الجیریا کا ایک یادگار سفر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایتھنز میں خوشگوار قیام کے بعد اگلی منزل کے لئے ائرپورٹ پہنچ چکا تھا۔ کاؤنٹر پر زیادہ مسافر نہیں تھے اس لئے جلد ہی بورڈنگ کارڈ لے کر بریفنگ ہال میں چلا گیا۔ اس روز شاید صبح کے وقت میں زیادہ پروازیں نہیں تھیں۔ ہال میں سکون زیادہ اور چہل پہل کم تھی۔ ایک جگہ پر بیٹھ کر پرواز کے اعلان کا انتظار کرنے لگا۔ مزید مسافر آتے گئے اور اداس سا بریفنگ ہال با رونق لگنے لگا۔ نصف گھنٹہ سے کچھ زیادہ گزرا ہو گا کہ جہاز کی طرف بڑھنے کا اعلان ہوا۔

بیٹھے ہوئے مسافر ایک لائن میں کھڑے ہو گئے اور گیٹ کی طرف بڑھنے لگے۔ جہاز زیادہ دور نہیں تھا پھر بھی بس میں سوار ہونے کی رسم پوری کی گئی اور ساتھ ہی مسافر بورڈنگ لائن میں کھڑے ہو گئے اور جلد ہی ہم اپنی نشست پر تھے۔ یہ ایتھنز سے روم کے لئے دو گھنٹے کی پرواز تھی۔ وقت گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا اور ہم روم کے ائرپورٹ پر اترنے والے تھے۔ لینڈنگ اتنی ہموار تھی کہ محسوس ہی نہ ہوا۔ جہاز کے پہیے سر زمین روم چھوتے ہی مسافروں نے تالیاں بجا کر پائلٹ کی مہارت کی داد دی جو کہ میرے لئے خوشگوار حیرت تھی۔ یورپین فلائٹس میں اچھی لینڈنگ پر اکثر ایسا دیکھا گیا۔ شاید منزل پر پہنچنے کی خوشی اور شکرانے کے اظہار کا بھی یہ مظہر ہو۔

مسافروں کی اکثریت سامان ٹرالیوں میں لئے جا چکی تھی اور میرا سوٹ کیس کہیں نظر نہیں آیا حتی کہ سامان والی بیلٹ بند کر دی گئی۔ استفسار کرنے پر مجھے بتایا گیا کہ میرا بیگیج ایتھنز سے ہی نہیں روانہ کیا گیا۔ مجھے پریشانی لاحق ہوئی کیونکہ روم میں دو روز قیام کے بعد مجھے اپنی بہن کے گھر الجیریا جانا تھا اور سوٹ کیس میں ان لوگوں کے لئے صرف تحائف ہی تھے جبکہ ہینڈ بیگ میں تو میرے ذاتی استعمال کی چیزیں تھیں۔ جب مجھے سامان کے گم ہوجانے کا یقین ہو گیا بلکہ چوری ہونے کا یقین ہو گیا (کیونکہ بعد میں پی آئی اے سے نہ سامان ملا نہ زر تلافی) تو میں نے اپنا پروگرام تبدیل کر لیا۔ دو روز روم میں ٹھہرنے کی بجائے میں نے سیدھا الجیریا کے لئے فلائٹ لے لی۔

الجزائر کا قہوہ خانہ – ابتدائی بیسویں صدی

الجیریا میں میرے بہنوئی ڈاکٹر فلک شیر دو برس پہلے ہی آئے تھے اور وہاں العوانہ نام کے قصبہ میں ایک ڈسپنسری میں تعینات تھے۔ تقریباً دو ہفتے پہلے راولپنڈی میں سر راہ میرے کلاس فیلو ڈاکٹر افضل سے ملاقات ہوئی تھی۔ انہی کی زبانی معلوم ہوا کہ وہ کچھ عرصہ قبل الجیریا میں ڈاکٹر فلک شیر سے ملاقات کر کے آئے تھے۔ میں نے ذکر کیا کہ میرا بھی الجیریا جانے کا پروگرام ہے اور یہ کہ مجھے بتائیں ائرپورٹ سے ڈاکٹر فلک شیر کے گھر تک کیسے پہنچنا ہے۔

