تحفہ: گزری صدی کے دوست

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم لوگ پہلی منزل پر رہتے تھے۔ گھماؤ دار زینے کے بیس قدم چڑھو، تب کہیں جا کے ہمارا دروازہ آتا تھا۔ مالک مکان کو بلند و بالا گھنے درخت لگانے کا بہت شوق تھا۔ ایک چھتنا رانہوں نے ایسا لگایا تھا، جس کی وجہ سے گلی میں سے دیکھنے والے کو ہمارا زینہ، دروازہ کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ شروع شروع میں تو ہمیں یہ بہت اچھا لگا۔ بالکل افسانوی سا، جیسے ٹارزن نے کہیں درختوں میں اپنا ان دیکھا ٹھکانا بنایا ہو۔ پھر کچھ مسائل پیدا ہوئے۔ لوگوں کو یہ ”ٹھکانا“ ڈھونڈنے میں دقت ہونے لگی تو ہم نے نیچے پھاٹک پر نام لکھوا دیا اور گھنٹی لگا دی۔
مہمان، ملاقاتی اور سودا سلف بیچنے والے پھاٹک پر آ کر گھنٹی کا بٹن دباتے اور ہمارے اترنے کا انتظار کرتے، جس میں ظاہر ہے کچھ وقت لگتا ہو گا۔ بہت سے مہمان، ملاقاتی، اخبار والے، دودھ والے، دھلائی والے بے صبری میں بار بار گھنٹی بجاتے تھے۔ ہم نہ ہوں تو بیگم الجھتی تھیں، اس لیے کہ بچے چھوٹے تھے، اترتے اترتے دیر ہو ہی جاتی تھی۔ ظاہر ہے انہیں گھنٹی کی بے صبری آواز بری لگتی ہو گی؛ چنانچہ اس گھنٹی کی وجہ سے کچھ لوگ مستقلاً ناپسندیدہ قرار پائے اور اسی گھنٹی نے ٹھیلے والے شیخ صاحب کو ہمارے گھر میں نہایت مقبول شخصیت بنا دیا۔
شیخ صاحب سبزی بیچتے تھے۔ وہ نیچے پھاٹک کے پاس آ کر آواز لگاتے، ”بھنڈی ترئی کریلے، بیٹا سبزی لے لو۔ “ اور ایک بار گھنٹی بجاتے، پھر سکون سے اپنا ٹھیلا سائے میں ٹھہرا کر بیٹھ جاتے۔ انہیں معلوم تھا کہ اوپر آواز سن لی گئی ہے اور وہ بچوں کے کام سے فارغ ہو کر آہی جائیں گی۔ شیخ صاحب کو یہ بھی معلوم تھا اگر گھر پر کوئی نہ ہوا تو ہمسائے کی خواتین پکار کر کہہ دیں گی کہ ”بھئی وہ نہیں ہیں، شیخ صاحب انتظار مت کرو۔ “
اس بات پر کہ شیخ صاحب ہمارا خیال کرتے تھے۔ بیگم نے نہ صرف ان کو دروازے پر آنے والوں میں ایک نمایاں حیثیت دے رکھی تھی، بلکہ جواباً وہ چھوٹے موٹے ”سلوک“ بھی کرتی رہتی تھی۔ مثلاً سبزی لینے اترتیں تو گرمیوں میں برف کا پانی لے جاتیں یا کبھی کبھی اخبار تاکہ شیخ صاحب پانچ سات منٹ میں سرخیوں پر نظر ڈال لیں۔ پھر وہ پھاٹک کے پاس اندر ایک ہلکا اسٹول رکھنے لگیں تاکہ شیخ صاحب آواز لگانے ، گھنٹی بجانے کے بعد انتظار کرتے ہوئے بیٹھ جائیں۔
