یہ خدائی فوجدار کون ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"\"اندھوں کو شام نظر نہیں آتا، کشمیر کی بات نہیں کرتے، برما کو بھلا بیٹھے ہیں اور احمدیوں کا نام آنے پر ان کے پیٹ میں مروڑ اٹھتے ہیں۔ آخر مذمت کیوں نہیں کرتے؟ یہ کیا ہے اسے سمجھنے کے لئے آپ سوشل میڈیا پر چکوال واقعے کے تناظر میں ایک جملہ احمدیوں کے حق میں لکھیں اور پھر یہ شاید مہذب ترین جملہ ہو گا جو آپ کے لئے لکھا جائے گا۔ میں کم عقل یہ نہیں سمجھ سکی کہ مذمت کرنے سے کوئی مسئلہ حل ہوا ہے آج تک؟ پرزور اور شدید الفاظ میں مذمت سے کچھ ہوتا تو ہمیں ہر دو چار ماہ بعد ایک نئے موڑ پہ ایک نیا سانحہ دیکھنے کو نہ ملتا۔ چلیں آپ کہتے ہیں تو مذمت بھی کر لیتے ہیں لیکن مذمت بھی آپ کی مرضی کی ہو تو آپ راضی ہیں۔ شام میں کر دیں تو آپ کی مرضی کی عینک پہنیں یا جس کنارے پہ آپ کھڑے ہیں وہیں سے سارے معاملے کو دیکھ کر بتائیں کہ نجات دہندہ یا درندہ کون ہے۔ جو لوگ ایک انسانی المیے کو بھی روایتی تنگ نظری کی آنکھ سے دیکھنا چاہتے ہوں ان کی مذمت سے بھلا کیا کیڑے پڑیں گے کسی کی توپ میں، کیا زنگ لگے گا بندوقوں کو۔ برما کا معاملہ اٹھایا تو دنیا جہان کی تصاویر اکٹھی کر کے برما کے کھاتے میں ڈال دیں۔

نہ یہ لوگ برما میں رہتے ہیں نہ ہی شام میں، یہ لوگ وہاں کے معاملات درست کرنے کی خاطر کچھ کر بھی نہیں سکتے، مگر جس ملک میں رہتے ہیں اور یہ ثبوت دے سکتے ہیں کہ انہیں واقعی ظالم سے ہمدردی نہیں ہے اور ان کی نظر میں انسان کی ٹکے ٹوکری سے زیادہ کی اوقات ہے وہاں یہ خود ظلم کرنے والوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔ ان کے مطابق ظلم صرف وہ ہے جو خود ان پر ہوا ہو، باقی ہر جگہ یہ لوگ کچھ کریں تو وہ انجام، بدلہ ، حق ، سچ ، عشق سب ہی کچھ ہوتا ہے، بس ظلم نہیں ہوتا۔ آپ کہیں بات کرتا دیکھیں تو انہیں سرحد پار گائے کا گوشت کھانےکے الزام پر مارے جانے والے افراد کی فہرست رٹی ہو گی مگر جب ان کا ہاتھ پکڑ کر آپ واپس اپنے ملک لائیں تو نہ ہی یہ سچائی کے علمبردار اس بات کو تسلیم کریں گے کہ یہاں جبری طور پہ کم سن ہندو بچیوں کو مسلمان کیا جاتا ہے، نہ ہی انہیں توہین اور گستاخی کے الزامات کے خوف میں جیتے لوگ نظر آئیں گے۔

ویسے تو بہت سی خوبیوں کے مالک ہیں کیا بتائیں کیا چھوڑیں، کمال تو یہ ہے کہ ان کی سونگھنے کی حس بہت تیز ہے ، کہیں کوئی جملہ، \"\"کوئی بات، کوئی قانون ہو، یہ اس کو سامنے رکھ کر سونگھتے ہیں اور اس میں سازش کی بُو تلاش کر لیتے ہیں۔ ہم اور آپ لاکھ اس جملے کا جائزہ لیں، ایسی خاص کاریگری دکھا کر اس کی گہرائی میں چھپی سازش تک پہنچ ہی نہیں سکتے ۔ مسلسل یہی کہتے ہیں اسلام خطرے میں ہے مگر یہ سمجھنے کو تیار نہیں کہ اس مذہب کو کوئی خطرہ ہے تو ان کی اپنی تنگ نظری سے ہے۔ باہر سے پھینکا کوئی پتھر اس گھر کو اتنا نقصان نہیں پہنچا رہا جتنا اس میں رہنے والے پہنچا رہے ہیں۔ اگر کوئی رہی سہی کسر تھی تو وہ ان خدائی فوجداروں کی اس غلط فہمی نے پوری کر دی ہے کہ قرآن کریم تمام انسانوں کے لئے نہیں بلکہ صرف مسلمانوں کیلئے ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی جانب سے ہر دوسرے روز دس بارہ غیر مسلموں کے اسلامی تعلیمات سے متاثر ہونے اور اسلام قبول کرنے کی خبریں بھی تواتر سے پھیلائی کی جاتی ہیں مگر یہ اپنے ہی ملک میں خدا کا کلام کسی اقلیت کے ہاتھ میں دیکھ لیں تو خدا پہ قبضہ کر لیتے ہیں کہ خدا بھی میرا، کلام بھی میرا ، فیصلہ کرنے کا اختیار بھی میرا اور تو۔۔۔؟  تو جہنمی، مرتد، قابل گردن زنی۔