ڈاکٹر افضل نے بتایا کہ بہت آسان ہے۔ ائرپورٹ سے شہر جانے والی کوچ جہاں تک لے جائے گی وہاں قریب ہی انٹر سٹی بسوں کا اڈہ ہے وہاں سے العوانہ جانے والی بس میں سوار ہو جائیں۔ العوانہ تک ڈیڑھ دو گھنٹے کا سفر ہے۔ بس ڈسپنسری کے سامنے اتار دے گی اور ڈسپنسری سے ملحقہ گھر ڈاکٹر صاحب کا ہے۔ میں نے سوال کیا کہ بس کی روانگی کا کوئی خاص وقت ہو تو بتا دیں۔ ڈاکٹر افضل نے بتایا کہ ہر پندرہ بیس منٹ کے بعد بس روانہ ہوتی ہے اور مثال دے کر میری تشفی کروا دی کہ جیسے راولپنڈی پیر ودائی اڈہ سے لاہور لاہور کی آوازیں لگا کر بسییں نکلتی ہیں اسی طرح وہ العوانہ العوانہ کی آوازیں لگا رہے ہوتے ہیں۔ میں مطمئن ہو گیا کہ اگر پندرہ بیس منٹ میں بس نہیں بھی ملی تو گھنٹے بھر میں تو مل ہی جائے گی۔

تھوڑی دیر میں ہی الجیریا کے لئے فلائٹ روانہ ہونے والی تھی۔ تیز قدموں سے چلتے ہوئے ائرپورٹ کے گیٹ نمبر 97 سے ایگزٹ کر کے بمشکل جہاز پر سوار ہوا۔ یہ دو گھنٹے کی خوشگوار پرواز تھی جس میں جہاز نے بحیرہ قلزم کو شمال مشرق سے جنوب مغرب کی سمت میں عبور کرنا تھا۔ الجر ایک ساحلی شہر ہے جو کہ الجیریا کا دارالحکومت ہے۔ الجیریا شمالی افریقہ کا مسلم ملک ہے جو ماضی میں فرانس کی کالونی رہا اور 1962 میں آزاد ہوا۔ یہاں عربی اور فرانسیسی زبانیں بولی جاتی ہیں لیکن 1990 میں عربی کو قومی زبان کا درجہ دے دیا گیا۔ الجیریا کا شمالی بیس فیصد علاقہ ساحلی ہے جبکہ جنوب کا اسی فیصد علاقہ صحرائے اعظم صحارہ کا حصہ ہے۔ صحارہ کے علاقہ کے رہائشیوں کی سیاہ رنگت ہے جبکہ شمال کے رہائشی سفید فام ہیں۔

ائرپورٹ پر امیگریشن کے تقاضوں سے فارغ ہو کر جلد ہی باہر آ گیا کیونکہ اب میرے پاس صرف دستی سامان تھا۔ ائرپورٹ کی عمارت سے کچھ فاصلے پر شہر جانے کے لئے ائر لائن کی بس کھڑی ہوئی تھی۔ دس منٹ تک کچھ اور مسافر بھی پہنچ گئے اور بس روانہ ہوئی۔ میری نشست پر ایک اور مسافر بھی بیٹھ گیا۔ یہ انیس بیس سال کی عمر کا ایک طالب علم تھا جس کا نام محمد ابراہیم تھا۔ ابراہیم انگریزی زبان جانتا تھا۔ اس نے بتایا کہ وہ الجیریا کا رہائشی ہے اور تیونس میں پڑھتا تھا۔

اس کی تیونس جانے والی فلائٹ کینسل ہونے کے سبب وہ گھر واپس جا رہا تھا۔ اس آدھے گھنٹے کے سفر میں ابراہیم سے خاصا تعارف ہو گیا اور وہ اس دوران جہاں سے بس گزرتی رہی ان جگہوں کے بارہ میں بتاتا رہا۔ میں پروگرام سے دو روز قبل الجر پہنچ گیا تھا ورنہ مجھے ڈاکٹر فلک شیر نے ائرپورٹ سے لینا تھا کیونکہ یہی طے تھا۔ ڈاکٹر افضل کی بریفنگ کی وجہ سے میں قطعی مطمئن تھا اور آسانی سے منزل پر پہچنے کے لئے پر امید بھی۔