ان چھوٹی چھوٹی باتوں پر….اور یقیناً اپنے مزاج کے مطابق، شیخ صاحب چلتے ہوئے دعا ضرور دیتے تھے۔ میں بیگم سے کہتا تھا کہ آپ ہرا دھنیا مرچ یا ایک آدھ نیبو زیادہ کھینچنے کے چکر میں تو یہ سب نہیں کرتیں؟ وہ کہتیں: ”نہیں جناب! شیخ صاحب کچھ بھی مفت دینے کے قائل نہیں ہیں، بہترین سبزی لاتے ہیں، بڑے با اصول آدمی ہیں۔ “
یہ تو میں نے بھی دیکھا تھا کہ آنے پائی کے اس دور میں شیخ صاحب پونے نو آنے، اور سوا پندرہ آنے جیسی رقموں تک کا پورا پورا حساب کرتے تھے۔ نہ ایک پیسہ چھوڑتے نہ ایک پیسہ زیادہ لیتے۔ عجیب غنی آدمی تھے۔ انہیں دیکھ کر جیسے توانائی کا احساس ہوتا تھا۔
پھر وہ واقعہ ہو گیا، جو ہم کبھی نہیں بھول سکتے۔ بیگم بہت دن سے دیکھ رہی تھیں کہ شیخ صاحب نے اپنی پلاسٹک والی چپل کو پیر میں الجھائے رکھنے کے لیے ایک ڈوری باندھ لی ہے۔ اس ڈوری کو مہینے گزر گئے تو بیگم ایک روز بازار گئیں، چپل کی ایک جوڑی میرے لیے، ایک شیخ صاحب کے لیے خرید لائیں۔
دوسرے دن شیخ صاحب نے آواز لگائی، ”بیٹا سبزی لے لو۔ “ چھٹی کا دن تھا، میں سیڑھیاں اتر رہا تھا، بیگم نے مجھ سے پہلے خوشی خوشی جا کر چپل کا پارسل شیخ صاحب کے حوالے کر دیا۔ وہ پوچھنے لگے، ”کیا ہے بیٹا؟“
”چپل خریدی ہے آپ کے لیے۔ “ ”میرے لیے؟ نئی چپل؟“ وہ بولیں، ” جی ہاں۔ “
شیخ صاحب کی آواز آئی، ”کیوں؟“ میں زینے پر ٹھٹک گیا۔ سامنے نہ آیا۔
بیگم اس ”کیوں“ کا جواب نہ دے پائی تھیں، شیخ صاحب نے نرمی سے پوچھا، ”کیا میری یہ چپل اچھی نہیں ہے بیٹا، جو آپ نئی چپل لائی ہو؟“ بیگم کیا کہتیں، بولیں، ”نہیں آپ کی چپل اچھی ہے۔ “
کہنے لگے، ”ہاں یہی تو۔ ۔ ۔ میں دو دو جوڑیوں کا کیا کروں گا بیٹا۔ ابھی یہ ہے نا۔ یہ بھی اچھی ہے۔ چل رہی ہے۔ “
مگر یہ کہتے ہی انہیں احساس ہو گیا کہ تحفہ لوٹا کر شاید انہوں نے بیگم کا دل دکھا دیا ہے، ہنسے، کہنے لگے، ”اچھا یوں کرتے ہیں، تم جو چپل لائی ہو اسے ابھی اپنے پاس رکھ لو، جب ضرورت ہو گی، میں مانگ لوں گا۔ “
بیگم آہستہ سے بولیں، ”جی اچھا۔ “ شیخ صاحب حسبِ معمول دعا دے کر چلے گئے۔
مگر اس نئی چپل کی انہیں کبھی ضرورت نہیں پڑی۔ بہت دنوں بعد میں نے ہی وہ چپل شیخ صاحب کی طرف سے تحفہ سمجھ کر پہن لی۔
انہیں برسوں سے نہیں دیکھا ہے۔ وہ محلّہ ہی چھوٹ گیا۔
مگر آج بھی ہم دونوں ان کا ذکر کرتے ہیں تو ایک عجیب طرح کی احساس مندی سے آنکھیں روشن ہو جاتی ہیں۔
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •