نصیبوں والیاں… اسد محمد خان کے قلم سے

صحت کے سلسلے میں بہت سوں کے اپنے اصول ہوتے ہیں۔ کچھ کے نہیں بھی ہوتے۔ ممند ریاض کا یہ تھا کہ سویرے جلدی اٹھنے والا بندہ تھا۔ روز وہ میونسپل پارک میں شبنم سے بھیگی گھاس پہ ننگے پاؤں ٹہل ضرور لگاتا تھا۔ کہتا تھا اس سے آنکھوں کی ”روشنیائی“ بہتر ہوتی ہے۔ خبر نہیں اس بہتر روشنی کو وہ گاہکوں کو پہچاننے، ان پہ کڑی نظر رکھنے کے لیے استعمال کرتا تھا یا اس کا مقصد اتنا سادہ

Read more

نصیبوں والیاں ….. اسد محمد خان کے قلم سے(1)

 صحّت کے سلسلے میں بہت سوں کے اپنے اصول ہوتے ہیں۔۔ کچھ کے نہیں بھی ہوتے۔ ممّند ریاض کا یہ تھا کہ سویرے جلدی اُٹھنے والا بندہ تھا۔ روز وہ میونسپل پارک میں شبنم سے بھیگی گھاس پہ ننگے پاؤں ٹہل ضرور لگاتا تھا۔ کہتا تھا اس سے آنکھوں کی "روشنیائی” بہتر ہوتی ہے۔ خبر نہیں اس بہتر روشنی کو وہ گاہکوں کو پہچاننے، اُن پہ کڑی نظر رکھنے کے لیے استعمال کرتا تھا یا اس کا مقصد اتنا سادہ

Read more

تحفہ: گزری صدی کے دوست

ان چھوٹی چھوٹی باتوں پر….اور یقیناً اپنے مزاج کے مطابق، شیخ صاحب چلتے ہوئے دعا ضرور دیتے تھے۔ میں بیگم سے کہتا تھا کہ آپ ہرا دھنیا مرچ یا ایک آدھ نیبو زیادہ کھینچنے کے چکر میں تو یہ سب نہیں کرتیں؟ وہ کہتیں: ”نہیں جناب! شیخ صاحب کچھ بھی مفت دینے کے قائل نہیں ہیں، بہترین سبزی لاتے ہیں، بڑے با اصول آدمی ہیں۔“
یہ تو میں نے بھی دیکھا تھا کہ آنے پائی کے اس دور میں شیخ صاحب پونے نو آنے، اور سوا پندرہ آنے جیسی رقموں تک کا پورا پورا حساب کرتے تھے۔ نہ ایک پیسہ چھوڑتے نہ ایک پیسہ زیادہ لیتے۔ عجیب غنی آدمی تھے۔ انہیں دیکھ کر جیسے توانائی کا احساس ہوتا تھا۔

Read more

خواجہ سگ پرست از اسد محمد خان

میں نے یوپی کا شہر گورکھپور نہیں دیکھا، ضرورت بھی نہیں پڑی۔ فراق گورکھپوری صاحب، مجنوں گورکھپوری صاحب اور پھر شمشاد نبی ساقی فاروقی سے مل لیا، ان صاحبان کا لکھا ہوا پڑھتا رہتا ہوں۔ یوں سمجھیے شہر گورکھپور میں جتنا کچھ دیکھنے اور جاننے لائق ہو گا، حسین اور دل آویز ہو گا، تقریباً سبھی دیکھ لیا۔ شہروں میں اور ہوتا بھی کیا ہے؟

جی ہاں! ساقی گورکھپور میں پیدا ہوا تھا۔ ڈھاکے میں اس نے ابتدائی تعلیم حاصل کی، کراچی یونیورسٹی سے بی اے کیا۔ ایم اے انگریزی میں پڑھ رہا تھا، تو لندن روانہ ہو گیا اور لندن یونیورسٹی میں انگریزی ادب میں داخلے کی کوششیں کرنے لگا۔ یونیورسٹی والوں نے کہا، ”یہاں تمھیں بی اے دوبارہ کرنا پڑے گا۔“

Read more

کھڑکی​

میں نے پہلی بار اسے اپنے محلے کے ایک کلینک میں دیکھا تھا مجھے ڈاکٹر سے کسی قسم کا سرٹیفیکیٹ لینا تھا اور وہ انجکشن لگوانے آئی تھی۔ آئی کیا بلکہ لائی گئی تھی۔ ایک نوجوان جو شاید چچا یا ماموں ہوگا اسے گود میں اُٹھائے سمجھا رہا تھا کہ سوئی لگوانے میں زیادہ تکلیف تو نہیں ہوتی البتہ ٹافی کھانے کو ملتی ہے اور امی پر اور دوسرے لوگوں پر رعب الگ پڑتا ہے۔ بات یقینا اس کی سمجھ

Read more