ایک بارونق جگہ پہنچ کر بس رک گئی اور تمام مسافر اتر گئے۔ ابراہیم نے بتایا کہ بس نے یہیں تک پہنچانا تھا۔ میں نے ابراہیم سے الوداع ہونا چاہا مگر اس نے احتراماً کہا کہ وہ مجھے العوانہ والی بس پر سوار کرانے کے بعد الوداع ہو گا۔ راستے کی بات چیت کے دوران وہ میرا پروگرام جان چکا تھا۔ ہم دونوں انٹر سٹی بس اڈہ کی طرف چل پڑے جو زیادہ دور نہیں تھا۔ تقریباً ساڑھے بارہ بجے ہم بس اڈہ پر پہنچے اور وہاں سے جو جانکاری ملی میرے لئے انتہائی پریشان کن تھی۔

معلوم ہوا کہ العوانہ کے لئے چوبیس گھنٹوں میں صرف تین بسیں روانہ ہوتی ہیں جن میں سے پہلی جا چکی تھی، دوسری ایک بجے روانہ ہونے والی تھی مگر اس میں جگہ نہیں اور تیسری اور آخری بس کو تین بجے دوپہر روانہ ہونا تھا جبکہ اس کی بھی پیشگی بکنگ مکمل ہو چکی تھی۔ میں نے جلدی سے اگلی میسر آنے والی بس کا ٹکٹ خریدا جس کے مطابق اگلی صبح گیارہ بجے روانگی تھی۔ دوسرا دھچکا یہ لگا کہ الجر سے العوانہ پہنچنے میں سات آٹھ گھنٹے کی مسافت تھی۔

خیر اب تو رات یہیں بسر کرنا تھی۔ میں نے ابراہیم سے کہا کہ زبان کا مسئلہ ہو سکتا ہے اس لئے مجھے کسی ہوٹل میں ٹھہرانے میں میری مدد کرے۔ پہلے تو اس نے مجھے اپنے گھر ٹھہرنے کی دعوت دی۔ میں نے اس کا شکریہ ادا کیا اور ہوٹل میں ٹھہرنے پر اصرار کیا۔ میرے پاس ہلکا سا بیگ تھا اور ابراہیم بھی تقریباً ہلکا پھلکا ہی تھا اس لئے ہم دونوں پیدل چل دیے۔ اس شہر میں ہوٹل بہت تھے مگر کہیں جگہ نہیں مل رہی تھی۔ دو ڈھائی گھنٹے میں ہم نے بہت سے ہوٹل چیک کر لئے مگر کہیں جگہ نہیں مل سکی۔

مجھے لگا ہم ریلوے اسٹیشن کے قریب سے گزر رہے ہیں۔ ابراہیم سے ریل گاڑی کے بارہ میں پوچھا تو معلوم ہوا کہ وہاں ریل نہیں جاتی۔ میں نے ابراہیم سے کہا کہ وہ اپنے گھر چلا جائے اور مجھے یہیں چھوڑ دے میں ریلوے اسٹیشن پر رات گزار لوں گا۔ اس نے کہا کہ رات دس بجے کے بعد سٹیشن بند کر دیا جاتا ہے اور کسی کو وہاں ٹھہرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ اس نے ایک دفعہ پھر اپنے گھر میں ٹھہرانے کی پیشکش کی۔ میں کسی اجنبی کے گھر جا کر ان کو تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا۔ میں نے ابراہیم کو قائل کیا کہ شام ہونے میں دو گھنٹے باقی ہیں اس لئے ہوٹل کی تلاش جاری رکھی جائے۔

ابراہیم جب بھی سر راہ کسی اجنبی سے راستہ پوچھتا یا کوئی بھی بات کرتا تو یا محمد کہہ کر بلاتا۔ جیسے ہم راہ چلتے کو بھائی صاحب کہہ کر بلاتے ہیں، اسی طرح کسی لڑکی یا خاتون سے بات کرتا تو بے تکلفی سے یا فاطمہ کہہ کر بات شروع کرتا۔ مجھے اجنبیوں کے لئے یہ طرز تحاطب بہت اچھا لگا۔

