انڈین شخص جس نے ایک ہی تقریب میں دو لڑکیوں سے شادی کی

آلوک پرکاش - رائے پور، بی بی سی ہندی کے لیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈیا کے متعدد برادریوں میں ایک ہی وقت میں ایک سے شادیوں کی قانوناً اجازت نہیں۔ اور جن برادریوں میں اس کی اجازت ہے اس کے خلاف بھی اکثر آوازیں بلند ہوتی رہتی ہیں۔ ایسے میں ریاست چھتیس گڑھ کے ایک نوجوان کی ایک ہی تقریب میں دو لڑکیوں سے شادی نے بحث چھیڑ دی ہے۔

یہ کہانی ہے ماؤ تشدد سے متاثر ریاست چھتیس گڑھ کے ایک گاؤں کی جہاں چندو موریہ نامی شخص نے سندری کشیپ اور حسینہ باغیل کے ساتھ ایک ہی وقت پر شادی کی۔

اس شادی کی رسومات چار دن تک جاری رہیں اور یہ شادی اتوار کو اختتام پذیر ہوئی۔

موریہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے چندو کہتے ہیں ’میں دونوں لڑکیوں سے محبت کرتا تھا اور کسی کو دھوکہ نہیں دے سکتا تھا۔ ذہن میں تھوڑی تشویش تھی۔ لیکن جب دونوں اس شادی کے لیے تیار ہوگئیں تو میں بھی راضی ہوگیا۔‘

ان کی دونوں بیویاں بھی اس شادی سے کافی خوش ہیں۔

21 سالہ سندری کا کہنا ہے ’میں انھیں پسند کرتی تھی اور ان کے ساتھ رہنا چاہتی تھی۔ پھر حسینہ آئیں۔ وہ بھی ساتھ رہنا چاہتی تھیں۔ مجھے کوئی دقت نہیں تھی۔ بعد میں جب شادی کی بات ہوئی تو فیصلہ ہوا کہ ہم دونوں ہی چندو کی دلہن بنیں گی۔‘

پہلی ملاقات میں محبت کی تجویز

24 سالہ چندو موریہ نے نویں کلاس تک تعلیم حاصل کی ہے اور کاشت کاری کرتے ہیں۔

دو ایکڑ رقبے میں کھیتی کرنے کے علاوہ جنگل میں ہونے والی پیداوار ان کے کنبے کی آمدنی کا ایک اہم حصہ ہے۔

چندو کا کہنا ہے کہ سندری سے ان کی ملاقات تین سال قبل ہوئی جب وہ کسی کام کے سلسلے میں ان کے گاؤں گئے تھے۔

پہلی ملاقات میں ہی دسویں پاس سندری نے تعلق قائم کرنے کی تجویز پیش کر دی اور چندو کو بھی وہ پسند آ گئیں۔ وہ اپنے گاؤں واپس آگئے لیکن فون کے ذریعے رابطہ قائم رکھا اور محبت مزید گہری ہوتی گئی۔

پھر حسینہ سے ملاقات ہوئی

اسی دوران دو سال بعد چندو کی ملاقات اپنے گاؤں میں 20 سالہ حسینہ باغیل سے ہوئی۔

وہ ان کے گاؤں ایک شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے آئی ہوئی تھیں۔

چندو کہتے ہیں ’حسینہ گاؤں میں ایک شادی میں شرکت کرنے آئی تھیں۔ انھوں نے بات کرنے کو کہا۔ میں نے کہا، چلیے، ٹھیک ہے۔ میں نے سوچا کہ ایسے ہی دوستی جاری رہے گی لیکن بات یہیں تک محدود نہیں رہی۔‘

چندو اور حسینہ کے درمیان گفتگو کا سلسلہ جاری رہا اور ایک دن حسینہ نے بتایا کہ ان سے محبت کا اعتراف کر لیا۔

چندو نے حسینہ کو سندری کے بارے میں بتایا۔ حسینہ نے تجویز دی کہ دونوں میں سے جو بھی ان کے ساتھ پہلے رہنے آجائے، چندو ان ہی کے ساتھ رہیں۔