ایک دائرہ ہے، وہ بھی انہوں نے خود ہی بنایا، دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دائرے میں کھڑے سب لوگ ایک دوسرے کو دائرے سے باہر ہی سمجھتے ہیں، اور جہاں کوئی دعوی کرے کہ وہ بھی اس دائرے کا حصہ ہے اسے ٹھوکر مار کر باہر نکال دیتے ہیں کہ بھائی کہاں منہ اٹھائے چلے آ رہے ہو، شاید ان کے اپنے بنائے ہوئے دائرے ہیں تو انہیں یہ حق حاصل ہے کون رہ سکتا ہے کون نہیں ، اگر خدا کا بنایا دائرہ ہوتا تو فیصلہ کرنے کا اختیار بھی خدا کے پاس ہوتا مگر خدائی فوجدار جانے کس زعم میں مبتلا ہیں کہ خدا کو معزول کر کے اس کے تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں۔یہ وہ دائرہ ہے جس سے دین بھی پناہ مانگتا ہے۔مظلوم ، بےکس، بےبس، غریب، نادار کو آخرت میں اجر کا نام دے کر بہلاتے ہیں مگر خود ہر معاملے کا فیصلہ ابھی کرنا چاہتے ہیں۔آپ لاکھ سمجھائیں کہ عقیدہ بحث سے ماورا ہوتا ہے، اس کی دنیا میں دلیل کا کیا گزر مگر یہ سنیں گے نہیں۔ جتنا زور رد کرنے کی خاطر لگاتے ہیں اتنا کسی مثبت کام میں لگائیں تو کسی کا بھلا ہو جائے مگر کیا کریں یہ لوگ پینترے بدل سکتے ہیں، سوچ نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

2 thoughts on “یہ خدائی فوجدار کون ہیں؟

  • 19/12/2016 at 3:55 pm
    Permalink

    ایک دائرہ ہے، وہ بھی انہوں نے خود ہی بنایا، دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دائرے میں کھڑے سب لوگ ایک دوسرے کو دائرے سے باہر ہی سمجھتے ہیں، اور جہاں کوئی دعوی کرے کہ وہ بھی اس دائرے کا حصہ ہے اسے ٹھوکر مار کر باہر نکال دیتے ہیں کہ بھائی کہاں منہ اٹھائے چلے آ رہے ہو، شاید ان کے اپنے بنائے ہوئے دائرے ہیں تو انہیں یہ حق حاصل ہے کون رہ سکتا ہے کون نہیں ، اگر خدا کا بنایا دائرہ ہوتا تو فیصلہ کرنے کا اختیار بھی خدا کے پاس ہوتا مگر خدائی فوجدار جانے کس زعم میں مبتلا ہیں کہ خدا کو معزول کر کے اس کے تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں۔یہ وہ دائرہ ہے جس سے دین بھی پناہ مانگتا ہے۔مظلوم ، بےکس، بےبس، غریب، نادار کو آخرت میں اجر کا نام دے کر بہلاتے ہیں مگر خود ہر معاملے کا فیصلہ ابھی کرنا چاہتے ہیں۔آپ لاکھ سمجھائیں کہ عقیدہ بحث سے ماورا ہوتا ہے، اس کی دنیا میں دلیل کا کیا گزر مگر یہ سنیں گے نہیں۔ جتنا زور رد کرنے کی خاطر لگاتے ہیں اتنا کسی مثبت کام میں لگائیں تو کسی کا بھلا ہو جائے مگر کیا کریں یہ لوگ پینترے بدل سکتے ہیں، سوچ نہیں۔ (y)

  • 19/12/2016 at 4:21 pm
    Permalink

    رامش فاطمہ صاحبہ آپ نے آج کے ان نام نہاد مذہبی ٹھیکداروں کی سوچ کو بڑے واضح انداز میں اپنی تحریر میں بیان کیا

Comments are closed.