پچھلے دو گھنٹوں سے ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی اور ہم بھیگ چکے تھے اور اب تو برف باری بھی شروع ہو گئی۔ ہم تقریباً شہر کے تمام ہوٹل چیک کر چکے تھے مگر بے سود۔ اب ابراہیم نے طریقہ کار بدلا، وہ مجھے باہر کھڑا کر کے اکیلا اندر جاتا تھا اور کمرہ ملنے کے بعد جب مجھے اندر لے جاتا تو ہوٹل والے انکار کر دیتے۔ تمام گفتگو عربی میں ہوتی اس لئے مجھے کچھ پتہ نہ چلتا۔ جب دو تین دفعہ ایسا ہوا تو مجھے کچھ شک ہونے لگا۔

بعد میں ڈاکٹر صاحب سے بھی معلوم ہوا کہ گورنمنٹ کی طرف سے سختی تھی اس لئے ہوٹل والے غیر ملکیوں کے بارے میں محتاط رہتے۔ مغرب کے بعد اندھیرا پھیل چکا تھا نہ ہی ہوٹل ملا اور نہ ہی برف باری تھمی۔ گاڑیوں کی ہیڈ لائیٹس کی روشنی میں گرتی ہوئی برف اچھی لگ رہی تھی۔ اب کی بار ابراہیم نے اپنے گھر جانے کا کہا تو میں نے حامی بھر لی۔ پوچھا تمہارا گھر کہاں ہے تو کہنے لگا کہ وہ پچاس کلو میٹر دور ایک گاؤں میں رہتا ہے۔ ہم ایک بس میں سوار ہو گئے اور رات گیارہ بجے اس کے گھر پہنچے

ابراہیم جسے گاؤں کہہ رہا تھا وہ فوکہ نام کا اچھا خاصا قصبہ تھا۔ ابراہیم کا والد فوت ہو چکا تھا اور وہ اپنے چچا کے گھر میں رہتا تھا۔ اس کی چچی نے دروازہ کھولا اور اسے دیکھ کر حیران ہوئی کیونکہ ان کے خیال میں اس وقت اسے تیونس میں ہونا چاہیے تھا۔ مجھے ابراہیم نے ڈرائنگ روم میں بٹھایا اور دو تین منٹ کے وقفے سے اس کی چچی اپنی بیٹی کے ہمراہ بھی آ گئیں۔ ابراہیم نے ان سے میرا تعارف کرایا جس کے جواب میں انہوں نے چند جملے کہے جن میں سے مجھے صرف اہلا سہلا ہی سمجھ آیا۔

اس کے بعد ابراہیم کے چچا آ گئے بہت اچھی طرح ملے اور خوش آمدید کہا۔ وہ انگریزی کے کچھ الفاظ سمجھ اور بول لیتے تھے۔ مجھے آرام کرنے کا کہا اور چلے گئے ڈرائنگ روم سے ملحقہ واش روم میں جا کر میں نے کپڑے تبدیل کیے اور فریش اپ ہوا۔ ابراہیم کی کزن ایک بجلی کا ہیٹر لائی اور آن کر دیا۔ بارش میں دن بھر کی خواری کے بعد بہت تھکاوٹ محسوس ہو رہی تھی اور سردی سے برا حال ہوا جا رہا تھا۔ ہیٹر کے قریب بیٹھنے سے سکون محسوس ہوا۔

اتنے میں کھانا آ گیا۔ پلاو کی طرح کے چاول، رائتہ، بھنا ہوا گوشت، لمبی سی بریڈ اور سالن۔ کھانے کے بعد سوہن حلوہ قسم کی سویٹ اور قہوہ بھی پیش کیا گیا۔ ابراہیم بھی آ گیا اور قہوہ ہم نے اکٹھے پیا اور صبح کے پروگرام کے بارہ میں بتایا کہ صبح نو بجے کے قریب اس کے چچا مجھے العوانہ والی بس پر سوار کروا دیں گے۔ گرم گرم قہوہ بہت اچھا لگا سردی پر قابو پانے میں معاون ثابت ہوا۔ کچھ دیر بعد ابراہیم کی کزن بستر اٹھا لائی اور وہیں پر میرے سونے کا انتظام کر دیا۔ وہ دونوں شب بخیر کہہ کر چلے گئے اور میں ہیٹر آف کر کے بچھونے پر لیٹ گیا اور سوچتا رہا دن بھر جو ہوٹل کی تلاش میں پھرتے رہے، اگر میرا اٹیچی کیس ساتھ ہوتا تو اتنی تگ و دو کرنا ناممکن تھا۔