چندو کا کہنا ہے کہ وہ سندری سے حسینہ اور اپنے تعلقات کو چھپانا نہیں چاہتے تھے لہذا انھوں نے سندری کو صاف صاف اس کے بارے میں بتا دیا۔

چندو کا کہنا ہے کہ انھوں نے سندری اور حسینہ کی ملاقات کرائی اور پھر مہینوں تک تینوں فون پر آپس میں بات کرتے رہے۔

ساتھ رہے اور پھر شادی

کچھ روز بعد حسینہ باغیل اپنا گاؤں چھوڑ کر چندو کے ساتھ رہنے آ گئیں۔

چھتیس گڑھ کے بہت سے قبائل میں یہ عام بات ہے اور کچھ عام رسومات کے بعد مرد اور عورت شادی کے بغیر ہی ایک دوسرے کے ساتھ رہنے لگتے ہیں۔

حسینہ کی آمد کی خبر جب سندری کو ملی تو وہ بھی چندو کے گھر پہنچ گئیں۔ لیکن سندری کے کنبے کو سندری، چندو اور حسینہ کے ایک ساتھ رہنے پر اعتراض تھا اس لیے وہ سندری کو واپس اپنے گاؤں لے گئے۔

چندو کہتے ہیں ’پھر ایک دن سندری اپنے گاؤں سے بھاگ کر میرے گھر آگئی اور ہم تینوں ایک ساتھ رہنے لگے۔‘

چندو کا کہنا ہے کہ ایک سال بعد معاشرے کے لوگوں نے شادی کرنے پر زور دیا۔

سندری اور حسینہ دونوں چندو سے شادی کر کے ساتھ رہنے کے لیے تیار تھیں۔

شادی کے لیے چھپوائے گئے کارڈ میں دونوں دلہنوں کے نام شامل تھے۔ دھوم دھام سے شادی ہوئی اور دونوں دلہنوں کے ساتھ تمام رسومات پوری کی گئیں۔ تقاریب میں حسینہ کے اہل خانہ نے تو شرکت کی لیکن سندری کے رشتے دار نہیں آئے۔

سندری کا کہنا ہے ’میں اس شادی سے خوش ہوں۔ ہم دونوں مل کر گھر کا کام کرتی ہیں۔ حسینہ سے کسی بھی طرح کا کوئی تنازعہ نہیں ہے۔‘

سندری اور حسینہ جب بازار جاتی ہیں تو اپنی پسند کے کپڑے خریدتی ہیں لیکن جب چندو کو انھیں تحفہ دینا ہوتا ہے تو وہ دونوں کے لیے ایک جیسی ساڑھی خریدنے کی کوشش کرتے ہیں۔

سندری، حسینہ اور چندو کو یقین ہے کہ مستقبل میں ان کے درمیان کوئی مشکلات نہیں آئیں گی اور وہ کھیتی باڑی سے اپنا گزارہ کر لیں گے۔

ایسی شادیوں پر انڈین قانون کا کیا کہنا ہے

سریو آدیواسی سوسائٹی کے رہنما پرکاش ٹھاکر کا کہنا ہے کہ تینوں افراد بالغ ہیں اور موریہ قبائلی سے ہیں جس میں ازدواجی تعلقات پر پابندی نہیں ہے۔

ان کے مطابق اس صورتحال میں قبیلہ بھی اس شادی سے خوش ہے۔

ہائی کورٹ کی وکیل پرینکا شکلا کا کہنا ہے کہ ہندو میرج ایکٹ 1955 جیسے بہت سے قوانین شیڈول قبیلوں پر عائد نہیں ہوتے ہیں۔ اگر آپ ہندو میرج ایکٹ کے سیکشن 2 (2) کو دیکھیں تو ان کی قدیم روایتوں اور عقائد کی وجہ سے انھیں اس ایکٹ سے استثنیٰ حاصل ہے۔

ان کے مطابق ایسی صورتحال میں چندو، سندری اور حسینہ کی شادی کو غیر قانونی نہیں قرار دیا جا سکتا ہے۔”

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17382 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp