، ان چہروں پر پریشانی کے آثار نمودار ہوئے اور وہ ڈرنے لگے مگر پہلی دفعہ ان کی یہ مسحورکن مسکراہٹ اپوزیشن کے لیے باعث قہقہہ بنا اور اپوزیشن کے ایوان تھالیوں سے گونج اٹھے۔

بات یہاں ختم نہیں ہوتی، آج ہم آپ کو عمران کے 17 نکات ایک ایک کر کے یاد دلائیں گے تاکہ شاید آپ تھوڑا ڈر جائے۔ جب کوئی بندہ پی ٹی آئی والوں سے تبدیلی کے حوالے سے پوچھتے ہیں تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ”70 سال کا گند اتنے کم عرصے میں صاف نہیں ہوتا۔“ لیکن انہیں یہ پتہ نہیں کہ عوام نے انہیں 70 سال کے لیے ووٹ نہیں دیا ہے بلکہ انہیں ان 17 نکات پر ووٹ دیا تھا، انہیں قائد اعظم سمجھ کر انہیں ووٹ دیا تھا، انہیں ارسطو اور سقراط جیسے القابات سے اس لیے نوازا تھا کہ عوام ان کے باتوں میں آ گئے تھے۔

جس میں انہوں نے 90 دن میں کرپشن ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن یہ الگ بات ہے کہ ان کی بہن نے کرپشن کر کے عوام کے ہردلعزیز لیڈر عمران کا سر شرم سے جھکا دیا۔ عمران نے آئی ایم ایف سے قرضہ نہ لینے کا بھی اعلان کیا تھا، عوام آئی ایم ایف کے سخت شرائط سے بخوبی واقف ہیں اور اس بات سے بھی واقف ہیں کہ قرضے کے بغیر اگر کوئی ملک چل سکتا ہے تو چلے گا لیکن پاکستان کا چلنا ناممکن ہے مگر پھر بھی عمران خان پر اس لیے اندھا اعتماد کیا کیونکہ انہوں نے کہا تھا کہ میں خودکشی کروں گا لیکن آئی ایم ایف سے قرضہ نہیں لوں گا۔

پٹرول، گیس اور بجلی مہنگی نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا اور آج اگر ہم دیکھے تو عمران نے اپنا یہی وعدہ ایفا کیا، وہ ان چیزوں کو مہنگا نہیں کرتے بلکہ اس کا اختیار آئی ایم ایف کو دیا ہے، اب اس میں عمران کا کیا قصور ہے۔ جنگلہ بس نہ بنانے کا وعدہ کرنے والے نے بی آر ٹی بنانے کی بھرپور کوشش کی مگر اب تک نہ بن سکا، اس میں بھی قصور ”پکوڑا بیچنے والے“ انجینئرز اور ڈاکٹروں کا ہے۔ ڈالرجب 98 روپے کا تھا تو اس وقت حکمران چور تھے مگر اب ایمانداری کی وجہ سے 165 تک پہنچ گیا کیونکہ ایمان میزان کو بھاری کرتا ہے۔

نواز شریف ہندوستان کو اپنا دوست ملک سمجھتے تھے اور عمران نے کو یہ بات پسند نہیں تھی وہ ان کے ساتھ ہندوستان کی یہ دوستی ختم کرنا چاہتے تھے اس لیے انہوں نے اپنی دوستی پکی کر لی جس کی وجہ سے ہندوستان کا نواز شریف کے ساتھ دوستی کم ہوئی، کرتارپور کا راستہ کھول دیا اور افغانستان کے راستے ہندوستان سے جو دہشت گرد پاکستان آتے تھے آج ان کے لیے افغانستان کے تمام راستے بند کیے، یہی ہوتا ہے وژن اور مشن۔ پروٹوکول نہ لینے کا وعدہ کرنے والے عمران خان نے کبھی پروٹوکول نہیں لیا بلکہ انہیں دیا گیا۔

سائیکل پر دفتر آنے کا بھی وعدہ کیا مگر یہ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ نیازی قوم میں لوگ ہیلی کاپٹر کو سائیکل کہتے ہیں۔ وزیراعظم ہاؤس اور گورنر ہاؤس سے یونیورسٹیاں بنانے کا اعلان کیا تھا اور آج اسی یونیورسٹیوں سے لاکھوں طالب العلم فارع التحصیل ہو رہے ہیں۔ 15 ارکان کا کابینہ 51 کو پہنچ گیا، اصل میں رات کو یہ بات کی تھی جو 51 کی جگہ 15 نظر آئی۔ یہ بھی کہا تھا کہ جس پر الزام تھا انہیں وزارت نہیں دوں گا، اب اس میں عمران کا کوئی قصور نہیں کیونکہ انہوں نے صرف الزام کا وعدہ کیا تھا جو ملوث ہو ان کا تو نہیں کہا تھا، سب سے بڑھ کر عمران کی یہ بات مجھے بہت پسند ہے کہ شیخ رشید جیسا آدمی میں اپنا چپڑاسی بھی نہیں رکھوں گا اور آج واقعی چپڑاسی نہیں رکھا۔ عمران خان نے یہ بھی کہا تھا کہ جو حلقہ آپ کہیں کہ ان میں دھاندلی ہوئی ہو تووہ کھول دوں گا، اب وہ بے چارہ ان کو کھول دیتا ہے مگر کھول نہیں رہا ہے۔

سب سے بڑی بات جو عمران خان نے کہی تھی کہ ایک کروڑ نوکریاں دوں گا وہ بھی آج پوری ہو رہی ہے، ساڑھے چار ہزار لوگوں کو سٹیل ملز سے فارغ کر دیے، ریڈیو پاکستان سے 1069 ملازمین فارغ کر دیے، پی ٹی وی سے 2400 ملازمین فارغ کر دیے، پی سی بی سے بھی پانچ لوگوں کو نکال دیے گئے، کنٹریکٹ ملازمین پر بھی جھاڑو پھیر دیا اور بہت جلد یہ تعداد ایک کروڑ تک پہنچ جائے گی۔ بس یہی صرف گھبرانا نہیں، سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ عمران خان کے لیے ایک مفت مشورہ ہے کہ ہمارے عوام کے ساتھ اتنا وقت نہیں کہ 70 سال تک آپ کا انتظار کریں، جلدی جلدی انہیں اتنا بے بس کروں کہ کوئی آپ کے سامنے بھی نہ آ سکے، کوئی دھرنوں میں شرکت کے قابل نہ ہو سکے، کسی میں احتجاج کی تاب نہ ہو اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کوئی ووٹ کے لیے بھی نہ جاسکے تو پھر آپ اسی راستے سے دوبارہ آنے کے قابل ہوں گے جس راستے سے پہلے آئے تھے۔

عمران کی زندگی کے بارے میں ”آئی ایم عمران خان“ جیسی کتابیں نہیں بلکہ حکیم محمد سعید کی کتاب ”جاپان کی سیر“ جیسی کتابیں پڑھنا چاہیے، تو آپ کو تھوڑی بہت سمجھ آ جائیے گی کہ دال میں کہاں کہاں اور کیا کیا کالا ہیں۔ بھائیو ہم تو ڈر گئے ہیں باقی جو نہیں ڈرتے انہیں اللہ سے ڈرائیں تاکہ جو جھوٹے وعدے عمران نے عوام کے ساتھ کیے گئے تھے وہ پورا کریں اور قبر کے سکون سے پہلے پہلے عوام کو اس جنت جیسی دنیا میں بھی سکون میسر ہو سکے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

شاہ محمود خان مہمند کی دیگر تحریریں