رات کو پر سکون نیند آئی اور صبح میں جلدی اٹھ گیا تھا اور آٹھ بجے تک تیار ہو چکا تھا۔ ابراہیم آیا اور کچھ دیر ہم بات چیت کرتے رہے اس دوران ناشتے سے فارغ ہوئے۔ میں نے ابراہیم کو 20 ڈالر دیے جو کہ وہ نہیں لے رہا تھا۔ میں نے بتایا کہ ہمارے ہاں رواج ہے کہ بڑا بھائی چھوٹے بھائی کو ملنے جائے تو پیسے دیے جاتے ہیں، پھر اس نے رکھ لئے۔ ان دنوں الجیریا میں ڈالر کا مارکیٹ ریٹ بنک سے بارہ تیرا گنا زیادہ تھا۔ نو بجے کے قریب ابراہیم کی چچی اور کزن ڈرائنگ روم میں آئیں اور مجھے الوداع کہا جبکہ ابراہیم کے چچا باہر گاڑی میں میرا انتظار کر رہے تھے۔

ابراہیم بھی باہر آیا تھا اور اس نے کہا کہ وہ رابطہ رکھے گا۔ میں چچا کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گیا۔ یہ ایک سات آٹھ سال پرانی سٹریآن کار تھی جو کہ نہایت آرام دہ تھی۔ انہوں نے مجھے ڈراپ کرنے کے بعد اپنے آفس پہنچنا تھا۔ راستے میں مجھے فوکہ کے بارہ میں بتاتے رہے۔ بس ٹرمینل پر پہنچ کر اچھی طرح ملے اور الوداع کیا۔

گیارہ بجے بس روانہ ہو گئی۔ نہایت آرام دہ بس تھی جیسے آج کل ڈائیوو کی بسیں ہیں۔ اس بس کی منزل عنابہ تھی اور مجھے اس سے تقریباً پچاس کلو میٹر پہلے العوانہ تک جانا تھا۔ آدھا گھنٹہ بس شہر میں چلتی رہی اور اس کے بعد کھلی سڑک پر پہنچ کر بس کی رفتار بہتر ہوئی۔ راستہ کچھ پہاڑی راستوں جیسا تھا۔ تقریباً تین گھنٹے بعد ایک جگہ بس رکی۔ بس کے اندر کا درجہ حرارت آرام دہ تھا۔ باہر کی فضا یخ تھی۔ سخت بھوک لگ رہی تھی۔

جہاں کھانے کا انتظام ہوا اسے ہم ہوٹل کہہ لیتے ہیں ورنہ وہ ایک شیڈ سا تھا۔ جہاں سب لوگ بھوک اور سردی کے احساس کو مٹانے کے لئے ایک بڑی میز کے گرد کھڑے ہو کر کھانا کھا رہے تھے۔ سفید لوبیا کا شوربے والا سالن اور دو فٹ لمبی راڈ کی شکل میں روٹی جسے وہ خبز کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ اور کوئی چائس نہیں تھی۔ البتہ چائے بھی میسر تھی۔ آدھے گھنٹے کے توقف سے مسافر اپنی نشستوں پر تھے اور سواری ایک دفعہ پھر حرکت میں آ گئی۔

العوانہ تک کا آئندہ سفر ساحل سمندر کے ساتھ ساتھ تھا مگر سڑک کی دوسری جانب پہاڑ بھی ساتھ ہی چلتا رہا۔ ہمارے بائیں طرف سمندر کا نیلگوں پانی اور دائیں جانب پہاڑ تھا۔ راستے کے مناظر انتہائی خوبصورت اور دلکش تھے۔ سڑک سے کچھ دور تک ساحل کی ریت پھیلی ہوئی تھی جس کا دوسرا کنارہ سمندر کی لہروں کے ساتھ ہمہ وقتی کھیل میں مصروف، اور اس کے آگے کھلا سمندر حدود قیود سے آزاد قدرت کا روئے زمین پر مظہر خاص۔ آسمان پر سیاہ بادلوں نے سورج کی روشنی کو کافی حد تک محدود کیا ہوا تھا۔

گاڑی کے آرام دہ ماحول میں بیٹھے ہوئے مناظر حسین لگ رہے تھے مگر باہر کی فضا بہت خنک تھی۔ ساحل کے ساتھ سفر کرتے ہوئے گھنٹہ بھر گزرا ہو گا کہ بادلوں میں سمایا پانی سمندر کے پانی سے جا ملا اور جلد ہی اس عمل میں تیزی آ گئی اور پھر بس کے وائپرز اختتام سفر تک چلتے رہے۔ بادلوں کی وجہ سے روشنی پہلے ہی کم تھی، مغرب کے بعد باہر کا منظر غائب ہوا اور مکمل اندھیرا چھا گیا۔

بس کے کنڈیکٹر کو بتایا ہوا تھا کہ میں اجنبی ہوں اس لئے مجھے العوانہ ڈسپنسری کے پاس اتار دے۔ کچھ دیر بعد ایک جگہ بس رکی اور کسی کو العوانہ کہتے سنا تو میں اترنے کے لئے اٹھا مگر کنڈیکٹر نے اشارے سے مجھے بیٹھنے کا کہا اور بتایا کہ آگے جانا ہے۔ دراصل ڈسپنسری العوانہ سے تین کلو میٹر آگے تھی۔ کچھ آگے پہنچ کر بس دوبارہ رکی اور کنڈیکٹر نے بتایا کہ میری منزل آ گئی تھی اور میرا آٹھ گھنٹے پر محیط دلچسپ سفر ختم ہوا۔

میں نیچے اترا، بس آگے روانہ ہو گئی اور میں نے خود کو ایک ویران جگہ پر کھڑا پایا۔ سرد ہوا چل رہی تھی اور موسلا دار بارش جاری تھی۔ تاریکی میں کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ ایک آدھ منٹ میں آنکھوں کی پتلیاں کھلیں تو اپنے ارد گرد کا اندازہ ہوا۔ میں جہاں کھڑا تھا ساتھ ہی ایک راستہ پہاڑی کے اوپر نکلتا دکھائی دیا۔ کچھ فاصلے پر ایک بورڈ لگا تھا جو غالباً ڈسپنسری کی نشاندہی کر رہا تھا۔ راستہ غیر ہموار تھا مگر زیادہ لمبا نہیں تھا۔

کچھ اوپر چڑھنے کے بعد ایک عمارت نظر آئی۔ کھڑکی اور روشندانوں سے روشنی آ رہی تھی۔ میں نے گھنٹی بجائی اور انتظار کیا۔ کوئی ردعمل ظاہر نہ ہونے کی وجہ سے دوبارہ گھنٹی بجائی اور پھر یہ سوچتے ہوئے کہ شاید گھنٹی خراب ہو دروازہ کھٹکھٹایا۔ کوئی باہر نہ آیا تو دروازہ قدرے شدت سے کھٹکھٹایا مگر مکمل خاموشی رہی۔ بعد میں کھڑکی کو بھی کھٹکھٹایا لیکن کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ اتنے میں گھر کی روشنیاں بند ہوئیں اور مکمل اندھیرا ہو گیا۔

پریشانی ہوئی کہ گھر تو یہی ہے کیونکہ نزدیک کوئی اور گھر نہیں تھا۔ بارش نہیں تھمی تھی میں نے ایک دفعہ پھر دستک دی اور جواب نہ پا کر دروازے کے شیڈ کے نیچے کھڑا رہا۔ تقریباً آدھے گھنٹے بعد روشنیاں پھر جل گئیں اور سڑک کی طرف سے کسی کے آنے کا احساس ہوا۔ میں چوکنا ہوا۔ کوئی شخص میری طرف بڑھ رہا تھا۔ مجھے نظر نہیں آ رہا تھا جبکہ روشنی کے رخ کی وجہ سے وہ میرا چہرہ دیکھ سکتے تھے۔ اور قریب آئے تو بولے برادر تم نے تو اگلی صبح آنا تھا اور گلے لگا لیا۔

یہ ڈاکٹر فلک شیر تھے اور ہمارا طرز تحاطب برادر ہی ہوا کرتا تھا۔ ( ڈاکٹر فلک شیر چار مہینے پہلے کورونا میں مبتلا ہونے کے بعد رحلت فرما گئے ہیں)۔ ہم گھر میں داخل ہوئے اور میری بہن کو خوشگوار سرپرائز ملا۔ وہ بہت خوش ہوئی اور کہا ہم تو تمہیں لینے کے لئے الجر جانے کی تیاریاں کر رہے ہہیں۔ اور اس نے بتایا کہ وہ اکیلی تھی اور ڈر گئی تھی کہ نہ جانے کون دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے اور ساتھ ہی باد و باراں کی وجہ سے بجلی بھی منقطع ہو گئی۔

ڈاکٹر صاحب کا گھر اور ڈسپنسری ایک ہی عمارت کا حصہ تھے درمیان میں دیوار تھی جبکہ گھر کے گرد ایک اونچی چار دیواری تھی۔ پیچھے ایک پہاڑی تھی اور سیدھا دیکھیں تو سمندر کا خوبصورت نظارہ۔ سمندر زیادہ دور نہیں تھا۔ ہم اکثر ساحل پر چلے جاتے تھے۔ میرا قیام ہفتہ بھر رہا جو کہ پر لطف تھا۔ اس دوران دو مرتبہ العنابہ جانے کا بھی اتفاق ہوا جو تقریباً پون گھنٹہ کی مسافت پر ایک خوبصورت شہر ہے۔ مجھے ایک اٹیچی کیس خریدنا تھا۔

العنابہ میں ایک دکاندار سے کہا کہ درمیانے سائز کا وزن میں ہلکا اور مضبوط اٹیچی کیس دکھاؤ۔ وہ اوپر والے شیلف تک ایک سیڑھی کی مدد سے پہنچا اور دس فٹ کی بلندی سے غصے کے تاثرات دیتے ہوئے اٹیچی کیس زمین پر پٹخ دیا، ایک دھماکے کی سی آواز آئی اور وہ قوی الجثہ شخص تیزی سے نیچے اتر کر اٹیچی کیس کے اوپر کھڑا ہو گیا۔ اٹیچی کیس کی مضبوطی کے ثبوت کے طور پر یہ اس کی سیلز مین شپ کا ڈرامائی انداز تھا جو ہمیں آج تک نہیں بھولا۔

یہ وزن میں ہلکا اور فائبر گلاس کا بنا ہوا تھا۔ اس نے اندر سے دکھایا ساٹن کے کپڑے کے نیچے ہلکی سی فوم کی تہہ رکھ کر سلائیاں کی ہوئی تھیں۔ ہمیں پسند آیا اور خرید لیا۔ کچھ معاشرتی قدریں یا روایات ہر معاشرے میں ایک جیسی ہوتی ہیں۔ ہم ایک ویگن میں العنابہ سے واپس آ رہے تھے۔ ایک فیشن ایبل لڑکی اگلی سیٹ پر بیٹھی تھی۔ جب اس کا گاؤں قریب آیا تو اس نے بیگ میں سے سکارف نکالا، پہن کر گاڑی سے اتری، چادر اوڑھ لی اور چل دی۔

واپس الجر جانے کے لئے ایک دفعہ پھر آٹھ گھنٹے پر محیط بس کا سفر کیا اور الجر پہنچے مگر اس دفعہ میری بہن اور ڈاکٹر فلک شیر بھی ہمراہ تھے اس لئے سفر کی طوالت محسوس نہ ہوئی اور ہم دن کی روشنی میں ہی الجر پہنچ گئے البتہ ڈاکٹر طارق شاد کے گھر پہنچتے رات ہو چکی تھی۔ میری فلائٹ اگلی صبح تھی اس لئے ڈاکٹر طارق شاد کے ہاں قیام کرنے کا پروگرام تھا۔ ڈاکٹر طارق شاد فلک شیر کے کلاس فیلو اور دوست ہیں جو ان دنوں الجر سے 45 کلو میٹر دور قصبہ البلیدہ میں رہتے تھے۔ صبح دس بجے ڈاکٹر فلک شیر نے مجھے ائر پورٹ پہنچا دیا اور الوداع ہو کر خود العوانہ روانہ ہو گئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •